سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: إِيجَابِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1378
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1378]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر ضروری ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (858)، الجمعة 2 (879)، 12 (895)، الشھادات 18 (2665)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (846)، سنن ابی داود/الطھارة 129 (341)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1089)، موطا امام مالک/الجمعة 1 (4)، (تحفة الأشراف: 4161)، مسند احمد 3/6، 60، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1578، 1579) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمعہ کی نماز کے لیے غسل شروع میں واجب تھا، جو بعد میں منسوخ ہو گیا، دیکھئیے حدیث رقم: ۱۳۸۰، ۱۳۸۱۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1379
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ غُسْلُ يَوْمٍ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان شخص پر ہر سات دن میں ایک دن کا غسل ہے، اور وہ جمعہ کا دن ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1379]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان آدمی کے لیے ہر سات دنوں میں ایک دن غسل کرنا ضروری ہے اور وہ دن جمعۃ المبارک ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 3/304، (تحفة الأشراف: 2706) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
9. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1380
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهُمْ ذَكَرُوا غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يَسْكُنُونَ الْعَالِيَةَ فَيَحْضُرُونَ الْجُمُعَةَ وَبِهِمْ وَسَخٌ , فَإِذَا أَصَابَهُمُ الرَّوْحُ سَطَعَتْ أَرْوَاحُهُمْ فَيَتَأَذَّى بِهَا النَّاسُ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَوَ لَا يَغْتَسِلُونَ".
قاسم بن محمد ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمعہ کے دن کے غسل کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: لوگ «عالیہ» میں رہتے تھے، تو وہ وہاں سے جمعہ میں آتے تھے، اور ان کا حال یہ ہوتا کہ وہ میلے کچیلے ہوتے، جب ہوا ان پر سے ہوتے ہوئے گزرتی تو ان کی بو پھیلتی، تو لوگوں کو تکلیف ہوتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ لوگ غسل کر کے نہیں آ سکتے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1380]
حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس غسلِ جمعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: دراصل کچھ لوگ مدینہ منورہ کی بالائی بستیوں میں رہتے تھے (جو کئی کئی میل دور تھیں۔) وہ جمعے کے لیے (مسجد نبوی میں) آتے تھے۔ انہیں میل کچیل لگا ہوتا، جب ہوا چلتی تو ان سے بدبو پھیلتی اور دوسرے لوگ اس سے تکلیف محسوس کرتے۔ اس بات کا ذکر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غسل کر کے نہیں آتے؟“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17469)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 16 (903)، البیوع 15 (2071)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (847)، سنن ابی داود/الطہارة 130 (352) نحوہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «عالیہ» شہر مدینہ سے جنوب مشرق میں جو آباد یاں تھیں انہیں «عالیہ» (یا عوالی) کہا جاتا تھا، آج بھی انہیں ”عوالی“ کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1381
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ كِتَابًا , وَلَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَةَ إِلَّا حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور یہ خوب ہے ۱؎ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ”حسن بصری“ نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو ان کی کتاب سے روایت کیا ہے، کیونکہ حسن نے سمرہ سے سوائے عقیقہ والی حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں سنی ہے ۲؎ واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1381]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعے کے دن وضو کیا تو یہ کافی ہے اور اچھی بات ہے اور جو شخص غسل کرے تو غسل افضل ہے۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی) بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری، سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی کتاب سے بیان کرتے ہیں اور انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے عقیقے والی حدیث کے علاوہ کوئی روایت نہیں سنی۔ «وَاللّٰهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ» ۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 130 (354)، سنن الترمذی/الصلاة 240 (الجمعة 5) (497)، (تحفة الأشراف: 4587)، مسند احمد 5/8، 11، 15، 16، 22، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1581) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «فبہا» کا مطلب ہے «فبالرخصۃ أخذ» یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور «نِعْمَتْ» کا مطلب «نعمت ہی الرخصۃ» ہے یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے عدم وجوب پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ ایک تو اس میں وضو کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے ترک غسل کی اجازت نکلتی ہے۔ ۲؎: صحیح بخاری میں حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی حسن بصری کی سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایات موجود ہیں، اس بابت اختلاف ہے، مگر علی بن المدینی اور امام بخاری کی ترجیح یہی ہے کہ حسن بصری نے حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
10. بَابُ: فَضْلِ غُسْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن کے غسل کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1382
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , وَهَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَلَمْ يَلْغُ , كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غسل کرائے ۱؎ غسل کرے، سویرے سویرے (مسجد) جائے، شروع خطبہ سے موجود رہے، اور امام سے قریب بیٹھے، اور کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1382]
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (اپنے سر یا کپڑوں کو) اچھی طرح دھویا اور غسل کیا اور اول وقت مسجد میں گیا اور خطبے کو شروع سے سنا اور امام کے قریب بیٹھا اور کوئی فضول کام نہ کیا، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے صیام و قیام کا ثواب ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 129 (345، 346)، سنن الترمذی/الصلاة 239 (الجمعة 4) (496)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1087)، (تحفة الأشراف: 1735)، مسند احمد 4/8، 9، 10، 104، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1385، 1399 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جمعہ کے لیے اپنے غسل سے پہلے بیوی سے صحبت کرے کہ اسے بھی غسل کی ضرورت ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
11. بَابُ: الْهَيْئَةِ لِلْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے لیے اچھا لباس پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1383
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهَا فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً , فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا" , فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (ریشم کا) ایک جوڑا (بکتے) دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ اسے خرید لیتے، اور جمعہ کے دن، اور باہر کے وفود کے لیے جب وہ آپ سے ملنے آئیں پہنتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تو وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کچھ جوڑے آئے، آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے اسے پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے ایسا ایسا کہا تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ جوڑا تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم خود پہنو“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1383]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک (ریشمی) جوڑا (فروخت ہوتے) دیکھا تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ یہ جوڑا خرید لیں اور جمعے کے دن پہنا کریں اور جب وفد آئیں، تب بھی پہنیں (تو کیا ہی خوب ہو)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (یعنی ریشمی کپڑے کو) تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ جوڑا مجھے پہناتے ہیں جب کہ آپ نے عطارد کے لائے ہوئے جوڑے کے بارے میں جو الفاظ ارشاد فرمائے تھے (وہ تو اس کے برعکس حرمت پر دلالت کرنے والے تھے؟) آپ نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا مکہ مکرمہ میں رہنے والے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 7 (886)، العیدین 1 (948)، الھبة 27 (2612)، 29 (2619)، الجھاد 177 (3054) (وفیہ ’’العید‘‘ بدل ’’الجمعة‘‘)، اللباس 30 (5841)، الأدب 9 (5981)، 66 (6081) (بدون ذکر الجمعة أو العید)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1076)، اللباس 10 (4040)، (تحفة الأشراف: 8335)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 16 (3591)، موطا امام مالک/اللباس 8 (18)، مسند احمد 2/20، 39، 49 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1384
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ , وَالسِّوَاكَ , وَأَنْ يَمَسَّ مِنَ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، اور خوشبو لگانا جس پر وہ قادر ہو، ہر بالغ شخص پر واجب ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1384]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ مرد پر ضروری ہے، نیز وہ مسواک کرے اور جو خوشبو حاصل کرسکے، لگائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 1376 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
12. بَابُ: فَضْلِ الْمَشْىِ إِلَى الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ کے لیے پیدل جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1385
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَشْعَثِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَوْسَ بْنَ أَوْسٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ , وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ , كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنی بیوی کو غسل کرائے، صبح سویرے ہی جمعہ کے لیے نکلے، شروع خطبہ ہی سے موجود رہے، پیدل چل کر مسجد جائے، سواری نہ کرے، امام سے قریب بیٹھے، اور خاموش رہے کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کے ہر قدم پر ایک سال کے عمل کا ثواب ملے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1385]
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنے جسم وغیرہ کو اچھی طرح دھوئے اور اول وقت جائے، خطبہ شروع سے سنے، پیدل جائے، سوار نہ ہو، امام کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور فضول بات نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے عمل (صیام و قیام) کا ثواب ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1382 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
13. بَابُ: التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے لیے مسجد سویرے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1386
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , قَعَدَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَكَتَبُوا مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ , فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً، ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے (اس دن) مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، اور جو جمعہ کے لیے آتا ہے اسے لکھتے ہیں، اور جب امام (خطبہ دینے کے لیے) نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بطخ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک مرغی کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1386]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعے کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور جمعۃ المبارک کے لیے آنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ جب امام خطبے کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں۔“ (راویٔ حدیث) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے لیے سب سے پہلے آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے اونٹ بھیجنے والے کی طرح ہے۔ پھر اس کے بعد آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے گائے بھیجنے والے کی طرح ہے۔ پھر اس کے بعد آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے بکری بھیجنے والے کی طرح ہے۔ پھر اس کے بعد آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے بطخ بھیجنے والے کی طرح ہے۔ پھر اس کے بعد آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے مرغی بھیجنے والے کی طرح ہے۔ پھر اس کے بعد آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے انڈا بھیجنے والے کی طرح ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 31 (929)، بدء الخلق 6 (3211)، صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، (تحفة الأشراف: 13465)، مسند احمد 2/259، 263، 264، 280، 505، 512، سنن الدارمی/الصلاة 193 (1585) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے لیے جو جتنی جلدی پہنچے گا اتنا ہی زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، اور جتنی تاخیر کرے گا اتنا ہی ثواب میں کمی آتی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1387
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ , فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ , فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے لوگوں کو ان کے درجات و مراتب کے مطابق یعنی ترتیب وار لکھتے ہیں، جو پہلے آتا ہے اسے پہلے لکھتے ہیں، جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیے جاتے ہیں، اور فرشتے خطبہ سننے لگتے ہیں، جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک گائے قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ہے“، یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا (بھی) ذکر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1387]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں (یعنی مرفوعاً بیان کرتے ہیں): ”جب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو لوگوں کے نام ان کے (جمعۃ المبارک کے لیے آنے کے لحاظ سے) مراتب کے مطابق لکھتے ہیں، یعنی سب سے پہلے آنے والے، پھر ان کے بعد پہلے آنے والے (کا نام لکھتے ہیں)، پھر جب امام (خطبہ دینے کے لیے) نکلتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کرکے خطبۂ جمعہ سنتے ہیں، لہٰذا سب سے پہلے نماز جمعہ کے لیے آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے اونٹ بھیجنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے گائے بھیجنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد آنے والا (کعبے کی طرف) قربانی کے لیے مینڈھا بھیجنے والے کی طرح ہے۔“ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 82 (1092)، (تحفة الأشراف: 13138)، مسند احمد 2/239 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم