🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ إِثْمِ مَنْ كَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ:
باب: جو شخص مدینہ والوں کو ستانا چاہے اس پر کیا وبال پڑے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1877
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ، عَنْ جُعَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ هِيَ بِنْتُ سَعْدٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ، كَمَا يَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ".
ہم سے حسین بن حرث نے بیان کیا، کہا ہمیں فضل بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اہل مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی فریب کرے گا وہ اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جایا کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1877]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص اہل مدینہ سے فریب و دغا کرے گا وہ اس طرح گھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1877]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ آطَامِ الْمَدِينَةِ:
باب: مدینہ کے محلوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، سَمِعْتُ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ إِنِّي لَأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ"، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے محلات میں سے ایک محل یعنی اونچے مکان پر چڑھے پھر فرمایا کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں کیا تمہیں نظر آ رہا ہے؟ میں بوندوں کے گرنے کی جگہ کی طرح تمہارے گھروں پر فتنوں کے نازل ہونے کی جگہوں کو دیکھ رہا ہوں۔ اس روایت کی متابعت معمر اور سلیمان بن کثیر نے زہری کے واسطہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1878]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کے قلعوں میں سے کسی قلعے پر چڑھے تو فرمایا: ”کیا تم وہ دیکھتے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ بے شک میں تمہارے گھروں میں فتنوں کے مقامات اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے بارش کا قطرہ گرنے کی جگہ نظر آتی ہے۔“ معمر اور سلیمان بن کثیر نے زہری سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1878]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ لاَ يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ:
باب: دجال مدینہ میں نہیں آ سکے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ پر دجال کا رعب بھی نہیں پڑے گا اس دور میں مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1879]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ میں دجال کا رعب و خوف داخل نہیں ہوگا۔ اس وقت مدینہ طیبہ کے سات دروازے ہوں گے۔ ہر دروازے پر دو فرشتے پہرہ دیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1879]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ، وَلَا الدَّجَّالُ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نعیم بن عبداللہ المجمر نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہیں نہ اس میں طاعون آ سکتا ہے نہ دجال۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1880]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ کے دروازوں پر فرشتے پہرہ دیں گے، وہاں نہ تو مرض طاعون داخل ہوگا اور نہ ہی دجال آئے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1880]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1881
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ، إِلَّا مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ لَهُ مِنْ نِقَابِهَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا، ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، فَيُخْرِجُ اللَّهُ كُلَّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے ولید نے بیان کیا، ان سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے اسحٰق نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1881]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شہر میں دجال کا گزر ہوگا، مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں نہیں (آئے گا) کیونکہ ان کے تمام راستوں پر فرشتے صف بستہ پہرا دیں گے۔ پھر مدینہ طیبہ اپنے مکینوں کو تین بار خوب زور سے ہلائے گا اور اللہ تعالیٰ ہر کافر اور منافق کو اس سے نکال دے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1881]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1882
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا بِهِ، أَنْ قَالَ:" يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ، أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا عَنْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ، هَلْ تَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ: حِينَ يُحْيِيهِ، وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَقْتُلُهُ، فَلَا أُسَلَّطُ عَلَيْهِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں یہ بھی فرمایا تھا کہ دجال مدینہ کی ایک کھاری شور زمین تک پہنچے گا اس پر مدینہ میں داخلہ تو حرام ہو گا۔ (مدینہ سے) اس دن ایک شخص اس کی طرف نکل کر بڑھے گا، یہ لوگوں میں ایک بہترین نیک مرد ہو گا یا (یہ فرمایا کہ) بزرگ ترین لوگوں میں سے ہو گا وہ شخص کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع دی تھی دجال کہے گا کیا میں اسے قتل کر کے پھر زندہ کر ڈالوں تو تم لوگوں کو میرے معاملہ میں کوئی شبہ رہ جائے گا؟ اس کے حواری کہیں گے نہیں، چنانچہ دجال انہیں قتل کر کے پھر زندہ کر دے گا۔ جب دجال انہیں زندہ کر دے گا تو وہ بندہ کہے گا بخدا اب تو مجھ کو پورا حال معلوم ہو گیا کہ تو ہی دجال ہے دجال کہے گا لاؤ اسے پھر قتل کر دوں لیکن اس مرتبہ وہ قابو نہ پا سکے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1882]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ اس حدیث میں یہ بھی فرمایا: ”جب دجال آئے گا تو مدینہ طیبہ سے باہر ایک شوریلی زمین میں ٹھہرے گا، کیونکہ اس پر مدینہ طیبہ کے اندر آنا حرام کر دیا گیا ہے۔ پھر اہل مدینہ سے وہ شخص اس کے پاس جائے گا جو اس وقت کے تمام لوگوں سے بہتر ہوگا، وہ کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آگاہ کیا تھا۔ دجال کہے گا: بتاؤ! اگر میں اسے قتل کر کے دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم پھر بھی میرے معاملے میں شک کرو گے؟ لوگ کہیں گے: نہیں، چنانچہ وہ اس شخص کو قتل کر دے گا اور پھر زندہ کرے گا تو وہ شخص کہے گا: اللہ کی قسم! اب تو میں اور زیادہ تیرے حال سے واقف ہو گیا ہوں۔ دجال کہے گا: میں پھر اسے قتل کرتا ہوں، لیکن پھر وہ اس پر قابو نہیں پا سکے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1882]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ الْمَدِينَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ:
باب: مدینہ برے آدمی کو نکال دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1883
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" جَاءَ أَعْرَابِيّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَجَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا، فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَأَبَى ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ: الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا".
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام پر بیعت کی، دوسرے دن آیا تو اسے بخار چڑھا ہوا تھا کہنے لگا کہ میری بیعت توڑ دیجئیے! تین بار اس نے یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر فرمایا کہ مدینہ کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ میل کچیل کو دور کر کے خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1883]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اسلام پر بیعت کی۔ جب وہ دوسرے دن بخار میں مبتلا ہوا تو آپ کے پاس آکر کہنے لگا کہ آپ اپنی بیعت واپس لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ انکار کرتے ہوئے فرمایا: ”مدینہ طیبہ بھٹی کی طرح ہے کہ وہ بُری چیز کو نکال دیتی ہے اور عمدہ چیز کو خالص کر دیتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1883]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1884
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَتْ فِرْقَةٌ: نَقْتُلُهُمْ، وَقَالَتْ فِرْقَةٌ: لَا نَقْتُلُهُمْ، فَنَزَلَتْ: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَنْفِي الرِّجَالَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے لیے نکلے تو جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آ گئے (یہ منافقین تھے) پھر بعض نے تو یہ کہا کہ ہم چل کر انہیں قتل کر دیں گے اور ایک جماعت نے کہا کہ قتل نہ کرنا چاہئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين‏» اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ (برے) لوگوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ میل کچیل دور کر دیتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1884]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لیے مدینہ طیبہ سے نکلے، اس دوران آپ کے بعض ساتھی واپس چلے گئے تو کچھ کہنے لگے: ہم انہیں قتل کر دیں گے اور اس کے برعکس چند لوگوں نے کہا: ہم انہیں قتل نہیں کریں گے۔ اس پر آیت کریمہ ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ﴾ [سورة النساء: 88] ”تمہارا کیا حال ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ بن گئے ہو“ نازل ہوئی، ان حالات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ (منافق) آدمیوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ لوہے سے زنگار دور کرتی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1884]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10M. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1885
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، سَمِعْتُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ"، تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے یونس بن شہاب سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اے اللہ! جتنی مکہ میں برکت عطا فرمائی ہے مدینہ میں اس سے دگنی برکت کر۔ جریر کے ساتھ اس روایت کی متابعت عثمان بن عمر نے یونس کے واسطہ کے ساتھ کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1885]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! جتنی برکت تو نے مکہ میں رکھی ہے، اس سے دگنی برکت مدینہ میں کر دے۔“ اس حدیث کو یونس سے بیان کرنے میں عثمان بن عمر نے جریر کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1885]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1886
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی سواری تیز فرما دیتے اور اگر کسی جانور کی پشت پر ہوتے تو مدینہ کی محبت میں اسے ایڑ لگاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1886]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے اور مدینہ طیبہ کی دیواریں دیکھتے تو اس کی محبت کے باعث اپنی سواری کو تیز چلاتے اور اگر کسی اور سواری پر سوار ہوتے تو اسے ایڑی لگاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل المدينة/حدیث: 1886]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں