سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي لُبْسِ الْخُفَّيْنِ فِي الإِحْرَامِ لِمَنْ لاَ يَجِدُ نَعْلَيْنِ
باب: جوتے میسر نہ ہونے کی صورت میں موزے پہننے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2680
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ، وَإِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے سنا: ”جب کسی کو تہبند نہ ملے تو پائجامہ پہن لے، اور جب جوتیاں نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2680]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جب کوئی شخص (محرم) تہبند نہ پائے تو شلوار پہن سکتا ہے اور جب جوتے نہ پائے تو موزے پہن سکتا ہے، لیکن وہ انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2672 (صحیح) (حدیث میں ’’ولیقطعہما‘‘ ’’ان چمڑے کے موزوں کو کاٹ دے‘‘ کا لفظ شاذ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون وليقطعهما فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
38. بَابُ: قَطْعِهِمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ
باب: موزوں کو کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2681
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”جب محرم جوتے نہ پائے تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2681]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب محرم کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے مگر انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2678 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
39. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ أَنْ تَلْبَسَ الْمُحْرِمَةُ الْقُفَّازَيْنِ
باب: محرم عورت کو دستانے پہننے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2682
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَهُ نَعْلَانِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! احرام میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہن لے جو ٹخنوں سے نیچے سے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگا ہو، اور محرمہ عورت نہ نقاب پہنے، اور نہ دستانے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2682]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام کی حالت میں کس قسم کے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قمیص، شلوار اور موزے نہ پہنو مگر کسی آدمی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ٹخنوں سے نیچے موزے پہن لے۔ (اور ٹخنوں سے اوپر والا حصہ کاٹ دے)۔ اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جسے زعفران یا ورس لگی ہو۔ محرم عورت نقاب نہ باندھے اور دستانے بھی نہ پہنے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 13 (1838م)، تعلیقًا، (تحفة الأشراف: 7470) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
40. بَابُ: التَّلْبِيدِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام کے وقت بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2683
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ:" إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أُحِلَّ مِنَ الْحَجِّ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎، اور اپنے ہدی کی تقلید ۲؎ کر رکھی ہے، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤں“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2683]
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: لوگ تو حلال ہو گئے ہیں مگر آپ عمرہ کر کے حلال نہیں ہوئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بالوں کو گوند سے چپکایا ہے اور قربانی کے جانور کو قلادہ (ہار) پہنا دیا ہے، اس لیے میں حلال نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ حج سے حلال ہو جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج34 (1566)، 107 (1697)، 126 (1725)، والمغازی77 (4398)، صحیح مسلم/الحج25 (1229)، سنن ابی داود/الحج24 (1806)، سنن ابن ماجہ/الحج72 (3046)، (تحفة الأشراف: 15800)، موطا امام مالک/الحج 58 (180)، مسند احمد (6/283، 284، 285) ویأتی عند المؤلف برقم: 2783 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تلبید: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو کہتے ہیں تاکہ وہ بکھریں نہیں اور گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ ۲؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2684
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بالوں کو جمائے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2684]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلبید کی حالت میں «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ پکارتے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج19 (1540)، اللباس69 (5915)، صحیح مسلم/الحج3 (1184)، سنن ابی داود/الحج12 (1747)، سنن ابن ماجہ/الحج72 (3047) مختصراً، (تحفة الأشراف: 6976)، مسند احمد (2/121، 131) ویأتي عند المؤلف 2748 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
41. بَابُ: إِبَاحَةِ الطِّيبِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگانے کی اباحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2685
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَعِنْدَ إِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّ بِيَدَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2685]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں سے خوشبو لگائی آپ کے احرام کے وقت جب آپ نے احرام کا ارادہ فرمایا اور حلال ہونے (احرام کھولنے) کے وقت (خوشبو لگائی) پہلے اس سے کہ آپ مکمل حلال ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16091)، مسند احمد (6/106، 107) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2686
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2686]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، آپ کے احرام کے وقت احرام باندھنے سے پہلے اور آپ کے حلال ہونے (احرام کھولنے) کے وقت طواف زیارت کرنے سے پہلے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 18 (1539)، صحیح مسلم/الحج 1189)، سنن ابی داود/المناسک 11 (1745)، (تحفة الأشراف: 17518)، موطا امام مالک/الحج 7 (17) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2687
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے جس وقت آپ نے احرام کھولا خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2687]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت احرام باندھنے سے پہلے اور حلال ہونے کے وقت خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 73 (5922)، (تحفة الأشراف: 17529)، مسند احمد (6/238)، سنن الدارمی/المناسک 10 (1844) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2688
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھتے وقت آپ کو خوشبو لگائی، اور جب آپ جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد حلال ہوئے اس وقت بھی خوشبو لگائی اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف فرمائیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، (تحفة الأشراف: 16446) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2689
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرٍ، عَنْ ضَمْرَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْلَالِهِ، وَطَيَّبْتُهُ لِإِحْرَامِهِ طِيبًا لَا يُشْبِهُ طِيبَكُمْ هَذَا" تَعْنِي: لَيْسَ لَهُ بَقَاءٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اور آپ کے احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کے مشابہ نہیں تھی، یعنی یہ خوشبو دیرپا نہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2689]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حلال ہوتے وقت خوشبو لگائی اور احرام باندھنے کے وقت بھی ایسی خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کی طرح نہیں تھی، یعنی جو باقی نہیں رہتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16523) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح