سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1859
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: لَمَّا هَلَكَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَبَكَيْنَ النِّسَاءُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَلَا تَنْهَى هَؤُلَاءِ عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ رَأَى رَكْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: انْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِصُهَيْبٍ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْكِي عِنْدَهُ , يَقُولُ: وَا أُخَيَّاهُ وَا أُخَيَّاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ , لَا تَبْكِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَاذِبَيْنِ مُكَذَّبَيْنِ , وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ، وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيكُمْ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة النجم آية 38 , وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب ام ابان مر گئیں تو میں (بھی) لوگوں کے ساتھ (تعزیت میں) آیا، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہتے تھے، (ایک بار) میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو (مجھ سے) کہا: دیکھو (یہ) سوار کون ہیں؟ چنانچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، لوٹ کر ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، تو انہوں نے کہا: صہیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس لاؤ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دئیے گئے، صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے (اور) وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے بھائی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! روؤ مت، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“ (ابن عباس) کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو، البتہ سننے (میں) غلط فہمی ہوئی ہے، اور قرآن میں (ایسی بات موجود ہے) جس سے تمہیں تسکین ہو: «ألا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یوں) فرمایا تھا: ”اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1859]
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے کہا: جب (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی) ام ابان فوت ہوئیں تو میں بھی لوگوں کے ساتھ (ان کے گھر) گیا۔ مجھے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قریب بیٹھنے کا موقع ملا۔ عورتیں رونے لگیں تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ انہیں رونے سے نہیں روکتے؟ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر بعض (مخصوص قسم کے) رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسی ہی بات کہتے تھے۔ میں ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر میں نکلا حتیٰ کہ جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک درخت کے نیچے ایک قافلہ دیکھا تو فرمایا: جاؤ، دیکھو یہ قافلے والے کون ہیں؟ میں گیا تو وہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے تھے۔ میں نے واپس آکر بتایا: امیر المؤمنین! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں۔ فرمایا: صہیب کو میرے پاس لاؤ، پھر ہم جب مدینہ منورہ آئے تو (چند دن بعد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہو گیا۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھ کر رونے لگے اور کہنے لگے: ہائے میرے پیارے بھائی! ہائے میرے پیارے بھائی! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صہیب! نہ رو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر بعض (مخصوص قسم کے) رونے کی بنا پر عذاب دیا جاتا ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی تو فرمانے لگیں: اللہ کی قسم! تم یہ حدیث کسی جھوٹے اور جھوٹ کی طرف منسوب اشخاص سے بیان نہیں کرتے لیکن سننے میں غلطی لگ جاتی ہے۔ تمہارے لیے قرآن مجید میں اس کا شافی حل موجود ہے ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة النجم: 38] کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اضافہ فرماتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
16. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1860
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ , وَالْقَلْبَ مُصَابٌ , وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں (اور) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1860]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں سے ایک شخصیت فوت ہو گئی تو عورتیں اکٹھی ہو کر رونے لگیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر انہیں روکنے اور ان کو منتشر کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! رہنے دو، آنکھوں سے آنسو گر ہی آتے ہیں، دل میں صدمہ ہوتا ہی ہے اور ابھی وفات تازہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 53 (1587)، (تحفة الأشراف: 13475)، مسند احمد 2/110، 273، 408 (ضعیف) (اس کے راوی ’’سلمہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1587) سلمة : مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده من المتقدمين. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
17. بَابُ: دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ
باب: جاہلیت کی چیخ پکار اور رونا دھونا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدُعَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ" وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، وَقَالَ الْحَسَنُ بِدَعْوَى.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ۱؎ جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے (یعنی نوحہ کرے)“۔ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1861]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (کسی مصیبت پر) رخساروں پر تھپڑ مارتا ہے، گریبان پھاڑتا ہے یا دور جاہلیت کی پکار پکارتا (نوحہ کرتا) ہے۔“ یہ الفاظ (امام نسائی رحمہ اللہ کے استاد) علی (بن خشرم) نے بیان کیے ہیں، جبکہ (امام صاحب کے دوسرے استاد) حسن (بن اسماعیل) «بِدُعَاءٍ» کی بجائے «بِدَعْوَىٰ» کے الفاظ بیان کرتے ہیں (جبکہ معنی و مفہوم ایک ہی ہے، صرف الفاظ کا فرق ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 35 (1294)، 38 (1297)، 39 (1298)، والمناقب 8 (3519)، صحیح مسلم/الإیمان 44 (103)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 22 (999)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1584)، (تحفة الأشراف: 9569)، مسند احمد 1/432، 442، 456 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
18. بَابُ: السَّلْقِ
باب: میت پر رونا چلانا اور واویلا کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1862
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خَالِدٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ كَمَا بَرِئَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ , وَلَا خَرَقَ , وَلَا سَلَقَ".
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پر بے ہوشی طاری ہو گئی، لوگ ان پر رونے لگے، تو انہوں نے کہا: میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے، واویلا کرے ہم میں سے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1862]
حضرت صفوان بن محرز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بے ہوش ہو گئے تو گھر والے ان پر رونے لگ گئے۔ (ہوش میں آنے کے بعد) انہوں نے فرمایا: میں تمہارے اس فعل سے براءت کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس سے براءت فرمائی تھی: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (مصیبت کے موقع پر) بال منڈوائے، کپڑے پھاڑے اور چیخ و پکار کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، (تحفة الأشراف: 9004)، سنن ابی داود/الجنائز 29 (3130)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1586)، مسند احمد 4/396، 404، 405، 416 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مصیبت کے موقع پر سر منڈائے جیسے ہندو منڈواتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
19. بَابُ: ضَرْبِ الْخُدُودِ
باب: نوحہ میں منہ پیٹنا اور گالوں پر مارنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1863
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گال پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ہم میں سے نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1863]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (مصیبت کے وقت) رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت جیسی چیخ و پکار کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 35 (1294)، المناقب 8 (3519)، سنن الترمذی/الجنائز 22 (999)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1584)، (تحفة الأشراف: 9559)، مسند احمد 1/386، 442 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
20. بَابُ: الْحَلْقِ
باب: مصیبت میں سر منڈانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1864
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي بُرْدَةَ , قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَصِيحُ، قَالَا: فَأَفَاقَ , فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبِرْكِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ , وَخَرَقَ , وَسَلَقَ".
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری (کی بیماری) سخت ہوئی، تو ان کی عورت چلاتی ہوئی آئی۔ (ان کی بیماری میں کچھ) افاقہ ہوا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ میں ان چیزوں سے بری ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری تھے، ان دونوں نے ان کی بیوی سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”میں اس شخص سے بری ہوں جو سر منڈائے، کپڑے پھاڑے اور واویلا کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1864]
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید اور حضرت ابوبردہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تکلیف (مرض الموت میں) بڑھ گئی تو ان کی بیوی روتی چلاتی ہوئی آئی، وہ ہوش میں آئے تو فرمانے لگے: کیا میں تجھے بتا نہ دوں کہ میں ہر شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاتعلق ہیں؟ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ محترمہ کو یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شخص سے لاتعلق ہوں جس نے (مصیبت کے موقع پر بطور سوگ) بال منڈوائے، کپڑے پھاڑے یا چیخ و پکار کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1586)، (تحفة الأشراف: 9020) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
21. بَابُ: شَقِّ الْجُيُوبِ
باب: گریبان پھاڑنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1865
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1865]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (مصیبت کے وقت) رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1863 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1866
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَبَكَتْ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ، فَلَمَّا أَفَاقَ , قَالَ لَهَا: أَمَا بَلَغَكِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَسَأَلْنَاهَا , فَقَالَتْ: قَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ , وَحَلَقَ , وَخَرَقَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان پر غشی طاری ہوئی، تو ان کی ام ولد رو پڑی، جب (کچھ) افاقہ ہوا تو انہوں نے اس سے کہا: کیا تجھے وہ بات نہیں پہنچی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے؟ تو ہم نے اس سے پوچھا (آپ نے کیا فرمایا تھا؟) تو اس نے کہا: آپ نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، سر منڈائے، اور کپڑے پھاڑے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1866]
حضرت یزید بن اوس سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بے ہوش ہو گئے تو ان کی ایک لونڈی (جو ان کے بچوں کی ماں بھی تھی) رونے لگی۔ جب وہ ہوش میں آئے تو اس سے فرمایا: کیا تجھے وہ بات نہیں پہنچی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے؟ (بعد میں) ہم نے اس لونڈی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ (انہوں نے فرمایا تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (مصیبت کے موقع پر) چیخے چلائے، بال مونڈے اور کپڑے پھاڑے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 29 (3130)، (تحفة الأشراف: 18334)، مسند احمد 4/396، 404، 405 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1867
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ , وَسَلَقَ , وَخَرَقَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو سر منڈائے، واویلا کرے اور کپڑے پھاڑے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1867]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (سوگ میں) بال مونڈے، چیخے چلائے یا کپڑے پھاڑے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، (تحفة الأشراف: 9153)، مسند احمد 4/396، 404 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1868
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ , فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، ثُمَّ سَكَتَتْ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ: أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ".
قرثع کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری بڑھ گئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کیا تجھے معلوم نہیں؟ اس نے کہا: کیوں، نہیں ضرور معلوم ہے، پھر وہ خاموش ہو گئی، تو اس سے اس کے بعد پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہر اس شخص پر) لعنت فرمائی ہے جو سر منڈوائے، یا واویلا کرے، یا گریبان پھاڑے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1868]
حضرت قرثع رحمہ اللہ نے کہا: جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو تکلیف زیادہ ہوگئی تو ان کی ایک زوجہ محترمہ رونے لگیں، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تجھے پتا نہیں کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ وہ کہنے لگیں: کیوں نہیں؟ پھر وہ چپ ہوگئیں، بعد میں ان سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان کیا تھا؟ وہ کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس شخص پر لعنت کی ہے جو (سوگ کی بنا پر) بال مونڈے یا چیخے چلائے یا کپڑے پھاڑے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1866 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح