سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: إِذَا وَجَدَ مَعَ كَلْبِهِ كَلْبًا غَيْرَهُ
باب: جب اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو پائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4278
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَنِ الْحَكَمِ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ؟، قَالَ:" لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے کس نے شکار کیا؟۔ آپ نے فرمایا: ”اسے (شکار کو) مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر «بسم اللہ» پڑھی تھی، کسی دوسرے (کتے) پر نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4278]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں، پھر اپنے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا بھی پاتا ہوں، میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس نے شکار پکڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کھا کیونکہ تو نے صرف اپنے کتے پر اللہ کا نام لیا ہے دوسرے پر نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4275، 4276، 4277 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
8. بَابُ: الْكَلْبُ يَأْكُلُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: کتا شکار میں سے کچھ کھا لے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4279
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا زَكَرِيَّا، وَعَاصِمٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ"، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ كَلْبِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ نوک سے مارا جائے تو کھا لو اور اگر وہ آڑے سے مارا جائے تو وہ «موقوذہ» ہے (جو حرام ہے)“۔ میں نے آپ سے شکاری کتے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو تو اسے (شکار کو) کھاؤ“، میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ اسے مار ڈالے؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ اسے مار ڈالے، ہاں اگر اس میں سے اس نے بھی کھا لیا تو تم مت کھاؤ اور اگر تم اس کے ساتھ اپنے کتے کے علاوہ کوئی کتا دیکھو اور اس نے شکار مار ڈالا ہو تو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا تھا کسی اور کتے پر نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4279]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے تیر کے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”جسے تیر نوک کے بل لگا ہو، اسے کھا لے اور جسے عرض کے بل (یا کسی اور طرف سے) لگا ہو، وہ چوٹ سے مرنے والا جانور ہے۔“ میں نے آپ سے شکاری کتے کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”جب تو کتا چھوڑے اور اللہ کا نام لے تو اس کا شکار کھا لے۔“ میں نے کہا: اگر وہ قتل کر دے؟ آپ نے فرمایا: ”خواہ وہ قتل کر دے۔ لیکن اگر وہ اس میں سے کھانے لگے تو پھر نہ کھا۔ اور اگر تو اس کے ساتھ کوئی اور کتا پائے جبکہ جانور ختم ہو چکا ہو تو اسے نہ کھا کیونکہ تو نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا ہے نہ کہ دوسرے کتے پر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4669 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4280
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْكَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ اسے مار ڈالے اور اس نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ، اور اگر اس نے اس میں سے کچھ کھایا ہو تو مت کھاؤ اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے نہ کہ تمہارے لیے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4280]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب تو اپنا کتا چھوڑے اور اس پر «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھے، پھر وہ قتل بھی کر دے لیکن خود نہ کھائے تو وہ شکار تو کھا لے۔ اور اگر وہ کھانا شروع کر دے تو پھر نہ کھا کیونکہ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ) اس نے شکار اپنے لیے پکڑا ہے نہ کہ تیرے لیے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
9. بَابُ: الأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ
باب: کتوں کو مار ڈالنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4281
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: لَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ. فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الصَّغِيرِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ”لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور مجسمہ (مورت) ہو“۔ اس دن جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ چھوٹے چھوٹے کتوں (پلوں) کو بھی مارنے کا حکم دے رہے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4281]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرئیل علیہ السلام نے بتایا: ”لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔“ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت کتے مارنے کا حکم دیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے چھوٹے کتے مارنے کا بھی حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18075) (صحیح) (یہ حدیث صحیح مسلم (2105)، سنن ابی داود (4157) میں بسند عبید بن السباق عن ابن عباس عن میمونہ آئی ہے۔»
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں ”چھوٹے باغوں کے کتوں کو مارنے اور بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ دینے کا حکم دے رہے تھے، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا، اور صرف کالے کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ يقتل كلب الحائط الصغير ويترك كلب الحائط الكبير
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4282
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ غَيْرَ مَا اسْتَثْنَى مِنْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا سوائے ان (کتوں) کے جو اس حکم سے مستثنی (الگ) ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4282]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستثنیٰ شدہ کتوں کے علاوہ کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 17 (3323)، صحیح مسلم/المساقاة 10 (1570)، سنن ابن ماجہ/الصید1(3202)، (تحفة الأشراف: 8349)، موطا امام مالک/الاستئذان 5 (14)، مسند احمد (2/22- 23، 113، 132، 136)، سنن الدارمی/الصید 3 (2050) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جیسے کھیتی، مویشی اور شکار کے کتے، لیکن بعد میں یہ حکم بھی منسوخ ہو گیا، اور صرف کالے کتوں کو مارنے کا حکم برقرار رہا، لیکن عام کتوں کو بھی بغیر ضرورت پالنے کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا (دیکھئیے اگلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4283
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَافِعًا صَوْتَهُ:" يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، فَكَانَتِ الْكِلَابُ تُقْتَلُ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونچی آواز سے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم فرماتے سنا، چنانچہ کتے مار دیے جاتے سوائے شکاری کتوں کے یا جو جانوروں کی رکھوالی کرتے ہوتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4283]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز کے ساتھ کتوں کے قتل کا حکم دیتے سنا، پھر کتے مارے جاتے تھے مگر شکاری یا جانوروں (اور کھیتوں) کی حفاظت کی خاطر رکھے ہوئے کتوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصید 1 (3203)، (تحفة الأشراف: 7002)، مسند احمد (2/133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4284
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری، یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کے سوا باقی کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4284]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شکاری اور جانوروں (یا کھیتوں) کی حفاظت کے لیے رکھے گئے کتوں کے علاوہ دوسرے کتے مارنے“ کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 11 (1571)، سنن الترمذی/الصید 4 (1488)، (تحفة الأشراف: 7353) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
10. بَابُ: صِفَةِ الْكِلاَبِ الَّتِي أُمِرَ بِقَتْلِهَا
باب: کس قسم کے کتوں کو مارنے کا حکم دیا گیا۔
حدیث نمبر: 4285
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ، وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ، أَوْ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی امتوں (مخلوقات) میں سے ایک امت (مخلوق) ہیں ۱؎ تو میں ان سب کو قتل کا ضرور حکم دیتا، اس لیے تم ان میں سے بالکل کالے کتے کو (جس میں کسی اور رنگ کی ذرا بھی ملاوٹ نہ ہو) قتل کرو، اس لیے کہ جن لوگوں نے بھی کھیت، شکار یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کے علاوہ کسی کتے کو رکھا تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4285]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی ایک مخلوق ہیں تو میں ان سب کے قتل کا حکم دیتا، اب تم خالص سیاہ کتے کو قتل کرو، جو لوگ بھی ایسا کتا رکھیں جو نہ تو کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو اور نہ شکار کے لیے تو ان کی نیکیوں سے ہر روز ایک قیراط کی کمی ہوتی رہے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصید1(2845)، سنن الترمذی/الصید3(1486)، 4(1489)، سنن ابن ماجہ/الصید2(3205)، (تحفة الأشراف: 9649) مسند احمد (4/85، 86 و5/54، 56، 57)، سنن الدارمی/الصید 3 (2051)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4293 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کی طرح یہ بھی ایک مخلوق ہیں۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوپایوں کی نگہبانی، زمین جائیداد کی حفاظت اور شکار کی خاطر کتوں کا پالنا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2845) ترمذي (1486،1489) ابن ماجه (2305) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
11. بَابُ: امْتِنَاعِ الْمَلاَئِكَةِ مِنْ دُخُولِ بَيْتٍ فِيهِ كَلْبٌ
باب: جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
حدیث نمبر: 4286
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَليِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملائکہ (فرشتے) ۱؎ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر (مجسمہ) ہو یا کتا ہو یا جنبی (ناپاک شخص) ہو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4286]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 262 (ضعیف) ’’حدیث ولا جنب کے لفظ سے ضعیف ہے) (اس کے راوی ”نجی“ لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، مگر اس میں ”جنبی“ کا لفظ نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: ”فرشتوں“ سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں نہ کہ حفاظت کرنے والے فرشتے، کیونکہ حفاظت کرنے والے فرشتوں کا کسی انسان یا انسان کے رہنے والی جگہ سے دور رہنا ممکن نہیں۔ ۲؎: حدیث میں صحت و ثبوت ہونے کے اعتبار سے ”جنبی“ کا لفظ ”منکر“ یعنی ضعیف ہے اور ”کتا“ سے مراد شکار، کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے مقصد سے پالے جانے والے کتوں کے علاوہ کتے مراد ہیں، اور ”تصویر“ سے وہ تصویریں مراد ہیں جس کا سایہ ہوتا ہے، یعنی ہاتھ سے بنائے ہوئے مجسمے، یا دیواروں پر لٹکائی جانے والی کاغذ پر بنی ہوئی تصویریں ہیں، کرنسی نوٹوں، کتابوں اور رسائل و جرائد میں بنی ہوئی تصویروں سے بچنا اس زمانہ میں بڑا مشکل بلکہ محال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله ولا جنب
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4287
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنِ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ".
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتے، یا تصاویر (مجسمے) ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4287]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3225)، 17(3322)، المغازي 12 (4002)، اللباس 88 (5949)، 92 (5975)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، سنن ابی داود/اللباس 48 (4153)، سنن الترمذی/الأدب 44 (2804)، سنن ابن ماجہ/اللباس 44 (3649)، (تحفة الأشراف: 3779)، مسند احمد (4/28، 29، 30) ویأتي عند المؤلف في الزینة 111 (بأرقام5349، 5350) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه