سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ وَالصَّلاَةِ فِيهِ
باب: مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 699
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء (کبھی) سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل جاتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 699]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پیدل اور کبھی سوار مسجدِ قباء میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 97 (1399)، موطا امام مالک/السفر 23 (71)، (تحفة الأشراف: 7239)، مسند احمد 2/5، 30، 57، 58، 65 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیحین کی روایت میں ہے کہ آپ ہر ہفتہ مسجد قباء آتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 700
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيِّ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قال: قال أَبِي: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ كَانَ لَهُ عَدْلَ عُمْرَةٍ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (اپنے گھر سے) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 700]
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی (گھر سے) نکلا، حتیٰ کہ اس مسجد، یعنی مسجد قباء میں آیا اور اس میں نماز پڑھی تو اسے ایک عمرے کے برابر ثواب ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة 197 (1412)، (تحفة الأشراف: 4657)، مسند احمد 3/487 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
10. بَابُ: مَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَيْهِ مِنَ الْمَسَاجِدِ
باب: وہ مساجد جن کے لیے سفر کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 701
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ثواب کی نیت سے) صرف تین مسجدوں کے لیے سفر کیا جائے: ایک مسجد الحرام، دوسری میری یہ مسجد (مسجد نبوی)، اور تیسری مسجد اقصی (بیت المقدس)“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 701]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کی طرف دور دراز سے سواریاں کس کر نہ جایا جائے۔ (اور وہ تین مسجدیں یہ ہیں): مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة 1 (1189)، صحیح مسلم/الحج 95 (1397)، سنن ابی داود/الحج 98 (2033)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 13130)، مسند احمد 2/234، 238، 278، 501، سنن الدارمی/الصلاة 132 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
11. بَابُ: اتِّخَاذِ الْبِيَعِ مَسَاجِدَ
باب: گرجا گھروں کو مساجد بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 702
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلَازِمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قال: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ فِي إِدَاوَةٍ، وَأَمَرَنَا، فَقَالَ:" اخْرُجُوا، فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا". قُلْنَا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يَنْشُفُ، فَقَالَ:" مُدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا"، فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَكَسَرْنَا بِيعَتَنَا ثُمَّ نَضَحْنَا مَكَانَهَا وَاتَّخَذْنَاهَا مَسْجِدًا فَنَادَيْنَا فِيهِ بِالْأَذَانِ، قَالَ: وَالرَّاهِبُ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ، قَالَ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ تَلْعَةً مِنْ تِلَاعِنَا فَلَمْ نَرَهُ بَعْدُ.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وفد کی شکل میں نکلے، ہم نے آ کر آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور آپ کو بتایا کہ ہماری سر زمین میں ہمارا ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کی درخواست کی، تو آپ نے پانی منگوایا وضو کیا، اور کلی کی پھر اسے ایک برتن میں انڈیل دیا، اور ہمیں (جانے) کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جاؤ اور جب تم لوگ اپنے علاقے میں پہنچنا تو گرجا (کلیسا) کو توڑ ڈالنا، اور اس جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اسے مسجد بنا لینا“، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا ملک دور ہے، اور گرمی سخت ہے، پانی سوکھ جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں اور پانی ملا لیا کرنا کیونکہ تم جس قدر ملاؤ گے اس کی خوشبو بڑھتی جائے گی“ ؛ چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ اپنے ملک میں آ گئے، تو ہم نے گرجا کو توڑ ڈالا، پھر ہم نے اس جگہ پر یہ پانی چھڑکا اور اسے مسجد بنا لیا، پھر ہم نے اس میں اذان دی، اس گرجا کا راہب قبیلہ طے کا ایک آدمی تھا، جب اس نے اذان سنی تو کہا: یہ حق کی پکار ہے، پھر اس نے ہمارے ٹیلوں میں ایک ٹیلے کی طرف چلا گیا، اس کے بعد ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 702]
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنی قوم کے وفد کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے ساتھ نمازیں پڑھیں اور ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں ہمارا ایک گرجا ہے اور ہم نے آپ سے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، پھر وضو کیا اور کلی کی، پھر اس (پانی) کو ایک چھاگل میں انڈیل دیا اور فرمایا: ”جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اپنے گرجے کو توڑ دینا اور اس کی جگہ یہ پانی چھڑک دینا اور اس جگہ کو مسجد بنا لینا۔“ ہم نے کہا کہ ہمارا علاقہ بہت دور ہے اور گرمی سخت ہے، یہ پانی (وہاں پہنچتے پہنچتے) خشک ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں اور پانی ملا لیا کرنا، بلاشبہ اس سے اس کی پاکیزگی ہی میں اضافہ ہوگا۔“ ہم واپس چلے حتیٰ کہ جب اپنے علاقے میں پہنچے تو ہم نے اپنا گرجا توڑ دیا، پھر اس کی جگہ وہ مبارک پانی چھڑکا اور اس جگہ مسجد بنا لی، پھر ہم نے اس میں اذان کہی۔ اس گرجے میں قبیلۂ بنو طے کا ایک آدمی راہب (کے طور پر رہتا) تھا۔ جب اس نے اذان سنی تو کہنے لگا: ”یہ سچی دعوت ہے“، پھر وہ ایک ٹیلے کی طرف گیا اور اس کے بعد ہمیں نظر نہ آیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5028) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
12. بَابُ: نَبْشِ الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ أَرْضِهَا مَسْجِدًا
باب: قبروں کو اکھیڑنے اور ان کی جگہ مسجد بنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 703
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي عُرْضِ الْمَدِيِنَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي سُيُوفِهِمْ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَدِيفَهُ وَمَلَأٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا، قَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَتْ فِيهِ خَرِبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَتْ وَبِالْخَرِبِ فَسُوِّيَتْ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ، يَقُولُونَ:" اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو اس کے ایک کنارے بنی عمرو بن عوف نامی ایک قبیلہ میں اترے، آپ نے ان میں چودہ دن تک قیام کیا، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلا بھیجا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، آپ ان کے ساتھ چلے گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر ہیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنی نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے، جہاں نماز کا وقت ہوتا وہاں آپ نماز پڑھ لیتے، یہاں تک کہ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نجار کے لوگوں کو بلوایا، وہ آئے تو آپ نے فرمایا: ”بنو نجار! تم مجھ سے اپنی اس زمین کی قیمت لے لو“، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس میں مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجور کے درخت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکین کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھجور کے درخت کاٹ دیئے گئے، اور کھنڈرات ہموار کر دیئے گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھجور کے درختوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب لائن میں رکھ دیا، اور چوکھٹ کے دونوں پٹ پتھر کے بنائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پتھر ڈھوتے، اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے، وہ لوگ کہہ رہے تھے: اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے، انصار و مہاجرین کی تو مدد فرما۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 703]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ مدینہ منورہ کے ایک کنارے (قباء میں) ایک قبیلے میں اترے جنھیں بنو عمرو بن عوف کہا جاتا تھا۔ آپ ان میں چودہ راتیں ٹھہرے، پھر آپ نے بنو نجار کے سرداروں کی طرف پیغام بھیجا۔ وہ تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہیں اور بنو نجار کے سردار آپ کے ارد گرد ہیں حتیٰ کہ آپ نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے پڑاؤ ڈالا۔ (شروع شروع میں) آپ کو جہاں نماز کا وقت ہو جاتا تھا، نماز پڑھ لیتے تھے۔ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھتے رہے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا تو آپ نے بنو نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا۔ وہ آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے بنو نجار! مجھ سے اپنے اس احاطے کا بھاؤ (قیمت) کرو۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم تو اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے لیں گے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس احاطے میں مشرکوں کی قبریں تھیں، کچھ ویرانہ (کھنڈر) تھا اور کھجوروں کے درخت تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکوں کی قبریں اکھیڑ دی گئیں، درخت کاٹ دیے گئے اور ویرانے ہموار کر دیے گئے۔ انہوں نے مسجد کے قبلے والی جانب کھجور کے درختوں کی لائن لگا دی اور پتھروں کی چوکھٹ بنائی۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پتھر اٹھاتے تھے اور رجز (شعر) پڑھتے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے، وہ (سب) کہتے تھے: «اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الآخِرَهْ، فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالمُهَاجِرَهْ» ”اے اللہ! آخرت کی خیر کے سوا کوئی خیر نہیں، انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 48 (428)، فضائل المدینة 1 (1868)، فضائل الأنصار 46 (3932)، صحیح مسلم/المساجد 1 (524)، سنن ابی داود/الصلاة 12 (453، 454)، سنن ابن ماجہ/المساجد 3 (742)، (تحفة الأشراف: 1691)، مسند احمد 3/118، 123، 180، 211، 212، 244 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
13. بَابُ: النِّهْىِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ، مَسَاجِدَ
باب: قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 704
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَيُونُسَ، قَالَا: قال الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، قال وَهُوَ كَذَلِكَ" لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آیا تو آپ اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈالتے، اور جب دم گھٹنے لگتا تو چادر اپنے چہرہ سے ہٹا دیتے، اور اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 704]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کبھی چہرۂ انور پر ڈال لیتے، پھر جب گھبراہٹ ہوتی تو اسے چہرے سے ہٹا لیتے۔ اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 55 (435)، أحادیث الأنبیاء 50 (3453)، المغازي 83 (4442، 4443)، اللباس 19 (5816)، والحدیث عند صحیح البخاری/الجنائز 61 (1330)، 95 (1390)، صحیح مسلم/المساجد 3 (531)، مسند احمد 1/218 و 6/34، 228، 275)، (تحفة الأشراف: 5842، 16310)، ویأتی عند المؤلف سنن الدارمی/الصلاة 120 (1443) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 705
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَتَاهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا تِيكِ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم دونوں نے ایک کنیسہ (گرجا گھر) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 705]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں (ہجرتِ حبشہ کے دور میں) دیکھا تھا۔ اس میں تصویریں تھیں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان (عیسائیوں) کی یہ عادت تھی کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ تمام مخلوق میں سے بدترین ہوں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 48 (427)، 54 (434)، الجنائز 70 (1341)، مناقب الأنصار 37 (3873)، صحیح مسلم/المساجد 3 (528)، (تحفة الأشراف: 17306)، مسند احمد 6/51 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
14. بَابُ: الْفَضْلِ فِي إِتْيَانِ الْمَسَاجِدِ
باب: مسجد میں آنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 706
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حِينَ يَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تُكْتَبُ حَسَنَةً وَرِجْلٌ تَمْحُو سَيِّئَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 706]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جب اپنے گھر سے مسجد کے لیے نکلتا ہے اور قدم اٹھاتا ہے تو (ہر قدم کے لیے) ایک پاؤں اٹھانے پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا پاؤں اٹھانے پر ایک برائی مٹائی جاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14947)، مسند احمد 2/319، 431، 478 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
15. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ مَنْعِ النِّسَاءِ، مَنْ إِتْيَانِهِنَّ الْمَسَاجِدَ
باب: عورتوں کو مسجد میں آنے سے روکنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 707
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت چاہے تو وہ اسے نہ روکے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 707]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی عورت مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 166 (873)، النکاح 116 (5238)، صحیح مسلم/الصلاة 30 (442)، (تحفة الأشراف: 6823)، مسند احمد 2/7، 9 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
16. بَابُ: مَنْ يُمْنَعُ مِنَ الْمَسْجِدِ
باب: کن لوگوں کو مسجد میں آنے سے روکا جائے گا؟
حدیث نمبر: 708
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، قَالَ أَوَّلَ يَوْمٍ: الثُّومِ، ثُمَّ قَالَ: الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ، فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسَاجِدِنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اس درخت میں سے کھائے، پہلے دن آپ نے فرمایا لہسن میں سے، پھر فرمایا: لہسن، پیاز اور گندنا میں سے، تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت و تکلیف محسوس کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 708]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی یہ پودا (عطاء رحمہ اللہ نے) پہلے دن (حدیث بیان کرتے ہوئے) کہا: لہسن، پھر (دوسرے موقع پر) کہا: لہسن اور پیاز اور گندنا (پیازی) کھائے، تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 160 (854)، الأطعمة 49 (5452)، الاعتصام 24 (7359)، صحیح مسلم/المساجد 17 (564)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1807)، (تحفة الأشراف: 2447)، مسند احمد 3/380 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه