سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: الاِسْتِعْدَاءِ
باب: قابل گرفت آدمی کے خلاف حاکم سے مدد طلب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5411
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شَرَحِبِيلَ , قَالَ: قَدِمْتُ مَعَ عُمُومَتِي الْمَدِينَةَ , فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا , فَفَرَكْتُ مِنْ سُنْبُلِهِ، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَخَذَ كِسَائِي , وَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعْدِي عَلَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَجَاءُوا بِهِ , فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟" , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ دَخَلَ حَائِطِي فَأَخَذَ مِنْ سُنْبُلِهِ فَفَرَكَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا، ارْدُدْ عَلَيْهِ كِسَاءَهُ" , وَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَسْقٍ , أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ.
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینے آیا تو وہاں کے ایک باغ میں گیا اور ایک بالی (توڑ کر) مسل ڈالی، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کے خلاف مدد چاہی، چنانچہ آپ نے اس شخص کو بلا بھیجا۔ لوگ اسے لے کر آئے، آپ نے فرمایا: ”اس اقدام پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟“ وہ بولا: اللہ کے رسول! یہ میرے باغ میں آیا اور بالی توڑ کر مسل دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو تم نے اسے بتایا جب کہ وہ ناسمجھ تھا، نہ تم نے اسے کھلایا جبکہ وہ بھوکا تھا، اس کی چادر اسے لوٹا دو“، اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وسق یا آدھا وسق دینے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5411]
حضرت عباد بن شرجیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینہ منورہ آیا۔ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور میں نے کچھ سٹے توڑ کر ان کے دانے نکال لیے۔ باغ کا مالک آیا، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا بھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دعویٰ دائر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا بھیجا، لوگ اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسا کیوں کیا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے باغ میں داخل ہوا، اس نے کچھ سٹے توڑے اور ان کے دانے نکال لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جاہل تھا، تو نے اسے تعلیم نہ دی، یہ بھوکا تھا، تو نے اسے کھانے کو نہ دیا، اس کی چادر واپس کر۔“ اور مجھے ایک یا نصف وسق دینے کا حکم جاری فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 93 (2620، 2621)، سنن ابن ماجہ/التجارات 67 (2298)، (تحفة الأشراف: 5061)، مسند احمد (4/167) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوداؤد کے الفاظ ہیں «وأعطانی» یعنی اس باغ والے نے مجھے ایک یا آدھا صاع غلہ دیا“ یعنی اس نے جو میری ساتھ زیادتی کی تھی اس کے بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اس تاوان کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
22. بَابُ: صَوْنِ النِّسَاءِ عَنْ مَجْلِسِ الْحُكْمِ
باب: عورتوں کو عدالت میں لانے سے بچانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5412
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ"، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا:" أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا". فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے درمیان کتاب اللہ (قرآن) سے فیصلہ فرمایئے اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا بولا: ہاں، اللہ کے رسول اور مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیجئیے، وہ کہنے لگا: میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں نوکر تھا، اس نے اس کی عورت کے ساتھ زنا کیا، تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے، چنانچہ میں نے اسے بدلے میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم کی سزا اس کی عورت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا، تمہاری بکریاں اور لونڈی تو تمہیں لوٹائی جائیں گی“، اور آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا، اور انیس (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں ۱؎، اگر وہ اس جرم کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو، چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5412]
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے بیان فرمایا کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مقدمہ لائے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیے۔ دوسرے شخص نے کہا، جو ان میں سے زیادہ سمجھ دار تھا: اے اللہ کے رسول! ضرور اور مجھے اجازت دیجیے کہ میں بات چیت کروں۔ (پھر اجازت ملنے کے بعد) اس نے کہا: میرا بیٹا اس کا نوکر تھا۔ اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کی سزا ملے گی تو میں نے سو بکریوں اور ایک لونڈی کے عوض (اپنے بیٹے کو) چھڑا لیا۔ پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا پڑے گا۔ رجم تو اس کی بیوی پر ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ باقی رہی تیری بکریاں اور لونڈی، تو وہ تجھے واپس مل جائیں گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: ”اس (دوسرے شخص) کی بیوی کے پاس جاؤ۔ اگر وہ (زنا کے جرم کو) تسلیم کرے تو اسے رجم کر دو۔“ عورت نے گناہ تسلیم کر لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 13 (2314)، الصلح 5 (2695، 2696)، الشروط 9 (2724، 2725)، الأیمان 3 (6633، 6634)، الحدود 30 (6827، 6828)، 34 (6835)، 38 (6842)، 46 (6860)، الأحکام 43 (7193)، الآحاد 1 (7258)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1697)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4445)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2549)، (تحفة الأشراف: 3755)، موطا امام مالک/الحدود 1 (6)، مسند احمد 4/115، 116، سنن الدارمی/الحدود 12 (2363) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی میں باب سے مطابقت ہے، یعنی: وہ عورت مجلس قضاء میں طلب نہیں کی گئی، اسی لیے آپ نے انیس رضی اللہ عنہ کو اس کے پاس اس کے گھر بھیجا، ہاں اگر کسی معاملہ میں عورتوں کی حاضری مجلس قضاء میں ضروری ہو تو پردے کے ساتھ ان کو لایا جا سکتا ہے، اور پردے کی آڑ سے ان کا بیان لیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5413
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَشِبْلٍ , قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ , فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَّا مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ , فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ:" قُلْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، وَكَأَنَّهُ أُخْبِرَ أَنَّ عَلَى ابْنِهِ الرَّجْمَ فَافْتَدَى مِنْهُ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ , فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَمَّا الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا , فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کیجئے، پھر اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، اس نے کہا: اس نے ٹھیک کہا ہے، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا: ”بتاؤ“ تو اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے یہاں نوکر تھا، تو وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ چنانچہ میں نے اس کے بدلے سو بکریاں اور ایک خادم (غلام) دے دیا (گویا اسے معلوم تھا کہ اس کے بیٹے پر رجم ہے، چنانچہ اس نے تاوان دے دیا)، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا: رہیں سو بکریاں اور خادم (غلام) تو وہ تمہیں لوٹائے جائیں گے، اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور انیس! تم صبح اس کی عورت کے پاس جاؤ، اگر وہ اقبال جرم کر لے تو اسے رجم کر دینا“، چنانچہ وہ گئے، اس نے اقبال جرم کیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5413]
حضرت ابوہریرہ، خالد بن زید اور شبل رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ پھر فریق ثانی بھی اٹھا جو کہ پہلے شخص سے زیادہ سمجھ دار تھا اور اس نے کہا: یہ صحیح کہتا ہے، آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات کرو۔“ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں نوکر تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، میں نے سو بکریاں اور ایک نوکر دے کر اپنے بیٹے کی جان بخشی کروائی، (گویا کہ اس شخص کو بتلایا گیا تھا کہ اس کے بیٹے کو رجم کر دیا جائے گا، اس لیے اس نے اس طریقے سے اس کی جان بخشی کروائی)، پھر میں نے بہت سے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ تیری سو بکریاں اور نوکر تجھے واپس مل جائیں گے۔ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے۔ اور اے انیس! تو اس کی بیوی کے پاس جا۔ اگر وہ جرم تسلیم کر لے تو اسے رجم کر دے۔“ وہ اس کے پاس گئے اور اس (عورت) نے مان لیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
23. بَابُ: تَوْجِيهِ الْحَاكِمِ إِلَى مَنْ أُخْبِرَ أَنَّهُ، زَنَى
باب: حاکم اس شخص کو بلوا سکتا ہے جس کے بارے میں اس کو خبر ہے کہ اس نے زنا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5414
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ , فَقَالَ:" مِمَّنْ؟" قَالَتْ: مِنَ الْمُقْعَدِ الَّذِي فِي حَائِطِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَأُتِيَ بِهِ مَحْمُولًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاعْتَرَفَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِثْكَالٍ , فَضَرَبَهُ وَرَحِمَهُ لِزَمَانَتِهِ وَخَفَّفَ عَنْهُ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے (مرسلاً) ۱؎ روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت لائی گئی، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا تو آپ نے فرمایا: ”کس کے ساتھ؟“ وہ بولی: اپاہج سے جو سعد رضی اللہ عنہ کے باغ میں رہتا ہے، آپ نے اسے بلا بھیجا چنانچہ وہ لاد کر لایا گیا اور اسے آپ کے سامنے رکھا گیا، پھر اس نے اعتراف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے خوشے منگا کر اسے مارا اور اس کے لنجے پن کی وجہ سے اس پر رحم کیا اور اس پر تخفیف کی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5414]
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس کے ساتھ؟“ کسی نے کہا: اس اپاہج کے ساتھ جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے گھر میں رہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا بھیجا۔ اس کو اٹھا کر لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا۔ اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخ منگوائی اور اس کو پیٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اس کے اپاہج ہونے کی وجہ سے ترس کیا اور اس کو ہلکی سزا دی۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 140)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود 34 (4472)، سنن ابن ماجہ/الحدود 18 (2574)، مسند احمد (5/22222) (کلھم بزیادة ”سعید بن سعد بن عبادة“ أو ”بعض أصحاب النبی ﷺ“ بعد ”أبی أمامة“) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نسائی کی روایت مرسل ہے، لیکن دیگر لوگوں کے یہاں ”سعید بن سعد بن عبادہ (ایک چھوٹے صحابی) یا: بعض اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ موجود ہے، اس لیے حدیث متصل مرفوع صحیح ہے۔ ۲؎: چونکہ وہ غیر شادی شدہ تھا اس لیے اس کو رجم کی سزا نہیں دی گئی، اور کوڑے میں بھی تخفیف سے کام لیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
24. بَابُ: مَسِيرِ الْحَاكِمِ إِلَى رَعِيَّتِهِ لِلصُّلْحِ بَيْنَهُمْ
باب: صلح کرانے کے لیے حاکم کے رعایا کے پاس جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5415
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ: وَقَعَ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلَامٌ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ , فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَانْتُظِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاحْتُبِسَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ صَفَّحُوا , وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ تَصْفِيحَهُمُ الْتَفَتَ , فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي يَدَيْهِ، ثُمَّ نَكَصَ الْقَهْقَرَى , وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ , قَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ؟" قَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ نَبِيِّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" مَا لَكُمْ إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ صَفَّحْتُمْ , إِنَّ ذَلِكَ لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلوں کے درمیان تکرار ہوئی یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو پتھر مارنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کرانے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور آپ کا انتظار کیا اور رکے رہے، پھر اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو (بتانے کے لیے) تالی بجا دی۔ (ابوبکر نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے) پھر جب انہوں نے ان سب کی تالی کی آواز سنی تو مڑے، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے وہیں رہنے کا اشارہ کیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: ”تمہیں وہیں رکنے سے کس چیز نے روکا؟“ وہ بولے: یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ابوقحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی کے آگے دیکھے، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آتی ہے تو تالی بجانے لگتے ہو، یہ تو عورتوں کے لیے ہے، تم میں سے کسی کو جب کوئی بات پیش آئے تو وہ «سبحان اللہ» کہے“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5415]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا حتیٰ کہ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھر وغیرہ بھی پھینکے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے (اذان) کہی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا گیا لیکن آپ کو زیادہ دیر ہو گئی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے (اور جماعت شروع کرا دی)۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر توجہ نہیں کرتے تھے لیکن جب انہوں نے بہت زیادہ تالیوں کی آواز سنی تو وہ متوجہ ہوئے۔ اچانک ان کی نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی، تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم ترین عزت افزائی پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے) اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر الٹے پاؤں پیچھے آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل فرمائی تو (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ”تم اپنی جگہ کیوں نہ کھڑے رہے؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ مناسب نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ابوقحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا دیکھے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا وجہ ہے جب تمہیں نماز میں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو تم تالیاں بجانے لگ جاتے ہو! یہ تو عورتوں کے لیے ہے۔ جس مرد کو نماز میں کوئی مشکل پیش آئے تو وہ «سُبْحَانَ اللّٰہِ» ”اللہ پاک ہے“ کہے۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4693)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 3 (1201)، 16 (1218)، الصلح 1 (2690)، صحیح مسلم/الصلاة 22 (421)، مسند احمد (5/330، 331، 236) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
25. بَابُ: إِشَارَةِ الْحَاكِمِ عَلَى الْخَصْمِ بِالصُّلْحِ
باب: حاکم فریقین میں سے کسی کو صلح کر لینے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5416
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ يَعْنِي دَيْنًا، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا كَعْبُ"، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ , وَتَرَكَ نِصْفًا.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرضہ تھا، وہ راستے میں مل گئے تو انہیں پکڑ لیا، پھر ان دونوں میں تکرار ہو گئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، ان کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”کعب!“ پھر اپنے ہاتھ سے ایک اشارہ کیا گویا آپ کہہ رہے تھے: ”آدھا“، چنانچہ انہوں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5416]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہما کے ذمے قرض تھا، وہ انہیں ملے تو انہوں نے انہیں پکڑ لیا، پھر وہ دونوں جھگڑنے لگے حتیٰ کہ (ان کی) آوازیں بلند ہوئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”کعب!“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، مقصد یہ تھا کہ نصف معاف کر دیں، انہوں نے نصف لے لیا اور نصف معاف کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5410 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
26. بَابُ: إِشَارَةِ الْحَاكِمِ عَلَى الْخَصْمِ بِالْعَفْوِ
باب: حاکم فریقین میں کسی کو معاف کر دینے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5417
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ" , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ:" أَتَعْفُو" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ" , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ”کیا تم معاف کر دو گے؟“ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا دیت لو گے؟“ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے قتل کرو گے؟“ کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ“ (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا معاف کر دو گے؟“ کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لو گے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے قتل کرو گے؟“ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”لے جاؤ اسے“ (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا معاف کر دو گے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”دیت لو گے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے قتل کرو گے؟“ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”لے جاؤ اسے“ (اور قتل کرو) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا: ”اگر تم اسے معاف کر دو تو یہ اپنے گناہ اور تمہارے (مقتول) ساتھی کے گناہ سمیٹ لے گا“، یہ سن کر اس نے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنی رسی کھینچ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5417]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب ایک مقتول کا ولی قاتل کو چمڑے کی تندی کے ساتھ جکڑ کر لایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ”کیا تو معاف کرتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قتل کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اس کو لے جا۔“ جب وہ اس کو لے کر چل پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”معاف کرے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قتل ہی کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے لے جا۔“ جب وہ لے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: ”معاف کرے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ضرور قتل ہی کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ اپنے گناہ اور تیرے مقتول کے گناہ کا ذمہ دار ہو گا۔“ یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا اور چھوڑ دیا۔ میں نے دیکھا، وہ اپنی تندی (رسی) کو اسی طرح گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
27. بَابُ: إِشَارَةِ الْحَاكِمِ بِالرِّفْقِ
باب: حاکم پہلے نرمی کرنے کے لیے حکم دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5418
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلَا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ" , فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ"، قَالَ الزُّبَيْرُ: إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ سورة النساء آية 65 الْآيَةَ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کی نالیوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا، (جن سے وہ باغ کی سینچائی کرتے تھے) اور مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے، انصاری نے کہا: پانی کو بہتا چھوڑ دو، تو انہوں نے انکار کیا، ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ”زبیر! سینچائی کر لو پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو“، انصاری کو غصہ آ گیا، وہ بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں نا؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زبیر! سینچائی کرو، اور پانی مینڈوں تک روک لو“، زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ آیت: «فلا وربك لا يؤمنون» ”نہیں، تمہارے رب کی قسم! وہ مومن نہیں ہوں گے“ (النساء: ۶۵) اسی سلسلے میں اتری۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5418]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ ایک انصاری صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے (کے پانی) کے بارے میں جھگڑ پڑے جو وہ کھجور کے درختوں کو لگاتے تھے۔ اس انصاری نے کہا کہ پانی آگے گزرنے دو، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا۔ فریقین یہ جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبیر! تھوڑا تھوڑا پانی لگا لو، پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو۔“ انصاری نے غصے میں آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اس لیے کہ یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبیر! پانی لگاؤ اور لگتا رہنے دو حتیٰ کہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔“ حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”آپ کے رب تعالیٰ کی قسم! یہ لوگ مومن نہیں بن سکتے ........الخ“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المساقات 6 (2359، 2360)، صحیح مسلم/الفضائل 36 (2357)، سنن ابی داود/الِٔقضیة 31 (3637)، سنن الترمذی/الٔؤحکام 26 (1363)، تفسیر سورة النساء (3027)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (15)، (تحفة الأشراف: 5275)، مسند احمد (4/4) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
28. بَابُ: شَفَاعَةِ الْحَاكِمِ لِلْخُصُومِ قَبْلَ فَصْلِ الْحُكْمِ
باب: فیصلہ سے پہلے حاکم کسی فریق کے حق میں سفارش کرے تو اس کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 5419
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا , يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ:" يَا عَبَّاسُ , أَلَا تَعْجَبْ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا"، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْمُرُنِي؟، قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا شَفِيعٌ"، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا، گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس (بریرہ) کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں، اور ان کے آنسو ڈاڑھی پر بہہ رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: عباس! کیا آپ کو حیرت نہیں ہے کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث سے کس قدر نفرت کرتی ہے؟، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (بریرہ) سے فرمایا: ”اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاتی (تو بہتر ہوتا) اس لیے کہ وہ تمہارے بچے کا باپ ہے“، وہ بولیں: اللہ کے رسول! کیا مجھے آپ حکم دے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، میں تو سفارش کر رہا ہوں“، وہ بولیں: پھر تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5419]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند حضرت مغیث رضی اللہ عنہ غلام تھا، مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اسے بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے گھومتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، وہ رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر گر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! کیا آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ مغیث کو بریرہ سے کس قدر محبت ہے اور بریرہ کو مغیث سے کس قدر نفرت ہے؟“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اگر تم اپنے خاوند کو قبول کر لو (تو بہتر ہے)، آخر وہ تمہارے بچوں کا باپ ہے۔“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ انہوں نے کہا: پھر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 16 (5283)، سنن ابی داود/الطلاق 19 (2231)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 29 (2077)، (تحفة الأشراف: 6048)، مسند احمد (1/215) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مغیث اور بریرہ (رضی اللہ عنہما) کے معاملہ میں عدالتی قانونی فیصلہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ”بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی مل جانے کے بعد مغیث کے نکاح میں نہ رہنے کا حق حاصل ہے“ مگر اس عدالتی فیصلہ سے پہلے بریرہ رضی اللہ عنہا سے قانوناً نہیں اخلاقی طور پر مغیث کے نکاح میں باقی رہنے کی سفارش کی، یہی باب سے مناسبت ہے، اور اس طرح کی سفارش صرف ایسے ہی معاملات میں کی جا سکتی ہے، جس میں مدعی کو اختیار ہو (جیسے بریرہ کا معاملہ اور قصاص ودیت والا معاملہ وغیرہ) لیکن چوری و زنا کے حدود کے معاملے میں اس طرح کی سفارش نہیں کی جا سکتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
29. بَابُ: مَنْعِ الْحَاكِمِ رَعِيَّتَهُ مِنْ إِتْلاَفِ أَمْوَالِهِمْ وَبِهِمْ حَاجَةٌ إِلَيْهَا
باب: اگر کسی شخص کو مال کی حاجت ہو اور وہ اپنا مال برباد کرے تو حاکم اس کو اس کام سے روک سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5420
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ وَكَانَ مُحْتَاجًا , وَكَانَ عَلَيْهِ دَينٍ , فَبَاعهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَأَعْطَاهُ، فَقَالَ:" اقْضِ دَيْنَكَ وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے مدابرہ کے طور پر اپنا ایک غلام آزاد کر دیا، حالانکہ وہ ضرورت مند تھا اور اس پر قرض بھی تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آٹھ سو درہم میں بیچ کر مال اسے دے دیا اور فرمایا: ”اپنا قرض ادا کرو اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5420]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک انصاری آدمی نے اپنا غلام مدبر کر دیا، جب کہ وہ خود محتاج تھا۔ اس کے ذمے قرض بھی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ غلام آٹھ سو درہم میں بیچ کر وہ رقم اس کو دے دی اور فرمایا: ”اپنا قرض ادا کر اور اپنے بال بچوں پر خرچ کر۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4658 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدابرہ یہ کہنا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان الأعمش عنعن. والحديث السابق (الأصل: 4658) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364