سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: آخِرِ وَقْتِ الْعَصْرِ
باب: عصر کے اخیر وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 514
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ، قال: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ مَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ، فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَأَتَاهُ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَ شَخْصِهِ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلَفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصِهِ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصَيْهِ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا ثُمَّ نِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا فَأَتَاهُ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ امْتَدَّ الْفَجْرُ وَأَصْبَحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ وَقْتٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر (کی روشنی) پھیل گئی، صبح ہو گئی، اور ستارے نمودار ہو گئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ”ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کو نماز کے اوقات بتلانے کے لیے آئے۔ جبریل علیہ السلام آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج ڈھلا، پھر جب ہر شخص کا سایہ اس کے برابر ہو گیا (سایۂ زوال کے علاوہ) تو جبریل علیہ السلام پھر آئے اور اسی طرح کیا جس طرح (ظہر کے وقت) کیا تھا، یعنی جبریل علیہ السلام آگے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح عصر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج غروب ہو گیا تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، چنانچہ (اس طرح) مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کی سرخی غائب ہو گئی تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر جب فجر کی روشنی پھوٹی تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہو گئے۔ ان کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگ کھڑے ہو گئے اور فجر کی نماز ادا کی۔ پھر دوسرے دن جبریل علیہ السلام اس وقت آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے قد سے دگنا ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب سورج غروب ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے (مگر وہ ابھی نہ آئے تھے) ہم پھر سو گئے، پھر اٹھے تو جبریل علیہ السلام آئے اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب فجر پھیل گئی تھی اور روشنی ہو گئی تھی اور ستارے گھنے نظر آ رہے تھے اور اسی طرح کیا جیسے کل کیا تھا اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: ”(آج اور کل کی) دو نمازوں کا درمیانی وقت ہر نماز کا وقت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 2401)، مسند احمد 3/330 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
11. بَابُ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ
باب: (سورج ڈوبنے سے پہلے) عصر کی دو رکعت پا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 515
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قال: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی دو رکعت ۲؎ یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے (نماز کا وقت) پا لیا ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 515]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عصر کی دو رکعتیں سورج غروب ہونے سے پہلے پڑھ لیں یا صبح کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھ لی تو اس نے نماز پالی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (412)، مسند احمد 2/ 282، (تحفة الأشراف: 13576) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض نسخوں میں اس باب میں «ركعة» کا لفظ ہے۔ ۲؎: اکثر روایتوں میں ہے ایک رکعت پالی۔ ۳؎: یعنی اس کی یہ دونوں صلاتیں ادا سمجھی جائیں گی نہ کہ قضاء۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 516
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قال: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَوْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی یا سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے (پوری نماز) پالی“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 516]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورج غروب ہونے سے قبل عصر کی نماز سے ایک رکعت پالے یا سورج طلوع ہونے سے قبل صبح کی ایک رکعت پالے تو یقیناً اس نے وہ نماز پالی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 11 (700)، (تحفة الأشراف: 15274)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (5)، مسند احمد 2/254، 260، 282، 399، 462، 474 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 517
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قال: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ أَوَّلَ سَجْدَةٍ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ، وَإِذَا أَدْرَكَ أَوَّلَ سَجْدَةٍ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج ڈوبنے سے پہلے جب تم میں سے کوئی نماز عصر کا پہلا سجدہ پا لے تو اپنی نماز مکمل کر لے، اور جب سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا پہلا سجدہ پا لے تو اپنی نماز مکمل کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 517]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز کی پہلی رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پالے تو وہ باقی نماز پوری کرے اور جب صبح کی نماز کی پہلی رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پالے تو وہ باقی نماز پوری کرے۔ (اس کی نماز فاسد نہ ہوگی)۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 17 (556)، (تحفة الأشراف: 15375)، مسند احمد 2/306 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 518
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے عصر پالی“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 518]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے صبح کی نماز کی ایک رکعت طلوعِ شمس سے قبل پالی تو اس نے ساری نمازِ صبح پالی اور جس نے عصر کی نماز کی ایک رکعت غروبِ شمس سے پہلے پالی تو اس نے پوری نمازِ عصر پالی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 28 (579)، صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن الترمذی/الصلاة 23 (186)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 11 (699)، (تحفة الأشراف: 12206)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (5)، مسند احمد 2/ 462، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1258) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 519
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاذٍ، أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاذِ ابْنِ عَفْرَاءَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا، تو انہوں نے نماز (طواف کی دو رکعت) نہیں پڑھی، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نماز نہیں پڑھیں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ۱؎ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک سورج نکل آئے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 519]
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا اور (دو رکعت) نماز نہ پڑھی، میں نے کہا: ”آپ (طواف کی دو رکعت) نماز نہیں پڑھیں گے؟“ وہ فرمانے لگے: ”تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”عصر کے بعد (نفل) نماز نہ پڑھی جائے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے اور صبح کے بعد بھی (نفل) نماز نہ پڑھی جائے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے۔““ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: 11374)، مسند احمد 4/219، 220 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’نصر بن عبدالرحمن کنانی‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن معنی دوسری روایات سے ثابت ہے، دیکھئے حدیث رقم 562، 569)»
وضاحت: ۱؎: یہاں نفی نہی کے معنی میں ہے جیسے «لارفث ولا فسوق» میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، نصر مجهول (التحرير :7117). وفيه علة أخري،انظر الإصابة (3/ 428 ت 8039) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324
12. بَابُ: أَوَّلِ وَقْتِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے اول وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 520
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: أَقِمْ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ" فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ عِنْدَ الْفَجْرِ فَصَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ رَأَى الشَّمْسَ بَيْضَاءَ فَأَقَامَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ وَقَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ فَنَوَّرَ بِالْفَجْرِ، ثُمَّ أَبْرَدَ بِالظُّهْرِ وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ وَأَخَّرَ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلَّاهَا، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ وَقْتُ صَلَاتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”تم یہ دو دن ہمارے ساتھ قیام کرو“، آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہوتے ہی اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، پھر آپ نے جس وقت سورج ڈھل گیا، انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر جس وقت دیکھا کہ سورج ابھی سفید ہے ۱؎ آپ نے انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عصر کی تکبیر کہی، پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب ہو گیا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت خوب اجالا ہو جانے پر کہی، پھر ظہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب ٹھنڈا کر کے پڑھا، پھر عصر پڑھائی جب کہ سورج سفید (روشن) تھا، لیکن پہلے دن سے کچھ دیر ہو گئی تھی، پھر مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، پھر بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب تہائی رات گزر گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی، پھر فرمایا: ”نماز کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 520]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ”ہمارے پاس آئندہ دو دن ٹھہرو۔“ آپ نے (پہلے دن) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر ہوتے ہی اقامت کہی اور آپ نے فجر کی نماز پڑھائی۔ پھر جونہی سورج ڈھلا تو آپ نے انہیں اقامت کا حکم دیا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کو سفید دیکھا (تپش دوپہر سے کم ہوئی) تو اقامت کا حکم دیا اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کا آخری کنارہ ڈوب گیا تو اقامت کا حکم دیا اور مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر جب سورج کی سرخی غائب ہوگئی تو عشاء کی اقامت کہلوائی۔ پھر اگلے دن اسے (تاخیر کا) حکم دیا اور فجر کو روشنی میں پڑھا۔ پھر ظہر کو ٹھنڈا کیا اور خوب اچھی طرح ٹھنڈا کیا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جب کہ سورج ابھی سفید تھا (زرد نہ تھا)؛ ویسے پہلے دن سے مؤخر کیا۔ پھر شفق (سرخی) غائب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ان (حضرت بلال رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب کہ تہائی رات گزر چکی تھی اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: ”کہاں ہے وہ شخص جس نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا تھا؟“ (اسے لایا گیا تو آپ نے فرمایا:) ”تمہاری نمازوں کے اوقات ان (دو دنوں کی نمازوں) کے درمیان میں ہیں جو تم نے دیکھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 31 (613)، سنن الترمذی/الصلاة 1 (152)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 1 (667)، (تحفة الأشراف: 1931)، مسند احمد 5/349 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی۔ ۲؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
13. بَابُ: تَعْجِيلِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 521
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قال: سَمِعْتُ حَسَّانَ بْنَ بِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ" كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهَالِيهِمْ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْمُونَ وَيُبْصِرُونَ مَوَاقِعَ سِهَامِهِمْ".
قبیلہ اسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے، پھر اپنے گھروں کو مدینہ کے آخری کونے تک لوٹتے، اور تیر مارتے تو تیر گرنے کی جگہ دیکھ لیتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 521]
بنو اسلم کے ایک شخص سے روایت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے (فرماتے ہیں کہ) ”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھ کر مدینہ منورہ کے دور دراز علاقوں میں اپنے گھر والوں کی طرف واپس لوٹتے (تو اتنی روشنی ہوتی تھی کہ) وہ تیر چلاتے تو تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی (تحفة الأشراف: 15547)، مسند احمد 5/371 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کی نماز آپ جلدی پڑھتے تھے، افضل یہی ہے، بعض حدیثوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لیے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
14. بَابُ: تَأْخِيرِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب دیر سے پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ، قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا، وَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ".
ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخمص ۱؎ میں عصر پڑھائی، اور فرمایا: ”یہ نماز تم سے پہلے جو لوگ گزرے ان پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا، جو اس پر محافظت کرے گا اسے دہرا اجر ملے گا، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے یہاں تک کہ «شاہد» طلوع ہو جائے ۲؎، «شاہد» ستارہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 522]
حضرت ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو مخمص مقام میں عصر کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”تحقیق یہ نماز تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مقرر کی گئی تھی مگر وہ اسے ضائع کر بیٹھے (بروقت ادا نہ کی)۔ جو آدمی اسے پابندی سے بروقت ادا کرے گا، اسے دہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد (نفل) نماز جائز نہیں حتیٰ کہ «الشَّاهِدُ» ”شاہد“ طلوع ہو۔“ شاہد سے مراد ستارہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صلاة المسافرین 51 (830)، (تحفة الأشراف: 3445)، مسند احمد 6/396، 397 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مخمص ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: سورج ڈوبنے کے تھوڑی دیر بعد ہی شاہد طلوع ہوتا ہے، مصنف نے اس سے مغرب کی تاخیر پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے ظاہر ہے، یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ مغرب کی تعجیل نصوص سے ثابت ہے یہ ایک اجماعی مسئلہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
15. بَابُ: آخِرِ وَقْتِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے اخیر وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 523
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال شُعْبَةُ: كَانَ قَتَادَةُ يَرْفَعُهُ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ، قال:" وَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ مَا لَمْ يَنْتَصِفْ اللَّيْلُ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے (شعبہ کہتے ہیں: قتادہ اسے کبھی مرفوع کرتے تھے اور کبھی مرفوع نہیں کرتے تھے ۱؎) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر کا وقت نہ آ جائے، اور عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ ہو جائے، اور مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق کی سرخی چلی نہ جائے، اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے، اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج نکل نہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 523]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، (راویٔ حدیث) شعبہ کہتے ہیں کہ ”قتادہ مذکورہ روایت کو کبھی مرفوع بیان کرتے ہیں اور کبھی مرفوع بیان نہیں کرتے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کی نماز کا وقت باقی رہتا ہے جب تک عصر کا وقت شروع نہ ہو اور عصر کی نماز کا وقت باقی رہتا ہے جب تک سورج زرد نہ ہو اور مغرب کی نماز کا وقت باقی رہتا ہے جب تک سرخی کی زیادتی ختم نہ ہو اور عشاء کا وقت باقی رہتا ہے جب تک رات نصف نہ ہو اور صبح کا وقت باقی رہتا ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 31 (612)، سنن ابی داود/الصلاة 2 (396)، (تحفة الأشراف: 8946)، مسند احمد 2/210، 213، 223 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم میں دیگر دو سندوں سے مرفوعاً ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم