سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: عَلاَمَةِ مَوْتِ الْمُؤْمِنِ
باب: مومن کے مرنے کی نشانی۔
حدیث نمبر: 1829
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِينِ".
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1829]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی موت پیشانی کے پسینے کے ساتھ ہوتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 10 (982)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 5 (1452)، (تحفة الأشراف: 1992)، مسند احمد 5/350، 357، 360 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مومن موت کی شدت سے دوچار ہوتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کی بخشش ہو جائے، یا موت اسے اچانک اس حال میں پا لیتی ہے کہ وہ رزق حلال اور ادائیگی فرض کے لیے اس قدر کوشاں رہتا ہے کہ اس کی پیشانی عرق آلود رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1830
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: ”مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود رہتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1830]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”مومن ماتھے کے پسینے کے ساتھ مرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1996) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
6. بَابُ: شِدَّةِ الْمَوْتِ
باب: موت کی شدت۔
حدیث نمبر: 1831
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1831]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری آغوش میں فوت ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات دیکھنے کے بعد میں کسی کے لیے موت کی سختی کو ناپسند نہیں کرتی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 83 (4446)، (تحفة الأشراف: 17531)، مسند احمد 6/64، 77 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ موت کی سختی برے ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ ترقی درجات، اور گناہوں کی مغفرت کا سبب بھی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
7. بَابُ: الْمَوْتِ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ
باب: دوشنبہ (سوموار) کے دن مرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1832
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفُ السِّتَارَةِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَرْتَدَّ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ امْكُثُوا وَأَلْقَى السِّجْفَ , وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَذَلِكَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار اس وقت کیا تھا (جب) آپ نے (حجرے کا) پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے (کھڑے تھے)، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا (پھر) آپ اسی دن کے آخری (حصہ میں) انتقال فرما گئے، اور یہ دوشنبہ کا دن تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1832]
حضرت انس رضی اللہ عنہ (خادمِ خاص) بیان کرتے ہیں کہ آخری نگاہ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالی، یوں تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دروازے کا) پردہ ہٹایا جبکہ لوگ (صبح کی نماز میں) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفوں میں کھڑے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا (کہ شاید آپ تشریف لانا چاہتے ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو اشارہ کیا کہ ”اپنی اپنی جگہ نماز پڑھتے رہو“ (کیونکہ سب آپ کی طرف دیکھنے لگے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن کے آخر میں فوت ہو گئے۔ یہ پیر کے دن کی بات ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 21 (419)، سنن الترمذی/الشمائل 53 (368)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 64 (1624)، (تحفة الأشراف: 1487)، مسند احمد 3/110، 163، 196، 197 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
8. بَابُ: الْمَوْتِ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ
باب: اپنے مقام پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1833
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ" , قَالُوا: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کے جنازے) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”کاش! (یہ شخص) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: ”آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1833]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک آدمی فوت ہو گیا جو پیدا بھی وہیں ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا، پھر فرمایا: ”کاش کہ یہ اپنی پیدائش والی جگہ سے باہر فوت ہوتا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جب اپنی پیدائش کی جگہ سے دور فوت ہوتا ہے تو جنت میں اسے اس کی پیدائش گاہ سے موت کی جگہ تک کا فاصلہ ماپ کر جنت دی جاتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 61 (1614)، (تحفة الأشراف: 8856)، مسند احمد 2/177 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: جنت میں یہ جگہ اس لیے ملتی ہے کہ وہ اجنبیت کی موت مرتا ہے، یا مراد یہ ہے کہ اس کی قبر اتنی کشادہ کر دی جاتی ہے جتنا اس کی جائے پیدائش اور جائے وفات میں فاصلہ ہوتا، اس سے مسافرت اور اجنبیت کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، جب کسی برے کام کے لیے نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
9. بَابُ: مَا يُلْقَى بِهِ الْمُؤْمِنُ مِنَ الْكَرَامَةِ عِنْدَ خُرُوجِ نَفْسِهِ
باب: روح نکلتے وقت مومن کی عزت و تکریم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1834
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ , فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ السَّمَاءِ , فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدَمُ عَلَيْهِ، فَيَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَالَ: أَمَا أَتَاكُمْ؟ قَالُوا: ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطًا عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ بَابَ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن کی موت آتی ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں، اور (اس کی روح سے) کہتے ہیں: نکل، تو اللہ سے راضی ہے، اور اللہ تجھ سے راضی ہے، اللہ کی رحمت اور رزق کی طرف اور (اپنے) رب کی طرف جو ناراض نہیں ہے، تو وہ پاکیزہ خوشبودار مشک کی مانند نکل پڑتی، ہے یہاں تک کہ (فرشتے) اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، (جب) آسمان کے دروازے پر اسے لے کر آتے ہیں تو (دربان) کہتے ہیں: کیا خوب ہے یہ خوشبو جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے، (پھر) وہ اسے مومن کی روحوں کے پاس لے کر آتے ہیں، تو انہیں ایسی خوشی ہوتی ہے جو گمشدہ شخص کے لوٹ کر آ جانے سے بڑھ کر ہوتی ہے، وہ روحیں اس سے ان لوگوں کا حال پوچھتی ہیں جنہیں وہ دنیا میں چھوڑ گئے تھے: فلاں کیسے ہے، اور فلاں کیسے ہے؟ وہ کہتی ہیں: انہیں چھوڑو، یہ دنیا کے غم میں مبتلا تھے، تو جب وہ (نووارد روح) کہتی ہے: کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ (وہ تو مر گیا تھا) تو وہ کہتی ہیں: اسے اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا، اور جب کافر قریب المرگ ہوتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ کا ٹکڑا لے کر آتے ہیں، (اور) کہتے ہیں: اللہ کے عذاب کی طرف نکل، تو اللہ سے ناراض ہے، اور اللہ تجھ سے ناراض ہے، تو وہ نکل پڑتی ہے جیسے سڑے مردار کی بدبو نکلتی ہے یہاں تک کہ اسے زمین کے دروازے پر لاتے ہیں (پھر) کہتے ہیں: کتنی خراب بدبو ہے یہاں تک کہ اسے کافروں کی روحوں میں لے جا کر (چھوڑ دیتے ہیں)“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1834]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن کو موت آنے لگتی ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی لباس لے کر اس کے پاس آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں: اے مومن روح! نکل آ، تو اللہ تعالیٰ سے راضی اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی، اور چل اللہ کی رحمت و مہربانی کی طرف اور پہنچ ایسے رب کے پاس جو تجھ پر قطعاً ناراض نہیں ہے، تو وہ انتہائی خوشبودار، پاکیزہ کستوری جیسی مہک کے ساتھ نکل آتی ہے حتیٰ کہ فرشتے (خوشی اور سرور سے) اسے ایک دوسرے کو پکڑاتے (ہاتھوں ہاتھ لیتے) ہیں اور اسی طرح وہ اسے آسمان کے دروازے تک لے جاتے ہیں۔ آسمان والے فرشتے کہتے ہیں: کس قدر خوشبودار ہے یہ روح جو تم زمین سے لائے ہو! پھر وہ اسے (پہلے سے فوت شدہ) مومنین کی روحوں کے پاس لے آتے ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ اس کے آنے پر اس قدر خوش ہوتے ہیں کہ تم اپنے کسی غائب شخص کے آنے پر اتنے خوش نہیں ہوتے، پھر وہ (پہلے سے موجود مومن) اس سے پوچھتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ فلاں کا کیا حال ہے؟ پھر وہ (آپس میں) کہتے ہیں: چھوڑو اسے، وہ تو دنیا کے غم و فکر میں تھا، جب وہ روح کہتی ہے کہ کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ (یعنی وہ تو کب کا مر چکا ہے) تو وہ کہتے ہیں: اوہو! اسے اس کے جہنمی ٹھکانے کی جانب لے جایا گیا ہے۔ (اس کے مقابلے میں) جب کافر کو موت آتی ہے تو عذاب کے فرشتے گندا بدبودار ٹاٹ لے کر اس کے پاس آ جاتے ہیں اور (غصے سے) کہتے ہیں: نکل ادھر، تو بھی ناراض اور تیرا اللہ بھی تجھ پر ناراض، چل اللہ عزوجل کے عذاب کی طرف، تو وہ انتہائی بدبودار مردار لاش کے بھبھوکے کے ساتھ نکلتی ہے حتیٰ کہ وہ اسے زمین کے دروازے پر لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں: کس قدر بدبودار ہے یہ! حتیٰ کہ وہ اسے (پہلے سے مرے ہوئے) کافروں کی روحوں میں لے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14290) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وأحاديث مسلم (2872) والبيهقي (اثبات عذاب القبر بتحقيقي: 1933) تغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 335
10. بَابُ: فِيمَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ
باب: اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے محبت کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1835
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" قَالَ شُرَيْحٌ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَقَدْ هَلَكْنَا , قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" , وَلَكِنْ لَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ , قَالَتْ: قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ إِذَا طَمَحَ الْبَصَرُ وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا“۔ شریح کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے کہا: ام المؤمنین! میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ذکر کرتے سنا ہے، اگر ایسا ہے تو ہم ہلاک ہو گئے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا“ لیکن ہم میں سے کوئی (بھی) ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو۔ تو انہوں نے کہا: بیشک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نگاہ پتھرا جائے، سینہ میں دم گھٹنے لگے، اور رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اس وقت جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1835]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتا ہے۔“ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد) حضرت شریح رحمہ اللہ نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المومنین! میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتے سنا ہے، اگر وہ صحیح ہے تو ہم تو مارے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ کون سی حدیث ہے؟ (میں نے کہا:) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملنا پسند نہیں فرماتا۔“ جبکہ ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے؟ (اور موت کے بغیر اللہ تعالیٰ سے ملاقات ممکن نہیں؟) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حقیقتاً یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں، لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو تم نے سمجھا ہے بلکہ یہ اس وقت ہے جب نظر اوپر اٹھ جائے اور سانس سینے میں اٹکنے لگے اور جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ کانپنے لگے۔ (عین نزاعِ روح کا عمل شروع ہو جائے) اس وقت ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور جو شخص اس وقت اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں فرماتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 5 (2685)، (تحفة الأشراف: 13492)، مسند احمد 2/313، 346، 420 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی صراحت فرما دی ہے (دیکھئیے حدیث رقم: ۱۸۳۹) مطلب یہ ہے کہ مومن کو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خوشی ہوتی ہے، اور کافر کو گھبراہٹ ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1836
قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:" إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ , وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے تو میں (بھی) اس سے ملنا چاہتا ہوں، اور جب وہ مجھ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو میں (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1836]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ میری ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہوں اور جب وہ میری ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي ہریرة أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 5 (7504)، (تحفة الأشراف: 13831)، وحدیث مغیرة، عن أبي الزناد قد تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13908)، موطا امام مالک/الجنائز 16 (50)، مسند احمد 2/418 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري أَخْبَرَنَاالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ
حدیث نمبر: 1837
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ".
عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے، اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1837]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کی خواہش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملنے کی خواہش کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 41 (6507) مطولاً، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 5 (2683)، سنن الترمذی/الجنائز 67 (1066)، والزھد 6 (2309)، (تحفة الأشراف: 5070)، مسند احمد 5/316، 321، سنن الدارمی/الرقاق 43 (2798) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1838
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ".
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1838]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا نہیں چاہتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه