🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ: السُّكُوتِ فِي الْقَعْدَةِ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ
باب: خطیب کے جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان خاموشی سے بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، قال: حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قِعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَةً أُخْرَى، فَمَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے، جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو جھوٹا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1418]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر کچھ دیر کے لیے بیٹھ جاتے، اس دوران میں کلام نہ فرماتے، پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے۔ جو شخص تمہیں یہ بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے وہ قطعاً جھوٹا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2141)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، مسند احمد 5/89، 90، 91، 93، 95، 100 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْخُطْبَةِ الثَّانِيَةِ وَالذِّكْرِ فِيهَا
باب: دوسرے خطبے میں قرأت اور ذکر الٰہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1419
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلَاتُهُ قَصْدًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور کچھ آیتیں پڑھتے، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ۱؎ اور آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا، اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1419]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو جاتے اور قرآن مجید کی چند آیات تلاوت فرماتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا اور نماز بھی درمیانی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 229 (1101)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1106)، (تحفة الأشراف: 2163)، مسند احمد 5/86، 88، 91، 93، 98، 102، 106، 107ں ویأتی عند المؤلف فی العیدین 26 (برقم: 1585) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہی کی ایک روایت میں یہ صراحت ہے کہ آپ جمعہ میں دو خطبے دیتے تھے، اور دونوں میں تلاوت قرآن اور وعظ و تذکیر کیا کرتے تھے، اس لیے وعظ و تذکیر کے لیے صرف پہلے خطبے کو خاص کر لینا خلاف سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: الْكَلاَمِ وَالْقِيَامِ بَعْدَ النُّزُولِ عَنِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر سے اترنے کے بعد کھڑے رہنے اور گفتگو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1420
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ فَيَعْرِضُ لَهُ الرَّجُلُ فَيُكَلِّمُهُ، فَيَقُومُ مَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترتے پھر کوئی آدمی آپ کے سامنے آ جاتا تو آپ اس سے گفتگو کرتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لیتا یعنی اپنی بات ختم نہ کر لیتا، پھر آپ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھتے، اور نماز پڑھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1420]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دو خطبوں کے بعد) منبر سے اترتے تو کبھی کوئی آدمی آپ کے سامنے آکر آپ سے باتیں شروع کر دیتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہتے حتیٰ کہ وہ بات چیت مکمل کرتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مخصوص جائے نماز کی طرف بڑھتے اور نماز پڑھتے، یعنی پڑھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 240 (1120)، سنن الترمذی/الصلاة 256 (الجمعة 21) (517)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 89 (1117)، (تحفة الأشراف: 260)، مسند احمد 3/119، 127، 213 (شاذ) (صحیح بات یہ ہے کہ واقعہ عشاء کی صلاة میں پیش آیا تھا، بقول امام بخاری اس میں جریر بن حازم سے وہم ہو گیا ہے، کما نقل عنہ الترمذی)»
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أن ذلك كان في صلاة العشاء
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1120) ترمذي (517) ابن ماجه (1117) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ: عَدَدِ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ کی رکعات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1421
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قال: قَالَ عُمَرُ:" صَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جمعہ کی نماز، عید الفطر کی نماز، اور عید الاضحی کی نماز، اور سفر کی نماز، دو دو رکعتیں ہیں، اور یہ بزبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1421]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعہ، عید الفطر، عید الاضحیٰ اور سفر کی (رباعی) نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی دو دو رکعت ہے اور یہ مکمل نماز ہے، اس میں کوئی کمی نہیں۔ امام عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کوئی روایت نہیں سنی۔ (لہٰذا اس روایت کی سند منقطع ہے۔) [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 73 (1063)، (تحفة الأشراف: 10596)، مسند احمد 1/37، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1441 و 1567 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: محقق بات یہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا سماع عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، دیکھئیے مسند احمد، ونصب الرایہ (۲/۱۸۹) نیز ابن ماجہ کی دوسری سند (۱۰۶۴) میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ
باب: نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ منافقین پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1422
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُخَوَّلٌ، قال: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ وَفِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَالْمُنَافِقِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز نماز فجر میں «‏الم * تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھتے، اور جمعہ کی صلاۃ میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1422]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن صبح کی نماز میں ﴿الم تَنْزِيلُ﴾ [سورة السجدة: 1] اور ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ﴾ [سورة الإنسان: 1] اور جمعے کی نماز میں سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 957 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} وَ{هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ}
باب: نماز جمعہ میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «ھل أتاک حدیث الغاشیۃ» پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1423
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1423]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کی نماز (کی پہلی رکعت) میں سورۂ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور (دوسری رکعت میں) ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 242 (1125)، (تحفة الأشراف: 4615)، مسند احمد 5/7، 13، 14، 19 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت میں اور اس سے پہلے والے باب کی روایت میں بظاہر تعارض ہے، پر یہ اختلاف دونوں کے جواز اور دونوں کے مسنون ہونے پر دلالت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۃ منافقون پڑھتے اور کبھی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ میں سورتوں کی قرأت کے متعلق نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1424
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ , سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ , مَاذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى إِثْرِ سُورَةِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ:" كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورۃ الجمعہ کے بعد کون سی سورۃ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ «‏هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1424]
حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن سورۂ جمعہ کے بعد (دوسری رکعت میں) کون سی سورت پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] ۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1123)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 90 (1119)، (تحفة الأشراف: 11634)، موطا امام مالک/الجمعة 9 (19)، مسند احمد 4/270، 277، سنن الدارمی/الصلاة 203 (1607) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1425
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ أَخْبَرَهُ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ , وَرُبَّمَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ , فَيَقْرَأُ بِهِمَا فِيهِمَا جَمِيعًا".
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏هل أتاك حديث الغاشية‏» پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو جاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1425]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھا کرتے تھے۔ کبھی عید اور جمعہ ایک ہی دن آ جاتے تو یہی دو سورتیں دونوں میں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1122)، سنن الترمذی/الصلاة 268 (الجمعة 33) (533)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 157 (1281)، (تحفة الأشراف: 11612)، مسند احمد 4/271، 273، 276، 277، سنن الدارمی/الصلاة 203 (1609)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1569، 1591 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی ایک رکعت پا لینے والے شخص کی نماز جمعہ کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1426
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کی نماز میں سے ایک رکعت پا لی تو اس نے (جمعہ کی نماز) پا لی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1426]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعے کی نماز سے ایک رکعت (باجماعت) پالے تو اسے جمعہ مل گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 30 (607)، سنن الترمذی/الصلاة 260 (524)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 91 (1122)، (تحفة الأشراف: 15143)، مسند احمد 2/241، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1256) (شاذ بذکر الجمعة) (جمعہ کا لفظ صرف مؤلف کے یہاں ہے، باقی تمام محدثین کے یہاں صرف ”صلاة“ کا لفظ ہے، تفاصیل کے لیے مذکور تخریج ملاحظہ فرمائیں، اس لیے جمعہ کا لفظ شاذ ہے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ بذكر الجمعة والمحفوظ الصلاة
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ: عَدَدِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: نماز جمعہ کے بعد مسجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1427
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1427]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ پڑھے تو اس کے بعد چار رکعت (سنت) پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 18 (881)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 244 (1131)، سنن الترمذی/الصلاة (الجمعة 24) (523)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 95 (1130)، (تحفة الأشراف: 12597)، سنن الدارمی/الصلاة 207 (1616) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں چار رکعت کا ذکر ہے، اور اس کے بعد والی حدیث میں دو رکعت کا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں بعض لوگوں نے دونوں رایتوں میں اس طرح سے تطبیق دی ہے کہ جو مسجد میں پڑھے وہ چار رکعت پڑھے، اور جو گھر جا کر پڑھے وہ دو رکعت پڑھے، اسی طرح چار رکعت کس طرح پڑھی جائیں، اس میں بھی دو رائے ہے ایک رائے تو یہ ہے کہ ایک سلام کے ساتھ چاروں رکعتیں پڑھی جائیں، اور دوسری رائے یہ ہے کہ دو دو کر کے چار رکعتیں پڑھی جائیں، کیونکہ صحیح حدیث میں ہے «صلاۃ اللیل والنہارمثنیٰ مثنیٰ» رات اور دن کی (نفلی نمازیں) دو دو کر کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں