سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: طَلاَقِ الْعَبْدِ
باب: غلام کے طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3458
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، عَنْ الْحَسَنِ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ" عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ عُتِقَا، أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ: عَمَّنْ؟ قَالَ: أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ: الْحَسَنُ هَذَا مَنْ هُوَ لَقَدْ حَمَلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً.
بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کر دیے گئے، پوچھا گیا: کیا وہ اس سے شادی کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، (کر سکتا ہے) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا: یہ حسن کون ہیں؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3458]
بنو نوفل کے مولیٰ حضرت ابوالحسن سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ ایک غلام نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، پھر وہ دونوں آزاد ہو گئے، کیا اب وہ دوبارہ اس سے شادی کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ سائل نے پوچھا: آپ یہ کس سے نقل فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فتویٰ ارشاد فرمایا ہے۔ عبدالرزاق نے کہا: (عبداللہ) ابن مبارک نے حضرت معمر سے کہا: یہ حسن کون ہے؟ اس نے بہت بھاری پتھر اٹھایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: غلام دو طلاق دیدے تو عورت بائنہ ہو جاتی ہے، بائنہ ہو جانے کے بعد عورت جب تک کسی اور سے شادی نہ کر لے اور طلاق یا موت کسی بھی وجہ سے اس کی علیحدگی نہ ہو جائے تو وہ عورت پہلے شوہر سے دوبارہ شادی نہیں کر سکتی ہے۔ لیکن یہاں دونوں کو آزاد ہو جانے کے بعد بغیر حلالہ کے شادی کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اب یہ روایت - اللہ نہ کرے - غلط ہوئی تو اس طرح کی سبھی شادیوں کا وبال اس راوی حسن کے ذمہ آئے گا اور وہ گویا ایک بڑی چٹان کے نیچے دب کر رہ جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (3457) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
20. بَابُ: مَتَى يَقَعُ طَلاَقُ الصَّبِيِّ
باب: بچہ کی طلاق کس عمر میں واقع ہو گی۔
حدیث نمبر: 3459
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ، أَنَّهُمْ" عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مُحْتَلِمًا أَوْ لَمْ تَنْبُتْ عَانَتُهُ تُرِكَ".
قریظہ رضی الله عنہ کے دونوں بیٹے روایت کرتے ہیں کہ وہ سب (یعنی بنو قریظہ کے نوجوان) قریظہ کے (فیصلے کے) دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے، تو جسے احتلام ہونے لگا تھا، یا جس کی ناف کے نیچے کے بال اگ آئے تھے اسے (جوان قرار دے کر) قتل کر دیا گیا۔ اور جسے ابھی احتلام ہونا شروع نہیں ہوا تھا یا جس کی ناف کے نیچے کے بال نہیں آئے تھے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3459]
حضرت کثیر بن سائب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بنو قریظہ کے نوجوان لڑکے رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں جنگ قریظہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو جس لڑکے کو احتلام ہوتا تھا یا اس کے زیر ناف بال اگے ہوئے تھے، اسے قتل کر دیا جاتا تھا اور جس کو احتلام نہیں ہوتا تھا یا جسے زیر ناف بال نہیں اگے ہوئے تھے، اسے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15661)، مسند احمد (4/34، 5/372) (صحیح) (آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جب تک لڑکا بالغ نہ ہو جائے اور اچھا برا سمجھنے نہ لگے اسے طلاق دینے کا اختیار نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3460
أخبرنا محمد بن منصور قال حدثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير عن عطية القرظي قال: كنت يوم حكم سعد في بني قريظة غلاما فشكوا في فلم يجدوني أنبت فاستبقيت فها أنا ذا بين أظهركم .
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ جب سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا فیصلہ دیا تو اس وقت میں بچہ تھا، لوگوں کو میرے متعلق شبہ ہوا (کہ میں فی الواقع بچہ ہوں یا جوان؟ جب انہوں نے تحقیق کی) تو مجھے زیر ناف کے بالوں والا نہیں پایا اور میں بچ رہا۔ چنانچہ میں آج تمہارے درمیان موجود ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3460]
حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ سنایا، میں بچہ تھا۔ انہیں میرے بارے میں شک ہوا (کہ بالغ ہے یا نابالغ) لیکن جب انہوں نے مجھے دیکھا تو میری شرم گاہ کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا۔ دیکھ لو اب میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 17 (4404)، سنن الترمذی/السیر 29 (1584)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2541)، مسند احمد (4/310، 383، و5/311، 312، سنن الدارمی/السیر 26 (2507)، ویأتي عند المؤلف في القطع 17 برقم: 4984، 4405 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3461
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْهُ، وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو جنگ احد کے موقع پر (جنگ میں شریک ہونے کے لیے) ۱۴ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ اور غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ نے اجازت دے دی (اور مجاہدین میں شامل کر لیا)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3461]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد کے موقع پر میرا جائزہ لیا، میں اس وقت چودہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگ میں شرکت کی اجازت نہ دی، پھر غزوۂ خندق کے موقع پر جائزہ لیا تو میں پندرہ سال کا ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 18 (2664)، المغازي 29 (4097)، سنن ابی داود/الخراج 16 (2957)، الحدود 17 (4406)، (تحفة الأشراف: 8153)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 23 (1868)، سنن الترمذی/الأحکام 24 (1316)، الجہاد 31 (1711)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (5243)، مسند احمد (2/17) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ پندرہ سال کا لڑکا جوان ہو جاتا ہے اور جب تک جوان نہیں ہو جاتا جس طرح جنگ میں شریک نہیں ہو سکتا اسی طرح طلاق بھی نہیں دے سکتا، ابن عمر رضی الله عنہما نے جو یہ کہا کہ جنگ احد کے موقع پر چودہ سال کی عمر میں اور غزوہ خندق کے موقع پر پندرہ سال کی عمر میں پیش ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چودہ سال کی عمر میں داخل ہو چکے تھے اور پندرہ سال کا مطلب ہے اس سے تجاوز کر چکے تھے، اس توجیہ سے غزوہ خندق کے وقوع سے متعلق جو اختلاف ہے اور اس اختلاف سے ابن عمر رضی الله عنہما کی عمر سے متعلق جو اشکال پیدا ہوتا ہے وہ رفع ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
21. بَابُ: مَنْ لاَ يَقَعُ طَلاَقُهُ مِنَ الأَزْوَاجِ
باب: کن شوہروں کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 3462
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يُفِيقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3462]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اشخاص سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سوتے شخص سے حتیٰ کہ وہ جاگ پڑے، نابالغ سے حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے اور مجنون و پاگل سے حتیٰ کہ اسے عقل و ہوش آ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 16 (4398)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 15 (2041)، (تحفة الأشراف: 15935)، مسند احمد (6/100، 101، 144)، سنن الدارمی/الحدود 1 (2343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان حالات میں ان پر گناہ کا حکم نہیں لگتا۔ ۲؎: یعنی سونے کی حالت میں جو کچھ کہہ دے اس کا اعتبار نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4398) ابن ماجه (2041) إبراهيم النخعي مدلس وعنعن،ولم أجد تصريح سماعه. وانظر سنن أبى داود (4399.4400 بتحقيقي). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
22. بَابُ: مَنْ طَلَّقَ فِي نَفْسِهِ
باب: اپنے جی میں طلاق دینے والے کی طلاق کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3463
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي كُلَّ شَيْءٍ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، (عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں اور اس پہ عمل نہ کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3463]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کو وہ باتیں معاف فرما دی ہیں جو وہ اپنے دل میں کرتے ہیں، جب تک وہ زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14192) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3464
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي، مَا وَسْوَسَتْ بِهِ وَحَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہماری امت کے وسوسوں اور جی میں گزرنے والے خیالات سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3464]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کو وسوسے اور دلی خیالات معاف کر دیے ہیں جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان پر نہ لائیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العتق 6 (2528)، الطلاق 11 (5269)، الأیمان والنذور 15 (6664)، صحیح مسلم/الإیمان 58 (127)، سنن ابی داود/الطلاق 15 (2209)، سنن الترمذی/الطلاق 8 (1183)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 16 (2043)، (تحفة الأشراف: 12896)، مسند احمد 2/ 255، 393، 398، 474، 481، 491) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3465
أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَكَلَّمْ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کے دل میں جو بات کھٹکتی اور گزرتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3465]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کو دلی وساوس اور وقتی خیالات معاف فرما دیے ہیں جب تک وہ ان کو زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3464 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
23. بَابُ: الطَّلاَقِ بِالإِشَارَةِ الْمَفْهُومَةِ
باب: سمجھ میں آنے والے اشارہ سے طلاق کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3466
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارٌ فَارِسِيٌّ طَيِّبُ الْمَرَقَةِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ، وَأَوْمَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ أَيْ وَهَذِهِ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ الْآخَرُ هَكَذَا بِيَدِهِ أَنْ لَا، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، اس نے آپ کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بلایا، آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: ”کیا انہیں بھی لے کر آؤں“، اس نے ہاتھ سے اشارہ سے منع کیا دو یا تین بار کہ نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3466]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو شوربہ بہترین بناتا تھا۔ ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ کے پاس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ اس نے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا کہ ”آئیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ فرما کر پوچھا: ”یہ بھی؟“ تو اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ نہیں۔ دو تین دفعہ ایسے ہی ہوا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 19 (2037)، (تحفة الأشراف: 335)، مسند احمد (3/123، 272) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کوئی اشارۃً طلاق دے اور معلوم ہو جائے کہ طلاق دے رہا ہے تو طلاق پڑ جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م نحوه وزاد قال رسول الله لا ثم عاد يدعوه فقال رسول الله وهذه قال نعم في الثالثة فقاما يتدافعان حتى أتيا منزله
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
24. بَابُ: الْكَلاَمِ إِذَا قَصَدَ بِهِ فِيمَا يَحْتَمِلُ مَعْنَاهُ
باب: اگر کسی بات کے کئی معنی نکلتے ہوں تو کہنے والا جو معنی مراد لے گا وہی معنی صحیح مانا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3467
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ".
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ آدمی جیسی نیت کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا، جو اللہ و رسول کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی (اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کا ثواب ملے گا) اور جو کوئی دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے دنیا ملے گی، یا عورت حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے عورت ملے گی۔ ہجرت جس قصد و ارادے سے ہو گی اس کا حاصل اس کے اعتبار سے ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3467]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا اعتبار نیت کے ساتھ ہے۔ ہر آدمی کو اس کی نیت ملے گی۔ چنانچہ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہوگی، اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت ہی کا ثواب ملے گا اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت (سے شادی) کی خاطر ہوگی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 75 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن