صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} وَهُوَ مُخَيَّرٌ، فَأَمَّا الصَّوْمُ فَثَلاَثَةُ أَيَّامٍ:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں (جوؤں کی) کوئی تکلیف ہو تو اسے روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دینا چاہئے یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے۔
حدیث نمبر: Q1814
وَهُوَ مُخَيَّرٌ، فَأَمَّا الصَّوْمُ فَثَلاَثَةُ أَيَّامٍ.
یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: Q1814]
حدیث نمبر: 1814
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:احْلِقْ رَأْسَكَ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید بن قیس نے، انہیں مجاہد نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور انہیں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، غالباً جوؤں سے تم کو تکلیف ہے، انہوں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنا سر منڈا لے اور تین دن کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری ذبح کر۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1814]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا دو، پھر تین دن کے روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ یا ایک بکری ذبح کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1814]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
6. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَوْ صَدَقَةٍ} وَهْيَ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”یا صدقہ“ (دیا جائے) یہ صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔
حدیث نمبر: 1815
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ:" وَقَفَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَرَأْسِي يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ: يُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، أَوْ قَالَ: احْلِقْ، قَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196، إِلَى آخِرِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوِ انْسُكْ بِمَا تَيَسَّرَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں میرے پاس آ کر کھڑے ہوئے تو جوئیں میرے سر سے برابر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جوئیں تو تمہارے لیے تکلیف دہ ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سر منڈا لے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ لفظ فرمایا کہ منڈا لے۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی کہ ”اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو“ آخر آیت تک، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن کے روزے رکھ لے یا ایک فرق غلہ سے چھ مسکینوں کو کھانا دے یا جو میسر ہو اس کی قربانی کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1815]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب کھڑے ہوئے تو میرے سر سے جوئیں گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوئیں تمہارے لیے تکلیف کا باعث ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا سر منڈوا دو۔“ حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ﴿فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ﴾ [سورة البقرة: 196] ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو۔۔۔“ آخر تک، میرے ہی حق میں نازل ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”تین دن روزے رکھ یا ایک «فَرَقٍ» (تین صاع) اناج چھ مساکین کو صدقہ کر یا جو قربانی تجھے میسر ہو اسے ذبح کر۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
7. بَابُ الإِطْعَامُ فِي الْفِدْيَةِ نِصْفُ صَاعٍ:
باب: فدیہ میں ہر فقیر کو آدھا صاع غلہ دینا۔
حدیث نمبر: 1816
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفِدْيَةِ، فَقَالَ:" نَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً، حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أُرَى الْوَجَعَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَوْ مَا كُنْتُ أُرَى الْجَهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى تَجِدُ شَاةً؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے، ان سے عبداللہ بن معقل نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے فدیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ (قرآن شریف کی آیت) اگرچہ خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔ ہوا یہ کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دیکھ کر فرمایا) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اتنی زیادہ تکلیف ہو گی یا (آپ نے یوں فرمایا کہ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ جہد (مشقت) تمہیں اس حد تک ہو گی، کیا تجھ میں بکری (بطور فدیہ) دینے کی طاقت ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تین دن کے روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا، ہر مسکین کو آدھا صاع کھلانا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1816]
حضرت عبداللہ بن معقل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اور ان سے فدیے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: مذکورہ (فدیے والی) آیت کریمہ میرے حق میں خاص طور پر نازل ہوئی، البتہ اس کا حکم تمہارے لیے عام ہے۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حالت میں لایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یقین نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہوگی۔ کیا تجھے بکری مل جائے گی؟“ میں نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو نصف صاع دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
8. بَابُ النُّسُكُ شَاةٌ:
باب: قرآن مجید میں «نسك» سے مراد بکری ہے۔
حدیث نمبر: 1817
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، وَأَنَّهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ".
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے شبل بن عباد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان جوؤں سے تمہیں تکلیف ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اپنا سر منڈا لیں۔ وہ اس وقت حدیبیہ میں تھے۔ (صلح حدیبیہ کے سال) اور کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ حدیبیہ ہی میں رہ جائیں گے بلکہ سب کی خواہش یہ تھی کہ مکہ میں داخل ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ چھ مسکینوں کو ایک فرق (یعنی تین صاع غلہ) تقسیم کر دیا جائے یا ایک بکری کی قربانی کرے یا تین دن کے روزے رکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1817]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ ان کے چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے تیری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا جبکہ آپ ابھی حدیبیہ ہی میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ وضاحت نہ فرمائی کہ وہ اسی مقام پر احرام کھول دیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر امید تھے کہ وہ ضرور مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فدیے کے احکام نازل فرمائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک «فَرَق» (تین صاع) طعام چھ مساکین کو کھلائیں یا بکری ذبح کریں یا تین دن کے روزے رکھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1818
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، مِثْلَهُ.
اور محمد بن یوسف سے روایت ہے کہ ہم کو ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی اور انہیں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرہ پر گر رہی تھی، پھر یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1818]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا جبکہ ان کے چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں۔ پھر اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
9. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلاَ رَفَثَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ البقررہ میں) کہ حج میں شہوت کی باتیں نہیں کرنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 1819
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا اور اس میں نہ «رفث» یعنی شہوت کی بات منہ سے نکالی اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1819]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر کا حج کیا، اس دوران میں بیوی سے جماع نہ کیا اور نہ گناہ ہی کی کوئی بات کی وہ اس طرح واپس ہوگا جیسے ابھی اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
10. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِي الْحَجِّ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ البقررہ میں) کہ حج میں گناہ اور جھگڑا نہ کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 1820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس گھر کا حج کیا اور نہ شہوت کی فحش باتیں کیں، نہ گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1820]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس گھر کا حج کیا اور شہوانی چھیڑا چھاڑ کی نہ بد کرداری ہی کا مرتکب ہوا تو وہ گناہوں سے ایسا صاف ہو کر واپس ہو گا جیسا کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المحصر/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة