سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْكُحْلِ، لِلْحَادَّةِ
باب: سوگ منانے والی عورت کو سرمہ لگانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3568
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَهُوَ ابْنُ مُوسَى، قَالَ حُمَيْدٌ: وَحَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي رَمِدَتْ، أَفَأَكْحُلُهَا؟ وَكَانَتْ مُتَوَفًّى عَنْهَا، فَقَالَ:" أَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا"، ثُمَّ قَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ عَلَى بَصَرِهَا، فَقَالَ:" لَا، إِلَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا سَنَةً، ثُمَّ تَرْمِي عَلَى رَأْسِ السَّنَةِ بِالْبَعْرَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہے تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چار مہینے دس دن نہیں ٹھہر سکتی؟“ اس عورت نے پھر کہا: مجھے اس کی بینائی کے جانے کا خوف ہے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے نہیں لگا سکتی، زمانہ جاہلیت میں تمہاری ہر عورت اپنے شوہر کے مرنے پر سال بھر کا سوگ مناتی تھی پھر سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3568]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک قریشی عورت آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیٹی کی آنکھیں دکھنے لگی ہیں تو کیا میں اسے سرمہ ڈال دوں؟ اس کا خاوند فوت ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار ماہ دس دن تک نہیں ڈال سکتی۔“ وہ کہنے لگی: مجھے اس کی نظر کا خطرہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، چار ماہ دس دن میں نہیں۔ جاہلیت میں اس جیسی عورت کو اپنے خاوند پر ایک سال تک سوگ کرنا پڑتا تھا، پھر سال کے اختتام پر وہ مینگنی پھینکا کرتی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3569
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ ابْنَتِهَا مَاتَ زَوْجُهَا وَهِيَ تَشْتَكِي، قَالَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَحِدُّ السَّنَةَ، ثُمَّ تَرْمِي الْبَعْرَةَ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے اپنی بیٹی کا ذکر کر کے جس کا شوہر مر گیا تھا اور اس کی آنکھیں دکھتی تھیں (اس کے علاج و معالجے کے لیے) مسئلہ پوچھا، آپ نے فرمایا: ”تمہاری ہر عورت (جس کا شوہر مر جاتا تھا) پورے سال سوگ مناتی تھی (اور ہر طرح کی تکلیف اٹھاتی تھی) اور پھر سال پورا ہونے پر مینگنیاں پھینکتی تھی اور اب یہ (اسلام میں گھٹ کر) چار مہینے دس دن ہیں (تو تمہیں آنکھ کی تھوڑی سی تکلیف بھی برداشت نہیں ہوتی؟)“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3569]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھا جس کا خاوند فوت ہو گیا تھا اور اسے آنکھوں کی تکلیف تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاہلیت کے دور میں ایسی عورتوں کو ایک سال تک سوگ کرنا پڑتا تھا، پھر سال کے بعد وہ مینگنی پھینکتی تھی۔ اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3570
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدْ خِفْتُ عَلَى عَيْنِهَا، وَهِيَ تُرِيدُ الْكُحْلَ، فَقَالَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا"، فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ: مَا رَأْسُ الْحَوْلِ؟ قَالَتْ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا هَلَكَ زَوْجُهَا عَمَدَتْ إِلَى شَرِّ بَيْتٍ لَهَا، فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى إِذَا مَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ، خَرَجَتْ، فَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ قریش کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ اس کی آنکھیں کہیں خراب نہ ہو جائیں۔ اس کا مقصد تھا کہ آپ اسے سرمہ لگانے کی اجازت دے دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کوئی بھی عورت (جو سوگ منا رہی ہوتی تھی) سوگ کے سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں“ (یہ بھی تم لوگوں سے گزارے نہیں جاتے)“۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے زینب سے پوچھا «رأس الحول» (سال بھر کے بعد) کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا جاہلیت میں ہوتا یہ تھا کہ جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو وہ عورت اپنے گھروں میں سے سب سے خراب (بوسیدہ) گھر میں جا بیٹھتی تھی، جب اس کا سال پورا ہو جاتا تو وہ اس گھر سے نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3570]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک قریشی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے، مجھے اس کی آنکھوں کا خطرہ ہے (اس کا مقصد سرمہ کی اجازت حاصل کرنا تھا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پہلے تم میں سے ایسی عورت ایک سال کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی، اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے۔“ راوی نے کہا کہ میں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: سال کے بعد مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: جاہلیت میں جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ اپنے سب سے گندے گھر میں جا کر بیٹھ جاتی، حتیٰ کہ جب اسے ایک سال گزر جاتا تو وہ نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3571
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ: أَتَكْتَحِلُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا؟ فَقَالَتْ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا أَقَامَتْ سَنَةً، ثُمَّ قَذَفَتْ خَلْفَهَا بِبَعْرَةٍ، ثُمَّ خَرَجَتْ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَنْقَضِيَ الْأَجَلُ".
زینب (زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہا) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے انتقال پر عدت گزارنے کے دوران سرمہ لگا سکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہی سوال کیا (جو تم نے کیا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں تم میں سے جس عورت کا شوہر اسے چھوڑ کر مر جاتا تھا تو وہ عورت سال بھر سوگ مناتی رہتی یہاں تک کہ وہ وقت آتا کہ وہ اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی پھر وہ گھر سے نکلتی“۔ (تب اس کی عدت پوری ہوتی) اور مدت پوری ہونے تک یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں (سال بھر کے مقابل میں یہ کچھ بھی نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3571]
حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا عورت اپنے خاوند کی عدتِ وفات کے دوران میں سرمہ ڈال سکتی ہے؟ وہ کہنے لگیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی اور اس نے اس کے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”دورِ جاہلیت میں جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تھا تو وہ ایک سال تک ٹھہری رہتی تھی، پھر اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی اور (عدت سے) نکلتی۔ اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے، لہٰذا وہ سرمہ نہیں ڈال سکتی حتیٰ کہ یہ مدت گزر جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
68. بَابُ: الْقُسْطِ وَالأَظْفَارِ لِلْحَادَّةِ
باب: سوگ منانے والی عورت کے لیے قسط (عود ہندی) اور اظفار (ناخن کے مشابہہ ایک خوشبودار چیز) کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 3572
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الدُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فِي الْقُسْطِ وَالْأَظْفَارِ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو جس کا شوہر مر گیا ہو عدت کے دوران حیض سے پاک ہونے پر (خون کی بدبو دور کرنے کے لیے) قسط اور اظفار کے استعمال کی رخصت دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3572]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو، طہر کے وقت «الْقُسْطُ» ”قسط“ اور «الْأَظْفَارُ» ”اظفار“ خوشبو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18141) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
69. بَابُ: نَسْخِ مَتَاعِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا بِمَا فُرِضَ لَهَا مِنَ الْمِيرَاثِ
باب: میراث کی فرضیت کے بعد شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو ملنے والے خرچ کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3573
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السِّجْزِيُّ خَيَّاطُ السُّنَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" فِي قَوْلِهِ: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، نُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ، مِمَّا فُرِضَ لَهَا مِنَ الرُّبُعِ، وَالثُّمُنِ، وَنَسَخَ أَجَلَ الْحَوْلِ، أَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ”اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں (یعنی جس وقت مرنے لگیں) تو وہ اپنی بیبیوں کے لیے ایک سال تک ان کو نہ نکالنے اور خرچ دینے کی وصیت کر جائیں“۔ (البقرہ: ۲۴۰) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت میراث کی آیت سے منسوخ ہو گئی ہے جس میں عورت کا چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اور ایک سال تک عدت میں رہنے کا حکم چار ماہ دس دن کے حکم سے منسوخ ہو گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3573]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ”جو لوگ قریب المرگ ہوں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ مرنے سے پہلے اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جائیں کہ انہیں ایک سال تک اخراجات دیے جائیں، نیز انہیں گھر سے نہ نکالا جائے۔“ کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم وراثت کی آیت سے منسوخ ہے جس میں ان کے لیے چوتھا یا آٹھواں حصہ مقرر کیا گیا ہے اور ایک سال کی مدت بھی منسوخ ہے کیونکہ ان کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کر دی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 42 (2298)، (تحفة الأشراف: 6250) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3574
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ" فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، قَالَ: نَسَخَتْهَا: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا سورة البقرة آية 234".
عکرمہ آیت کریمہ: «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت اس آیت: «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا» ”اور جو لوگ تم میں سے (اے مسلمانو!) مر جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ (یعنی بیبیاں) چار مہینے دس دن تک اپنے تئیں روک رکھیں“۔ (البقرہ: ۲۳۴) سے منسوخ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3574]
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ... غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] جو لوگ قریب المرگ ہوں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ مرنے سے پہلے اپنی بیویوں کے لیے وصیت کر جائیں کہ انہیں ایک سال تک اخراجات دیے جائیں، نیز انہیں گھر سے نہ نکالا جائے، کے بارے میں فرمایا کہ اس آیت کو اس (دوسری) آیت نے منسوخ کر دیا ہے ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ... أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] جو لوگ فوت ہو جائیں اور ان کی بیویاں زندہ ہوں تو بیویاں چار ماہ دس دن تک اپنے آپ کو (ادھر ادھر جانے، زیب و زینت کرنے اور نکاح وغیرہ سے) روک کر رکھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
70. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي خُرُوجِ الْمَبْتُوتَةِ مِنْ بَيْتِهَا فِي عِدَّتِهَا لِسُكْنَاهَا
باب: تین طلاق والی عورت کو عدت گزارنے کے لیے اپنے گھر سے دوسری جگہ جانے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3575
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي، وَأَمَرَ وَكِيلَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ فَتَقَالَّتْهَا، فَانْطَلَقَتْ إِلَى بَعْضِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، طَلَّقَهَا فُلَانٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ كُلْثُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ امْرَأَةٌ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا، فَانْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ أَعْمَى"، فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو الْجَهْمِ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا، فَقَالَ: أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ أَمْلَقُ مِنَ الْمَالِ"، فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ.
عبدالرحمٰن بن عاصم سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ بنی مخزوم کے ایک شخص کی بیوی تھیں، وہ شخص انہیں تین طلاقیں دے کر کسی جہاد میں چلا گیا اور اپنے وکیل سے کہہ گیا کہ اسے تھوڑا بہت نفقہ دیدے۔ (تو اس نے دیا) مگر اس نے اسے تھوڑا اور کم جانا (اور واپس کر دیا) پھر ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس پہنچی اور وہ ان کے پاس ہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہیں اور (ان کے شوہر) فلاں نے انہیں طلاق دے دی ہے اور ان کے پاس کچھ نفقہ بھیج دیا ہے جسے انہوں نے واپس کر دیا، اس کے وکیل کا خیال ہے کہ یہ تو اس کی طرف سے ایک طرح کا احسان ہے (ورنہ اس کا بھی حق نہیں بنتا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ صحیح کہتا ہے، تم ام کلثوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت گزارو“، پھر آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم عبداللہ بن ام مکتوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ، ام کلثوم کے گھر ملنے جلنے والے بہت آتے ہیں (ان کے باربار آنے جانے سے تمہیں تکلیف ہو گی) اور عبداللہ بن ام مکتوم نابینا آدمی ہیں“، (وہاں تمہیں پریشان نہ ہونا پڑے گا) تو وہ عبداللہ ابن ام مکتوم کے یہاں چلی گئیں اور انہیں کے یہاں اپنی عدت کے دن پورے کئے۔ اس کے بعد ابوالجہم اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں شادی کا پیغام دیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان دونوں کے بارے میں کسی ایک سے شادی کرنے کا مشورہ چاہا، تو آپ نے فرمایا: ”رہے ابوالجہم تو مجھے ان کے تم پر لٹھ چلا دینے کا ڈر ہے اور رہے معاویہ تو وہ مفلس انسان ہیں۔ یہ سننے کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کر لی“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3575]
حضرت عبدالرحمن بن عاصم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو کہ بنومخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھیں، نے مجھے بتایا کہ میرے خاوند نے مجھے آخری طلاق دے دی، وہ کسی جنگ کو گئے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے وکیل کو حکم دیا کہ مجھے کچھ اخراجات وغیرہ ادا کرے، میں نے انہیں کم محسوس کیا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں ان کے پاس ہی تھی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہے، اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی ہے اور کچھ اخراجات بھی بھیجے ہیں لیکن اس نے (کم سمجھ کر) قبول نہیں کیے جب کہ خاوند کا خیال ہے کہ میں نے یہ بھی بطور احسان بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ درست کہتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ام کلثوم کے گھر چلی جا اور وہاں عدت گزار۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام کلثوم کے پاس آنے جانے والوں کی کثرت رہتی ہے، لہٰذا تو عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجا، وہ نابینا شخص ہے۔“ میں ان کے گھر منتقل ہوگئی اور وہیں عدت گزاری، جب عدت ختم ہوئی تو ابو جہم اور حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کے پیغام بھیجے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوجہم کے بارے میں تو مجھے خطرہ ہے کہ اس کی لاٹھی ہر وقت حرکت میں رہے گی، باقی رہا معاویہ! تو وہ مالی لحاظ سے فقیر ہے۔“ بعد میں میں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کرلیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18030)، مسند احمد (6/414) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد وقوله أم كلثوم منكر والمحفوظ أم شريك
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3576
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ," أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ فَاطِمَةُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى"، فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا، قَالَ عُرْوَةُ: أَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انہوں نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری تیسری طلاق دے دی۔ فاطمہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنے گھر سے اپنے نکل جانے کا مسئلہ پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مطلقہ کے گھر سے نکلنے کی بات کو صحیح تسلیم نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ کی اس بات کا انکار کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3576]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی، انہوں نے مجھے تین میں سے آخری طلاق بھیج دی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خاوند کے گھر سے منتقل ہونے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ (جو نابینا تھے) کے گھر منتقل ہونے کے لیے فرمایا۔ مروان رحمہ اللہ نے (اپنے دور حکومت میں) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اس مسئلے میں تصدیق نہیں کی کہ ایسی مطلقہ خاوند کے گھر سے منتقل ہو سکتی ہے۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3246 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3577
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلَاثًا، وَأَخَافُ أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَيَّ، فَأَمَرَهَا، فَتَحَوَّلَتْ".
فاطمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کوئی (مجھے تنہا پا کر) اچانک میرے پاس گھس نہ آئے (اس لیے آپ مجھے کہیں اور منتقل ہو جانے کی اجازت دے دیجئیے) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے اپنی رہائش کی جگہ تبدیل کر لی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3577]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، کہتی ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں (یعنی الگ الگ)، مجھے خطرہ ہے کہ کوئی چور اچکا دیوار نہ پھلانگ آئے“، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی اور میں خاوند کے گھر سے منتقل ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن