سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ
باب: عصر کے اول وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 505
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" صَلِّ مَعِي فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ، وَالْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَيْهِ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ كَانَ قُبَيْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: ثُمَّ قَالَ: فِي الْعِشَاءِ أُرَى إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”تم میرے ساتھ نماز پڑھو“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر (دوسرے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ نماز پڑھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا اور عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غروب ہو گئی۔ اور (اگلے دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب انسان کا سایہ اس سے دگنا ہو گیا اور مغرب کی نماز غروبِ شفق سے تھوڑی دیر پہلے پڑھائی اور عشاء کی نماز تہائی رات کے وقت پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 2 (395) (تعلیقا ومختصراً)، (تحفة الأشراف: 2417)، مسند احمد 3/351 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
8. بَابُ: تَعْجِيلِ الْعَصْرِ
باب: عصر جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 506
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے (دیوار پر) نہیں چڑھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی جب کہ دھوپ ابھی حجرۂ عائشہ میں تھی، یعنی سایہ ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (545)، الخمس 4 (3103)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 6 (159)، (تحفة الأشراف: 16585)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (2) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 507
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ"، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے، پھر جانے والا قباء جاتا، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے، اور دوسرے کی روایت میں ہے: اور سورج بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 507]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا فرماتے، پھر جانے والا قباء تک جاتا۔“ (زہری اور اسحاق میں سے) ایک نے کہا: ”وہ ان کے پاس پہنچتا تو ابھی وہ نماز عصر پڑھ رہے ہوتے تھے۔“ اور دوسرے نے کہا: ”اور سورج ابھی اونچا ہوتا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 13 (548)، صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (10)، (تحفة الأشراف: 202) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسجد قباء مسجد نبوی سے تین میل کی دوری پر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا (نماز پڑھ کر) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 508]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا فرماتے تھے جب کہ سورج کافی بلند اور تیز ہوتا تھا۔ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والا عوالی کو جاتا تو سورج ابھی اونچا ہوتا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری: صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (404)، سنن ابن ماجہ/فیہ 5 (682)، (تحفة الأشراف: 1522)، مسند احمد 3/ 223 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ کے اردگرد جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 509
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر پڑھاتے اور سورج سفید اور بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 509]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر کی نماز پڑھاتے تو سورج سفید اور بلند ہوتا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1710)، مسند احمد 3/131، 169، 184، 232 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 510
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ:" صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، قُلْتُ: يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرَ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي".
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر پڑھی پھر ہم نکلے، یہاں تک کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ہم نے انہیں عصر پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے پوچھا: میرے چچا! آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر کی، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جسے ہم لوگ پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 510]
حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم نکلے حتیٰ کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ہم نے انہیں عصر کی نماز پڑھتے پایا۔ میں نے کہا: ”چچا جان! یہ کون سی نماز آپ نے پڑھی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”عصر کی۔ اور یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جو ہم (آپ کے ساتھ) پڑھتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ المواقیت 13 (549)، صحیح مسلم/المساجد 34 (623)، (تحفة الأشراف: 225) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 511
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْمَدَنِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قال:" صَلَّيْنَا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَنَا: أَصَلَّيْتُمْ؟ قُلْنَا: صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، قَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ، فَقِالُوا لَهُ: عَجَّلْتَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں نماز پڑھی، پھر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں (بھی) نماز پڑھتے ہوئے پایا، جب وہ نماز پڑھ کر پلٹے تو انہوں نے ہم سے پوچھا: تم نماز پڑھ چکے ہو؟ ہم نے کہا: (ہاں) ہم نے ظہر پڑھ لی ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو عصر پڑھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے جلدی پڑھ لی، انہوں نے کہا: میں اسی طرح پڑھتا ہوں جیسے میں نے اپنے اصحاب کو پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 511]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور (گورنری) میں نماز پڑھی، پھر ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف چلے۔ ہم نے انہیں نماز پڑھتے پایا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو ہمیں کہنے لگے: ”تم نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: ”ہم نے ظہر کی نماز پڑھی ہے۔“ وہ کہنے لگے: ”میں نے تو عصر کی نماز پڑھی ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”آپ نے جلدی کی ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں تو اس طرح نماز پڑھتا ہوں جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو پڑھتے دیکھا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1718) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
9. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي تَأْخِيرِ الْعَصْرِ
باب: عصر تاخیر سے پڑھنے کی وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 512
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا: لَا، إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، قَالَ: فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، جَلَسَ يَرْقُبُ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".
علاء کہتے ہیں کہ وہ جس وقت ظہر پڑھ کر پلٹے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے، اور ان کا گھر مسجد کے بغل میں تھا، تو جب ہم لوگ ان کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، ہم لوگ ابھی ظہر پڑھ کر پلٹے ہیں، تو انہوں نے کہا: تو عصر پڑھ لو، ہم لوگ کھڑے ہوئے اور ہم نے عصر پڑھی، جب ہم پڑھ چکے تو انس رضی اللہ عنہ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا عصر کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہو جائے، (غروب کے قریب ہو جائے) تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور اس میں اللہ کا ذکر معمولی سا کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 512]
علاء بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے جب کہ وہ (علاء) ظہر سے فارغ ہوئے تھے، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے ساتھ ہی تھا۔ جب ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: ”نہیں، ہم تو ظہر کی نماز پڑھ کر آئے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”پھر عصر کی نماز پڑھو۔“ ہم اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی۔ جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یہ منافق کی نماز ہے۔ وہ بیٹھا عصر کی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہو جاتا ہے تو وہ اٹھتا ہے، چار ٹھونگے (چونچیں) مارتا ہے اور اس دوران میں اللہ کا ذکر بھی نہیں کرتا مگر تھوڑا۔“” [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 34 (622)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (413)، سنن الترمذی/الصلاة 6 (160)، موطا امام مالک/القرآن10(46)، (تحفة الأشراف: 1122)، مسند احمد 3/102، 103، 149، 185، 247 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 513
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 513]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے عصر کی نماز رہ جائے، وہ یوں سمجھے کہ اس کے اہل و عیال اور گھر بار لٹ گئے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (685)، (تحفة الأشراف: 6829)، مسند احمد 2/8، سنن الدارمی/الصلاة 27 (1266) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 513M
أخبرنا قتيبة عن مالك عن نافع عن ابن عمر - رضى الله عنهما - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الذي تفوته صلاة العصر فكأنما وتر أهله وماله " .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی عصر فوت گئی گویا اس کا گھربار لٹ گیا“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 513M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «t»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: