🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ أَقَامَ الصَّلاَةَ
باب: نماز قائم کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 469
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَجُلًا، قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ، ذَرْهَا كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ".
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 469]
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے کام سے مطلع فرمائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور نماز صحیح صحیح ادا کرو، زکاۃ ادا کرو اور رشتوں کو جوڑو۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا) اس (اونٹنی کی مہار) کو چھوڑ دو۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 1 (1396)، والأدب 10 (5983، 5982)، صحیح مسلم/الإیمان 4 (13)مطولاً، (تحفة الأشراف: 3491)، مسند احمد 5/417، 418 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اعرابی سامنے آ کر اونٹنی کی باگ تھام کر پوچھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دے چکے تو آپ نے اس سے فرمایا: اونٹنی کی باگ چھوڑ دے اسے جانے دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: عَدَدِ صَلاَةِ الظُّهْرِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر میں ظہر کی نماز کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسًا، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ".
ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 470]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعت پڑھی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 5 (1089)، والحج 24 (1547)، 25 (1548)، 119 (1714)، والجہاد 104 (2951)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین 1 (690)، سنن ابی داود/الصلاة 271 (1202)، والمناسک 21 (1773)، سنن الترمذی/الصلاة 391 (546)، (تحفة الأشراف: 166، 1573)، مسند احمد 3/110، 111، 177، 186، 237، 268، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1549) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قصر اس لیے پڑھی کہ آپ حج کے لیے مکہ جا رہے تھے، نہ اس لیے کہ ذوالحلیفہ قصر کی حد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: صَلاَةِ الظُّهْرِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں ظہر کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قال:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: إِلَى الْبَطْحَاءِ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ".
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر میں نکلے (ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ (بطور سترہ) تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت۔۔۔ ابن مثنیٰ نے کہا: بطحاء (مکہ میں مقبرہ معلاۃ سے صفا مروہ کی طرف جانے والے راستے) کی طرف۔۔۔ نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، پھر ظہر و عصر دو دو رکعت پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ایک چھوٹا نیزہ گاڑا گیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 40 (187)، الصلاة 93 (499)، 94 (501)، المناقب 23 (3553)، مطولاً صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، وقد أخرجہ (تحفة الأشراف: 11799)، مسند احمد 4/307، 308، 309، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1449) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: فَضْلِ صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: نماز عصر کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَالْبَخْتَرِيُّ بْنُ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، كُلُّهُمْ سَمِعْوُهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا".
عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے نماز پڑھے گا وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہو گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: وہ آدمی ہرگز آگ میں داخل نہ ہوگا جس نے سورج طلوع اور غروب ہونے سے قبل کی نمازیں (فجر اور عصر) ادا کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 37 (634)، سنن ابی داود/الصلاة 9 (427)، (تحفة الأشراف: 10378)، مسند احمد 4/136، 261 ویأتي عند المؤلف برقم: 488 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: فجر اور عصر کی نمازوں کا ذکر ان کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر کیا گیا ہے، یہ مطلب نہیں کہ صرف ان نمازوں کی پابندی کرنے والا جہنم سے محفوظ رہے گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو ان دونوں کی پابندی کرے گا وہ یقیناً دوسری نمازوں میں بھی کوتاہی نہیں کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: نماز عصر کی محافظت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، فَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ:" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ". ثُمَّ قَالَتْ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، اور کہا: جب اس آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» (البقرہ: ۲۸۳) پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا، تو انہوں نے مجھے املا کرایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پھر انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 473]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے قرآن مجید کا ایک نسخہ لکھوں۔ آپ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: جب تم اس آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ [سورة البقرة: 238] نمازوں کی، خصوصاً صلاۃِ وسطیٰ کی پابندی کرو۔ پر پہنچو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب میں اس آیت پر پہنچا تو آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے یوں لکھوایا: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» تمام نمازوں کی، صلاۃِ وسطیٰ کی اور عصر کی نماز کی پابندی کرو اور اللہ کے لیے باادب کھڑے رہو۔ پھر فرمایا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یونہی سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 39 (629)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (410)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2982)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 8 (25)، (تحفة الأشراف: 17809)، مسند احمد 6/73، 178 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلاۃ وسطیٰ عصر کے علاوہ کوئی اور صلاۃ ہے إلاّ یہ کہ اسے عطف تفسیری مانا جائے، اور صحیح بھی یہی لگتا ہے کہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کی تفسیر کے طور پر ذکر کیا ہو گا، اور اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت کا جزء سمجھ لیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ خندق کے موقع پر) فرمایا: ان لوگوں (کافروں) نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 474]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کافروں نے) ہمیں صلاۃ وسطیٰ سے مصروف رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 98 (2931) مطولاً، المغازي 29 (4111) مطولاً، تفسیر البقرة 42 (4533)، الدعوات 58 (6396)، صحیح مسلم/المساجد 35 (627)، 36 (627) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 5 (409) مطولاً، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2984) مطولاً، وقد اخرجہ: (تحفة الأشراف: 10232)، مسند احمد 1/79، 122، 135، 137، 144، 152، 153، 154، سنن الدارمی/الصلاة 28 (1268) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: مَنْ تَرَكَ صَلاَةَ الْعَصْرِ
باب: عصر کی نماز چھوڑ دینے والے شخص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قال: كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، فَقَالَ: بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ".
ابوالملیح (ابوالملیح بن اسامہ) کہتے ہیں کہ بدلی والے ایک دن میں ہم بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا: نماز جلدی پڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل رائیگاں گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 475]
ابوملیح بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک ابر آلود دن میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا: نماز (عصر) جلدی پڑھ لو کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کا عمل ضائع ہو گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 15 (553)، 34 (594)، وقد اخرجہ: (تحفة الأشراف: 2013)، مسند احمد 5/349، 350، 357، 360، 361 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے اس معصیت کی سنگینی کا اظہار مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: عَدَدِ صَلاَةِ الْعَصْرِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر میں عصر کی نماز کی رکعتوں کی تعداد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 476
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال:" كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ سُورَةِ السَّجْدَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کرتے تھے، تو ہم نے ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ سورۃ السجدہ کی تیس آیتوں کے بقدر لگایا، اور آخر کی دونوں رکعتوں میں اس کا آدھا، اور ہم نے عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ ظہر کی آخری دونوں رکعتوں کے بقدر لگایا، اور عصر کی آخری دونوں رکعتوں کا اندازہ اس کا آدھا لگایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 476]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے۔ ہم نے ظہر کی نماز میں آپ کے قیام کا اندازہ پہلی دو رکعتوں میں سورۂ سجدہ کے برابر تقریباً تیس (۳۰) آیات لگایا اور آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف، اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر اور عصر کی آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف قیام کا اندازہ لگایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 34 (452)، سنن ابی داود/الصلاة 130 (804)، (تحفة الأشراف: 3974)، مسند احمد 3/85، سنن الدارمی/الصلاة 62 (1225، 1226) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُومُ فِي الظُّهْرِ فَيَقْرَأُ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں قیام کرتے تھے تو ہر رکعت میں تیس آیت کے بقدر پڑھتے تھے، پھر عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں پندرہ آیت پڑھنے کے بقدر قیام کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 477]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں قیام فرماتے تو ہر رکعت میں تقریباً تیس آیات تلاوت فرماتے، پھر عصر کی پہلی دو رکعتوں میں پندرہ آیات کے بقدر قراءت فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4259)، مسند احمد 3/2 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: صَلاَةِ الْعَصْرِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں عصر کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 478
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت، اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر دو رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 478]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعت اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 24 (1547)، 25 (1548)، 27 (1551)، 119 (1714، 1715)، الجہاد 104 (2951)، 126 (2986)، صحیح مسلم/ صلاة المسافرین (690)، سنن ابی داود/المناسک 24 (1796)، الضحایات (2793)، مسند احمد 3/ 111، 164، 186، 268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں