🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي خُرُوجِ الْمَبْتُوتَةِ مِنْ بَيْتِهَا فِي عِدَّتِهَا لِسُكْنَاهَا
باب: تین طلاق والی عورت کو عدت گزارنے کے لیے اپنے گھر سے دوسری جگہ جانے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3578
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ بَصْرِيٌّ، عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ , وَمُغِيرَةُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وإسماعيل بن أبي خالد، وَذَكَرَ آخَرِينَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى، وَالنَّفَقَةِ، قَالَتْ:" فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ".
شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ان کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پوچھا؟ انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق بتہ (تین طلاق قطعی) دی تو میں ان سے نفقہ و سکنیٰ حاصل کرنے کا اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو آپ نے مجھے نفقہ و سکنیٰ پانے کا حقدار نہ ٹھہرایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اب ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزاروں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3578]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی بابت پوچھا تو انہوں نے بتایا: مجھے میرے خاوند نے آخری طلاق دے دی تھی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں اس کے خلاف رہائش و اخراجات (دورانِ عدت) کا دعویٰ کر دیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رہائش و اخراجات نہیں دلوائے اور مجھے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3579
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق الصَّاغَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارٌ هُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ:" طَلَّقَنِي زَوْجِي، فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَاعْتَدِّي فِيهِ، فَحَصَبَهُ الْأَسْوَدُ، وَقَالَ: وَيْلَكَ، لِمَ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالَ عُمَرُ: إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَّا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلا يَخْرُجْنَ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سورة الطلاق آية 1".
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو میں نے (شوہر کے گھر سے) منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اجازت طلب کرنے کی غرض سے) آئی، آپ نے (اجازت عطا فرمائی) فرمایا: ”اپنے چچا زاد بھائی عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت کے دن گزارو“۔ (یہ سن کر) اسود نے ان کی طرف (انہیں متوجہ کرنے کے لیے) کنکری پھینکی اور کہا: تمہارے لیے خرابی ہے ایسا فتویٰ کیوں دیتی ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم دو ایسے گواہ پیش کر دو جو اس بات کی گواہی دیں کہ جو تم کہہ رہی ہو اسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو ہم تمہاری بات قبول کر لیں گے۔ اور اگر دو گواہ نہیں پیش کر سکتیں تو ہم کسی عورت کے کہنے سے کلام پاک کی آیت: «لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» ”نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں“۔ (الطلاق: ۱) پر عمل کرنا ترک نہیں کر سکتے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3579]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی۔ میں نے خاوند کے گھر سے منتقل ہونے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”اپنے چچا کے بیٹے عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جا اور وہاں عدت پوری کر۔“ (یہ سن کر) حضرت اسود رحمہ اللہ نے حضرت شعبی رحمہ اللہ کو مار کر کہا: تو مرے! ایسا فتویٰ کیوں دیتا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: اگر تو دو گواہ لے آئے جو گواہی دیں کہ واقعتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے یہ بات سنی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم ایک عورت کے کہنے سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا یہ حکم نہیں چھوڑ سکتے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”مطلقہ عورتوں کو گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود منتقل ہوں، الا یہ کہ وہ کسی واضح برائی کا ارتکاب کر بیٹھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. بَابُ: خُرُوجِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا بِالنَّهَارِ
باب: جس کا شوہر مر گیا ہو کیا وہ (دوران عدت) دن میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3580
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" طُلِّقَتْ خَالَتُهُ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى نَخْلٍ لَهَا فَلَقِيَتْ رَجُلًا فَنَهَاهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اخْرُجِي، فَجُدِّي نَخْلَكِ لَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي وَتَفْعَلِي مَعْرُوفًا".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق ہو گئی (اسی دوران) انہوں نے اپنے کھجوروں کے باغ میں جانے کا ارادہ کیا تو ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے انہیں باغ میں جانے سے روکا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں (آپ سے اس بارے میں پوچھا) تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے باغ میں جا سکتی ہو، توقع ہے (جب تم اپنے باغ میں جاؤ گی، پھل توڑو گی تو) تم صدقہ کرو گی اور (دوسرے) اچھے بھلے کام کرو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3580]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق ہو گئی، انہوں نے اپنے نخلستان میں جانا چاہا، ایک آدمی انہیں ملا تو اس نے انہیں روک دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جا کر اپنی کھجوروں کا پھل توڑ سکتی ہے، ہو سکتا ہے تو اس سے صدقہ کرے یا کوئی اور نیک کام کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 7 (1483)، سنن ابی داود/الطلاق 41 (2297)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 9 (2034)، (تحفة الأشراف: 2799)، مسند احمد (3/321)، سنن الدارمی/البیوع 22 (2598) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. بَابُ: نَفَقَةِ الْبَائِنَةِ
باب: مطلقہ بائنہ کے نفقہ (اخراجات) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3581
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ:" طَلَّقَنِي زَوْجِي فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفْقَةً، قَالَتْ: فَوَضَعَ لِي عَشْرَةَ أَقْفِزَةٍ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لَهُ، خَمْسَةٌ شَعِيرٌ وَخَمْسَةٌ تَمْرٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ فُلَانٍ، وَكَانَ زَوْجُهَا طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَائِنًا".
ابوبکر بن حفص کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ دونوں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور میرے نفقہ و سکنیٰ کا انتظام نہ کیا، اور اپنے چچیرے بھائی کے یہاں میرے لیے دس قفیز رکھ دیئے: پانچ قفیز جو کے اور پانچ قفیز کھجور کے ۱؎، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو یہ ساری باتیں بتائیں تو آپ نے فرمایا: ”اس نے صحیح کہا ہے اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں فلاں کے گھر میں رہ کر اپنی عدت پوری کروں، ان کے شوہر نے انہیں طلاق بائن دی تھی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3581]
ابوبکر بن حفص رحمہ اللہ نے کہا کہ میں اور ابوسلمہ رحمہ اللہ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے۔ وہ فرمانے لگیں: مجھے میرے خاوند نے آخری طلاق دے دی، مجھے رہائش اور پورا نفقہ نہ دیا بلکہ اپنے ایک چچا زاد بھائی کے پاس میرے لیے دس قفیز رکھ چھوڑے: پانچ گندم کے اور پانچ جو کے۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور اس بارے میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ درست کہتا ہے۔“ اور مجھے کسی کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ انہیں ان کے خاوند نے طلاق بائنہ (جس کے بعد جماع ممکن نہ ہو) دے دی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3447 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قفیز آٹھ مکیال برابر سولہ کیلو گرام کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. بَابُ: نَفَقَةِ الْحَامِلِ الْمَبْتُوتَةِ
باب: قطعی طلاق والی حاملہ کے نفقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3582
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ طَلَّقَ ابْنَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأُمُّهَا حَمْنَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْبَتَّةَ، فَأَمَرَتْهَا خَالَتُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ بِالِانْتِقَالِ مِنْ بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَسَمِعَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَى مَسْكَنِهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُخْبِرُهُ أَنَّ خَالَتَهَا فَاطِمَةَ أَفْتَتْهَا بِذَلِكَ وَأَخْبَرَتْهَا , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْتَاهَا بِالِانْتِقَالِ حِينَ طَلَّقَهَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيُّ" , فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ إِلَى فَاطِمَةَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرٍو لَمَّا أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى الْيَمَنِ خَرَجَ مَعَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِتَطْلِيقَةٍ وَهِيَ بَقِيَّةُ طَلَاقِهَا، فَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَتِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى الْحَارِثِ، وَعَيَّاشٍ تَسْأَلُهُمَا النَّفَقَةَ الَّتِي أَمَرَ لَهَا بِهَا زَوْجُهَا، فَقَالَا: وَاللَّهِ مَا لَهَا عَلَيْنَا نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا، وَمَا لَهَا أَنْ تَسْكُنَ فِي مَسْكَنِنَا إِلَّا بِإِذْنِنَا، فَزَعَمَتْ فَاطِمَةُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ،" فَصَدَّقَهُمَا"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْنَ أَنْتَقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" انْتَقِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَهُوَ الْأَعْمَى الَّذِي عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ"، فَانْتَقَلْتُ عِنْدَهُ فَكُنْتُ أَضَعُ ثِيَابِي عِنْدَهُ، حَتَّى أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَعَمَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ.
زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی کو طلاق بتہ دی ۱؎ لڑکی کی ماں کا نام حمنہ بنت قیس تھا، لڑکی کی خالہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا کہ عبداللہ بن عمرو کے گھر سے (کہیں اور) منتقل ہو جا، یہ بات مروان (مروان بن حکم) نے سنی تو انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی بیوی کو کہلا بھیجا کہ اپنے گھر میں آ کر اس وقت تک رہو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے، (اس کے جواب میں) اس نے مروان کو یہ خبر بھیجی کہ مجھے میری خالہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر چھوڑ دینے کا فتویٰ دیا تھا اور بتایا تھا کہ جب ان کے شوہر ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر سے منتقل ہو جانے کا حکم دیا تھا۔ (یہ قصہ سن کر) مروان نے قبیصہ بن ذویب (نامی شخص) کو (تحقیق واقعہ کے لیے) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ (وہ آئے) اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو کی بیوی تھیں اور وہ اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر (گورنر) بنا کر بھیجا تھا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن چلے گئے تھے اور وہاں سے انہوں نے انہیں وہ طلاق دے کر بھیجی جو باقی رہ گئی تھی اور حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما کو کہلا بھیجا تھا کہ وہ انہیں نفقہ دے دیں گے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حارث اور عیاش سے اس نفقہ کا مطالبہ کیا جسے انہیں دینے کے لیے ان کے شوہر نے ان سے کہا تھا، ان دونوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جواب دیا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے ذمہ کوئی نفقہ نہیں ہے، (یعنی ان کے لیے نفقہ کا حق ہی نہیں تھا) ہاں اگر وہ حاملہ ہوں (تو انہیں بیشک وضع حمل تک نفقہ مل سکتا ہے) اور اب ان کے لیے ہمارے گھر میں رہنے کا بھی حق نہیں بنتا، الا یہ کہ ہم انہیں (ازراہ عنایت) اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ (یہ باتیں سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ ساری باتیں آپ کو بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تصدیق کی (کہ انہوں نے صحیح بات بتائی ہے)۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ“۔ یہ ابن ام مکتوم وہی نابینا شخص ہیں جن کی خاطر اللہ نے اپنی کتاب (قرآن پاک کی سورۃ عبس) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب فرمایا تھا۔ تو میں ان کے یہاں چلی گئی۔ (ان کے نہ دیکھ پانے کی وجہ سے بغیر کسی دقت و پریشانی کے) میں وہاں اپنے کپڑے اتار لیتی (اور تبدیل کر لیتی) تھی ۲؎ اور یہ سلسلہ اس وقت تک رہا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نہ کرا دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3582]
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو بتہ (تیسری) طلاق دے دی۔ ان کی والدہ کا نام حضرت حمنہ بنت قیس رضی اللہ عنہا تھا۔ چنانچہ ان کی خالہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اسے عبداللہ بن عمرو کے گھر سے منتقل ہونے کا حکم دیا۔ حضرت مروان نے بھی یہ بات سن لی۔ انہوں نے اسے پیغام بھیجا اور عدت ختم ہونے تک واپس اپنے گھر جانے کا حکم دیا۔ اس نے انہیں واپسی پیغام بھیجا کہ مجھے میری خالہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ فتویٰ دیا ہے اور بتایا ہے کہ جب انہیں ان کے خاوند حضرت ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاوند کے گھر سے منتقل ہونے کا حکم دیا تھا۔ حضرت مروان نے قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا اور اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں حضرت ابوعمرو رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن میں امیر مقرر فرمایا تو میرا خاوند بھی ان کے ساتھ گیا اور وہاں سے اس نے طلاق بھیج دی اور یہ آخری طلاق تھی جو باقی تھی، نیز اس نے حضرت حارث بن ہشام اور حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما کو مجھے نفقہ دینے کو کہا۔ میں نے حضرت حارث اور حضرت عیاش رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا کہ میرے خاوند کا بھیجا ہوا نان و نفقہ مجھے دیں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارے ذمے تیرا کوئی نفقہ نہیں الا یہ کہ تو حاملہ ہو۔ اور تو ہماری اجازت کے بغیر ہماری رہائش گاہ میں بھی نہیں رہ سکتی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری صورت حال بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق کی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہاں منتقل ہو جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ابن ام مکتوم کے ہاں چلی جا۔“ وہ نابینا شخص ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اظہارِ ناراضی فرمایا تھا۔ میں ان کے ہاں منتقل ہو گئی۔ میں ان کے ہاں فالتو کپڑے اتار سکتی تھی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نکاح حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3224 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسی طلاق جس سے طالق کا مطلقہ سے ہر طرح کا رشتہ ختم ہو جائے اور مرد کا اس سے بغیر دوسری شادی کے نکاح ناجائز ہو۔ ۲؎: معلوم ہوا کہ بلاقصد و ارادہ عورت کی نگاہ اگر مرد پر پڑ جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا شخص کے گھر میں عورت کو عدت گزارنے کے لیے جو حکم صادر فرمایا اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ عورت کی ذات مرد کی نگاہوں سے پوری طرح محفوظ رہے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود یہ کہ فاطمہ کی نگاہ ابن ام مکتوم پر پڑ سکتی تھی پھر بھی آپ نے اس ناحیہ سے کوئی حکم صادر نہیں فرمایا، اب رہ گئی بات ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث «افعمیاوان انتما» کی تو اس سلسلہ میں امام ابوداؤد اپنی سنن (۴/۳۶۲) میں لکھتے ہیں کہ یہ ازواج مطہرات کے لیے خاص ہے، ابن حجر رحمہ اللہ نے تلخیص (۳/۱۴۸) میں ابوداؤد رحمہ اللہ کی اس تطبیق کو «جمع حسن» کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. بَابُ: الأَقْرَاءِ
باب: قرء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3583
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ فَاطِمَةَ ابْنَةَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قُرْؤُكِ، فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ قُرْؤُكِ، فَلْتَطْهُرِي، قَالَ: ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ".
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے خون آنے کی شکایت کی تو آپ نے ان سے کہا: یہ کسی رگ سے آتا ہے (رحم سے نہیں) تم دھیان سے دیکھتی رہو جب تمہیں «قرؤ» یعنی حیض آئے ۱؎ تو نماز نہ پڑھو اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو (نہا دھو کر) پاک ہو جایا کرو اور پھر ایک حیض سے دوسرے حیض کے درمیان نماز پڑھا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3583]
حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے اپنے (بے قاعدہ) خون کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک بیماری ہے۔ غور کیا کر، جب تجھے حیض آئے تو نماز نہ پڑھ اور جب تیرا حیض گزر جائے تو پاک ہو اور اگلا حیض آنے تک نماز پڑھتی رہ۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 201 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قرؤ» سے حیض مراد لیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (212) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. بَابُ: نَسْخِ الْمُرَاجَعَةِ بَعْدَ التَّطْلِيقَاتِ الثَّلاَثِ
باب: تین طلاق کے بعد حق مراجعت کے ختم منسوخ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3584
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ:" مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا سورة البقرة آية 106 , وَقَالَ: وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ سورة النحل آية 101 , وَقَالَ: يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ سورة الرعد آية 39 , فَأَوَّلُ مَا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ الْقِبْلَةُ، وَقَالَ: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ سورة البقرة آية 228 إِلَى قَوْلِهِ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا سورة البقرة آية 228، وَذَلِكَ بِأَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَنَسَخَ ذَلِكَ، وَقَالَ: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما قرآن پاک کی آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» یعنی ”ہم جو کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس کی جگہ اس سے بہتر یا اسی جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں“ (البقرہ: ۱۰۶) اور دوسری آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» یعنی ”جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں تو تو گڑھ لاتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سمجھتے ہی نہیں ہیں“ (النحل: ۱۰۱)، اور تیسری آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب (یعنی لوح محفوظ) ہے“ (الرعد: ۳۹)۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: پہلی چیز جو قرآن سے منسوخ ہوئی ہے وہ قبلہ ہے۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق اللہ في أرحامهن» سے لے کر «إن أرادوا إصلاحا» تک یعنی ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض کے آ جانے کا انتظار کریں گی اور ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ ان کی بچہ دانیوں میں اللہ نے جو تخلیق کر دی ہو اسے چھپائیں اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں، البتہ ان کے خاوند اگر اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو وہ انہیں لوٹا لینے کا پورا حق رکھتے ہیں“ (البقرہ: ۲۲۸) کی تفسیر میں فرماتے ہیں (پہلے معاملہ یوں تھا) کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو اسے لوٹا لینے کا بھی پورا پورا حق رکھتا تھا خواہ اس نے اسے تین طلاقیں ہی کیوں نہ دی ہوں، ابن عباس کہتے ہیں: یہ چیز منسوخ ہو گئی کلام پاک کی اس آیت «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان‏» ”یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی کے ساتھ روک لینا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے“ (البقرہ: ۲۲۹) سے (یعنی وہ صرف دو طلاق تک رجوع کر سکتا ہے اس سے زائد طلاق دینے پر رجوع کرنا جائز نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3584]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرامین ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا﴾ [سورة البقرة: 106] ”جو آیت ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، ہم اس سے بہتر یا کم از کم اس جیسی آیت اور لے آتے ہیں“ اور ﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ﴾ [سورة النحل: 101] ”جب ہم کسی آیت کی جگہ کوئی اور آیت لے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی اتاری ہوئی آیتوں کو خوب جانتا ہے...الخ“ اور ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ [سورة الرعد: 39] ”اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے باقی رکھتا ہے اور اس کے پاس ہی اصل کتاب ہے۔“ کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید میں سب سے پہلے قبلہ منسوخ ہوا، اسی طرح فرمایا: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ [سورة البقرة: 228] ”طلاق شدہ عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روک رکھیں اور ان کے لیے جائز نہیں کہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں پیدا فرمائی ہے (آخر آیت تک)۔“ پہلے یہ دستور تھا کہ کوئی آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تو وہ اس سے رجوع کا حق رکھتا تھا، چاہے تین طلاقیں ہی دے چکا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس دستور کو منسوخ فرما دیا اور فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”رجعی طلاق دو دفعہ ہی ہے۔ رکھنا ہے تو اچھے طریقے سے رکھے ورنہ اچھے طریقے سے چھوڑ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3529 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. بَابُ: الرَّجْعَةِ
باب: (طلاق سے) رجعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3585
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرُ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ يَعْنِي فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا"، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: فَاحْتَسَبْتَ مِنْهَا، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُهَا أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میری بیوی حالت حیض میں تھی اسی دوران میں نے اسے طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ حالت طہر میں آ جائے تو اسے اختیار ہے، چاہے تو اسے طلاق دیدے“۔ یونس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے (پہلی طلاق) کو شمار و حساب میں رکھا ہے تو انہوں نے کہا: نہ رکھنے کی کوئی وجہ؟ تمہیں بتاؤ اگر کوئی عاجز ہو جائے یا حماقت کر بیٹھے (تو کیا شمار نہ ہو گی؟)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3585]
حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جب کہ وہ حیض سے تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو کہ اس سے رجوع کرے۔ جب وہ پاک ہو جائے پھر چاہے تو طلاق دے دے۔“ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا وہ طلاق شمار کی گئی؟ انہوں نے فرمایا: اور کیا! تم بتاؤ کہ اگر طلاق دینے والا صحیح طلاق سے عاجز رہا اور اس نے حماقت کر دی تو کیا طلاق شمار نہیں ہو گی؟ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3586
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. ح وأَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالُوا: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، فَإِذَا طَهُرَتْ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، فَإِنَّهُ الطَّلَاقُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ، قَالَ تَعَالَى: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”انہیں حکم دو کہ اسے لوٹا لے پھر جب دوسرا حیض آ کر پاک ہو جائے تو چاہے تو اسے طلاق دیدے اور چاہے تو اسے روکے رکھے، یہی وہ طلاق ہے جو اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فطلقوهن لعدتهن» ”انہیں طلاق دو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں“ (الطلاق: ۱)“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3586]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کہو کہ اس سے رجوع کرے حتیٰ کہ اسے ایک حیض اور آئے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دے دے، چاہے رکھ لے۔ یہ وہ طلاق ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”عورتوں کو ان کے صحیح وقت میں طلاق دو۔““ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8506) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3587
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَيَقُولُ: أَمَّا إِنْ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، وَأَمَّا إِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ".
نافع کہتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی ایسے شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو تو وہ کہتے: اگر اس نے ایک طلاق دی ہے یا دو طلاقیں دی ہیں (تو ایسی صورت میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجوع کر لینے کا حکم دیا ہے پھر اسے دوسرے حیض آنے تک روکے رکھے پھر جب وہ (دوسرے حیض سے) پاک ہو جائے تو اسے جماع کرنے سے پہلے ہی طلاق دیدے اور اگر اس نے تین طلاقیں (ایک بار حالت حیض ہی میں) دے دی ہیں تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملہ میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے ۱؎ لیکن تین طلاق کی وجہ سے اس کی عورت بائنہ ہو جائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3587]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس شخص کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ فرماتے: اگر اس نے پہلی یا دوسری طلاق دی ہے تو (وہ جماع کرے کیونکہ) مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ”اس سے رجوع کر، پھر اسے اپنے پاس رکھ حتیٰ کہ اسے ایک اور حیض آئے، پھر وہ پاک ہو تو اب چاہے تو اسے جماع سے پہلے طلاق دے دے۔“ اگر تو نے تیسری طلاق دی ہے تو تو نے عورت کو طلاق دینے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی ہے اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، (تحفة الأشراف: 7544)، مسند احمد (2/64، 102) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ نے عورت کو طلاق دینے کا جو طریقہ بتایا تھا اس نے اس کے موافق کام نہ کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں