🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ: مَنْ يُخْرَجُ مِنَ الْمَسْجِدِ
باب: کن لوگوں کو مسجد سے باہر نکالا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 709
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قال: إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ مَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلُ وَالثُّومُ، وَلَقَدْ" رَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ، أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ"، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگو! تم ان دونوں پودوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث ہی سمجھتا ہوں ۱؎ یعنی اس پیاز اور لہسن سے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان میں سے کسی کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، تو اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان دونوں کو کھائے تو پکا کر ان کی بو کو مار دے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 709]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”اے لوگو! تم ان دو بدبودار پودوں کو کھاتے ہو، یعنی لہسن اور پیاز، حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان کی بو پاتے تو اس کے بارے میں آپ حکم فرماتے اور اسے بقیع (مسجد نبوی سے متصل قبرستان) کی طرف نکال دیا جاتا، لہٰذا جس نے انہیں کھانا ہی ہو، وہ انہیں پکا کر ان کی بو ختم کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 17 (567) مطولاً، سنن ابن ماجہ/إقامة 58 (1014)، الأطعمة 59 (3363)، (تحفة الأشراف: 10646)، مسند احمد 1/15، 26، 27، 48 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جن کی بو ناگوار اور مکروہ ہے جب تک یہ کچے ہوں، یہ اس اعتبار سے خبیث ہیں کہ انہیں کھا کر مسجد میں جانا ممنوع ہے، البتہ پکنے کے بعد اس کا حکم بدل جائے گا، اور ان کا کھانا جائز ہو گا، اسی طرح مسجد میں جانے کا وقت نہ ہو تو اس وقت بھی ان کا کھانا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: ضَرْبِ الْخِبَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ
باب: مسجد میں خیمہ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 710
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ، وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟" فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہو جاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چنانچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے (خیمہ لگانے کا) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: ”کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟“ ۱؎، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سال) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا (اور اس کے بدلے) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 710]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو صبح کی نماز پڑھ کر اعتکاف والی جگہ میں داخل ہوتے۔ ایک دفعہ آپ نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، چنانچہ آپ نے حکم دیا اور آپ کے لیے (مسجد میں) ایک خیمہ لگایا گیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کا خیمہ بھی لگا دیا گیا۔ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ان کا خیمہ لگا دیکھا تو انہوں نے بھی خیمہ لگوا لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ دیکھا تو فرمایا: ”کیا یہ نیکی کا ارادہ رکھتی ہیں؟ (یعنی نہیں رکھتیں)“ پھر (ناراضی کی بنا پر) آپ نے اس سال رمضان میں اعتکاف نہ کیا بلکہ شوال کے دس دن اعتکاف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتکاف 6 (2033)، 7 (2034)، 14 (2041)، 18 (2045)، صحیح مسلم/الاعتکاف 2 (1172)، سنن ابی داود/الصوم 77 (2464)، سنن الترمذی/الصوم 71 (791) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الصوم 59 (1771)، (تحفة الأشراف: 17930)، مسند احمد 6/84، 226 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ تم لوگوں نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی یہ خیمے لگائے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 711
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ رَمْيَةً فِي الْأَكْحَلِ" فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ ۱؎ میں تیر مارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 711]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن زخمی ہو گئے۔ ایک قریشی آدمی (حبان بن عرقہ) نے ان کے بازو کی بڑی رگ میں تیر مارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگا دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کر لیا کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 77 (463) مطولاً، المغازي 30 (4122) مطولاً، صحیح مسلم/الجھاد 22 (1769)، سنن ابی داود/الجنائز 8 (3101)، (تحفة الأشراف: 16978)، مسند احمد 6/56، 131، 280 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «اکحل» ہاتھ میں ایک رگ ہوتی ہے جسے «عرق الحیاۃ» کہتے ہیں اگر وہ کٹ جائے تو خون رکتا نہیں سارا خون بہہ جاتا ہے، اور آدمی مر جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: إِدْخَالِ الصِّبْيَانِ الْمَسَاجِدَ
باب: بچوں کو مسجد میں لے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 712
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ صَبِيَّةٌ يَحْمِلُهَا" فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ وَيُعِيدُهَا إِذَا قَامَ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامہ بنت ابی العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کو (گود میں) اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، (ان کی ماں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا ہیں) امامہ ایک (کمسن) بچی تھیں، آپ انہیں اٹھائے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے نماز پڑھائی، جب رکوع میں جاتے تو انہیں اتار دیتے، اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں پھر گود میں اٹھا لیتے، ۱؎ یہاں تک کہ اسی طرح کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 712]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم ایک دفعہ مسجد میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی نواسی) امامہ بنت ابو العاص بن ربیع کو اٹھائے ہوئے ہمارے پاس آئے۔ وہ ابھی بچی تھی۔ ان کی والدہ زینب بنت رسول اللہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جبکہ وہ بچی آپ کے کندھے پر تھی۔ آپ جب رکوع فرماتے تو بچی کو اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے دوبارہ اٹھا لیتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز مکمل کی۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 106 (516)، الأدب 18 (5996) مختصراً، صحیح مسلم/المساجد 9 (543)، سنن ابی داود/الصلاة 169 (917، 918، 919، 920)، موطا امام مالک/السفر 24 (81)، (تحفة الأشراف: 12124)، مسند احمد 5/295، 296، 303، 304، 310، 311، سنن الدارمی/الصلاة 93 (1399، 1400)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 828، 1205، 1206 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ باجماعت نماز تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرض نماز رہی ہو گی کیونکہ جماعت سے عموماً فرض نماز ہی پڑھی جاتی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوا کہ فرض نماز میں بھی بوقت ضرورت ایسا کرنا جائز ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا کرنا یا تو ضرورت کے تحت رہا ہو گا، یا بیان جواز کے لیے، کچھ لوگوں نے اسے منسوخ کہا ہے، اور کچھ نے اسے آپ کے خصائص میں سے شمار کیا ہے لیکن یہ دعوے ایسے ہیں جن پر کوئی دلیل نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: رَبْطِ الأَسِيرِ بِسَارِيَةِ الْمَسْجِدِ
باب: قیدی کو مسجد کے کھمبے سے باندھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 713
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرُبِطَ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ" مُخْتَصَرٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو قبیلہ نجد کی جانب بھیجا، تو وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو (گرفتار کر کے) لائے، جو اہل یمامہ کا سردار تھا، اسے مسجد کے کھمبے سے باندھ دیا گیا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 713]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھڑ سوار دستہ نجد کی طرف بھیجا، وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو، جن کا نام ثمامہ بن اثال تھا، پکڑ کر لائے، یہ یمامہ والوں کے سردار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا،“ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 189 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: إِدْخَالِ الْبَعِيرِ الْمَسْجِدَ
باب: اونٹ کو مسجد میں داخل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 714
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر بیٹھ کر طواف کیا، آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 714]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کو چھڑی سے چھوتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 58 (1607)، 61 (1612)، 62 (1613)، 74 (1632)، الطلاق 24 (5293)، صحیح مسلم/الحج 42 (1272)، سنن ابی داود/الحج 49 (1877)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 28 (2948)، (تحفة الأشراف: 5837)، مسند احمد 1/214، 237، 248، 304، سنن الدارمی/المناسک 30 (1887)، ویأتی عند المؤلف برقم: 2957 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْبَيْعِ، وَالشِّرَاءِ، فِي الْمَسْجِدِ وَعَنِ التَّحَلُّقِ، قَبْلَ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنا اور جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 715
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ التَّحَلُّقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے، اور مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 715]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جمعۃ المبارک کے دن نماز جمعہ سے قبل حلقے بنانے اور مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322) مطولاً، سنن ابن ماجہ/المساجد 5 (749) مختصراً، وإقامة 96 (1133) مختصراً، (تحفة الأشراف: 8796)، مسند احمد 2/179، 212 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمعہ کے دن مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ جمعہ کے دن مسجد میں خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے، اور اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ جمعہ سے پہلے کسی وقت بھی حلقہ باندھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ تَنَاشُدِ الأَشْعَارِ، فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں اشعار پڑھنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 716
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 716]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079)، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن ابن ماجہ/المساجد 5 (749)، مسند احمد 2/179، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة 66 (برقم: 173)، (تحفة الأشراف: 8796) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: مسجد میں فحش اور مخرب اخلاق اشعار پڑھنا ممنوع ہے، رہے ایسے اشعار جو توحید اور اتباع سنت صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي إِنْشَادِ الشِّعْرِ الْحَسَنِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں اچھے اشعار پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 717
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قال: مَرَّ عُمَرُ، بِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ أَنْشَدْتُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ"؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، تو عمران رضی اللہ عنہ کی طرف گھورنے لگے، تو انہوں نے کہا: میں نے (مسجد میں) شعر پڑھا ہے، اور اس میں ایسی ہستی موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر تھی، پھر وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (مجھ سے) یہ کہتے نہیں سنا کہ ”تم میری طرف سے (کافروں کو) جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرما!“، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا! ہاں (سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 717]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جب کہ وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھور کر دیکھا تو وہ کہنے لگے: ”میں نے اس وقت بھی (مسجد میں) شعر پڑھے ہیں جب اس میں آپ سے بہتر شخصیت موجود تھی، (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم )۔“ پھر وہ (حضرت حسان رضی اللہ عنہ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» ”(اے حسان!) میری طرف سے (کافروں کو) جواب دو۔ اے اللہ! اس کی روح القدس سے تائید فرما۔“؟“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہاں۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 68 (453)، بدء الخلق 6 (3212)، الأدب 91 (6152)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 34 (2485)، سنن ابی داود/الأدب 95 (5013، 5014) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3402)، مسند احمد 5/222، وفی الیوم واللیلة (171) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ، فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں گمشدہ چیز کے ڈھونڈنے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: جَاءَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَجَدْتَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آ کر مسجد میں ایک گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کرے تو نہ پائے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 718]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور مسجد میں گم شدہ جانور کا اعلان کرنے لگا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کرے تجھے نہ ملے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2742) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں