سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: فَرْضِ الْقِبْلَةِ
باب: قبلہ کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 489
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قال:" صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا شَكَّ سُفْيَانُ، وَصُرِفَ إِلَى الْقِبْلَةِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، یہ شک سفیان کی طرف سے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ (خانہ کعبہ) کی طرف پھیر دئیے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 489]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت المقدس کی طرف (منہ کرکے) سولہ (16) یا سترہ (17) مہینے نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موجودہ قبلے (بیت اللہ) کی طرف پھیر دیا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر البقرة 18 (4492)، صحیح مسلم/المساجد 2 (525)، (تحفة الأشراف: 1849)، مسند احمد 4/ 288 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 490
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ" فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ إِنَّهُ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ". فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے سولہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، تو ایک آدمی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ہیں، (لوگوں نے یہ سنا) تو وہ بھی قبلہ کی طرف پھر گئے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 490]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے سولہ (۱۶) مہینوں تک بیت المقدس کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھی، پھر آپ کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔ ایک آدمی جس نے (قبلے کی تبدیلی کے بعد) آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انصار کے ایک قبیلے کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: ”میں قسم کھاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبے کی طرف کر دیا گیا ہے۔“ تو وہ (نماز ہی میں) کعبے کی طرف مڑ گئے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1835)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 30 (40)، الصلاة 31 (399)، تفسیر البقرة 12 (4486)، أخبار الآحاد 1 (7252)، صحیح مسلم/المساجد 2 (525)، سنن الترمذی/الصلاة 255 (340)، تفسیر البقرة (2962)، سنن ابن ماجہ/إقامة 56 (1010)، مسند احمد 4/283، ویأتي عند المؤلف في القبلة 1 (برقم: 743) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے خبر واحد جو ظنی ہے سے قرآن سے ثابت حکم قطعی کا منسوخ ہونا ثابت ہو رہا ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نسخ کے علم سے پہلے منسوخ کے مطابق جو عمل کیا گیا ہو وہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
23. بَابُ: الْحَالِ الَّتِي يَجُوزُ فِيهَا اسْتِقْبَالُ غَيْرِ الْقِبْلَةِ
باب: قبلہ کے علاوہ کی طرف رخ کرنے کی صورت کا بیان۔
حدیث نمبر: 491
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَتَوَجَّهُ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے، وہ چاہے جس طرف متوجہ ہو جاتی، نیز آپ اس پر وتر (بھی) پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر نہیں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 491]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ لیتے تھے، خواہ سواری کا رخ جس طرف بھی ہوتا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر بھی سواری پر ہی پڑھتے تھے، البتہ فرض نماز سواری پر نہیں پڑھتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 6 (1000)، تقصیر الصلاة 9 (1097) تعلیقاً 12 (1105)، صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن ابی داود/الصلاة 277 (1224)، (تحفة الأشراف: 6978)، مسند احمد 2/132 ویأتي عند المؤلف برقم: 745 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 492
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَفِيهِ أُنْزِلَتْ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر (نفل) نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ مکہ سے مدینہ آ رہے تھے، اسی سلسلہ میں یہ آیت کریمہ: «فأينما تولوا فثم وجه اللہ» ”تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے“ (البقرہ: ۱۱۵) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 492]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ آتے ہوئے سواری پر نماز پڑھتے تھے اور اسی کے بارے میں یہ آیت اتری: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] ”تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔“” [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صلاة المسافرین 4 (700)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2958)، (تحفة الأشراف: 7057)، مسند احمد 2/20، 41 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 493
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي السَّفَرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ". قَالَ مَالِكٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے جس طرف بھی وہ متوجہ ہوتی، مالک کہتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار نے کہا: اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 493]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پر (نفل) نماز پڑھا کرتے تھے، جدھر بھی اس کا منہ ہوتا۔“ (راویٔ حدیث) مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ نے کہا: ”ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، موطا امام مالک/سفر 7 (26)، (تحفة الأشراف: 7238)، مسند احمد 2/13 (66)، ویأتي عند المؤل برقم: 744 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
24. بَابُ: اسْتِبَانَةِ الْخَطَإِ بَعْدَ الاِجْتِهَادِ
باب: اجتہاد قبلہ متعین کرنے کے بعد اس کی غلطی واضح ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 494
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ". فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات (وحی) نازل کی گئی ہے، اور آپ کو حکم ملا ہے کہ (نماز میں) کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم لوگ بھی اسی کی طرف رخ کر لو، (اس وقت) ان کے چہرے شام (بیت المقدس) کی طرف تھے، تو وہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 494]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگ قباء میں صبح کی نماز میں تھے کہ ایک آنے والے شخص نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات نیا حکم اترا ہے اور آپ کو کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا کعبے کی طرف منہ کرو۔ ان کے چہرے شام کی طرف تھے، چنانچہ وہ کعبے کی طرف گھوم گئے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 32 (403)، تفسیر البقرة 14 (4488)، 16 (4490)، 17 (4491)، 19 (4493)، 20 (4494)، خبر الآحاد 1 (7251)، صحیح مسلم/المساجد 2 (526)، موطا امام مالک/قبلة 4 (6)، (تحفة الأشراف: 7228)، مسند احمد 2/113، ویأتي عند المؤلف برقم: 746 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس طرح پھر جانے سے لوگ آگے ہو جائیں گے، اور امام لوگوں کے پیچھے ہو جائے گا، إلا یہ کہ یہ کہا جائے کہ پہلے امام مسجد کے پچھلے حصہ میں چلا گیا ہو گا پھر لوگ اپنی جگہ پر گھوم گئے ہوں گے، اس طرح پہلے جو اگلی صف تھی اب وہ پچھلی ہو گئی ہو گی، اور حدیث کا مستفاد یہ ہے کہ جس کو حالت نماز میں صحیح قبلہ کے بارے میں علم ہو جائے وہ بھی اسی طرح قبلہ رخ ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه