🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ: قِيَامِ الإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: امام کے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1398
أخبرنا أحمد بن عبد الله بن الحكم قال حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا شعبة عن منصور عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن كعب بن عجرة قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن أم الحكم يخطب قاعدا فقال انظروا إلى هذا يخطب قاعدا وقد قال الله عز وجل {وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما} ‏.‏
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں آئے اور عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو انہوں نے کہا: اس شخص کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں (الجمعہ: ۱۱)۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1398]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا تھا۔ وہ فرمانے لگے: اسے دیکھو، بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ [سورة الجمعة: 11] جب وہ کوئی تجارت یا کوئی تماشا دیکھتے ہیں تو اٹھ کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 11 (864)، (تحفة الأشراف: 11120) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: الْفَضْلِ فِي الدُّنُوِّ مِنَ الإِمَامِ
باب: جمعہ میں امام کے نزدیک رہنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1399
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَابْتَكَرَ وَغَدَا وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ ثُمَّ لَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غسل کرائے اور خود بھی غسل کرے، اور مسجد کے لیے سویرے نکل جائے، اور امام سے قریب رہے، اور خاموشی سے خطبہ سنے، پھر کوئی لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے روزے، اور قیام کا ثواب ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1399]
حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے جسم اور کپڑوں کو دھوئے اور غسل کرے اور اوّل وقت (مسجد میں) جائے اور شروعِ خطبہ کو پائے، امام کے قریب بیٹھے اور خاموش رہے، پھر کوئی لغو بات یا کام نہ کرے، اس کے لیے ہر قدم کے عوض ایک سال کے صیام و قیام کا ثواب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1382 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ تَخَطِّي، رِقَابِ النَّاسِ وَالإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ میں امام کے منبر پر ہونے کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1400
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيِ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ".
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1400]
حضرت ابوزاہریہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعے کے دن حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں) ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 238 (1118)، (تحفة الأشراف: 5188)، مسند احمد 4/188، 190 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس صورت میں ہے جب اگلی صفوں میں خالی جگہ نہ ہو لیکن اگر لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ رکھی ہو تو گردنیں پھلانگ کر جانا درست ہو گا، یا یہ اس وقت کے ساتھ خاص ہے جب امام منبر پر بیٹھا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِمَنْ جَاءَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آنے والے کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1401
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ:" أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ: لَا، قَالَ:" فَارْكَعْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی (مسجد میں) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: تو پڑھ لو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1401]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آیا جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن منبر پر (خطبہ دے رہے) تھے۔ آپ نے اس سے فرمایا: تو نے دو رکعتیں پڑھی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر پڑھ۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 32 (930)، 33 (931)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابی داود/الصلاة 237 (1115)، سنن الترمذی/فیہ 250 (الجمعة 15) (510)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 87 (1113)، (تحفة الأشراف: 2557)، مسند احمد 3/297، 308، 369، 380، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1406) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں ہیں، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والا دو رکعت پڑھ کر بیٹھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ جمعہ کے دوران بھی آئے تو وہ بھی مختصر طور پر دو رکعت ضرور پڑھے پھر خطبہ سنے تاہم خطبہ سے پہلے آنے والا شخص دو رکعت تحیۃالمسجد ادا کرنے کے بعد دو دو کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: الإِنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن خطبہ کے لیے خاموش کرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1402
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ , فَقَدْ لَغَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1402]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعے کے دن خطبے کی حالت میں اپنے ساتھی سے کہا: چپ رہ اس نے بھی لغو بات کی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 36 (934)، صحیح مسلم/الجمعة 3 (851)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 251 (الجمعة 16) (512)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 86 (1110)، (تحفة الأشراف: 13206)، موطا امام مالک/الجمعة 2 (6)، مسند احمد 2/244، 272، 280، 393، 396، 485، 518، 532، سنن الدارمی/الصلاة 195 (1590) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1403
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قال: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ , فَقَدْ لَغَوْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم اپنے ساتھ والے سے جمعہ کے دن کہو: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1403]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تو نے جمعے کے دن، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، اپنے ساتھی سے کہا: چپ ہو جا تو تو نے لغو کام کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: فَضْلِ الإِنْصَاتِ وَتَرْكِ اللَّغْوِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن خاموش رہنے اور لغو حرکت نہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1404
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ، وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کر لے، تو (اس کا یہ عمل) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہو گا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1404]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی شخص جمعہ کے دن اس طرح طہارت کرے جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، پھر اپنے گھر سے نکلے حتیٰ کہ جمعہ میں حاضر ہو اور خاموش رہے، یہاں تک کہ نماز پوری کرے، تو یہ گزشتہ جمعہ سے اب تک ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4508)، مسند احمد 5/438، 439، 440 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: كَيْفِيَّةِ الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ جمعہ کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1405
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70 , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا , وَلَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَلَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجة ۱؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا (آل عمران: ۱۰۲)۔ «يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ كان عليكم رقيبا‏» اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے (الاحزاب: ۷۰) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو (النساء: ۱)۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے، (یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1405]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ضرورت کے موقع پر (یوں) خطبہ سکھایا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» ہر تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں اور اس سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور اپنے نفس کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے، کوئی اسے گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین آیات پڑھتے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 102] اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں جب بھی موت آئے، اسلام ہی کی حالت میں آئے۔ ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان (حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی (حضرت حواء) کو پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتے توڑنے سے ڈرو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾ [سورة الأحزاب: 70] اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سچی بات کرو۔ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبیدہ نے اپنے والد محترم (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے کوئی روایت نہیں سنی اور اسی طرح حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود نے بھی اپنے والد محترم سے کوئی روایت نہیں سنی۔ اس طرح عبدالجبار بن وائل نے بھی اپنے والد محترم (حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے کوئی روایت نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 33 (2118)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 17 (1105)، سنن ابن ماجہ/النکاح 19 (1892)، (تحفة الأشراف: 9618)، مسند احمد 1/392، 432، سنن الدارمی/النکاح 20 (2248) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’ابو عبیدہ‘‘ اور ان کے باپ ”ابن مسعود‘‘ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، دیکھئے البانی کا رسالہ خطبة الحاجہ)»
وضاحت: ۱؎: حاجۃ کا لفظ عام ہے نکاح اور بیع وغیرہ سبھی چیزوں کو شامل ہے، اسی وجہ سے امام شافعی نے بیع و نکاح وغیرہ تمام عقود میں اس خطبہ کے پڑھنے کو مسنون قرار دیا ہے۔ نسائی کی اس سند میں بھی ابوعبیدہ ہیں، مگر ابوداؤد اور دیگر کی سندوں میں ابو عبیدہ کی جگہ ابوالاحوص ہیں، جن کا سماع ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2118) ترمذي (1105) ابن ماجه (1892) وانظر الحديث الآتي (3279) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: حَضِّ الإِمَامِ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: امام کا اپنے خطبہ میں جمعہ کے دن کے غسل کی ترغیب دلانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1406
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ غسل کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1406]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اس میں فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص جمعے کے لیے جائے تو وہ غسل کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7650)، مسند احمد 2/77 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1407
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ: سُنَّةٌ , وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ".
ابراہیم بن نشیط سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: سنت ہے، اور اسے مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منبر پر بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1407]
ابراہیم بن نشیط نے حضرت ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے جمعے کے دن غسل کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: سنت ہے اور مجھے یہ بات حضرت سالم رحمہ اللہ نے اپنے والد محترم رضی اللہ عنہ سے بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات منبر پر ارشاد فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6805)، مسند احمد 2/35 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبد الله بن وهب مدلس و عنعن. وحديث البخاري (894،919) ومسلم (844) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 332

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں