سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى
باب: قسم کھانے کے بعد استثنا کرنے یعنی ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3822
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي حَدِيثِهِ , عَنْ جَرِيرٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ , فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا , فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ , وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی بات کی قسم کھاؤ پھر اس کے علاوہ بات کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3822]
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تو کوئی کام کرنے کی قسم کھا لے، پھر تو کوئی اور کام اس سے بہتر سمجھے تو جو بہتر ہے اسے عمل میں لے آ اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3813 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3823
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ وَلَا يَمِينَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ , وَلَا فِي مَعْصِيَةٍ , وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز ملکیت میں نہیں، اس میں نہ نذر مانی جا سکتی ہے، نہ قسم کھائی جا سکتی ہے اور (اسی طرح اللہ تعالیٰ کی) نافرمانی اور قطع رحمی کی نذر اور قسم بھی معتبر نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 15 (3274مطولا)، مسند احمد (2/112) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک نہیں اس میں نذر اور قسم نہیں، لیکن دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر اور قسم تو ہو جاتی ہے لیکن ان کو پورا نہیں کیا جائے گا اور (قسم کا) کفارہ ادا کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3824
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى , فَإِنْ شَاءَ مَضَى , وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قسم کھائے اور ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہے تو اگر چاہے تو وہ قسم پوری کرے اور اگر چاہے تو پوری نہ کرے، وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3824]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھاتے وقت «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دے، وہ چاہے تو قسم کو پورا کرے اور چاہے تو چھوڑ دے، اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 11 (3261، 3262)، سنن الترمذی/الأیمان 7 (1531)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 6 (2105)، (تحفة الأشراف: 7517)، مسند احمد (2/6، 10، 48، 49، 126، 127، 153، سنن الدارمی/النذور والأیمان 7 (2387، 2388)، ویأتي عند المؤلف فی باب 39 بأرقام: 3860، 3861 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہیں ہو گا اس لیے کہ اس کی قسم اللہ کی مرضی (مشیت) پر معلق و منحصر ہو گئی، اسی لیے وہ قسم توڑنے والا نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
19. بَابُ: النِّيَّةِ فِي الْيَمِينِ
باب: قسم میں نیت کے اعتبار کا بیان۔
حدیث نمبر: 3825
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ , وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى , فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ , وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور آدمی کو اسی کا ثواب ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو، تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہو گی جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3825]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس شخص کی (نیت) ہجرت (کرتے وقت) اللہ اور اس کے رسول (کی رضا مندی اور حکم کی تعمیل) کے لیے ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی سمجھی جائے گی اور جس کی ہجرت (کا مقصود) دنیا کا حصول یا کسی عورت سے نکاح وغیرہ تھا تو اس کی ہجرت انہی چیزوں کے لیے سمجھی جائے گی جو اس کا مقصود تھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 75 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ قسم بھی ایک عمل ہے، اس لیے حدیث «إنما الأعمال بالنية» کے مطابق قسم میں بھی نیت معتبر ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
20. بَابُ: تَحْرِيمِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کر لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3826
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا , فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتُنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" لَا , بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَلَنْ أَعُودَ لَهُ" , فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ سورة التحريم آية 1 - 4 عَائِشَةُ , وَحَفْصَةُ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 , لِقَوْلِهِ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے: مجھے آپ (کے منہ) سے مغافیر ۱؎ کی بو محسوس ہو رہی ہے، آپ نے مغافیر کھائی ہے۔ آپ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے آپ سے یہی کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ اسے نہیں پیوں گا“۔ تو آیت کریمہ «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» سے (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ (التحریم: ۱) «إن تتوبا إلى اللہ» (آیت کا سیاق یہ ہے کہ) ”(اے نبی کی بیویو!) اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہتر ہے)“ (التحریم: ۴) تک نازل ہوئی، اس سے عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما مراد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: میں نے تو شہد پیا ہے (مگر اب نہیں پیوں گا) کی وجہ سے آیت کریمہ «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے چپکے سے ایک بات کہی“ (التحریم: ۳) نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3826]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی ایک بیوی) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں زیادہ دیر ٹھہرے تھے کیونکہ آپ وہاں سے شہد پیتے تھے۔ میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو وہ کہے کہ بلاشبہ میں آپ سے «مَغَافِير» ”مغافیر“ کی بو محسوس کر رہی ہوں، کیا آپ نے مغافیر (گوند) کھائی ہے؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی ایک کے ہاں تشریف لائے تو اس نے یہ لفظ کہہ دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے ہاں سے شہد پیا ہے، اب دوبارہ ہرگز نہیں پیوں گا۔“ تو پھر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا ہے؟“ آگے حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور (اپنی غلطی سے) توبہ کرو (تو تمہیں لائق ہے)۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے راز کی بات کہی، اس میں اشارہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی طرف کہ ”میں نے تو شہد پیا ہے، (آئندہ نہیں پیوں گا)۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3410 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک قسم کا گوند ہے جو بعض درختوں سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
21. بَابُ: إِذَا حَلَفَ أَنْ لاَ يَأْتَدِمَ فَأَكَلَ خُبْزًا بِخَلٍّ
باب: جب کوئی قسم کھائے کہ وہ سالن نہیں کھائے گا پھر اس نے سرکہ سے روٹی کھا لی تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 3827
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَهُ , فَإِذَا فِلَقٌ وَخَلٌّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْ فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3827]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو روٹی کے ٹکڑے اور سرکہ پیش کیے گئے، آپ نے مجھے فرمایا: ”کھاؤ، سرکہ بہترین سالن ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 30 (2052)، سنن ابی داود/الأطعمة 40 (3821)، (تحفة الأشراف: 2338)، مسند احمد (3/301، 400) سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2092) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے سالن نہ کھانے کی قسم کھانے والا اگر سرکہ کھا لے تو وہ قسم توڑنے والا مانا جائے گا، اور اسے قسم کا کفارہ دینا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
22. بَابُ: فِي الْحَلِفِ وَالْكَذِبِ لِمَنْ لَمْ يَعْتَقِدِ الْيَمِينَ بِقَلْبِهِ
باب: دل سے نہیں بلکہ زبان سے جھوٹی قسم کھانے والے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3828
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ , فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ , فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ اسْمِنَا , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ , إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ , وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں «سماسر» (دلال) کہا جاتا تھا، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور ہم خرید و فروخت کر رہے تھے تو آپ نے ہمیں ہمارے نام سے بہتر ایک نام دیا، آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں قسم اور جھوٹ ۱؎ بھی شامل ہو جاتی ہیں تو تم اپنی خرید و فروخت میں صدقہ ملا لیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3828]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں (تاجروں کو) دلال کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (بازار میں) تشریف لائے۔ ہم خرید و فروخت کر رہے تھے۔ آپ نے ہمارے نام سے بہتر نام ہمارے لیے مقرر فرمایا۔ آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! بیچتے وقت (بسا اوقات بلا قصد) قسم اور جھوٹ صادر ہو جاتے ہیں، لہٰذا تم فروخت کے ساتھ ساتھ صدقہ بھی کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 1 (3327)، سنن الترمذی/البیوع 4 (1208)، سنن ابن ماجہ/التجارات 3 (2145)، (تحفة الأشراف: 11103)، مسند احمد (4/6، 280)، ویأتي فیما یلي: 3829، 3831، وفي البیوع 7 برقم: 4468 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎؎: یعنی خرید و فروخت میں بعض دفعہ بغیر ارادے اور قصد کے بعض ایسی باتیں زبان پر آ جاتی ہیں جو خلاف واقع ہوتی ہیں تو کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کرو تاکہ وہ ایسی چیزوں کا کفارہ بن جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3829
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , وَعَاصِمٌ , وَجَامِعٌ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ , فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ" , فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ , وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خرید و فروخت کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم لوگوں کو «سماسرہ» (دلال) کہا جاتا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا، پھر فرمایا: ”خرید و فروخت میں (بغیر قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3829]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم بقیع کے بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہمیں اس وقت «سَمَاسِرَةَ» (دلال) کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ» ”اے تاجروں کی جماعت!“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سابقہ نام سے بہتر نام رکھا۔ پھر فرمایا: «إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ» ”خرید و فروخت کرتے وقت (بلاقصد) قسم اور جھوٹ صادر ہو جاتے ہیں، لہٰذا ساتھ ساتھ صدقہ بھی کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
23. بَابُ: فِي اللَّغْوِ وَالْكَذِبِ
باب: (خرید و فروخت کے وقت) غلط اور جھوٹی باتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3830
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ فِي السُّوقِ , فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ.
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ”ان بازاروں میں (بغیر قصد و ارادے کے) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3830]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بازار میں (تجارت کررہے) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بازار میں فضول باتوں اور جھوٹ کی آمیزش ہوتی رہتی ہے، لہٰذا صدقہ کرتے رہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی صدقہ کیا کرو تو یہ ان کا کفارہ بن جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3831
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ , نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا , وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ , وَيُسَمِّينَا النَّاسُ , فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا , وَسَمَّانَا النَّاسُ , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ , إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ.
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو «سماسرہ» (دلال) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں (بلا قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آ جاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3831]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم مدینہ منورہ میں غلے کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور اپنے آپ کو «سِمْسَار» کہا کرتے تھے، لوگ بھی ہمیں یہی کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ہمیں ہمارے اور لوگوں کے رکھے ہوئے نام سے بہترین نام دیا، آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہارے سودوں میں (بلا قصد و ارادہ) جھوٹ اور قسموں کی ملاوٹ ہوتی ہے، لہٰذا تم اپنے سودوں کے ساتھ ساتھ صدقے کی بھی ملاوٹ کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن