🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ
باب: جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 554
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 554]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی، اس نے نماز پالی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 29 (580)، صحیح مسلم/المساجد 30 (607)، سنن ابی داود/الصلاة 241 (1121)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 15243)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 3 (15)، مسند احمد 2/241، 265، 271، 280، 375، 376، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1256، 1257) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس نے نماز وقت پر ادا کرنے کی فضیلت پالی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 555
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 555]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی، اس نے نماز پالی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 30 (607)، (تحفة الأشراف: 15214)، مسند احمد 2/ 375 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 556
أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْعَطَّارُ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز کو پا لیا“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 556]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی، اس نے نماز پا لی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 30 (607)، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1256)، (تحفة الأشراف: 15201) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 557]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پا لی، اس نے نماز پا لی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13195) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 558
أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْجُمُعَةِ أَوْ غَيْرِهَا فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کی یا کسی اور نماز کی ایک رکعت پالی اس کی نماز مکمل ہو گئی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 558]
حضرت سالم اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ یا کسی اور نماز کی ایک رکعت پالی تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة 91 (1123)، (تحفة الأشراف: 7001) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی پوری نماز کے وقت پر ادا کرنے کا ثواب اسے مل گیا نہ کہ بالفعل اسے پوری نماز مل گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 559
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا، إِلَّا أَنَّهُ يَقْضِي مَا فَاتَهُ".
سالم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی البتہ وہ چھٹی ہوئی رکعتوں کو پڑھ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 559]
حضرت سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالی، اس نے نماز پالی، مگر جتنی نماز اس سے رہ گئی ہے، اسے پوری کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، مگر پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: السَّاعَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلاَةِ فِيهَا
باب: نماز کے ممنوع اوقات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 560
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّمْسُ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا، فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ".
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج نکلتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کی سینگ ہوتی ہے ۱؎، پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب دوپہر کو سورج سیدھائی پر آ جاتا ہے تو پھر اس سے مل جاتا ہے، اور جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے، تو اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (تینوں) اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 560]
حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کا سینگ بھی ہوتا ہے۔ پھر جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔ پھر جب سورج سر پر آ جاتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ مل جاتا ہے اور جب سورج ڈھل جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ پھر جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو شیطان پھر اس سے آ ملتا ہے اور جب غروب ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے روکا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة 148 (1253)، موطا امام مالک/القرآن 10 (44)، (تحفة الأشراف: 9678)، مسند احمد 4/348، 349 (صحیح) (لیکن تعلیل میں ’’فإذا استوت قارنھا، فإذا زالت فارقھا‘‘ کا جملہ منکر ہے، اس کی جگہ عمروبن عبسہ کی حدیث (رقم: 573) میں ’’فإنہا ساعة تفتح فیہا أبواب جہنم وتسجر‘‘ کا جملہ صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی شیطان سورج سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، اس سے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ سورج کے پوجنے والوں کا سجدہ اس کے لیے ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله فإذا استوت قارنها فإذا زالت فارقها
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 561
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ:" ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے سے اور اپنے مردوں کو دفنانے سے منع کرتے تھے: ایک تو جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو جائے یہاں تک کہ ڈوب جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 561]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”تین اوقات ایسے ہیں جن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھنے یا میت کے دفنانے سے منع کیا ہے: جب سورج روشن ہو کر طلوع ہو رہا ہو حتیٰ کہ بلند ہو جائے اور جب سورج سر پر کھڑا ہو حتیٰ کہ ڈھل جائے اور جب سورج غروب ہونے کے قریب ہو حتیٰ کہ غروب ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 51 (831)، سنن ابی داود/الجنائز 55 (3192)، سنن الترمذی/الجنائز 41 (1030)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 30 (1519)، (تحفة الأشراف: 9939)، مسند احمد 4/152، سنن الدارمی/الصلاة 142 (1472)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 566، 2015 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ
باب: فجر کے بعد نماز سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 562
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے، اور فجر کے بعد (بھی) یہاں تک کہ سورج نکل آئے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 562]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عصر (کی نماز) کے بعد نماز پڑھنے سے روکا ہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے اور صبح (کی نماز) کے بعد بھی نماز سے روکا ہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 51 (825)، (تحفة الأشراف: 13966)، موطا امام مالک/القرآن 10 (48)، مسند احمد 2/462، 496، 510، 529 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَكَانَ مِنْ أَحَبِّهِمْ إِلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سنا ہے، جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور وہ میرے نزدیک سب سے محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد نماز سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے ۱؎، اور عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 563]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں نے بہت سے اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان سب میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد نماز پڑھنے سے روکا ہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کی نماز کے بعد بھی نماز پڑھنے سے روکا ہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 30 (581)، صحیح مسلم/المسافرین 51 (826)، سنن ابی داود/الصلاة 299 (1276)، سنن الترمذی/الصلاة 20 (183)، سنن ابن ماجہ/إقامة 147 (1250)، (تحفة الأشراف: 10492)، مسند احمد 1/ 18، 20، 39، 50، 51، سنن الدارمی/الصلاة 142 (1473) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بخاری کی روایت میں «حتى ترتفع الشمس» ہے دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ طلوع (نکلنے) سے مراد مخصوص قسم کا طلوع ہے، اور وہ سورج کا نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں