صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْمُحْصَرِ وَجَزَاءِ الصَّيْدِ:
باب: محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q1806
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ سورة البقرة آية 196، وَقَالَ عَطَاءٌ: الْإِحْصَارُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يَحْبِسُهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَصُورًا لَا يَأْتِي النِّسَاءَ.
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”پس تم اگر روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو وہ مکہ بھیجو اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈاؤ (یعنی احرام نہ کھولو) جب تک قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے“ (یعنی مکہ پہنچ کر ذبح نہ ہو جائے) اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے کہا کہ جو چیز بھی روکے اس کا یہی حکم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: Q1806]
1M. بَابُ إِذَا أُحْصِرَ الْمُعْتَمِرُ:
باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔
حدیث نمبر: 1806
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ، قَالَ:" إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فساد کے زمانہ میں عمرہ کرنے کے لیے جب مکہ جانے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے کعبہ شریف پہنچنے سے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگوں نے کیا تھا، چنانچہ آپ نے بھی صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1806]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عمرہ کرنے کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے تو کہا: اگر مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے سے روکا گیا تو میں وہی کچھ کروں گا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا، چنانچہ انہوں نے اس بنا پر احرام باندھ لیا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال احرام باندھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1806]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1807
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيَالِيَ نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْعُمْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَلَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَهْدَى، وَكَانَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے نافع سے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ جن دنوں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر حجاج کی لشکر کشی ہو رہی تھی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے کہا (کیونکہ آپ مکہ جانا چاہتے تھے) کہ اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو کوئی نقصان نہیں کیونکہ ڈر اس کا ہے کہ کہیں آپ کو بیت اللہ پہنچنے سے روک نہ دیا جائے۔ آپ بولے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے اور کفار قریش ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہو گئے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی نحر کی اور سر منڈا لیا، عبداللہ نے کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے بھی ان شاءاللہ عمرہ اپنے پر واجب قرار دے لیا ہے۔ میں ضرور جاؤں گا اور اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے کا راستہ مل گیا تو طواف کروں گا، لیکن اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، میں اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا چنانچہ آپ نے ذو الحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا پھر تھوڑی دور چل کر فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی ہیں، اب میں بھی تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب قرار دے لیا ہے، آپ نے حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ فارغ ہو کر ہی دسویں ذی الحجہ کو احرام کھولا اور قربانی کی۔ آپ فرماتے تھے کہ جب تک حاجی مکہ پہنچ کر ایک طواف زیارت نہ کر لے پورا احرام نہ کھولنا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1807]
حضرت عبید اللہ بن عبداللہ اور حضرت سالم بن عبداللہ رحمہما اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان دنوں گفتگو کی جب (حجاج کا) لشکر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے خلاف مکہ پہنچ چکا تھا۔ ان دونوں نے عرض کیا: اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو آپ کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ مبادا آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو کفارِ قریش بیت اللہ کے سامنے رکاوٹ بن گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات میں اپنی قربانی ذبح کر دی اور سر مبارک منڈوا دیا۔ لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ واجب کر چکا ہوں۔ اگر اللہ نے چاہا تو میں ضرور جاؤں گا۔ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہوئی تو میں بیت اللہ کا طواف کروں گا۔ اس کے برعکس اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ آ گئی تو میں وہی عمل کروں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور میں اس وقت آپ کے ہمراہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے ذوالحلیفہ سے عمرے کا احرام باندھ لیا۔ پھر تھوڑی دیر چل کر فرمانے لگے کہ حکم تو دونوں کا ایک ہے، اس لیے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے۔ پھر انہوں نے دونوں کا احرام کھولا حتیٰ کہ قربانی کے دن احرام سے باہر ہوئے اور قربانی ذبح کی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ احرام نہ کھولا جائے حتیٰ کہ مکہ میں داخل ہو کر ایک طواف کر لیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: لَوْ أَقَمْتَ بِهَذَا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ان سے نافع نے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے کسی بیٹے نے ان سے کہا تھا کاش آپ اس سال رک جاتے (تو اچھا ہوتا اسی اوپر والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1808]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بعض بیٹوں نے عرض کیا: اگر آپ اس سال ٹھہر جائیں تو بہتر ہوگا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَجَامَعَ نِسَاءَهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا".
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے سال مکہ جانے سے روک دیئے گئے تو آپ نے حدیبیہ ہی میں اپنا سر منڈوایا اور ازواج مطہرات کے پاس گئے اور قربانی کو نحر کیا، پھر آئندہ سال ایک دوسرا عمرہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1809]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (مقام حدیبیہ پر) روک دیا گیا تو آپ نے اپنا سر مبارک منڈوایا، اپنی بیویوں سے صحبت کی اور قربانی کے جانوروں کو ذبح کیا، پھر آئندہ سال (نیا) عمرہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
2. بَابُ الإِحْصَارِ فِي الْحَجِّ:
باب: حج سے روکے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1810
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا، فَيُهْدِي أَوْ يَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا"، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے کہ اگر کسی کو حج سے روک دیا جائے، ہو سکے تو وہ بیت اللہ کا طواف کر لے اور صفا اور مروہ کی سعی، پھر وہ ہر چیز سے حلال ہو جائے، یہاں تک کہ وہ دوسرے سال حج کر لے پھر قربانی کرے، اگر قربانی نہ ملے تو روزہ رکھے، عبداللہ سے روایت ہے کہ ہمیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی پہلی روایت کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1810]
حضرت سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: ”کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے؟ تم میں سے اگر کوئی حج سے روک دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرے، پھر صفا و مروہ کی سعی کرے۔ اس کے بعد وہ ہر چیز سے حلال ہو جائے۔ آئندہ سال حج کرے اور قربانی دے۔ اگر قربانی میسر نہ ہو تو روزے رکھے۔“ عبداللہ (بن مبارک) نے یہ روایت یونس کے علاوہ معمر عن زہری کے طریق سے بھی اسی طرح بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1810]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
3. بَابُ النَّحْرِ قَبْلَ الْحَلْقِ فِي الْحَصْرِ:
باب: رک جانے کے وقت سر منڈوانے سے پہلے قربانی کرنا۔
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ".
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں مسور رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قربانی سر منڈوانے سے پہلے کی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1811]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جس سال آپ عمرے سے روک دیے گئے تھے) پہلے قربانی کی، پھر سر منڈوایا اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، قَالَ: وَحَدَّثَ نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، وَسَالِمًا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوبدر شجاع بن ولید نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر بن محمد عمری نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ اور سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی، (کہ وہ اس سال مکہ نہ جائیں) تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر گئے تھے اور کفار قریش نے ہمیں بیت اللہ سے روک دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کو نحر کیا اور سر منڈایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1812]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ اور حضرت سالم رحمہ اللہ نے اپنے باپ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مکہ مکرمہ نہ جانے کے متعلق گفتگو کی تو انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو کفار قریش بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اونٹ کی قربانی کر دی اور اپنا سر مبارک منڈوا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1812]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
4. بَابُ مَنْ قَالَ لَيْسَ عَلَى الْمُحْصَرِ بَدَلٌ:
باب: جس نے کہا کہ روکے گئے شخص پر قضاء ضروری نہیں۔
حدیث نمبر: Q1813
وَقَالَ رَوْحٌ: عَنْ شِبْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" إِنَّمَا الْبَدَلُ عَلَى مَنْ نَقَضَ حَجَّهُ بِالتَّلَذُّذِ، فَأَمَّا مَنْ حَبَسَهُ عُذْرٌ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ يَحِلُّ وَلَا يَرْجِعُ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ وَهُوَ مُحْصَرٌ نَحَرَهُ، إِنْ كَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ، وَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ". وَقَالَ مَالِكٌ، وَغَيْرُهُ: يَنْحَرُ هَدْيَهُ وَيَحْلِقُ فِي أَيِّ مَوْضِعٍ كَانَ، وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ نَحَرُوا، وَحَلَقُوا، وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَبْلَ الطَّوَافِ، وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ الْهَدْيُ إِلَى الْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يُذْكَرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَحَدًا أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا، وَلَا يَعُودُوا لَهُ، وَالْحُدَيْبِيَةُ خَارِجٌ مِنْ الْحَرَمِ.
اور روح نے کہا، ان سے شبل بن عیاد نے، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ قضاء اس صورت میں واجب ہوتی ہے جب کوئی حج میں اپنی بیوی سے جماع کر کے نیت حج کو توڑ ڈالے لیکن کوئی اور عذر پیش آ گیا یا اس کے علاوہ کوئی بات ہوئی تو وہ حلال ہوتا ہے، قضاء اس پر ضروری نہیں اور اگر ساتھ قربانی کا جانور تھا اور وہ محصر ہوا اور حرم میں اسے نہ بھیج سکا تو اسے نحر کر دے، (جہاں پر بھی قیام ہو) یہ اس صورت میں جب قربانی کا جانور (قربانی کی جگہ) حرم شریف میں بھیجنے کی اسے طاقت نہ ہو لیکن اگر اس کی طاقت ہے تو جب تک قربانی وہاں ذبح نہ ہو جائے احرام نہیں کھول سکتا۔ امام مالک وغیرہ نے کہا کہ (محصر) خواہ کہیں بھی ہو اپنی قربانی وہیں نحر کر دے اور سر منڈا لے۔ اس پر قضاء بھی لازم نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم نے حدیبیہ میں بغیر طواف اور بغیر قربانی کے بیت اللہ تک پہنچے ہوئے نحر کیا اور سر منڈایا اور وہ ہر چیز سے حلال ہو گئے، پھر کسی نے ذکر نہیں کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی قضاء کا یا کسی بھی چیز کے دہرانے کا حکم دیا ہو اور حدیبیہ حد حرم سے باہر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: Q1813]
حدیث نمبر: 1813
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ، إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، وَرَأَى أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَى".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا کہ فتنہ کے زمانہ میں جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ کے ارادے سے چلے تو فرمایا کہ اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچے سے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو (حدیبیہ کے سال) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر آپ نے کچھ غور کر کے فرمایا کہ عمرہ اور حج تو ایک ہی ہے، اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے بھی یہی فرمایا کہ یہ دونوں تو ایک ہی ہیں۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ اب حج بھی اپنے لیے میں نے واجب قرار دیے لیا ہے پھر (مکہ پہنچ کر) آپ نے دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ آپ کا خیال تھا کہ یہ کافی ہے اور آپ قربانی کا جانور بھی ساتھ لے گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1813]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب وہ فتنہ ابن زبیر کے وقت عمرہ کرنے کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے تو فرمایا: اگر مجھے بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم وہی کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا۔ پھر انہوں نے عمرے کا احرام باندھا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال عمرے کی نیت سے احرام باندھا تھا۔ پھر عبداللہ نے اپنے معاملے میں غور کیا تو فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں کا حکم ایک ہے، اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: چونکہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، اس لیے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے۔ پھر انہوں نے دونوں کے لیے ایک طواف کیا اور اسے کافی سمجھا اور اپنی قربانی ذبح کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1813]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة