علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : تعظيم السرقة
باب: چوری کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4874
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے زنا نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے چوری نہیں کرتا، کوئی شخص ایمان رکھتے ہوئے شراب نہیں پیتا اور نہ ہی وہ ایمان رکھتے ہوئے کوئی ایسی بڑی لوٹ کرتا ہے جس کی طرف لوگوں کی نظریں اٹھتی ہوں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4874]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص چوری کرتا ہے تو وہ صاحب ایمان نہیں ہوتا، جب کوئی شخص شراب پیتا ہے تو وہ ایمان سے لاتعلق ہو جاتا ہے اور جب کوئی شخص طاقت و قوت کے زور پر زبردست ڈاکا ڈالتا ہے کہ لوگ بے چارے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ بھی ایمان سے خالی ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12871) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کا حاشیہ (۴۸۷۳)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6809
| لا يزني العبد حين يزني وهو مؤمن ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن ولا يشرب حين يشرب وهو مؤمن ولا يقتل وهو مؤمن |
صحيح البخاري |
6782
| لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن |
سنن النسائى الصغرى |
4874
| لا يزني العبد حين يزني وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن ولا يسرق وهو مؤمن ولا يقتل وهو مؤمن |
مشكوة المصابيح |
54
| ولا يقتل حين يقتل وهو مؤمن |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4874 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4874
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیئے، سابقہ حدیث: 4873
تفصیل کے لیے دیکھیئے، سابقہ حدیث: 4873
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4874]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 54
ارتکاب کبائر کے وقت ایمان کا خروج
«. . . وَفِي رِوَايَة ابْن عَبَّاس: «وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَا يَكُونُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُونُ لَهُ نُورُ الْإِيمَان. هَذَا لفظ البُخَارِيّ . . .»
”. . . اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ مومن کا قتل کرنے والا مومن کے قتل کے وقت مومن نہیں رہتا ہے۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ جو کہ اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایمان کس طرح لوگوں کے دلوں سے نکال لیا جاتا ہے؟ انہوں نے اشارہ کر کے فرمایا: اس طرح سے اور پنجوں میں پنجہ ملایا یعنی انگلیوں میں انگلیاں ڈال لی پھر اس کو نکال لیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر ان باتوں سے توبہ کر لی تو ایمان واپس لوٹ آتا ہے۔ اس کو پنجے میں پنجہ ملا کر بتایا کہ اس طرح ایمان واپس آ جاتا ہے۔ ابوعبداللہ یعنی امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والا مومن نہیں یعنی پورا اور کامل مومن نہیں رہتا ہے اور کامل ایمان کی روشنی نہیں باقی رہتی ہے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 54]
«. . . وَفِي رِوَايَة ابْن عَبَّاس: «وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَا يَكُونُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُونُ لَهُ نُورُ الْإِيمَان. هَذَا لفظ البُخَارِيّ . . .»
”. . . اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ مومن کا قتل کرنے والا مومن کے قتل کے وقت مومن نہیں رہتا ہے۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ جو کہ اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایمان کس طرح لوگوں کے دلوں سے نکال لیا جاتا ہے؟ انہوں نے اشارہ کر کے فرمایا: اس طرح سے اور پنجوں میں پنجہ ملایا یعنی انگلیوں میں انگلیاں ڈال لی پھر اس کو نکال لیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر ان باتوں سے توبہ کر لی تو ایمان واپس لوٹ آتا ہے۔ اس کو پنجے میں پنجہ ملا کر بتایا کہ اس طرح ایمان واپس آ جاتا ہے۔ ابوعبداللہ یعنی امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والا مومن نہیں یعنی پورا اور کامل مومن نہیں رہتا ہے اور کامل ایمان کی روشنی نہیں باقی رہتی ہے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 54]
تخریج:
[صحيح بخاري 6809]
فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ ایمان کے بہت سے درجے ہیں، ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے اور کم بھی ہوتا ہے۔ چوری اور زنا وغیرہ کبیرہ گناہ کرنے والے کا ایمان، گناہ کی حالت میں اس کے جسم سے نکل کر اس کے سر پر چھتری کی طرح بلند ہو جاتا ہے۔ ایمان نکلنے کے باوجود یہ شخص کافر نہیں ہوتا، بلکہ گناہ گار مسلمان ہی رہتا ہے، بشرطیکہ نواقض اسلام کا ارتکاب نہ کرے۔
➋ زنا، چوری اور مال غنیمت میں خیانت کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔
تنبیہ: جو لوگ مدرسوں، مساجد، تنظیموں، جماعتوں اور رفاہی کاموں کے بہانے سے چندے کا مال کھا جاتے ہیں وہ بھی اسی حکم میں ہیں۔ انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ایک دن علیم بذات الصدور کے سامنے پیش ہو کر ذرے ذرے کا حساب دینا ہے۔ ایک شخص نے مال غنیمت میں سے ایک چادر چرا لی تھی تو وہی چادر جہنم کی آگ بن کر اس کے جسم سے چمٹ گئی تھی۔
➌ عالم کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو عام فہم مثالیں دے کر سمجھائے۔
[صحيح بخاري 6809]
فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ ایمان کے بہت سے درجے ہیں، ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے اور کم بھی ہوتا ہے۔ چوری اور زنا وغیرہ کبیرہ گناہ کرنے والے کا ایمان، گناہ کی حالت میں اس کے جسم سے نکل کر اس کے سر پر چھتری کی طرح بلند ہو جاتا ہے۔ ایمان نکلنے کے باوجود یہ شخص کافر نہیں ہوتا، بلکہ گناہ گار مسلمان ہی رہتا ہے، بشرطیکہ نواقض اسلام کا ارتکاب نہ کرے۔
➋ زنا، چوری اور مال غنیمت میں خیانت کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔
تنبیہ: جو لوگ مدرسوں، مساجد، تنظیموں، جماعتوں اور رفاہی کاموں کے بہانے سے چندے کا مال کھا جاتے ہیں وہ بھی اسی حکم میں ہیں۔ انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ایک دن علیم بذات الصدور کے سامنے پیش ہو کر ذرے ذرے کا حساب دینا ہے۔ ایک شخص نے مال غنیمت میں سے ایک چادر چرا لی تھی تو وہی چادر جہنم کی آگ بن کر اس کے جسم سے چمٹ گئی تھی۔
➌ عالم کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو عام فہم مثالیں دے کر سمجھائے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 54]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6782
6782. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور چور بھی جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6782]
حدیث حاشیہ:
بعد میں سچی توبہ کرنے اور اسلامی حد قبول کرنے کے بعد اس میں ایمان لوٹ کر آجاتا ہے۔
بعد میں سچی توبہ کرنے اور اسلامی حد قبول کرنے کے بعد اس میں ایمان لوٹ کر آجاتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6782]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6809
6809. حضرت عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب زنا کرتا ہے تو اس وقت مومن نہیں رہتا، جب وہ چوری کرتا ہے تو اس مومن نہیں رہتا جب وہ شراب نوشی کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا اور جب قتل ناحق کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں رہتا۔“ عکرمہ نےکہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا: ایمان اس سے کیسے نکال لیا جاتا ہے؟ انہوں نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر انہیں الگ کیا اور فرمایا: اس طرح۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر فرمایا کہ اس طرح واپس آجاتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6809]
حدیث حاشیہ:
یہ کبیرہ گناہ ہیں جن سے توبہ کئے بغیر مرنے والا ایمان سے محروم ہو کر مرتا ہے جس میں ایمان کی رمق بھی ہوگی وہ ضرور توبہ کر کے مرے گا۔
یہ کبیرہ گناہ ہیں جن سے توبہ کئے بغیر مرنے والا ایمان سے محروم ہو کر مرتا ہے جس میں ایمان کی رمق بھی ہوگی وہ ضرور توبہ کر کے مرے گا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6809]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6782
6782. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور چور بھی جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6782]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت کے مطابق حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایمان کس طرح نکال لیا جاتا ہے تو انھوں نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈالا، پھر ان کو نکال کر دکھایا کہ اس طرح ایمان نکال لیا جاتا ہے اگر توبہ کر لے تو اس طرح لوٹ آتا ہے، پھر انھوں نے انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر دکھائیں۔
(صحیح البخاري، الحدود، حدیث: 6809)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب انسان زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل کر چھتری کی طرح ہو جاتا ہے۔
اگر اس سے باز آجائے تو وہ اس میں لوٹ آتا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایمان نکل جانے کی وضاحت یوں بیان کی ہے کہ فراغت کے بعد مجرم کی یہ حالت نہیں رہتی بلکہ ایمان لوٹ آتا ہے۔
(المصنف لعبدالرزاق: 416/7، حدیث: 13685، وفتح الباري: 72/12)
یہ بھی احتمال ہے کہ کلی طور پر اس سے پرہیز کرنا اس کی واپسی کا باعث ہو۔
اگر گناہ کے بعد اسے اصرار ہے تو وہ گویا مرتکب کی طرح ہے، اس سے ایمان خارج ہی رہتا ہے جیسا کہ حضرت عکرمہ کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے، البتہ ایک روایت میں ہے کہ اگر وہ فارغ ہو جائے تو ایمان لوٹ آتاہے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4690)
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت کے مطابق حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایمان کس طرح نکال لیا جاتا ہے تو انھوں نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈالا، پھر ان کو نکال کر دکھایا کہ اس طرح ایمان نکال لیا جاتا ہے اگر توبہ کر لے تو اس طرح لوٹ آتا ہے، پھر انھوں نے انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر دکھائیں۔
(صحیح البخاري، الحدود، حدیث: 6809)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب انسان زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل کر چھتری کی طرح ہو جاتا ہے۔
اگر اس سے باز آجائے تو وہ اس میں لوٹ آتا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایمان نکل جانے کی وضاحت یوں بیان کی ہے کہ فراغت کے بعد مجرم کی یہ حالت نہیں رہتی بلکہ ایمان لوٹ آتا ہے۔
(المصنف لعبدالرزاق: 416/7، حدیث: 13685، وفتح الباري: 72/12)
یہ بھی احتمال ہے کہ کلی طور پر اس سے پرہیز کرنا اس کی واپسی کا باعث ہو۔
اگر گناہ کے بعد اسے اصرار ہے تو وہ گویا مرتکب کی طرح ہے، اس سے ایمان خارج ہی رہتا ہے جیسا کہ حضرت عکرمہ کے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے، البتہ ایک روایت میں ہے کہ اگر وہ فارغ ہو جائے تو ایمان لوٹ آتاہے۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4690)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6782]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4874 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي