🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: الأَمْرِ بِالتَّسْمِيَةِ عِنْدَ الصَّيْدِ
باب: شکار کرتے وقت «بسم اللہ» پڑھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ لَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَ كَلْبُكَ كِلَابًا، فَقَتَلْنَ: فَلَمْ يَأْكُلْنَ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار کے لیے بھیجو تو اس پر بسم اللہ پڑھ لو، اب اگر تمہیں وہ شکار مل جائے اور مرا ہوا نہ ہو تو اسے ذبح کرو اور اس پر اللہ کا نام لو ۱؎ اور اگر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ اور اس (کتے) نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو تو اس کو کھاؤ، اس لیے کہ اس نے تمہارے لیے ہی اس کا شکار کیا ہے۔ البتہ اگر تم دیکھو کہ اس نے اس میں سے کچھ کھا لیا ہے تو تم اس میں سے نہ کھاؤ۔ اس لیے کہ اب اس نے اسے اپنے لیے شکار کیا ہے۔ اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں اور انہوں نے اس (شکار) کو قتل کر دیا ہو اور اسے کھایا نہ ہو تب بھی تم اس میں سے کچھ مت کھاؤ، اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4268]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: جب تو اپنا کتا (شکار کے پیچھے) چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چھوڑ، پھر اگر تو شکار کو اس حال میں پا لے کہ کتے نے اسے قتل نہیں کیا تو اللہ کا نام لے کر اسے ذبح کر لے۔ اور اگر شکار کو اس حال میں پائے کہ کتا اسے قتل کر چکا ہے لیکن اس نے کچھ نہیں کھایا تو وہ شکار تو کھا سکتا ہے کیونکہ اس نے اسے تیرے لیے پکڑا ہے اور اگر تو دیکھے کہ کتے نے اس میں سے کچھ کھا لیا ہے تو تو اس میں سے کچھ بھی نہ کھا کیونکہ کتے نے تو اسے اپنے لیے پکڑا ہے۔ اور اگر تیرے کتے کے ساتھ اور کتے بھی مل جائیں، پھر وہ مل کر کسی جانور کو قتل کر دیں، پھر خواہ وہ اسے نہ بھی کھائیں تو بھی تو اس سے کچھ نہ کھا کیونکہ تجھے علم نہیں کہ ان میں سے کس کتے نے اسے قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 33 (175)، البیوع 3 (2054)، الصید 2 (5476)، 7(5483)، 8(5484)، 9(5486)، 10(5487)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2848، 2849)، سنن الترمذی/الصید 5 (1469)، سنن ابن ماجہ/الصید 6 (3213)، (تحفة الأشراف: 9862)، مسند احمد (4/256، 257، 258، 378، 379، 380)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4273، 4279، 4303، 4304) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ، مَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ
باب: جس شکار پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے کھانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4269
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ، فَهُوَ وَقِيذٌ"، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْكَلْبِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ كَانَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبٌ آخَرُ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَ مَعَهُ فَقَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» (بے پر کے تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اگر اسے نوک لگی ہو تو کھاؤ اور اگر اسے آڑی لگی ہو تو وہ «موقوذہ» ہے ۱؎ میں نے آپ سے کتے کے (شکار کے) بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تم (شکار پر) کتا دوڑاؤ پھر وہ اسے پکڑے اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تم اسے کھاؤ اس لیے کہ اس کا پکڑ لینا ہی گویا شکار کو ذبح کرنا ہے۔ لیکن اگر تمہارے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا ہو اور تمہیں اندیشہ ہو کہ تمہارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے نے بھی پکڑا ہو اور وہ شکار مر گیا ہو تو مت کھاؤ۔ اس لیے کہ تم نے بسم اللہ صرف اپنے کتے پر پڑھی تھی دوسرے کتے پہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4269]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض (تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جانور تو تیر کی نوک سے شکار کرے، وہ تو کھا لے اور جو جانور اس کے پہلو سے شکار کرے (وہ نہ کھا کیونکہ) وہ چوٹ سے مرا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے (کے شکار) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا کتا چھوڑے اور وہ جانور کو جا پکڑے لیکن خود نہ کھائے تو تو اسے کھا سکتا ہے کیونکہ کتے کا پکڑنا بھی ذبح ہی ہے۔ اور اگر تیرے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا مل جائے اور تجھے خطرہ ہو کہ شاید اس کے ساتھ اس نے بھی پکڑا ہے اور مار دیا ہے تو تو نہ کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھی ہے، دوسرے کتے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4269]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 1 (5475)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن الترمذی/الصید 7 (1471)، سنن ابن ماجہ/الصید 6 (3214)، (تحفة الأشراف: 9860)، مسند احمد (4/256)، سنن الدارمی/الصید 1 (2045)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4274، 4279، 4313) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جو شکار کسی بھاری چیز سے مارا گیا ہو جیسے لاٹھی یا پتھر وغیرہ سے، یا کوئی جانور چھت وغیرہ سے گر کر مر جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: صَيْدِ الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ
باب: سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4270
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُرْسِلُ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ فَيَأْخُذُ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَأَخَذَ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ"، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ، قَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں (شکار پر) سدھایا ہوا کتا چھوڑتا ہوں اور وہ جانور پکڑ لیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تم سدھایا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ شکار پکڑے تو تم اسے کھاؤ میں نے عرض کیا: اگر وہ اسے مار ڈالے؟ تو آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالے۔ میں نے عرض کیا: میں معراض پھینکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: اگر نوک لگے تو کھاؤ اور اگر آڑا لگے تو نہ کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4270]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں، وہ اسے پکڑ لے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» بسم اللہ بھی پڑھے، پھر وہ پکڑ لے تو تو کھا سکتا ہے۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ قتل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ قتل کر دے۔ میں نے کہا: میں معراض تیر چلاتا ہوں تو پھر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ نوک کے بل لگے تو تو کھا سکتا ہے اور اگر وہ کسی اور جانب سے لگے تو پھر نہ کھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 3 (5477)، التوحید 13 (7397)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2827)، سنن الترمذی/الصید 1 (1465)، سنن ابن ماجہ/الصید 6 (3215)، (تحفة الأشراف: 9878)، مسند احمد (4/256، 258، 377، 380) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: صَيْدِ الْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ
باب: غیر سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4271
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اس سر زمین میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ملتا ہے۔ میں تیر کمان سے شکار کرتا ہوں اور سدھائے ہوئے کتے سے بھی شکار کرتا ہوں اور غیر سدھائے ہوئے کتے سے بھی۔ آپ نے فرمایا: جو شکار تم تیر سے کرو تو اللہ کا نام لے کر اسے کھاؤ ۱؎ اور جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو اللہ کا نام لے کر اسے کھاؤ، اور جو شکار تم غیر سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو اگر اسے ذبح کر سکو تو کھا لو ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4271]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم شکار والے علاقے میں رہتے ہیں۔ میں تیر سے بھی شکار کرتا ہوں، اپنے سدھائے ہوئے اور ان سدھائے کتوں کے ساتھ بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تو اپنے تیر سے شکار کرے، اسے کھا سکتا ہے بشرطیکہ تو نے (چھوڑتے وقت) «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھی ہو۔ اسی طرح جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرے، وہ بھی کھا سکتا ہے بشرطیکہ تو نے کتا چھوڑتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھی ہو، البتہ جو شکار تو ان سدھائے (غیر تربیت یافتہ) کتے سے کرے، اگر اس کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، تب کھا سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 4 (5478)، 10(5488)، 14(5496)، صحیح مسلم/الصید1(1930)، سنن ابی داود/الصید2(2855)، سنن الترمذی/السیر 11 (1560م)، سنن ابن ماجہ/الصید 3 (3207)، (تحفة الأشراف: 11875)، مسند احمد (4/193، 194، 195)، سنن الدارمی/السیر 56 (2541) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تیر پھینکتے وقت اللہ کا نام لو پھر اسے کھاؤ۔ ۲؎: اور اگر پانے سے پہلے مر گیا ہو تو مت کھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: إِذَا قَتَلَ الْكَلْبُ
باب: اگر کتا شکار کو مار ڈالے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4272
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ أَبُو صَالِحٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أُرْسِلُ كِلَابِي الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ فَآكُلُ، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ , فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلْنَ"، قَالَ:" مَا لَمْ يَشْرَكْهُنَّ كَلْبٌ مِنْ سِوَاهُنَّ"، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَيَخْزِقُ؟ قَالَ:" إِنْ خَزَقَ فَكُلْ، وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتے ہیں، کیا میں اسے کھا سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو (اور وہ تمہارے لیے شکار پکڑ کر لائیں) تو اسے کھا لو، میں نے عرض کیا: اگر وہ اسے مار ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں، مگر یہ اسی وقت جب کہ اس کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہوا ہو ۱؎ میں نے عرض کیا: میں معراض پھینکتا ہوں اور وہ (جانور کے جسم میں) گھس جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر وہ گھس جائے تو تم کھا لو اور اگر وہ آڑا پڑے تو نہ کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4272]
حضرت عدی بن حاتم (طائی) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتا ہوں، وہ شکار کو میرے لیے پکڑ کر رکھتے ہیں تو کیا میں کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو سدھائے ہوئے کتے چھوڑے اور وہ تیرے لیے شکار پکڑے رکھیں (خود نہ کھائیں) تو کھا لے۔ میں نے کہا: اگر وہ قتل کر دیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواہ قتل کر دیں، البتہ ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ میں «الْمِعْرَاضَ» (تیر) پھینکتا ہوں جو شکار کو پھاڑ دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو تیر پھاڑ دے تو کھا لے لیکن اگر وہ جانور کو نوک کی بجائے کسی اور جگہ سے لگے تو نہ کھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4270 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: ۱- سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے۔ ۲- کتا سدھایا ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو۔ ۳- اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے بھیجا گیا ہو، پس اگر وہ خود سے بلا بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں، یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ ۴- کتے کو شکار پر بھیجتے وقت بسم اللہ کہا گیا ہو۔ ۵- سدھائے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہو گا اور یہ شکار حلال نہ ہو گا۔ ۶- کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لیے محفوظ رکھے تب یہ شکار حلال ہو گا ورنہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: إِذَا وَجَدَ مَعَ كَلْبِهِ كَلْبًا لَمْ يُسَمِّ عَلَيْهِ
باب: جب کوئی اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو شریک پائے جس پر اس نے «بسم اللہ» نہ پڑھی ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ تُسَمِّ عَلَيْهَا، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيَّهَا قَتَلَهُ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: جب تم (شکار پر) اپنا کتا چھوڑو پھر اس کے ساتھ کچھ ایسے کتے بھی شریک ہو جائیں جن پر تم نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے تو تم اسے مت کھاؤ۔ اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ اسے کس کتے نے قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4273]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے (سدھائے ہوئے) کتے کو چھوڑے، پھر اس کے ساتھ اور کتے مل جائیں جن پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو تو اسے نہ کھا کیونکہ تو نہیں جانتا کہ ان میں سے کس کتے نے قتل کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: إِذَا وَجَدَ مَعَ كَلْبِهِ كَلْبًا غَيْرَهُ
باب: جب اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو پائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4274
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ كَلْبًا آخَرَ مَعَ كَلْبِكَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اسے (شکار کو) کھاؤ اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاؤ تو مت کھاؤ اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی، دوسرے کتے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4274]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا کتا چھوڑے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھے تو اس کا شکار کھا لے۔ اور اگر تو اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو پھر نہ کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھی تھی نہ کہ دوسرے پر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4275
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَكَانَ لَنَا جَارًا، وَدَخِيلًا، وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ؟، قَالَ:" لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نہرین میں ہمارے پڑوسی تھے، ہمارے گھر آتے جاتے تھے اور ایک زاہد شخص تھے، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو میں اپنے کتے کے ساتھ ایک کتا دیکھتا ہوں جس نے شکار پکڑ رکھا ہے مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ ان میں سے کس نے پکڑا ہے، آپ نے فرمایا: اسے مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے «بسم اللہ» صرف اپنے کتے پر پڑھی تھی، دوسرے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4275]
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جو کہ نہرین شہر میں ہمارے پڑوسی تھے، ملنے جلنے والے اور اللہ لوگ (زاہد) آدمی تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں، پھر اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا پاتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس نے شکار پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نہ کھا کیونکہ تو نے صرف اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» بسم اللہ پڑھی تھی نہ کہ دوسرے پر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، (تحفة الأشراف: 9861)، مسند احمد (4/256) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4276
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4276]
حضرت شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کی روایت مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، (تحفة الأشراف: 9858)، مسند احمد (4/257) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4277
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْغَيْلَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَوَجَدْتَ مَعَهُ غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو تو اسے (شکار کو) کھاؤ اور اگر اس نے اس (شکار) میں سے کچھ کھایا ہو تو تم اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ اسے اس کتے نے اپنے لیے شکار کیا ہے، اور جب تم اپنے کتے کو چھوڑو پھر اس کے ساتھ اس کے علاوہ (کوئی کتا) پاؤ تو اس شکار کو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے «بسم اللہ» صرف اپنے کتے پر پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4277]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں شکار کے لیے اپنا کتا چھوڑتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنا کتا چھوڑے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھے تو اس کا شکار کھا سکتا ہے۔ اگر کتا اس میں سے کچھ کھا لے تو پھر تو نہ کھا کیونکہ اس نے وہ شکار اپنے لیے پکڑا ہے۔ اور جب تو اپنا کتا چھوڑے، پھر اس کے ساتھ کوئی اور کتا پائے تو اس کا شکار نہ کھا کیونکہ تو نے صرف اپنے کتے پر «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے پڑھی ہے نہ کہ دوسرے پر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 33 (175)، البیوع 3 (2054)، الصید 2 (5476)، (5486)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2854)، (تحفة الأشراف: 9863)، مسند احمد (4/380) سنن الدارمی/الصید 1 (2045)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4311) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں