🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْخُمْرَةِ
باب: کھجور کی چٹائی پہ نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 739
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 739]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 30 (333)، الصلاة 19 (379)، 21 (381)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة 63 (1028)، (تحفة الأشراف: 18062)، مسند احمد 6/330، 335، 336، سنن الدارمی/الصلاة 101 (1413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ
باب: منبر پر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 740
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّ هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأُرْسِلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقِيَ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي".
ابوحازم بن دینار کہتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ لوگ منبر کی لکڑی کے بارے میں بحث کر رہے تھے کہ وہ کس چیز کی تھی؟ ان لوگوں نے سہیل رضی اللہ عنہ اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خوب جانتا ہوں کہ یہ منبر کس لکڑی کا تھا، میں نے اسے پہلے ہی دن دیکھا تھا جس دن وہ رکھا گیا، اور جس دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پہل اس پر بیٹھے (ہوا یوں تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت (سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام لیا تھا) کو کہلوا بھیجا کہ آپ اپنے غلام سے جو بڑھئی ہے کہیں کہ وہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو اس طرح بنا دے کہ جب میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کروں تو اس پر بیٹھ سکوں، تو اس عورت نے غلام سے منبر بنانے کے لیے کہہ دیا، چنانچہ غلام نے جنگل کے جھاؤ سے اسے تیار کیا، پھر اسے اس عورت کے پاس لے کر آیا تو اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے یہاں رکھا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر چڑھے، اور اس پر نماز پڑھی، آپ نے اللہ اکبر کہا، آپ اسی پر تھے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور آپ اسی پر تھے، پھر آپ الٹے پاؤں اترے اور منبر کے پایوں کے پاس سجدہ کیا، پھر آپ نے دوبارہ اسی طرح کیا، تو جب آپ فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگو! میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کر سکو، اور (مجھ سے) میری نماز سیکھ سکو“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 740]
حضرت ابوحازم بن دینار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کچھ آدمی حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ دراصل ان کا اختلاف ہو گیا تھا کہ منبر کس لکڑی سے بنا تھا؟ تو انہوں نے ان سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ منبرِ نبوی کس لکڑی سے بنا تھا۔ میں نے اسے اسی دن دیکھا تھا جس دن وہ پہلی مرتبہ رکھا گیا تھا اور جب پہلی دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے تھے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کو، جس کا سہل رضی اللہ عنہ نے نام لیا تھا، پیغام بھیجا: ”اپنے بڑھئی غلام سے کہہ کہ وہ میرے لیے منبر تیار کرے تاکہ میں جب لوگوں سے بات چیت کروں تو اس پر بیٹھا کروں۔“ اس عورت نے غلام کو حکم دیا تو اس نے مقامِ غابہ کے جھاؤ کے درخت سے منبر تیار کیا، پھر اسے وہ لے کر (اس عورت کے پاس) آیا تو اس عورت نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے اس جگہ رکھ دیا گیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھے اور نماز شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر ہی پر تکبیرِ تحریمہ کہی، منبر ہی پر رکوع کیا، پھر پچھلے پاؤں نیچے اتارے اور منبر ہی سے متصل ہو کر سجدہ کیا، پھر دوبارہ منبر پر چڑھ گئے۔ جب فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کر سکو اور میری نماز (کا طریقہ) سیکھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 18 (377)، 64 (448)، الجمعة 26 (917)، البیوع 32 (2094)، صحیح مسلم/المساجد 10 (544)، سنن ابی داود/الصلاة 221 (1080)، (تحفة الأشراف: 4775)، مسند احمد 5/339، سنن الدارمی/الصلاة 45 (1293) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْحِمَارِ
باب: گدھے پر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 741
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور آپ کا رخ خیبر کی طرف تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 741]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر سوار نماز پڑھتے دیکھا، جبکہ آپ خیبر کی طرف جا رہے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن ابی داود/الصلاة 277 (1226)، موطا امام مالک/السفر 7 (25)، (تحفة الأشراف: 7086)، مسند احمد 2/7، 49، 52، 57، 75، 83، 128 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 742
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ رَاكِبٌ إِلَى خَيْبَرَ وَالْقِبْلَةُ خَلْفَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى عَلَى قَوْلِهِ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ الصَّوَابُ، مَوْقُوفٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ سوار ہو کر خیبر کی طرف جا رہے تھے، اور قبلہ آپ کے پیچھے تھا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے کہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن یحییٰ کی ان کے قول «يصلي على حمار» میں متابعت کی ہو ۱؎ اور یحییٰ بن سعید کی حدیث جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ موقوف ہے ۲؎ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 742]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر سوار نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی طرف جا رہے تھے جبکہ قبلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی جانب تھا۔ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ”ہم نہیں جانتے کہ کسی اور راوی نے «يُصَلِّي عَلَىٰ حِمَارٍ» ”وہ گدھے پر نماز پڑھ رہے تھے“ کے الفاظ بیان کرنے میں عمرو بن یحییٰ کی موافقت کی ہو۔ صحیح بات یہ ہے کہ یحییٰ بن سعید کی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس مفہوم کی روایت موقوف ہے۔ واللہ أعلم۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1665)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 10 (1100)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 7 (26) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف کا یہ قول ابن عمر رضی اللہ عنہم کی پچھلی حدیث سے متعلق ہے، اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عمرو بن یحییٰ کے سوا دیگر رواۃ نے «حمار» کی جگہ مطلق سواری ( «راحلتہ» ) کا ذکر کیا ہے، اور بعض روایات میں ”اونٹ“ کی صراحت ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اونٹ پر سوار تھے نہ کہ گدھے پر، لیکن نووی نے دونوں روایتوں کو صحیح قرار دیا ہے کہ کبھی آپ اونٹ پر سوار ہوئے اور کبھی گدھے پر، اور اس سے اصل مسئلے میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سواری کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر یا نفل پڑھی ہے۔ ۲؎: صحیح مسلم میں تو اس کی صراحت موجود ہے کہ لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ کو گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھتے دیکھا تو سوال کیا، اس پر انہوں نے صراحتاً کہا: ”اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا تو ایسا نہیں کرتا“ اس لیے ان کی روایت کو محض ان کا فعل قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں