🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي حَمْلِ الْحَمِيرِ عَلَى الْخَيْلِ
باب: گھوڑیوں پر گدھے چڑھا کر خچر پیدا کرنا معیوب بات ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3611
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، قَالَ خَمْشًا: هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِأَمْرِهِ فَبَلَّغَهُ، وَاللَّهِ مَا" اخْتَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةٍ:" أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ".
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا ہو سکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے تھے، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا، آپ نے اسے پہنچا دیا۔ قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامۃ الناس سے ہٹ کر ہم اہل بیت سے تین باتوں کے سوا اور کوئی خصوصیت نہیں برتی۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کریں، ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں اور نہ ہی گدھوں کو گھوڑیوں پر کدائیں (جفتی کرائیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3611]
حضرت عبداللہ بن عبید اللہ بن عباس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، اتنے میں ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس آدمی نے کہا: ممکن ہے کہ آپ دل میں پڑھتے ہوں؟ وہ کہنے لگے: اللہ کرے تو زخمی ہو، یہ تو پہلے سے بری بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو بھی کام دیے، آپ نے آگے پہنچا دیے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (اہل بیت) کو لوگوں سے الگ کوئی خصوصی حکم نہیں دیا مگر یہ تین چیزیں (ہوں تو ہوں): آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم وضو اچھی طرح کریں، ہم صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی کو گدھے سے جفتی نہ کرائیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 141 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: عَلَفِ الْخَيْلِ
باب: (جہاد کے) گھوڑوں کو دانہ چارہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3612
قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِوَعْدِ اللَّهِ، كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑا پالے اور اللہ پر اس کا پورا ایمان ہو اور اللہ کے وعدوں پر اسے پختہ یقین ہو تو اس گھوڑے کی آسودگی، اس کی سیرابی، اس کا پیشاب اور اس کا گوبر سب نیکیاں بنا کر اس کے میزان میں رکھ دی جائیں گی۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3612]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے راستے میں گھوڑا وقف کیا، اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدۂ ثواب کی تصدیق کرتے ہوئے، تو اس گھوڑے کا کھانا پینا، پیشاب و گوبر اس کے ترازو میں نیکیوں کا ذریعہ بن جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 45 (2853)، (تحفة الأشراف: 12964)، مسند احمد (2/574) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: غَايَةِ السَّبَقِ لِلَّتِي لَمْ تُضْمَرْ
باب: غیر سدھائے ہوئے گھوڑوں کی گھڑ دوڑ میں مسابقت کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3613
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ يُرْسِلُهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ، وَكَانَ أَمَدُهَا مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک) گھوڑوں کی دوڑ کرائی (کہ کون گھوڑا آگے نکلتا ہے) ۱؎ حفیاء سے روانہ کرتے (دوڑاتے) اور ثنیۃ الوداع آخری حد تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں میں بھی دوڑ کرائی جو محنت و مشقت کے عادی نہ تھے (جو سدھائے اور تربیت یافتہ نہ تھے) اور ان کے دوڑ کی حد ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک تھی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3613]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں میں دوڑ کروائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حفیا سے ثنیۃ الوداع تک دوڑایا اور جن گھوڑوں کو دوڑ کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا، ان کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنو زریق تک دوڑ کروائی۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 56 (2868)، 57 (2869)، 58 (2870)، الاعتصام 16 (7336)، صحیح مسلم/الإمارة 25 (1870)، (تحفة الأشراف: 8280)، مسند احمد 2/5، 55-56، سنن الدارمی/الجھاد 36 (2473) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حفیاء ایک گاؤں کا نام اور ثنیّۃ الوداع ایک پہاڑ یا ایک محلے کا نام ہے۔ ۲؎: ثنیّۃ سے مسجد بنی زریق تک ایک میل کا اور حفیاء سے ثنیّۃ تک پانچ چھ میل کا فاصلہ ہے، معلوم ہوا کہ مسابقہ و مقابلہ مشروع اور جائز ہے «عبث ولا» یعنی چیز نہیں ہے بلکہ اس سے ایسی مشق ہوتی ہے جن سے جنگ وغیرہ میں اچھے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: إِضْمَارِ الْخَيْلِ لِلسَّبْقِ
باب: گھڑ دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3614
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ" , وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ کرایا، (دوڑ کی) آخری حد حفیاء سے شروع ہو کر ثنیۃ الوداع تک تھی، (ایسے ہی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کے درمیان بھی ثنیۃ سے لے کر مسجد بنی زریق کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرایا جو، غیر تربیت یافتہ تھے (جو مشقت اور بھوک و تکلیف کے عادی نہ تھے)۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اس مقابلے کے دوڑ میں حصہ لیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3614]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تضمیر شدہ گھوڑوں کے درمیان «حَفْيَاء» سے «ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ» تک دوڑ کا مقابلہ کروایا اور ان گھوڑوں کو جن کی تضمیر نہیں کی گئی تھی، «ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ» سے بنوزریق کی مسجد تک دوڑایا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 41 (420)، صحیح مسلم/الإمارة 25 (870)، سنن ابی داود/الجہاد 27 (2575)، (تحفة الأشراف: 8340)، موطا امام مالک/الجہاد 9 (45) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: السَّبَقِ
باب: مسابقت (آگے بڑھنے کے مقابلے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3615
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف تین چیزوں میں (انعام و اکرام کی) شرط لگانا جائز ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3615]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی، گھڑ دوڑ اور اونٹ دوڑ کے علاوہ کسی مقابلے میں انعام (مقرر کرنا یا حاصل کرنا) درست نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 67 (2574)، سنن الترمذی/الجہاد22 (1700)، (تحفة الأشراف: 14638)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد 44 (2878)، مسند احمد (2/256، 358، 425، 474) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3616
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے بڑھنے کی شرط صرف تین چیزوں میں لگانا درست ہے: تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3616]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی، گھوڑ دوڑ اور اونٹ دوڑ کے علاوہ کسی چیز میں انعام نہیں رکھا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3617
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الْجُنْدَعِيِّينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ سَبَقٌ إِلَّا عَلَى خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ شرط حلال نہیں ہے سوائے اونٹ میں اور گھوڑے میں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3617]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اونٹ دوڑ یا گھوڑ دوڑ کے علاوہ کسی مقابلے میں انعام مقرر کرنا حلال اور جائز نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15447) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «خف» : (اونٹ کا پاؤں) مراد ہے اونٹ، اور «حافر» : (جانور کا گھر) مراد ہے گھوڑا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ، فَسَبَقَهَا فَشَقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ، قَالَ:" إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ إِلَّا وَضَعَهُ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی (دیہاتی) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات (ہار) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے: اللہ کے رسول! عضباء شکست کھا گئی (اور ہمیں اس کا رنج ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ کے حق (و اختیار) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہو جاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کر دیتا اور نیچے گرا دیتا ہے (اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3618]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جسے عضباء کہا جاتا تھا۔ اس سے کوئی اونٹ آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ ایک اعرابی اپنے جوان اونٹ پر آیا اور اس سے مقابلے میں آگے بڑھ گیا۔ یہ بات مسلمانوں کو بہت ناگوار گزری۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں کے تأثرات دیکھے جبکہ وہ کہہ رہے تھے: اے اللہ کے رسول! عضباء تو پیچھے رہ گئی! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بات لازم قرار دے لی ہے کہ دنیا کی جو چیز بھی بلند مرتبہ ہوگی، اللہ تعالیٰ اسے (کسی نہ کسی وقت) نیچا دکھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 641)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 59 (2871)، الرقاق 38 (6501)، سنن ابی داود/الأدب 9 (4802) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3619
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلًى لِبَنِي لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں اور گھوڑوں کے آگے بڑھنے کے مقابلوں کے سوا اور کہیں شرط لگانا درست نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3619]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں اور گھوڑوں کے علاوہ دیگر جانوروں میں دوڑ کا انعامی مقابلہ نہیں کروایا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجہاد 44 (2878)، (تحفة الأشراف: 14877) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: الْجَلَبِ
باب: جلب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3620
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا".
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں نہ تو جلب ہے اور نہ جنب ہے اور نہ ہی شغار ہے اور جس نے لوٹ کھسوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3620]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «جَلَبَ»، «جَنَبَ» اور «نِکَاحِ شِغَار» کی کوئی گنجائش نہیں، اور جو شخص ڈاکا ڈالے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3337 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جلب یہ ہے کہ آدمی گھڑ دوڑ کے مقابلے میں اپنے گھوڑے کے پیچھے کسی کو اسے ڈانٹنے اور ہکارنے کے لیے لگا لے تاکہ وہ اور تیز دوڑے۔ اور جنب یہ ہے کہ اپنے پہلو میں دوسرا گھوڑا رکھے اور جب مقابلے کا گھوڑا تھکنے لگے تو اس پر سوار ہو جائے۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی عزیزہ کی شادی دوسرے سے اس شرط کے ساتھ کر دے کہ وہ دوسرا اپنی قریبی عزیزہ کی شادی اس کے ساتھ کر دے، اور ان دونوں کے مابین مہر متعین نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں