🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ: أَوَّلِ وَقْتِ الصُّبْحِ
باب: فجر کے اول وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی جس وقت صبح (صادق) آپ پر واضح ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 544]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی جب صبح آپ کے لیے واضح ہو گئی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2627)، وأخرجہ صحیح مسلم/الحج 19 (1218)، سنن ابی داود/المناسک 57 (1905)، سنن ابن ماجہ/المناسک 84 (3074)، (تحفة الأشراف: 2593)، (من حدیثہ في سیاق حجة النبی ﷺ) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 545
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا مِنَ الْغَدِ أَمَرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِنَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے فجر کے وقت کے بارے میں پوچھا، تو جب ہم نے دوسرے دن صبح کی تو آپ نے ہمیں جس وقت فجر کی پو پھٹی نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر جب دوسرا دن آیا، اور خوب اجالا ہو گیا تو حکم دیا تو نماز کھڑی کی گئی، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”نماز کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے؟ انہی دونوں کے درمیان (فجر کا) وقت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 545]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا۔ جب اگلے دن صبح ہوئی تو جونہی پو پھٹی، آپ نے حکم دیا کہ نماز کی اقامت کہی جائے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ جب اگلا دن ہوا تو آپ نے روشنی ہونے دی۔ پھر آپ نے حکم دیا تو نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر آپ نے فرمایا: ”کہاں ہے وہ شخص جو نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرتا تھا؟ ان دونوں کے درمیان وقت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 592)، مسند احمد 3/113، 182 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: التَّغْلِيسِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر (حالت اقامت) میں فجر اندھیرے میں پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تھے (آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر) عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی لوٹتی تھیں، تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 546]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی گھروں کو واپس جاتی تھیں اور اندھیرے کی بنا پر پہچانی نہ جاتی تھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 13 (372)، المواقیت 27 (578)، والأذان 163 (867)، 165 (872)، صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن ابی داود/الصلاة 8 (423)، سنن الترمذی/الصلاة 2 (153)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 17931)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (4)، مسند احمد 6/33، 36، 178، 248، 259 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 547
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، فَيَرْجِعْنَ فَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی فجر پڑھتی تھیں، پھر وہ لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں پاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 547]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز اپنی چادروں میں لپٹ کر پڑھتی تھیں، پھر واپس جاتیں تو اندھیرے کی بنا پر کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 2 (669)، مسند احمد 6/ 37، (تحفة الأشراف: 16442) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: التَّغْلِيسِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں غلس میں نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 548
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِغَلَسٍ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهُمْ، فَأَغَارَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ مَرَّتَيْنِ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھی، (آپ خیبر والوں کے قریب ہی تھے) پھر آپ نے ان پر حملہ کیا، اور دو بار کہا: «اللہ أكبر» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ خیبر ویران و برباد ہوا، جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 548]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے یہودیوں سے قریب تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حملہ کیا اور دو دفعہ فرمایا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر!“ «خَرِبَتْ خَيْبَرُ» ”خیبر ویران ہوا“ (پھر فرمایا:) ﴿فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] ”بلاشبہ ہم کسی قوم کے صحن (میدان) میں اتر پڑتے ہیں تو ان ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہو جاتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 12 (381)، الخوف 6 (947)، (تحفة الأشراف: 301)، مسند احمد 3/102، 186، 242، (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں اور ہم فتح یابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: الإِسْفَارِ
باب: نماز فجر اسفار میں پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 549
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، قال: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر اسفار میں پڑھو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 549]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَسْفِرُوا بِالصُّبْحِ» ”صبح (کی نماز) کو روشن کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 8 (424) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 5 (154) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الصلاة 2 (672) مطولاً، (تحفة الأشراف: 3582)، مسند احمد 3/465، 4/ 140، 142، سنن الدارمی/الصلاة 21 (1253، 1254، 1255) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس قدر تاخیر کرو کہ طلوع فجر میں شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ صاحب نے ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں لکھا ہے کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مساجد کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر خوب لمبی پڑھو تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہو جائے جیسا کہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہچان لیتا، اس طرح اس میں اور غلس والی روایت میں کوئی منافات نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 550
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قال: أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَسْفَرْتُمْ بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ بِالْأَجْرِ".
محمود بن لبید اپنی قوم کے کچھ انصاری لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنا تم فجر اجالے میں پڑھو گے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہو گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 550]
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم انصار کے کئی بزرگوں سے بیان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی نماز پڑھتے پڑھتے تم جس قدر بھی روشنی کرو گے، وہ تمہارے لیے ثواب میں اضافے کا ذریعہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 15670) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: علماء نے اسفار کی تاویل یہ کی ہے کہ فجر واضح ہو جائے، اس کے طلوع میں کوئی شک نہ ہو، اور ایک تاویل یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں صلاۃ سے نکلنے کے وقت کا بیان ہے نہ کہ صلاۃ میں داخل ہونے کا اس تاویل کی رو سے فجر غلس میں شروع کرنا، اور اسفار میں ختم کرنا افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ
باب: جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پا لی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 551
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج نکلنے سے پہلے نماز فجر کا ایک سجدہ پا لیا اس نے نماز فجر پالی ۱؎ اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کا ایک سجدہ پا لیا اس نے نماز عصر پالی“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 551]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے صبح کی نماز سے ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے قبل پالی تو اس نے نماز پالی اور جس شخص نے عصر کی نماز سے ایک رکعت سورج غروب ہونے سے قبل پالی تو اس نے نماز پالی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13937)، مسند احمد 2/399، 474 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں مقصد ایک پوری رکعت پا لینے کا ہے، جیسا کہ عائشہ کی حدیث میں آ رہا ہے یعنی اس کی وجہ سے وہ اس قابل ہو گیا کہ اس کے ساتھ باقی اور رکعتیں ملا لے، اس کی یہ نماز ادا سمجھی جائیگی قضاء نہیں، یہ مطلب نہیں کہ یہ رکعت پوری نماز کے لیے کافی ہو گی، اور جو لوگ کہتے ہیں کہ نماز کے دوران سورج نکلنے سے اس کی نماز فاسد ہو جائے گی وہ کہتے ہیں کہ اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے اتنا وقت مل گیا جس میں وہ ایک رکعت پڑھ سکتا ہو تو وہ نماز کا اہل ہو گیا، اور وہ نماز اس پر واجب ہو گئی مثلاً بچہ ایسے وقت میں بالغ ہوا یا حائضہ حیض سے پاک ہوئی یا کافر اسلام لے آیا ہو کہ وہ وقت کے اندر ایک رکعت پڑھ سکتا ہو، تو وہ نماز اس پر واجب ہو گئی لیکن حدیث رقم: (۵۱۷) سے جس میں «فلیتم صلوٰتہ» کے الفاظ وارد ہیں اس تاویل کی نفی ہو رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 552
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی اس نے فجر پالی، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی اس نے عصر پالی“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 552]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے فجر کی ایک رکعت طلوعِ آفتاب سے قبل پالی تو اس نے نماز پالی اور جس شخص نے عصر کی ایک رکعت غروبِ آفتاب سے قبل پالی تو اس نے نماز پالی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 30 (609)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 11 (700)، (تحفة الأشراف: 16705)، مسند احمد 6/78 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: آخِرِ وَقْتِ الصُّبْحِ
باب: فجر کے آخری وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 553
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور عصر تمہاری ان دونوں نمازوں ۱؎ کے درمیان پڑھتے تھے، اور مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈوب جاتا تھا، اور عشاء اس وقت پڑھتے تھے جب شفق غائب جاتی تھی، پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اور آپ فجر پڑھتے تھے یہاں تک کہ نگاہ پھیل جاتی تھی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 553]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا اور آپ عصر کی نماز تمہاری ان دو (ظہر اور عصر) نمازوں کے درمیان میں پڑھتے تھے اور مغرب کی نماز پڑھتے جب سورج غروب ہوتا اور عشاء کی نماز پڑھتے جب سرخی غائب ہو جاتی۔“ پھر انہوں نے اس کے بعد فرمایا: ”آپ صبح کی نماز سے اس وقت فارغ ہوتے جب نظر دور تک دیکھنے لگتی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 259)، مسند احمد 3/129، 169 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: ان دونوں نمازوں سے مراد ظہر اور عصر ہے یعنی تمہاری ظہر اور تمہاری عصر کے بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر ہوتی تھی، مقصود اس سے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر جلدی پڑھتے تھے اور تم لوگ تاخیر سے پڑھتے ہو۔ ۲؎: یعنی اجالا ہو جاتا اور ساری چیزیں دکھائی دینے لگتی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں