سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. بَابُ: الرَّجْعَةِ
باب: (طلاق سے) رجعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3588
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى مَرْوَزِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعَهَا".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور بیوی اس وقت حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کر لینے کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے اسے لوٹا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3588]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کا حکم دیا، لہٰذا انہوں نے رجوع کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6758)، مسند احمد (2/61) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3589
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ"، وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى هَذَا.
طاؤس کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے اس وقت سنا جب ان سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھنے والے سے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا: (انہیں کا واقعہ ہے) کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بیوی حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے یہاں تک کہ (حیض آئے اور پھر) حیض سے پاک ہو جائے“ (اب چاہے تو طلاق نہ دے اپنی زوجیت میں قائم رکھے) طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس سے مزید کچھ کہتے ہوئے نہیں سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3589]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی۔ انہوں نے فرمایا: ”تو عبداللہ بن عمر کو جانتا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”اس سے رجوع کرے حتیٰ کہ وہ پاک ہو، تو پھر چاہے تو اسے طلاق دے دے۔“ (راوئ حدیث عبداللہ بن طاوس نے کہا کہ) میں نے اس سے زیادہ، اس (اپنے باپ) سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق1 (1471)، (تحفة الأشراف: 7101)، مسند احمد (2/145) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3590
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: نُبِّئْتُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَمْرٌو: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ طَلَّقَ حَفْصَةَ، ثُمَّ رَاجَعَهَا" , وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی اور پھر رجوع فرمایا تھا۔ واللہ اعلم، (اللہ بہتر جانتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3590]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع فرما لیا تھا۔ «وَاللَّهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 38 (2283)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 1 (2016)، (تحفة الأشراف: 1093)، سنن الدارمی/الطلاق 2 (2310) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح