🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ النَّذْرِ
باب: نذر کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3832
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ , وَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ , إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر (ماننے) سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3832]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس کا کوئی فائدہ نہیں، البتہ اس کے ساتھ بخیل آدمی سے کچھ مال نکل آتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/القدر 6 (6608)، الأیمان 26 (6693)، صحیح مسلم/ال نذر 2 (1639)، سنن ابی داود/الأیمان 21 (3287)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 15 (2122)، (تحفة الأشراف: 7287)، مسند احمد (2/61، 86، 118)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 5 (2385)، ویأتي فیما یلي: 3833، 3834 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ ہو چکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آ سکتی، اس لیے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر میں کوئی تبدیلی آ سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3833
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ , وَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا , إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس سے کوئی چیز رد نہیں ہوتی، البتہ اس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3833]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: نذر کسی تقدیر کو رد نہیں کرتی، البتہ اس طریقے سے کنجوس آدمی سے کچھ نہ کچھ مال نکالا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: النَّذْرِ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلاَ يُؤَخِّرُهُ
باب: نذر کسی (مقدر) چیز کو آگے اور پیچھے نہیں کرتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3834
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ , إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الشَّحِيحِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ کسی (مقدر) چیز کو آگے کرتی ہے نہ پیچھے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3834]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر کسی چیز کو آگے پیچھے نہیں کرتی، البتہ یہ ایسی چیز ہے جس کے ساتھ کنجوس آدمی سے کچھ نہ کچھ مال نکالا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3832 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3835
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ , وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ اسْتُخْرِجَ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے (کچھ مال) نکال لیا جاتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3835]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) نذر انسان کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں لاتی جو میں نے اس کے لیے مقدر نہ کی ہو، البتہ اس کے ذریعے سے بخیل شخص سے کچھ مال نکالا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13723)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان 26 (6692)، صحیح مسلم/ال نذر (1640)، سنن ابی داود/الأیمان 21 (3288)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 15(2123)، مسند احمد 2/242) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحۃً اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، لیکن سیاق سے بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: النَّذْرُ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ
باب: نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3836
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عَنْ الْعَلَاءِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا , وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانو، کیونکہ نذر تقدیر (کے لکھے) میں کچھ کام نہیں آتی، اس سے تو صرف بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3836]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانا کرو کیونکہ نذر تقدیر کو رد نہیں کر سکتی۔ اس کے ساتھ تو بخیل سے کچھ مال نکالا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأیمان 26 (1640)، سنن الترمذی/الأیمان 10 (1538)، (تحفة الأشراف: 14050) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: النَّذْرِ فِي الطَّاعَةِ
باب: اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3837
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3837]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی اطاعت کی نذر مانے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 28 (6696)، 31 (6700)، سنن ابی داود/الأیمان 22 (3289)، سنن الترمذی/الأیمان 2 (1526)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 16 (2126)، (تحفة الأشراف: 17458)، موطا امام مالک/النذور 4 (8)، مسند احمد 6/36، 41، 224)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 3 (2383)، ویأتي فیمایلي: 3838، 3839 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نذر کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے تو اسے پوری کرے اور اگر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ہے تو اسے پوری نہ کرے اور اس کا کفارہ دیدے، رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور نافرمانی کا بھی یہی حکم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: النَّذْرِ فِي الْمَعْصِيَةِ
باب: معصیت و گناہ کی نذر ماننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3838
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کی نذر مانے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے، اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3838]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے وہ اطاعت کرے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ ہرگز نافرمانی نہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3839
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو نذر مانے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گا تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اور جو اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3839]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانے تو وہ اس کی نافرمانی (بالکل) نہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ
باب: نذر پوری کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3840
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي جَمْرَةَ , عَنْ زَهْدَمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يَذْكُرُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُكُمْ قَرْنِي , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ" , فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ مَرَّتَيْنِ بَعْدَهُ أَوْ ثَلَاثًا , ثُمَّ ذَكَرَ:" قَوْمًا يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ , وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ , وَيُنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ , وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو جَمْرَةَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے زیادہ اچھے اور بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد کے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ثم الذين يلونهم» کا ذکر دو بار کیا یا تین بار، پھر آپ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو خیانت کریں گے اور انہیں امین (امانت دار) نہیں سمجھا جائے گا، گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی نہیں مانگی جائے گی اور نذر مانیں گے اور اسے پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہو گا ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ابوجمرہ نصر بن عمران ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3840]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ میرے دور کے ہیں، پھر جو لوگ ان کے بعد آئیں گے، پھر جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر جو ان کے بعد آئیں گے۔ (راویِ حدیث نے کہا:) مجھے یاد نہیں کہ آپ نے یہ لفظ دو دفعہ فرمائے یا تین دفعہ۔ پھر آپ نے ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جو خیانت کریں گے حتیٰ کہ ان کے پاس امانت نہیں رکھی جائے گی، گواہیاں دیں گے جبکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، وہ نذریں مانیں گے، پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نصر بن عمران کی کنیت ابوحمزہ ہے (ابوحمزہ نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3840]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 9 (2651)، وفضائل الصحابة 1 (3650)، الرقاق 7 (6428)، الأیمان 7 (6695)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2535)، (تحفة الأشراف: 10827)، سنن ابی داود/السنة 10 (4657)، سنن الترمذی/الفتن 45 (2223)، والشہادات 4 (2302)، مسند احمد (4/426، 427، 436) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ جواب دہی کا خوف ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، عیش و آرام کے عادی ہو جائیں گے اور دین و ایمان کی فکر جاتی رہے گی جو ان کے مٹاپے کا سبب ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: النَّذْرِ فِيمَا لاَ يُرَادُ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ
باب: ایسی چیز کی نذر ماننا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3841
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُ رَجُلًا فِي قَرَنٍ , فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَطَعَهُ , قَالَ: إِنَّهُ نَذْرٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر کھینچے لے جا رہا تھا، آپ نے رسی کو لیا اور اسے کاٹ ڈالا اور فرمایا: یہ نذر ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3841]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک دوسرے آدمی کو رسی باندھ کر کھینچ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی پکڑ کر کاٹ دی۔ وہ کہنے لگا: میں نے یہ نذر مانی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2923 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نذر اس طرح سے بھی ادا ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون قوله إنه نذر
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں