سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: الْجَنَبِ
باب: جنب (پہلو میں ہونے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ".
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب اور نہ ہی شغار ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3621]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں جلب، جنب اور نکاحِ وٹہ کی اجازت نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10817)، مسند احمد (4/429) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3622
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَابَقَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَسَبَقَهُ، فَكَأَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ ذَلِكَ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ:" حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْءٌ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ اللَّهُ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اونٹنی کی) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز (رنج و ملال) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3622]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے (اپنے اونٹ پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی اونٹنی) سے دوڑ کا مقابلہ کیا۔ وہ آپ سے آگے بڑھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گویا اس بنا پر غمگین و افسردہ سے ہو گئے۔ آپ سے یہ بات کہی گئی تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہ لازم کر لیا ہے کہ جو چیز بھی دنیا میں اپنے آپ کو اونچا کرے گی، آخر کار اللہ تعالیٰ اسے نیچا دکھائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 696) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
17. بَابُ: سُهْمَانِ الْخَيْلِ
باب: (مال غنیمت کی تقسیم میں) گھوڑے کو دو حصے ملنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3623
قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَرْبَعَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لِلزُّبَيْرِ، وَسَهْمًا لِذِي الْقُرْبَى لِصَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُمِّ الزُّبَيْرِ، وَسَهْمَيْنِ لِلْفَرَسِ".
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ (فتح) خیبر کے سال زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت میں) چار حصے لگائے۔ ایک حصہ ان کا اپنا اور ایک حصہ قرابت داری کا لحاظ کر کے کیونکہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی ماں تھیں اور دو حصے گھوڑے کے۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3623]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر میں والد محترم حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو چار حصے دیے تھے۔ ایک ان کا اپنا، دوسرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے کیونکہ عبدالمطلب کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں اور باقی دو حصے گھوڑے کے۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5291)، مسند احمد (1/166) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح