سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: طَلاَقِ الْبَتَّةِ
باب: قطعی طلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 3438
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ تَحْتَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ، فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ بِالْبَاب , فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ تَجْهَرُ بِمَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ہے تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور اللہ کے رسول! قسم اللہ کی ان کے پاس تو اس جھالر جیسی چیز کے سوا کچھ نہیں ہے ۱؎ انہوں نے اپنی چادر کا پلو پکڑ کر یہ بات کہی۔ اس وقت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، انہوں نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے) کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس عورت سے) کہا: تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کے شہد کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3438]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، وہ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں (پہلے) رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی، لیکن انہوں نے مجھے بتہ طلاق دے دی، میں نے (عدت گزارنے کے بعد) حضرت عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! ان کا عضو تو کپڑے کے اس ان بنے کنارے کی طرح ہے، اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی چادر کا ایک کنارہ پکڑ کر دکھا دیا، حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ باہر دروازے پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی تھی، وہ کہنے لگے: اے ابوبکر! کیا آپ اس عورت کی بات نہیں سن رہے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی وہی کچھ کہہ رہی ہے جو کچھ (باہر) کہتی پھرتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو رفاعہ کے نکاح میں جانا چاہتی ہے؟ تو نہیں جا سکتی حتیٰ کہ تو عبدالرحمن بن زبیر سے اور وہ تجھ سے لذتِ جماع حاصل کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 68 (6084)، صحیح مسلم/النکاح 17 (1433)، (تحفة الأشراف: 16631)، مسند احمد (6/34، 226) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ تو عورت کے قابل ہی نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
11. بَابُ: أَمْرِكِ بِيَدِكِ
باب: شوہر عورت سے کہے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے؟
حدیث نمبر: 3439
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا، قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ، أَنَّهَا ثَلَاثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ؟ فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ غَفْرًا، إِلَّا مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ" , فَلَقِيتُ كَثِيرًا، فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: نَسِيَ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں؟ جو «أمرک بیدک» کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو؟ انہوں نے کہا نہیں (میں کسی کو بھی نہیں جانتا) پھر انہوں نے کہا: اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں“ تو (اس کا حال یہ ہے کہ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے (اس حدیث کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں (کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی (کہ وہ ایسا کہتے ہیں) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے (انہوں نے ایسی بات کہی ہے)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3439]
حضرت حماد بن زید رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ایوب رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی نے «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» ”تیرا معاملہ تیرے اختیار میں ہے“ کہنے کی صورت میں اسے تین طلاق کہا ہو؟ سوائے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر کہنے لگے: یا اللہ! معاف فرمانا۔ (ہاں) مگر وہ حدیث جو مجھے قتادہ رحمہ اللہ نے کثیر مولیٰ ابن سمرہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ الفاظ کہنا) تین طلاقیں ہیں۔“ (حضرت حماد رحمہ اللہ نے کہا:) میں کثیر سے ملا اور ان سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس حدیث سے لاعلمی ظاہر کی، پھر میں حضرت قتادہ رحمہ اللہ کے پاس گیا اور ان سے پوری بات ذکر کی تو انہوں نے کہا: کثیر بھول گئے۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق13 (2204، 2205) مختصرا، سنن الترمذی/الطلاق 3 (1178)، (تحفة الأشراف: 14992) (مرفوعا ضعیف، موقوفا صحیح) (مرفوع کی سند میں ”کثیر“ لین الحدیث ہیں، اور قتادہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لیے مرفوع حدیث ضعیف ہے، اور مؤلف نے بھی حدیث کو منکر کہا ہے، لیکن حسن کے قول کی سند صحیح ہے، اس لیے اثر موقوفا صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2204،2205) ترمذي (1178) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
12. بَابُ: إِحْلاَلِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثًا وَالنِّكَاحِ الَّذِي يُحِلُّهَا بِهِ
باب: تین طلاق والی عورت کا حلالہ اور اس کے لیے حلال و جائز کر دینے والے نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: 3440
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي، فَأَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور (آپ سے) کہا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور طلاق بھی بتہ دی (کہ وہ رجوع نہیں کر سکتے) تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، لیکن ان کے پاس تو اس کپڑے کے جھالر جیسے کے سوا کچھ نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”لگتا ہے رفاعہ سے تم دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو؟ (سن لو) تو رفاعہ کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک کہ وہ (یعنی دوسرا شوہر) تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے اور تم اس کے شہد کا“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3440]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ کی (سابقہ) بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: مجھے میرے خاوند نے طلاق دی اور طلاق بتہ (تیسری طلاق) دی، میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا لیکن اس کے پاس تو کپڑے کے پلو (کنارے) کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”شاید تو دوبارہ رفاعہ کے نکاح میں جانا چاہتی ہے؟ تو نہیں جا سکتی حتیٰ کہ وہ تجھ سے (جماع کرے) لطف اندوز ہو اور تو اس سے لطف اندوز ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3285 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3441
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَهَا، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ فَقَالَ:" لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا، كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس عورت نے دوسرے شخص سے شادی کر لی۔ اس (دوسرے شخص) نے اس سے جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا (ایسی صورت میں) وہ عورت پہلے والے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ وہ (دوسرا) اس کے شہد کا مزہ نہ لے لو جس طرح اس کے پہلے شوہر نے مزہ چکھ لیا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3441]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس عورت نے کسی اور آدمی سے نکاح کر لیا لیکن اس نے اسے جماع کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا وہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، حتیٰ کہ یہ دوسرا خاوند اس سے (جماع کر کے) لطف اندوز ہو جیسا کہ پہلا خاوند لطف اندوز ہوتا رہا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 4 (5261)، صحیح مسلم/النکاح 17 (1433)، تحفة الأشراف: 17536)، مسند احمد (6/193) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب دوسرا شوہر اس سے مکمل صحبت کر لے گا اور طلاق دیدے گا یا انتقال کر جائے گا تو وہ عدت گزار کر پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی بشرطیکہ وہ اس سے دوبارہ نکاح کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3442
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ الْغُمَيْصَاءَ أَوْ الرُّمَيْصَاءَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا، أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ كَاذِبَةٌ وَهُوَ يَصِلُ إِلَيْهَا، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ ذَلِكَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ".
عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آ گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جھوٹی عورت ہے، وہ اس کے پاس جاتا ہے، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے (اس لیے ایسا کہہ رہی ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کا شہد چکھ نہ لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3442]
حضرت عبدالرحمن بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت غُمَیْصَاء یا رمیصاء رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنے خاوند کی شکایت کرنے لگیں کہ وہ جماع نہیں کر سکتا، اتنے میں اس کا خاوند بھی آگیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جھوٹ بولتی ہے، میں اس کے ساتھ جماع کرتا ہوں لیکن یہ اپنے پہلے خاوند کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے یہ جائز نہیں حتیٰ کہ تو اس سے جماع کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5670 ألف) مسند احمد (1/214) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3443
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍ يُحَدِّثُ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ يُطَلِّقُهَا، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَتَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، قَالَ:" لَا، حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت ایسا نہیں کر سکتی جب تک کہ اس (دوسرے شوہر) کے شہد کو نہ چکھ لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3443]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے بارے میں، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، پھر کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح کر لیتا ہے لیکن وہ بھی اسے ہم بستری سے پہلے ہی طلاق دے دیتا ہے اور وہ عورت پہلے خاوند کے ہاں واپس جانا چاہتی ہے، فرمایا: ”وہ نہیں جا سکتی حتیٰ کہ دوسرا خاوند اس سے جماع کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/النکاح 32 (1933)، (تحفة الأشراف: 7083) مسند احمد (2/85) (صحیح بما قبلہ)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس سے جماع نہ کر لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3444
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ رَزِينِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْمَرِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَيَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُغْلِقُ الْبَاب: وَيُرْخِي السِّتْرَ، ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا؟ قَالَ:" لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ، حَتَّى يُجَامِعَهَا الْآخَرُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں (مغلظہ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کر لیتا ہے اور (اسے لے کر) دروازہ بند کر لیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، (کہ کوئی اندر نہ آ سکے) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی جب تک اس کا دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کر لے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث صواب سے قریب تر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3444]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، پھر کوئی اور آدمی اس سے نکاح کر لیتا ہے، پھر وہ دروازہ بند کر کے پردہ لٹکا لیتا ہے لیکن جماع سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اتنے سے وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہو گی حتیٰ کہ دوسرا خاوند اس سے جماع کرے۔“ ابو عبد الرحمن (امام نسائی) فرماتے ہیں: یہ (سفیان والی سند شعبہ کی مذکورہ سند سے) درستی کے زیادہ لائق ہے (لیکن دونوں کا متن شواہد کی رو سے صحیح ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6715)، مسند احمد (2/25، 62، 85) (صحیح) (اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
13. بَابُ: إِحْلاَلِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثًا وَمَا فِيهِ مِنَ التَّغْلِيظِ
باب: تین طلاق والی عورت سے حلالہ کرنے اور کرانے والے کے لیے وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 3445
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو (بڑا کرنے کے لیے) جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3445]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جسم میں رنگ بھرنے والی، بھروانے والی، زائد بال ملانے والی اور جسے زائد بال لگائے جائیں، سود کھانے والے اور کھلانے والے، حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، ان سب پر لعنت فرمائی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 28 (1120) مختصراً، (تحفة الأشراف: 9595)، مسند احمد (1/448، 462، سنن الدارمی/النکاح 53 (2304) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
14. بَابُ: مُوَاجَهَةِ الرَّجُلِ الْمَرْأَةَ بِالطَّلاَقِ
باب: شوہر عورت کا منہ دیکھتے ہی اسے طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 3446
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الَّتِي اسْتَعَاذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَنَّ الْكِلَابِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ".
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بچنے کے لیے، اللہ کی) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا: عروہ نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ (فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان) جب (منکوحہ کی حیثیت سے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی اور (اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی) کہہ بیٹھی «أعوذباللہ منک» ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فوراً) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ (یہ کہہ کر گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3446]
اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی، تو انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت عروہ رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کلابی بیوی جب آپ کے پاس آئی تو کہنے لگی: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بہت بڑی ذات کی پناہ میں آئی ہے، لہٰذا اپنے گھر چلی جا۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 3 (5254)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 18 (2050)، تحفة الأشراف: 16512) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
15. بَابُ: إِرْسَالِ الرَّجُلِ إِلَى زَوْجَتِهِ بِالطَّلاَقِ
باب: شوہر دوسرے سے بیوی کو طلاق بھیج دے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 3447
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي بِطَلَاقِي، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَمْ طَلَّقَكِ؟" فَقُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ:" لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ، ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ، فَآذِنِينِي"، مُخْتَصَرٌ.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق کہلا بھیجی تو میں اپنے کپڑے اپنے آپ پر لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (نفقہ و سکنی کا مطالبہ لے کر) پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟“ میں نے کہا: تین، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تمہیں نفقہ نہیں ملے گا تم اپنی عدت کے دن اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر میں پورے کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں، تم ان کے پاس رہ کر بھی اپنے کپڑے اتار سکتی ہو پھر جب تمہاری عدت کے دن پورے ہو جائیں تو مجھے خبر دو“، یہ حدیث طویل ہے، یہاں مختصر بیان ہوئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3447]
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے طلاق لکھ بھیجی تو میں نے اپنے کپڑے پہنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”وہ تجھے کتنی طلاقیں دے چکا ہے؟“ میں نے کہا: تین۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تجھے خرچ وغیرہ نہیں ملے گا۔ تو اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا شخص ہے، تو اس کے ہاں کپڑے بھی اتار سکتی ہے۔ جب تیری عدت پوری ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔“ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1135)، سنن ابن ماجہ/الطلاق10 (2035)، (تحفة الأشراف: 18037)، مسند احمد (6/412411، 413، ویأتي برقم: 3581 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم