🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. بَابُ: إِذَا نَذَرَ ثُمَّ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يَفِيَ
باب: آدمی نذر مانے اور اسے پوری کرنے سے پہلے اسلام قبول کر لے تو اس کی نذر کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3852
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كَانَ عَلَى عُمَرَ نَذْرٌ فِي اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے ذمہ مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3852]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ذمے (دور جاہلیت میں) ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف بیٹھنے کی نذر تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف بیٹھنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمیس 19 (3144)، المغازي 54 (4320)، صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، (تحفة الأشراف: 7521)، مسند احمد (2/10، 35، 153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3853
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ كَانَ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں (مسجد الحرام میں) ایک دن کا اعتکاف اپنے اوپر واجب کر لیا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو ”آپ نے انہیں اس میں اعتکاف کرنے کا حکم دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3853]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دورِ جاہلیت میں ایک دن اعتکاف بیٹھنے کی نذر مانی تھی، (مسلمان ہونے کے بعد) انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”اعتکاف بیٹھنے کا حکم دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، (تحفة الأشراف: 7916)، مسند احمد (2/82) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3854
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , وَمِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ تَوْبَةُ كَعْبٍ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان (کعب رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہو ۲؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کا بھی ذکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3854]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے کل مال کو اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے مطابق صدقہ کرتے ہوئے اس سے لاتعلق ہونا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال رکھ لے، یہ تیرے لیے بہتر ہو گا“۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ممکن ہے زہری نے یہ حدیث عبداللہ بن کعب سے بھی سنی ہو اور ان سے (ان کے بھائی) عبدالرحمن بن کعب کے واسطے سے بھی۔ اس لمبی حدیث میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ کا ذکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 29 (3317، 3318)، (تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، نساخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے، واللہ اعلم۔ ۲؎: زہری نے یہ حدیث: عبداللہ بن کعب، عبدالرحمٰن بن کعب، نیز عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب (عن أبیہ عبداللہ بن کعب) تینوں سے سنی ہے، دیکھئیے احادیث رقم: ۳۴۵۱-۳۴۵۶
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ: إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ
باب: جب کوئی اپنا مال نذر کے طور پر ہدیہ کر دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3855
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ يُونُسَ , قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ: فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ مُخْتَصَرٌ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3855]
حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا، جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنے مال کو اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اپنے مال سے لاتعلق ہو جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال رکھ لے۔ یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“ میں نے کہا: میں اپنی خیبر والی جائیداد رکھ لیتا ہوں۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3454 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3856
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَيَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ (کہتے ہیں:) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا (کچھ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3856]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا واقعہ بیان فرماتے ہوئے سنا، جب وہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اس سے لا تعلق ہوجاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال رکھ لے، یہ تیرے لیے بہتر ہوگا۔“ میں نے کہا: میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3854 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ , وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. فَقَالَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ , فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا“، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3857]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی ہے، نیز میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کی خاطر صدقہ کرتے ہوئے اس سے لاتعلق ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا کچھ مال رکھ لے، یہ تیرے لیے بہتر ہوگا۔“ میں نے کہا: ٹھیک ہے، میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11160) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ: هَلْ تَدْخُلُ الأَرَضُونَ فِي الْمَالِ إِذَا نَذَرَ
باب: مال کی نذر مانی جائے تو کیا زمین بھی اس میں شامل ہو گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3858
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ , فَلَمْ نَغْنَمْ إِلَّا الْأَمْوَالَ , وَالْمَتَاعَ , وَالثِّيَابَ , فَأَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ يُقَالُ لَهُ: رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ فَوُجِّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى وَادِي الْقُرَى , حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى بَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَهُ سَهْمٌ فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ , فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ , مِنَ الْمَغَانِمِ , لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا". فَلَمَّا سَمِعَ النَّاسُ بِذَلِكَ , جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ , أَوْ بِشِرَاكَيْنِ , إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شِرَاكٌ أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے سال ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں مال ۱؎، سامان اور کپڑوں کے علاوہ کوئی غنیمت نہ ملی تو بنو ضبیب کے رفاعہ بن زید نامی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعم نامی ایک کالا غلام ہدیہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی قریٰ کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوا اتار رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا اور اسے قتل کر ڈالا، لوگوں نے کہا کہ تمہیں جنت مبارک ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ کملی جو اس نے غنیمت کے مال سے خیبر کے روز لے لی تھی (اور مال تقسیم نہ ہوا تھا) اس کے سر پر آگ بن کر دہک رہی ہے“۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چمڑے کا ایک یا دو تسمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایک یا دو تسمے آگ کے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3858]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم غزوۂ خیبر والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہمیں غنیمت میں صرف مال، گھریلو سامان اور کپڑے وغیرہ ہی ملے تھے۔ بنو ضبیب کے ایک آدمی حضرت رفاعہ بن زید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کالا غلام بطور تحفہ دیا۔ اس کا نام مدعم تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادئ قریٰ کی جانب چلے۔ جب ہم وادئ قریٰ میں پہنچے تو مدعم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی سواری) کا پالان وغیرہ اتار رہا تھا کہ ایک تیر آیا، اسے لگا اور اسے ختم کر دیا۔ لوگ کہنے لگے: اسے جنت مبارک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ وہ چادر جو اس نے غزوۂ خیبر کے دن (میری اجازت کے بغیر) مالِ غنیمت سے اٹھائی تھی، وہ اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔“ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو کوئی آدمی ایک تسمہ، کوئی دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تسمہ یا دو تسمے آگ کے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (4234)، الأیمان 33 (6707)، صحیح مسلم/الإیمان 48 (115)، سنن ابی داود/الجہاد 143 (2711)، موطا امام مالک/الجہاد 13 (25)، (تحفة الأشراف: 12916) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی لفظ میں باب سے مطابقت ہے، کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اموال کے لفظ سے زمینیں (آراضی) مراد لی ہیں (خیبر میں زیادہ زمینیں مال غنیمت میں ہاتھ آئی تھیں) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی صرف ”مال“ کی نذر مانے تو اس مال میں زمین بھی داخل گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: الاِسْتِثْنَاءِ
باب: قسم کھانے والے کے استثنا یعنی ان شاءاللہ کہنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3859
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَنَّ كَثِيرَ بْنَ فَرْقَدٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ , فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو اس نے استثناء کر لیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3859]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھاتے وقت «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا، اس نے اختیار حاصل کر لیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8265) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر اس نے قسم پوری نہیں کی تو بھی کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3860
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ , فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور ”ان شاءاللہ“ کہا تو اس نے استثناء کر لیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3860]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھاتے وقت «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا، اس نے قسم پورا کرنے سے استثنا حاصل کر لیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3824 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3861
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ , فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ , إِنْ شَاءَ أَمْضَى , وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور ”ان شاءاللہ“ کہا تو اب اسے اختیار ہے چاہے تو قسم پوری کرے اور چاہے تو نہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3861]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی چیز پر قسم کھائی اور ساتھ ہی «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا تو اسے اختیار ہے، چاہے تو اسے پورا کرے، چاہے پورا نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3824 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں