🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: تَعْظِيمِ السَّرِقَةِ
باب: چوری کی سنگینی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4874
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے زنا نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے چوری نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے شراب نہیں پیتا اور نہ ہی وہ ایمان رکھتے ہوئے کوئی ایسی بڑی لوٹ کرتا ہے جس کی طرف لوگوں کی نظریں اٹھتی ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4874]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص چوری کرتا ہے تو وہ صاحب ایمان نہیں ہوتا، جب کوئی شخص شراب پیتا ہے تو وہ ایمان سے لاتعلق ہو جاتا ہے اور جب کوئی شخص طاقت و قوت کے زور پر زبردست ڈاکا ڈالتا ہے کہ لوگ بے چارے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ بھی ایمان سے خالی ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12871) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کا حاشیہ (۴۸۷۳)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4875
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، ثُمَّ التَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، جب چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو چوری کے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا۔ جب شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو پیتے وقت اس کا ایمان نہیں رہتا، اس کے بعد بھی اب تک اس کی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4875]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانی جب زنا کرتا ہے تو مومن نہیں ہوتا، چور جب چوری کرتا ہے تو مومن نہیں ہوتا اور شرابی جب شراب پیتا ہے تو مومن نہیں ہوتا۔ البتہ توبہ پھر بھی ہو سکتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4875]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 20 (6810)، صحیح مسلم/الإیمان 24 (57)، (تحفة الأشراف: 12395، 12495، 12866) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4876
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَذَكَرَ رَابِعَةً , فَنَسِيتُهَا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کوئی زنا کرتا ہے تو زنا کے وقت وہ مومن نہیں رہتا، چوری کرتا ہے تو بھی مومن نہیں رہتا، شراب پیتا ہے تو بھی مومن نہیں رہتا۔ (راوی کہتا ہے) پھر چوتھی چیز بیان کی جو میں بھول گیا، جب وہ یہ سب کرتا ہے تو وہ اپنے گلے سے اسلام کا قلادہ نکال پھینکتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4876]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا، اور (جب کوئی شخص) چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور (جب) شراب پیتا ہے تو مومن نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایک چوتھی چیز کا بھی ذکر فرمایا لیکن میں بھول گیا۔ جو آدمی یہ کام کرتا ہے وہ اسلام کا طوق اپنی گردن سے اتار دیتا ہے، لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4875 (صحیح) (مگر اس کا آخری ٹکڑا ”فإذا فعل ذلک … من عنقہ“ کا اضافہ منکر ہے، اور اس کا سبب ’’یزید بن أبی زیاد‘‘ ہیں جو ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، يزيد بن أبى زياد: ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد دون قوله: ’’فإذا فعل ذلك خلع ……‘‘ إلخ. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4877
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ. ح وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہو چوری کرنے والے پر، انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4877]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے، وہ انڈا چرا لیتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، رسی چرا لیتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 1 (1687)، سنن ابن ماجہ/الحدود 22 (2583)، (تحفة الأشراف: 12515)، مسند احمد (2/253) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تھوڑے سے مال کے لیے ہاتھ کٹنا قبول کرتا ہے اور اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کی قدر نہیں کرتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: امْتِحَانِ السَّارِقِ بِالضَّرْبِ وَالْحَبْسِ
باب: اعتراف جرم کی خاطر چور کو مارنے یا قید میں ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4878
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ:" رَفَعَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ الْكَلَاعِيِّينَ، أَنَّ حَاكَةً سَرَقُوا مَتَاعًا فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا، ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوْهُ، فَقَالُوا: خَلَّيْتَ سَبِيلَ هَؤُلَاءِ بِلَا امْتِحَانٍ وَلَا ضَرْبٍ، فَقَالَ النُّعْمَانُ: مَا شِئْتُمْ , إِنْ شِئْتُمْ أَضْرِبْهُمْ، فَإِنْ أَخْرَجَ اللَّهُ مَتَاعَكُمْ فَذَاكَ , وَإِلَّا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَهُ، قَالُوا: هَذَا حُكْمُكَ؟، قَالَ: هَذَا حُكْمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْه وَسَلَّمَ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس قبیلہ کلاع کے کچھ لوگ مقدمہ لائے کہ کچھ بنکروں نے سامان چرا لیا ہے، انہوں نے کچھ دنوں تک ان کو قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: آپ نے انہیں کوئی تکلیف پہنچائے اور مارے بغیر چھوڑ دیا؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کہو تو ان کو ماروں؟ اگر ان کے پاس تمہارا مال نکل آیا تو بہتر ہے ورنہ اسی قدر میں تمہاری پیٹھ پر ماروں گا؟ وہ بولے: کیا یہ آپ کا حکم ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4878]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو کلاع کے کچھ لوگوں نے ان کے پاس مقدمہ پیش کیا کہ کپڑا بنانے والے کچھ لوگوں نے ہمارا سامان چرا لیا ہے۔ انہوں نے ان کو چند دن قید میں رکھا، پھر چھوڑ دیا۔ مقدمہ پیش کرنے والے آئے اور کہا: آپ نے ان کو بغیر کسی مارپیٹ اور تحقیق و تفتیش (چھان بین) کے چھوڑ دیا ہے؟ حضرت نعمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہو تو میں ان کو مارپیٹ کرتا ہوں۔ اگر تمہارا سامان ان سے برآمد ہو گیا تو بہتر ورنہ میں تمہاری پیٹھ پر بھی اتنی ہی مارپیٹ کروں گا۔ انہوں نے کہا: یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اس کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 10 (4382)، (تحفة الأشراف: 11611) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: گویا شک و شبہ اور گمان کی بنیاد پر کچھ دنوں تک مجرم کو قید رکھنا کہ ممکن ہے وہ اعتراف جرم کر لے صحیح ہے، البتہ اعتراف سے پہلے اسے سزا دینا صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4382) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4879
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ نَاسًا فِي تُهْمَةٍ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4879]
حضرت بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے باپ سے، وہ (بہز) ان کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید کر دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأقضیة 29 (3630)، سنن الترمذی/الدیات21(1417)، (تحفة الأشراف: 11382)، مسند احمد (5/2، 4) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4880
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ , ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک الزام میں قید میں رکھا، پھر اسے رہا کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4880]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کسی الزام میں قید کر دیا تھا، پھر (الزام ثابت نہ ہونے پر) اسے چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: تَلْقِينِ السَّارِقِ
باب: چور کو توبہ و استغفار کی تلقین کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4881
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ , عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ: لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ؟". قَالَ: بَلَى، قَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ جِيئُوا بِهِ" , فَقَطَعُوهُ، ثُمَّ جَاءُوا بِهِ , فَقَالَ لَهُ:" قُلْ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ , قَالَ:" اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ".
ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور پکڑ کر لایا گیا جس نے اقبال جرم کر لیا لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں ملا، تو آپ نے اس سے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے، اس نے کہا: نہیں، میں نے چوری کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے لے جاؤ، اس کے ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے میرے پاس لے کر آؤ، لوگوں نے اس کے ہاتھ کاٹے اور اسے لے کر آپ کے پاس آئے، تو آپ نے اس سے فرمایا: کہو، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: اے اللہ اس کی توبہ قبول کر۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4881]
حضرت ابو امیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے خود بخود چوری کا اعتراف کیا تھا لیکن اس کے پاس (چوری کا) سامان نہیں ملا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تو نے چوری کی ہوگی۔ اس نے کہا: کیوں نہیں (بلکہ کی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ کر پھر میرے پاس لے آؤ۔ وہ اس کا ہاتھ کاٹ کر اسے واپس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کہہ: «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔اس نے یہی الفاظ دہرا دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اتُبْ عَلَيْهِ» اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 8 (4380)، سنن ابن ماجہ/الحدود 29 (2597)، (تحفة الأشراف: 11861)، مسند احمد (5/293)، سنن الدارمی/الحدود 6 (2349) (ضعیف) (اس کے راوی ”ابوالم نذر“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4380) ابن ماجه (2597) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: الرَّجُلُ يَتَجَاوَزُ لِلسَّارِقِ عَنْ سَرِقَتِهِ
باب: حاکم تک معاملہ پہنچنے کے بعد آدمی چور کو معاف کر دے تو اس کے حکم کا بیان، اور صفوان بن امیہ کی اس حدیث میں عطا کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4882
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ:" أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ بُرْدَةً لَهُ , فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَبَا وَهْبٍ , أَفَلَا كَانَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ؟"، فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کی چادر چرا لی، وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! میں نے اسے معاف کر دیا ہے، آپ نے فرمایا: ابو وہب! تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے ہی کیوں نہ معاف کر دیا؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4882]
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان کی چادر چرا لی، وہ اسے (چور کو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو معاف کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو وہب! (معاف ہی کرنا تھا تو) ہمارے پاس لانے سے پہلے کیوں معاف نہ کر دیا؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 14 (4394)، سنن ابن ماجہ/الحدود 28 (2595)، (تحفة الأشراف: 4943)، مسند احمد (3/401 و 6/465، 466)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4883-4885، 4887، 48818) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ چور کے معاملہ کو سرکاری انتظامیہ تک پہنچ جانے سے پہلے جس کا مال چوری ہوا ہے اگر وہ معاف کر دیتا ہے تو چور کا گناہ عند اللہ توبہ سے معاف ہو سکتا ہے، اور ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اگر معاملہ سرکاری ذمہ داروں (پولیس اور عدلیہ) تک پہنچ جاتا ہے تب صاحب مال کو معاف کر دینے کا حق بحق سرکار ختم ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4883
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ مُرَقَّعٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ:" أَنَّ رَجُلًا سَرَقَ بُرْدَةً , فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْهُ، قَالَ:" فَلَوْلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ يَا أَبَا وَهْبٍ"، فَقَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک چادر چرائی، وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو وہ بولے: اللہ کے رسول! میں نے اسے معاف کر دیا ہے، آپ نے فرمایا: ابو وہب! اسے میرے پاس لانے سے پہلے ہی تم نے کیوں نہ معاف کر دیا؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4883]
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے (میری) چادر چرا لی، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے معاف کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو وہب! تو نے یہ کام میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ کیا؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں