سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَابُ: فِي الْخَلُوقِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے لیے خلوق (خوشبو) کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 2710
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَمَا أَصْنَعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ" قَالَ: كُنْتُ أَتَّقِي هَذَا وَأَغْسِلُهُ، فَقَالَ:" مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ".
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمرہ کا احرام باندھے ہوئے، سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے اور خلوق لگائے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ عمرہ کا احرام باندھے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا، اور خلوق میں لت پت تھا، تو اس نے عرض کیا: میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی کرو جو حج میں کرتے ہو“، اس نے کہا: میں (حج میں) اس سے بچتا تھا، اور اسے دھو ڈالتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم حج میں کرتے تھے وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2710]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا لیکن اس نے سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور «الْخَلُوقُ» (خوشبو) لگا رکھی تھی۔ اس نے آپ سے کہا: میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو حج میں کیا کرتا تھا؟“ اس نے کہا: میں اس (سلے ہوئے کپڑے) سے بچتا تھا اور اس (خوشبو) کو دھو دیا کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”جو تو حج میں کرتا تھا، وہی عمرے میں کر۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2669 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”خلوق“ ایک معروف خوشبو ہے جو زعفران ملا کر بنائی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2711
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعِرَّانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى فَقَالَ:" انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ".
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اپنی داڑھی اور سر کو (زعفران سے) پیلا کیے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے اور میں جس طرح ہوں آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو اور زردی اپنے سے دھو ڈالو، اور جو حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2711]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جبکہ آپ جعرانہ میں تشریف فرما تھے۔ اس آدمی نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اپنی داڑھی اور سر کو زرد رنگ کی خوشبو لگا رکھی تھی۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میری حالت آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جبہ اتار دے اور رنگ دار خوشبو دھو دے اور جس طرح تو حج (کے احرام) میں کرتا تھا، اسی طرح عمرے (کے احرام) میں کر۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2669 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
45. بَابُ: الْكُحْلِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے لیے سرمہ کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 2712
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُحْرِمِ:" إِذَا اشْتَكَى رَأْسَهُ وَعَيْنَيْهِ أَنْ يُضَمِّدَهُمَا بِصَبِرٍ".
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے بارے میں فرمایا: ”جب اس کے سر میں درد ہو یا آنکھیں دکھیں تو ایلوا کا لیپ کر لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2712]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے بارے میں فرمایا: ”جب اسے سر یا آنکھوں میں تکلیف ہو تو اپنی آنکھوں پر ایلوے کا لیپ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 12 (1204)، سنن ابی داود/الحج 37 (1838)، سنن الترمذی/الحج 106 (952)، مسند احمد (1/59، 65)، سنن الدارمی/المناسک 83 (1971) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسی دوا لگا لے جس میں خوشبو نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
46. بَابُ: الْكَرَاهِيَةِ فِي الثِّيَابِ الْمُصْبَغَةِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے لیے رنگین کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2713
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرًا فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحْلِلْ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً" , وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا وَإِذَا فَاطِمَةُ قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ وَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ أَبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَدَقَتْ، صَدَقَتْ، صَدَقَتْ، أَنَا أَمَرْتُهَا".
محمد الباقر کہتے ہیں کہ ہم جابر (جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما) کے پاس آئے، اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے پہلے معلوم ہو گیا ہوتا جو اب معلوم ہوا تو میں ہدی (کا جانور) لے کر نہ آتا اور اسے عمرہ میں تبدیل کر دیتا (اور طواف و سعی کر کے احرام کھول دیتا) تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اسے عمرہ قرار دے لے“ (اسی موقع پر) علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی (کے اونٹ) لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر گئے۔ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب رنگین کپڑے پہن لیے اور سرمہ لگا لیا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تو غصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھنے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! فاطمہ نے تو رنگین کپڑے پہن رکھے ہیں اور سرمہ لگا رکھا ہے اور کہتی ہیں: میرے ابا جان صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا ہے؟، آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، اس نے، سچ کہا، میں نے ہی اسے حکم دیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2713]
حضرت محمد (باقر) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج (حجۃ الوداع) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر مجھے اس بات کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا بعد میں پتہ چلا ہے تو میں قربانی کے جانور ساتھ نہ لاتا اور حج کے بجائے عمرے کا احرام باندھتا، لہٰذا جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں بدل لے۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یمن سے قربانی کے جانور لے کر آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے قربانی کے جانور لائے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رنگ دار کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سرمہ لگا رکھا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھڑکانے (غصہ دلانے) کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ نے رنگ دار کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگا رکھا ہے اور وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کاموں کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔ وہ سچ کہتی ہے، وہ سچی ہے، میں نے ہی اسے حکم دیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 19 (1218)، سنن ابی داود/الحج 57 (1905)، سنن ابن ماجہ/الحج 84 (3074)، (تحفة الأشراف: 2593)، مسند احمد (3/320)، ویأتی عند المؤلف فی51، 52، 73، 331، 333، 340، 373، 388، 394، 397، سنن الدارمی/المناسک 11 (1846) (بأرقام2741، 2744) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
47. بَابُ: تَخْمِيرِ الْمُحْرِمِ وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ
باب: محرم کے سر اور چہرہ ڈھانپنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2714
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ خَارِجًا رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گر پڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2714]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی (احرام کی حالت میں) اپنی سواری سے گر پڑا، اس (سواری) نے اسے فوراً مار ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے (احرام والے) دو کپڑوں میں کفن دیا جائے، سر اور چہرہ ننگا رہے کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتا ہوا اٹھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 20 (1267)، الصید 21 (1851)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن ابن ماجہ/الحج 89 (3084م)، (تحفة الأشراف: 5453)، مسند احمد (1/215، 286، 328، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2856، 2857، 2860) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2715
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثِيَابِهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (حالت احرام میں) مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں ہی میں کفنا دو، اور اس کے سر اور چہرے کونہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2715]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک (محرم) آدمی فوت ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے (احرام کے) کپڑوں میں اسے کفنا دو اور اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپو، یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتا ہوا اٹھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1905 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
48. بَابُ: إِفْرَادِ الْحَجِّ
باب: حج افراد کا بیان۔
حدیث نمبر: 2716
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2716]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج17 (1211)، سنن ابی داود/الحج23 (1777)، سنن الترمذی/الحج10 (820)، سنن ابن ماجہ/الحج27 (2964)، (تحفة الأشراف: 17517)، موطا امام مالک/الحج 11 (37) حم6/243، سنن الدارمی/المناسک 16 (1853) (صحیح الإسناد، شاذ)»
وضاحت: ۱؎: حج کی تین قسمیں ہیں: افراد، قران اور تمتع، حج افراد: یہ ہے کہ صرف حج کی نیت سے احرام باندھے اور حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرے اور ساتھ میں ہدی کا جانور بھی لے اور حج تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینے میں میقات سے صرف عمر ے کی نیت کرے پھر مکہ میں جا کر عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دے اور پھر آٹھویں تاریخ کو مکہ سے نئے سرے سے حج کا احرام باندھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2717
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے لبیک پکارا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2717]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کی «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ کہی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 34 (1562)، المغازی 77 (4408)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1779)، سنن ابن ماجہ/الحج 37 (2965)، (تحفة الأشراف: 16389)، موطا امام مالک/الحج 11 (36)، مسند احمد (6/36، 104، 107، 243) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2718
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (چند دنوں کے بعد) ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھنے ہی والے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حج کا احرام باندھنا چاہے حج کا احرام باندھ لے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے عمرہ کا احرام باندھ لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2718]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے سے چند دن قبل (حج کو) نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص صرف حج کا احرام باندھنا چاہے، وہ حج کا احرام باندھے اور جو عمرے کا احرام باندھنا چاہے، وہ عمرے کا احرام باندھے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج23 (1778)، (تحفة الأشراف: 16863)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض17 (317)، والعمرة 5 (1783)، 7 (1786)، صحیح مسلم/الحج17 (1211)، موطا امام مالک/ الحج 11 (36)، مسند احمد (6/191) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ سے یہ روانگی ذی قعدہ کی پچیسویں تاریخ کو ہوئی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2719
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَسُلَيْمَانُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2719]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہمارا ارادہ یہی تھا کہ یہ صرف حج ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 34 (1561)، 35 (1562)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/المناسک 23 (1783) مطولا، (تحفة الأشراف: 15957، 15984) ویأتي عند المؤلف برقم: 2805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه