سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: الأَمْرِ بِالاِحْتِسَابِ وَالصَّبْرِ عِنْدَ نُزُولِ الْمُصِيبَةِ
باب: مصیبت آنے پر صبر کرنے اور اللہ سے ثواب چاہنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1869
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، أَنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ، فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلَامَ , وَيَقُولُ:" إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَ اللَّهِ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ" , فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا، فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا رَحْمَةٌ يَجْعَلُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا ۱؎ مرنے کو ہے آپ آ جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ آپ سلام کہتے ہیں، اور کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو (کچھ) لے، اور اسی کے لیے ہے جو (کچھ) دے، اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، تو چاہیئے کہ تم صبر کرو، اور اللہ سے اجر طلب کرو، بیٹی نے (دوبارہ) قسم دے کے کہلا بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور آ جائیں، چنانچہ آپ اٹھے، آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور کچھ اور لوگ تھے، (بچہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر اس حال میں لایا گیا کہ اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی، تو آپ کی آنکھوں (سے) آنسو بہ پڑے، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1869]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (حضرت زینب رضی اللہ عنہا) نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا قریب الوفات ہے، آپ تشریف لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی پیغام بھیجا، سلام کہا اور فرمایا: «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» ”اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دے رکھا تھا، اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کی مدت مقرر ہے، لہٰذا اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور (اگر کوئی مصیبت پہنچے تو) ثواب طلب کرنے کی نیت کرے۔“ آپ کی بیٹی نے دوبارہ پیغام بھیجا اور آپ کو قسم دی کہ آپ ضرور تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے جبکہ آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ (جب آپ پہنچے تو) بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑایا گیا۔ بچے کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 32 (1284)، والمرضی 9 (5655)، والقدر 4 (6602)، والأیمان والنذور 9 (6655)، والتوحید 2 (7377)، 25 (7448)، صحیح مسلم/الجنائز 6 (923)، سنن ابی داود/الجنائز 28 (3125)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 53 (1588)، (تحفة الأشراف: 98)، مسند احمد 5/204، 205، 206، 207 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد علی بن ابی العاص بن ربیع ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ بنت سے مراد فاطمہ رضی الله عنہا اور ابن سے مراد ان کے بیٹے محسن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1870
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر وہی ہے جو صدمہ (غم) پہنچتے ہی ہو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1870]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر پہلی چوٹ کے وقت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 31 (1283)، 42 (1302)، والأحکام 11 (7154)، صحیح مسلم/الجنائز 8 (926)، سنن ابی داود/الجنائز 27 (3124)، سنن الترمذی/الجنائز 13 (988)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 55 (1596)، (تحفة الأشراف: 439)، مسند احمد 3/130، 143، 217 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ رو پیٹ کر تو صبر سبھی کو آ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1871
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ وَهُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ:" أَتُحِبُّهُ؟" , فَقَالَ: أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ، فَمَاتَ فَفَقَدَهُ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالَ:" مَا يَسُرُّكَ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ عِنْدَهُ يَسْعَى يَفْتَحُ لَكَ".
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا (بھی) تھا، آپ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟“ تو اس نے جواب دیا: اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ (لڑکا) مر گیا، تو آپ نے (کچھ دنوں سے) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں (اس کے باپ سے) پوچھا (تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے) آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے (اپنے بچے) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1871]
حضرت قرہ مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا تھا۔ آپ نے اس آدمی سے فرمایا: ”کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟“ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ سے ویسی ہی محبت فرمائے جیسی میں اس سے رکھتا ہوں (یعنی مجھے اس سے انتہا درجے کی محبت ہے)۔ ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا، آپ نے جب کئی دن اس شخص کو نہ دیکھا تو اس کے بارے میں پوچھا (آپ کو بتایا گیا تو آپ نے اسے بلایا، وہ آیا تو) آپ نے فرمایا: ”کیا تجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تو (قیامت کے دن) جنت کے جس دروازے پر بھی جائے، وہاں اسے پائے، وہ بھاگتا ہوا تیرے لیے دروازہ کھولے؟“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11083)، مسند احمد 5/35، ویأتی عند المؤلف برقم: 2090 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
23. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ
باب: صبر کرنے اور اجر و ثواب چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1872
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ يُعَزِّيهِ بِابْنٍ لَهُ هَلَكَ، وَذَكَرَ فِي كِتَابِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ إِذَا ذَهَبَ بِصَفِيِّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ , وَقَالَ: مَا أُمِرَ بِهِ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ".
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے، اور وہ اس پر صبر کرے، اور اجر چاہے، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1872]
حضرت عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین کو ان کے ایک فوت ہونے والے بیٹے کی تعزیت کرتے ہوئے (خط) لکھا کہ میں نے اپنے والد محترم (حضرت شعیب) کو اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہ بیان فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے جگر گوشے کو اپنے پاس بلا لے، اور وہ اس پر صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے اس (مصیبت کے بدلے) ثواب طلب کرے اور وہی بات منہ سے نکالے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے تو اللہ تعالیٰ جنت سے کم کوئی بدلہ اس کے لیے پسند نہیں فرماتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8765) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
24. بَابُ: ثَوَابِ مَنِ احْتَسَبَ ثَلاَثَةً مِنْ صُلْبِهِ
باب: تین صلبی اولاد مر جانے پر اللہ تعالیٰ سے اجر چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1873
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ احْتَسَبَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ" , فَقَامَتِ امْرَأَةٌ , فَقَالَتْ: أَوِ اثْنَانِ , قَالَ:" أَوِ اثْنَانِ" , قَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا لَيْتَنِي قُلْتُ وَاحِدًا.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی تین صلبی اولاد مر جائیں (اور) وہ اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر و ثواب چاہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا“ (اتنے میں) ایک عورت کھڑی ہوئی اور بولی: اور دو اولاد مرنے پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو اولاد کے مرنے پر بھی“، اس عورت نے کہا: کاش! میں ایک ہی کہتی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1873]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی اولاد میں سے (فوت ہونے والے) تین بچوں کی وفات پر صبر کرے اور ثواب طلب کرے، وہ جنت میں جائے گا۔“ ایک عورت کھڑی ہو کر کہنے لگی: اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ہوں، تب بھی۔“ (بعد میں) اس عورت نے کہا: کاش میں (ایک بچہ) بھی کہہ دیتی۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 549) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر میں ایک بچہ مرنے کی بات آپ سے پوچھتی تو قوی امید ہے کہ آپ ایک بچہ مرنے پر بھی یہی ثواب بتاتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
25. بَابُ: مَنْ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلاَثَةٌ
باب: جس کی تین اولاد مر جائیں اس کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1874
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1874]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں (پھر وہ ان پر صبر کرے) تو اللہ تعالیٰ ان (بچوں) پر اپنی رحمت زیادہ ہونے کے باعث اس (مسلمان) کو جنت میں داخل فرمائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 6 (1248)، 91 (1381)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 57 (1605)، (تحفة الأشراف: 1036)، مسند احمد 3/152 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1875
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ".
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کیجئے تو انہوں کہا: اچھا سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس مسلمان ماں باپ کی بھی تین نابالغ اولاد مر جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے بخش دیتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1875]
حضرت صعصعہ بن معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا: مجھے کوئی حدیث بیان فرمائیں! انہوں نے فرمایا: اچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی دو مسلمان (ماں، باپ) ہوں اور ان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان (بچوں) پر اپنی رحمت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں (والدین) کے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11923)، مسند احمد 5/151، 153، 159، 164، سنن الدارمی/الجہاد 13 (2447) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1876
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سے جس شخص کے بھی تین بچے مر جائیں، تو اسے جہنم کی آگ صرف قسم ۱؎ پوری کرنے ہی کے لیے چھوئے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1876]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں (اور وہ ان پر صبر کرے) تو اسے آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لیے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 6 (1251)، والأیمان والنذور 9 (6656)، صحیح مسلم/البر والصلة 47 (2632)، سنن الترمذی/الجنائز 64 (1060)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 57 (1603)، (تحفة الأشراف: 13234)، موطا امام مالک/الجنائز 13 (38)، مسند احمد 2/473 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وہ قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وإن منكم إلا واردها» (مريم: 71) یعنی تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے جہنم پر سے نہ آنا پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1877
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ وَهُوَ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمُ الْجَنَّةَ , قَالَ: يُقَالُ لَهُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ , فَيَقُولُونَ: حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا , فَيُقَالُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تو وہ کہیں گے (ہم نہیں داخل ہو سکتے) جب تک کہ ہمارے والدین داخل نہ ہو جائیں، (پھر) کہا جائے گا: (جاؤ) اپنے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1877]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان (بچوں) پر اپنی رحمت زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے ماں باپ کو بھی جنت میں داخل فرمائے گا۔ بچوں سے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ کہیں گے: ہم تب جائیں گے جب ہمارے ماں باپ بھی جنت میں جائیں، تو فرمایا جائے گا: تم اور تمہارے ماں باپ سب جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14489)، مسند احمد 2/510 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
26. بَابُ: مَنْ قَدَّمَ ثَلاَثَةً
باب: جو تین اولاد آگے اللہ کے پاس بھیج چکا ہو اس کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1878
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا يَشْتَكِي، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخَافُ عَلَيْهِ وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلَاثَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے، اور (اس سے پہلے) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1878]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے مریض بیٹے کو لے کر آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! مجھے اس (کی موت) کا خطرہ ہے جبکہ پہلے بھی میرے تین بچے مر چکے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے آگ سے (بچنے کے لیے) مضبوط رکاوٹ تیار کرلی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 47 (2636)، (تحفة الأشراف: 14891)، مسند احمد 2/419، 536 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم