سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: تَخْلِيقِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کو خوشبو میں بسانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 729
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے کیا ہی اچھا کیا“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 729]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی سامنے والی دیوار پر کھنکھار لگا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سرخ ہوگیا۔ انصار کی ایک عورت اٹھی، اس نے کھنکھار کو کھرچا اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا ہی خوب ہے!“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المساجد 10 (762)، (تحفة الأشراف: 698)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 39 (417)، مسند احمد 3/188، 199، 200 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
36. بَابُ: الْقَوْلِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَعِنْدَ الْخُرُوجِ مِنْهُ
باب: مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 730
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ بَصْرِيٌّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ، وَأَبَا أُسَيْدٍ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ".
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» ”اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں“ پڑھے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 730]
حضرت ابوحمید اور حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو کہے: «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“ اور جب مسجد سے باہر نکلے تو کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔““ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 10 (713)، سنن ابی داود/الصلاة 18 (465)، سنن ابن ماجہ/المساجد 13 (772)، (تحفة الأشراف: 11196، 11893)، مسند احمد 3/497، 5 (425)، سنن الدارمی/الصلاة 115 (1434) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
37. بَابُ: الأَمْرِ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْجُلُوسِ فِيهِ
باب: مسجد میں بیٹھنے سے پہلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 731
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیئے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 731]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنی چاہئیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 60 (444)، التھجد 25 (1163)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (714)، سنن ابی داود/الصلاة 19 (467)، سنن الترمذی/الصلاة 119 (316)، سنن ابن ماجہ/إقامة 57 (1013)، (تحفة الأشراف: 12123)، موطا امام مالک/السفر 18 (57)، مسند احمد 5/295، 296، 303، 305، 311، سنن الدارمی/الصلاة 114 (1433) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
38. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الْجُلُوسِ فِيهِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ بِغَيْرِ صَلاَةٍ
باب: بغیر نماز پڑھے مسجد میں بیٹھنے اور اس سے نکلنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 732
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قال ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قال: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَالَ: وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعًا وَثَمَانِينَ رَجُلًا، فَقَبِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ: تَعَالَ، فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لِي: مَا خَلَّفَكَ؟ أَلَمْ تَكُنِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ لِتَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشَكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُسْخِطُكَ عَلَيَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ، فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ"، فَقُمْتُ فَمَضَيْتُ. مُخْتَصَرٌ.
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا، اور ان سے بیعت کر لی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: ”آ جاؤ!“ چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: ”تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتور اور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے“، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 732]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا، جب وہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تھے تو سب سے پہلے مسجد میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔ (اس دن بھی) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کچھ کر لیا تو جو لوگ اس غزوے سے پیچھے رہ گئے تھے آکر اپنا اپنا عذر پیش کرنے لگے اور (یقین دلانے کے لیے) قسمیں کھانے لگے۔ یہ اسی سے زائد آدمی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری عذر کو قبول فرمایا اور ان سے بیعتِ اطاعت لے لی اور ان کے لیے بخشش طلب فرمائی اور ان کی باطنی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد فرما دیا حتیٰ کہ میں بھی آیا۔ جب میں نے سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض شخص کی طرح مسکرائے، پھر فرمایا: ”آگے آؤ۔“ میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیسے پیچھے رہے؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے) کسی دنیا دار (سردار) کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں جانتا ہوں کہ یقیناً میں اس کی ناراضی اور غصے سے نکل جاتا کیونکہ مجھے بات کرنے کا طریقہ (خوب) عنایت ہوا ہے۔ لیکن واللہ! مجھے یقین ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کے لیے اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ کہہ دیا تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وقتی طور پر) مجھ سے ناراض ہو جائیں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ واللہ! میں کبھی بھی اس قدر صاحبِ استطاعت و سہولت نہیں ہوا جس قدر اب تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے (پھر مجھ سے فرمایا:) تم اٹھ جاؤ، حتیٰ کہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ فرمائے۔“ میں اٹھ کے چلا آیا۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 198 (3088)، صحیح مسلم/المسافرین 12 (716)، سنن ابی داود/الجہاد 173 (2773)، 178 (2781)، (تحفة الأشراف: 11132)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر 10 (3102)، مسند احمد 3/455، 457، 459 و 6/388 (کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مفصل تخریج کے لیے حدیث رقم: (3451) کی تخریج دیکھئے، یہاں باب کی مناسبت سے متن اور تخریج میں اختصار سے کام لیا گیا ہے) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اسی سے باب پر استدلال کیا ہے، یعنی: کعب رضی اللہ عنہ بغیر تحیۃ المسجد پڑھے بیٹھ گئے، پھر اٹھ کر چلے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم نہیں دیا، لیکن یہ بعض حالات کے لیے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
39. بَابُ: صَلاَةِ الَّذِي يَمُرُّ عَلَى الْمَسْجِدِ
باب: مسجد سے گزرنے پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 733
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعَيْنَ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، قال: أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قال:" كُنَّا نَغْدُو إِلَى السُّوقِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَمُرُّ عَلَى الْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ".
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بازار جاتے تو مسجد سے گزرتے، تو اس میں نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 733]
حضرت ابوسعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بازار کو جاتے ہوئے مسجد کے پاس سے گزرتے تو اس میں نماز پڑھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12048) (ضعیف) (سند میں ’’مروان‘‘ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، مروان بن عثمان: ضعيف،،ضعفه النسائي والجمهور. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326
40. بَابُ: التَّرْغِيبِ فِي الْجُلُوسِ فِي الْمَسْجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کا انتظار کرنے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 734
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 734]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق فرشتے اس شخص کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں جو اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز پڑھی: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اَللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اسے معاف فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما“ جب تک وہ بے وضو نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 34 (176)، الصلاة 61 (445)، 87 (477)، الأذان 30 (647)، 36 (659)، البیوع 49 (2119)، بدء الخلق 7 (3229)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 20 (469)، (تحفة الأشراف: 13816)، موطا امام مالک/السفر 18 (54)، مسند احمد 2/266، 289، 312، 394، 415، 421، 486، 502 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 735
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَيْمُونٍ حَدَّثَهُ، قال: سَمِعْتُ سَهْلًا السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ".
سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز ہی میں رہتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 735]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص مسجد میں بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ (حکماً اور ثواب کے لحاظ سے) نماز ہی میں ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4808)، مسند احمد 5/331 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
41. بَابُ: ذِكْرِ نَهْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصَّلاَةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ
باب: اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 736
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 736]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اونٹوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المساجد 12 (769) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9651)، مسند احمد 4/85، 86، و5/54، 55، 56 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
42. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 737
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، أَيْنَمَا أَدْرَكَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةَ صَلَّى".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پوری روئے زمین ۱؎ میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، میری امت کا کوئی بھی آدمی جہاں نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 737]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور ذریعۂ طہارت بنائی گئی ہے، لہٰذا میرے کسی امتی کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے، وہ وہیں نماز پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 737]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 432 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس عموم میں اونٹوں کے باڑے بھی شامل ہیں، مگر پھر بھی اس عموم سے دیگر دلائل کی بنیاد پر زمین کے بعض حصے مستثنیٰ ہیں مثلاً گندی اور ناپاک جگہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
43. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْحَصِيرِ
باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 738
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهَا فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهَا فَتَتَّخِذَهُ مُصَلًّى،" فَأَتَاهَا فَعَمِدَتْ إِلَى حَصِيرٍ فَنَضَحَتْهُ بِمَاءٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَلَّوْا مَعَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کے پاس تشریف لا کر ان کے گھر میں نماز پڑھ دیں تاکہ وہ اسی کو اپنی نماز گاہ بنا لیں ۱؎، چنانچہ آپ ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے چٹائی لی اور اس پر پانی چھڑکا، پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی، اور آپ کے ساتھ گھر والوں نے بھی نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 738]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدتنا ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ ”ہمارے گھر تشریف لائیں اور نماز پڑھیں تاکہ ہم (تبرکاً) اس جگہ کو نماز کے لیے مقرر کر لیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں (ام سلیم رضی اللہ عنہا) نے ایک چٹائی اٹھائی اور اسے پانی سے گیلا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور سب (گھر والوں) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 220) (صحیح) (یہ حدیث آگے (802) پر آ رہی ہے)»
وضاحت: ۱؎: ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے کی دعوت کی تھی اس موقع پر آپ سے گھر میں مصلیٰ بنانے کی جگہ پر نماز ادا کرنے کی فرمائش کی تو آپ نے اسے قبول فرما لیا، یہ ایک اتفاقیہ بات تھی، مصلیٰ بنانے کی کوئی تقریب نہ تھی، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (۸۰۲ کے حوالہ جات)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح