🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ: الْحُكْمِ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ
باب: اہل علم کے اتفاق و اجماع کے مطابق فیصلہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5401
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ: أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ:" أَنْ اقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ , فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَأَخَّرْ، وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ".
شریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے انہیں ایک خط لکھا تو انہوں نے لکھا: فیصلہ کرو اس کے مطابق جو کتاب اللہ (قرآن) میں ہے، اور اگر وہ کتاب اللہ (قرآن) میں نہ ہو تو سنت رسول (حدیث) کے مطابق، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ سنت رسول (حدیث) میں تو اس کے مطابق فیصلہ کرو جو نیک لوگوں نے کیا تھا، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اور نہ ہی نیک لوگوں کا کوئی فیصلہ ہو تو اگر تم چاہو تو آگے بڑھو (اور اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرو) اور اگر چاہو تو پیچھے رہو (فیصلہ نہ کرو) اور میں پیچھے رہنے ہی کو تمہارے حق میں بہتر سمجھتا ہوں۔ والسلام علیکم۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5401]
حضرت شریح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرو، اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ہو تو سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق فیصلہ کرو اور اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں مذکور نہ ہو تو پھر سلفِ صالحین کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرو اور اگر وہ مسئلہ نہ کتاب اللہ میں ہو، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہو اور نہ اس کے بارے میں سلفِ صالحین سے کوئی فیصلہ منقول ہو تو پھر تیری مرضی ہے، چاہے تو آگے بڑھ (کر جواب دے) اور چاہے تو پیچھے ہٹ جا (خاموشی اختیار کر) اور میرے خیال میں خاموشی ہی تیرے لیے بہتر ہے، والسلام علیکم۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9197) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ}
باب: آیت کریمہ: ”جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں“ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5402
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، , وَكَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، قِيلَ لِمُلُوكِهِمْ: مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا هَؤُلَاءِ , إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44 , وَهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِهِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِهِمْ , فَادْعُهُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ، وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا، فَدَعَاهُمْ فَجَمَعَهُمْ وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ , أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ إِلَّا مَا بَدَّلُوا مِنْهَا , فَقَالُوا: مَا تُرِيدُونَ إِلَى ذَلِكَ دَعُونَا، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً، ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْهَا، ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِهِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: دَعُونَا نَسِيحُ فِي الْأَرْضِ وَنَهِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الْآبَارَ، وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلَا نَمُرُّ بِكُمْ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَبَائِلِ إِلَّا وَلَهُ حَمِيمٌ فِيهِمْ , قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا سورة الحديد آية 27، وَالْآخَرُونَ قَالُوا: نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلَانٌ، وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلَانٌ، وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلَانٌ، وَهُمْ عَلَى شِرْكِهِمْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِهِ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِهِ، وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِهِ، فَآمَنُوا بِهِ , وَصَدَّقُوهُ , فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ سورة الحديد آية 28 , أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِهِمْ بِعِيسَى , وَبِالتَّوْرَاةِ , وَالْإِنْجِيلِ , وَبِإِيمَانِهِمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَتَصْدِيقِهِمْ قَالَ: وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ سورة الحديد آية 28 الْقُرْآنَ , وَاتِّبَاعَهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ سورة الحديد آية 29 يَتَشَبَّهُونَ بِكُمْ أَلا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ سورة الحديد آية 29 الْآيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بعد کئی بادشاہ ہوئے جن ہوں نے تورات اور انجیل کو بدل ڈالا، ان میں کچھ مومن تھے جو توراۃ پڑھتے تھے، ان کے بادشاہوں سے عرض کیا گیا: ہمیں اس سے زیادہ سخت گالی نہیں ملتی جو یہ ہمیں دیتے ہیں، یہ لوگ پڑھتے ہیں جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں یہ لوگ اس قسم کی آیات پڑھتے ہیں ور ساتھ ہی وہ چیزیں پڑھتے ہیں جس میں ہمارا عیب نکلتا ہے تو انہیں بلا کر کہو کہ وہ بھی ویسے ہی پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور اسی طرح کا ایمان لائیں جیسا ہم لائے ہیں، چنانچہ اس (بادشاہ) نے انہیں بلایا اور اکٹھا کیا اور کہا: قتل منظور کرو یا پھر توراۃ اور انجیل کو پڑھنا چھوڑ دو، البتہ وہ پڑھو جو بدل دیا گیا ہے۔ وہ بولے: تمہارا اس سے کیا مقصد ہے؟ ہمیں چھوڑ دو۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمارے لیے ایک مینار بنا دو اور ہمیں اس پر چڑھا دو پھر ہمیں کھانے پینے کی کچھ چیزیں دے دو، تو ہم تمہارے پاس کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمیں چھوڑ دو، ہم زمین میں گھومیں ور بھٹکتے پھریں اور جنگلی جانوروں کی طرح پئیں، پھر اگر تم ہمیں اپنی زمین میں دیکھ لو تو مار ڈالنا، ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: ہمارے لیے صحراء و بیابان میں گھر بنا دو، ہم خود کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں بولیں گے، پھر پلٹ کر تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تمہارے پاس سے گزریں گے، اور کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کا دوست یا رشتہ دار اس میں نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوها حق رعايتها» اور جو درویشی انہوں نے خود نکالی تھی ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے، پھر انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی (الحدید: ۲۷) نازل فرمائی، کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ہم بھی فلاں کی طرح عبادت کریں گے اور فلاں کی طرح گھومیں گے اور فلاں کی طرح گھر بنائیں گے حالانکہ وہ شرک میں مبتلا تھے، یہ ان لوگوں کے ایمان سے باخبر نہ تھے جن کی پیروی کا یہ دم بھر رہے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ بچے تھے، ایک شخص اپنے عبادت خانے سے اترا اور جنگل میں گھومنے والا گھوم کر لوٹا اور گرجا گھر میں رہنے والا گرجا گھر سے لوٹا اور یہ سب کے سب آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته» اے لوگو! جو ایمان رکھتے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوگنا حصہ دے گا (الحدید: ۲۹) دوہرا اجر ان کے عیسیٰ، تورات اور انجیل پر ایمان کے بدلے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور تصدیق کے بدلے، پھر فرمایا: وہ تمہارے چلنے کے لیے ایک روشنی دے گا یعنی قرآن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی تاکہ اہل کتاب یعنی وہ اہل کتاب جو تمہاری مشابہت کرتے ہیں جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5402]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے بعد کچھ ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نے تورات و انجیل کو بدل دیا اور ان میں سے کچھ ایمان پر قائم رہے، وہ (اصل) تورات پڑھتے تھے۔ ان بادشاہوں سے کہا گیا: ہم کوئی گالی اس گالی سے سخت نہیں پاتے جو یہ ہمیں دیتے ہیں کیونکہ یہ پڑھتے ہیں: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [سورة المائدة: 44] جو شخص اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے، وہ کافر ہے۔ اور اس قسم کی دوسری آیات، نیز وہ اپنی قرأت میں ہم پر عملی عیب بھی لگاتے ہیں۔ ان کو بلائیں اور انہیں کہیں کہ جس طرح ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی اسی طرح پڑھیں اور وہ بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح ہمارا ایمان ہے۔ بادشاہ نے ان کو بلایا اور ان کو قتل کی دھمکی دی «إِلَّا» بجز یہ کہ وہ تورات و انجیل کی صحیح قرأت چھوڑ کر ان کی طرح تبدیل شدہ قرأت کریں۔ ان (مومن) لوگوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ تم ہمیں چھوڑ دو۔ ان میں سے ایک گروہ نے کہا: تم ہمارے لیے کوئی بلند عمارت بنا دو، پھر ہمیں اس پر چڑھا دو، ہمیں کوئی ایسی چیز دو کہ ہم اپنا کھانا پینا اوپر لے جا سکیں، ہم تمہارے پاس نہیں آئیں گے۔ ایک گروہ نے کہا: ہمیں چھوڑو، ہم زمین میں گھومتے پھریں گے اور بلا وجہ چکر لگاتے رہیں گے، اگر تم ہمیں اپنے علاقے میں پکڑ لو تو بے شک ہمیں قتل کر دینا۔ ایک اور گروہ نے کہا: ہمارے لیے صحراؤں میں گھر بنا دو، ہم کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں کاشت کریں گے، نہ ہم تمہارے پاس آئیں گے، نہ تمہارے قریب سے گزریں گے۔ ان قبائل میں سے کوئی قبیلہ بھی ایسا نہ تھا جس کا کوئی دوست اور رشتے دار ان (مومن) لوگوں میں نہ ہو، اس لیے انہوں نے یہ باتیں مان لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ [سورة الحديد: 27] اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ اور کچھ دوسرے لوگ بھی کہنے لگے کہ ہم تو اس طرح عبادت کریں گے جیسے کہ فلاں (اونچی عمارتوں والے) کرتے ہیں اور ہم بھی اسی طرح گھومتے پھریں گے جیسے یہ گھومتے پھرتے ہیں، اور ہم بھی آبادیوں سے دور جھونپڑیاں بنا لیں گے جس طرح انہوں نے بنائی ہیں، حالانکہ یہ لوگ مشرک تھے اور ان کو ان لوگوں کے ایمان کا کوئی علم نہ تھا جن کی اقتدا کا وہ دم بھرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان میں سے بھی چند لوگ ہی رہ گئے تو مناروں والے (راہب لوگ) اپنے مناروں سے اتر آئے اور گھومنے پھرنے والے بھی واپس آ گئے اور جھونپڑیوں والے اپنی جھونپڑیوں سے لوٹ آئے۔ اور یہ سب لوگ آپ پر ایمان لے آئے اور آپ کی تصدیق کی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ﴾ [سورة الحديد: 28] اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے دوہرا اجر عطا فرمائے گا۔ ایک اجر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تورات و انجیل پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان و تصدیق کا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ﴾ [سورة الحديد: 28] اور اللہ تعالیٰ تمہیں نور عطا فرمائے گا جس کی روشنی میں تم (راہ حق پر چلو گے)۔ اس نور سے مراد قرآن مجید اور نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ﴿لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ﴾ [سورة الحديد: 29] تاکہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) جان لیں، یعنی تمہاری مشابہت اختیار کریں (تمہاری طرح ایمان لے آئیں) کہ وہ بذات خود اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی فضل حاصل نہیں کر سکتے «إِلَخْ» [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5575) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ
باب: ظاہری دلائل کے مطابق فیصلہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5403
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے سامنے مقدمات لاتے ہو، میں تو بس تمہاری طرح ایک انسان ہوں ۱؎، ممکن ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو اسے وہ نہ لے کیونکہ میں تو اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5403]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس مقدمات لاتے ہو۔ میں بھی ایک انسان ہوں۔ ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی شخص اپنی دلیل کو فریق ثانی سے زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کر سکتا ہو، لہٰذا اگر میں (ظاہر دلائل کی بنا پر) کسی شخص کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے۔ یوں سمجھے میں اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 16 (2498)، الشہادات 27 (2680)، الحیل 10 (6967)، الأحکام 20 (7169)، 29 (7181)، صحیح مسلم/الأقضیة 3 (1713)، سنن ابی داود/الأقضیة 7 (3583)، سنن الترمذی/الأحکام 11 (1339)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2317)، (تحفة الأشراف: 18261)، موطا امام مالک/الأقضیة 1(1)، مسند احمد (6/203، 290، 307، 308)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5424 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، میں تو صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: حُكْمِ الْحَاكِمِ بِعِلْمِهِ
باب: حاکم اپنے علم اور تجربے سے فیصلہ کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5404
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ , مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , مِمَّا ذَكَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ , فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى: فَخَرَجَتَا إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ , فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ مَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں ان دونوں کے ساتھ ان کا ایک ایک بچہ تھا، اتنے میں بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا لے گیا، تو اس نے دوسری سے کہا: وہ تمہارا بچہ لے گیا، دوسری بولی: تمہارا بچہ لے گیا، پھر وہ دونوں مقدمہ لے کر داود علیہ السلام کے پاس گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ کیا۔ پھر وہ دونوں سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: ایک چھری لاؤ، میں اسے دونوں کے درمیان تقسیم کر دیتا ہوں، چھوٹی بولی: ایسا نہ کیجئیے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، وہ اسی کا بیٹا ہے، تو انہوں نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! سوائے اس دن کے ہم نے کبھی چھری کا نام «سکین» نہیں سنا، ہم) تو اسے «مدیہ» کہا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5404]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں، ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے۔ بھیڑیا آیا اور ایک کے بیٹے کو اٹھا کر لے گیا۔ یہ (جس کا بچہ بھیڑیا اٹھا کر لے گیا) دوسری کو کہنے لگی: وہ تیرے بیٹے کو لے گیا ہے۔ دونوں حضرت داود علیہ السلام کے پاس فیصلہ لے گئیں۔ آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ وہ باہر نکلیں تو حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام ملے۔ انہوں نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس چھری لاؤ، میں اسے کاٹ کر دونوں میں تقسیم کردوں۔ چھوٹی بولی: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے! ایسے نہ کریں، یہ اسی کا بیٹا ہے، تو آپ نے وہ بچہ چھوٹی کو دے دیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے «السِّكِّينُ» کا لفظ اسی دن سنا، ورنہ ہم چھری کو «الْمُدْيَةُ» کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الَٔنبیاء 40 (3427)، والفرائض 30 (6769)، (تحفة الُٔشراف: 13728)، مسند احمد 2/32222، 340، وانظر حدیث رقم: 5405، 5406 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: السَّعَةِ لِلْحَاكِمِ فِي أَنْ يَقُولَ لِلشَّىْءِ الَّذِي لاَ يَفْعَلُهُ افْعَلْ لِيَسْتَبِينَ الْحَقَّ
باب: حاکم کے لیے اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچنے کے لیے کہے کہ میں ایسا کروں گا حالاں کہ اس کا ارادہ کرنے کا نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5405
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا صَبِيَّانِ لَهُمَا، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ وَلَدَهَا، فَأَصْبَحَتَا تَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَمْرُكُمَا؟ فَقَصَّتَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلَامَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: أَتَشُقُّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ حَظِّي مِنْهُ لَهَا، قَالَ: هُوَ ابْنُكِ فَقَضَى بِهِ لَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کر دیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ دونوں اس بچے کے سلسلے میں جو باقی تھا جھگڑتی ہوئی داود علیہ السلام کے پاس آئیں، تو انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، پھر وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں، وہ بولے: تم دونوں کا کیا قضیہ ہے؟ چنانچہ انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: چھری لاؤ، بچے کے دو حصے کر کے ان دونوں کے درمیان تقسیم کروں گا ۱؎، چھوٹی عورت بولی: کیا آپ اسے کاٹیں گے؟ کہا: ہاں، وہ بولی: ایسا نہ کیجئیے، اس میں جو میرا حصہ ہے وہ بھی اسی کو دے دیجئیے، سلیمان علیہ السلام نے کہا: یہ تمہارا بیٹا ہے، چنانچہ آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5405]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں (کسی کام سے) نکلیں۔ ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے۔ بھیڑیے نے ان میں سے ایک پر حملہ کیا اور اس کے بچے کو چھین کر لے گیا۔ وہ دونوں بچ رہنے والے بچے کے بارے میں باہم جھگڑنے لگیں اور مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے فیصلہ بڑی کے حق میں دے دیا، پھر وہ دونوں حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس سے گزریں تو انہوں نے فرمایا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ ان عورتوں نے پوری بات بیان کر دی۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس چھری لاؤ میں بچہ دو ٹکڑے کرکے ان میں تقسیم کر دیتا ہوں۔ چھوٹی کہنے لگی: کیا آپ بچہ چیر دیں گے؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: ایسا نہ کریں۔ میں اپنا حق اس کو دیتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: یہ تیرا بیٹا ہے، پھر اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الَٔقضیة 10 (1720)، (تحفة الأشراف: 13867) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے، سلیمان علیہ السلام کا مقصد بچے کو حقیقت میں ٹکڑے کر کے تقسیم کرنا نہیں تھا، بس اس طریقے سے وہ بچے کی حقیقی ماں کو پہچاننا چاہتے تھے، واقعی میں جس کا بچہ تھا وہ (چھوٹی عورت) بچے کے ٹکڑے کرنے پر راضی نہیں ہوئی، جب کہ جس کا بچہ نہیں تھا وہ خاموش رہی، اسے دوسری کے بچے سے کیا محبت ہو سکتی تھی؟ اس لیے ٹکڑے کرنے پر خاموش رہی، اس طرح آپ نے حقیقت کا پتہ چلا لیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: نَقْضِ الْحَاكِمِ مَا يَحْكُمُ بِهِ غَيْرُهُ مِمَّنْ هُوَ مِثْلُهُ أَوْ أَجَلُّ مِنْهُ
باب: حاکم اپنے ہم منصب یا اس سے اوپر کے آدمی کے فیصلہ کو توڑ سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5406
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا وَلَدَاهُمَا فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَحَدَهُمَا، فَاخْتَصَمَتَا فِي الْوَلَدِ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام , فَقَالَ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا؟ قَالَتْ: قَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَقْطَعُهُ بِنِصْفَيْنِ لِهَذِهِ نِصْفٌ، وَلِهَذِهِ نِصْفٌ , قَالَتِ الْكُبْرَى: نَعَمِ , اقْطَعُوهُ. فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَقْطَعْهُ هُوَ وَلَدُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلَّتِي أَبَتْ أَنْ يَقْطَعَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کر دیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ اس بچے کے سلسلے میں جو باقی رہ گیا تھا جھگڑتی ہوئی داود علیہ السلام کے پاس آئیں، انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا: تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا؟ (چھوٹی) بولی بڑی کے حق میں فیصلہ کیا، سلیمان علیہ السلام نے کہا: میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک حصہ اس کے لیے اور دوسرا حصہ اس کے لیے ہو گا، بڑی عورت بولی: ہاں! آپ اسے کاٹ دیں، جب کہ چھوٹی عورت نے کہا: ایسا نہ کیجئیے، یہ بچہ اسی کا ہے، چنانچہ انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا جس نے بچہ کو کاٹنے سے روکا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5406]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں (گھر سے) نکلیں۔ ان کے ساتھ ان کے دو بچے (بیٹے) بھی تھے۔ بھیڑیا ان میں سے ایک بچے کو پکڑ کر لے گیا۔ وہ دوسرے بچے کے بارے میں جھگڑا کرتی ہوئی حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس پہنچ گئیں۔ انہوں نے بچے کا فیصلہ ان میں سے بڑی کے حق میں دے دیا، پھر وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس سے گزریں تو انہوں نے پوچھا: تمہارے درمیان کیا فیصلہ ہوا؟ چھوٹی نے کہا: بڑی کے حق میں فیصلہ ہوا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام فرمانے لگے: میں اس کو دو ٹکڑے کر دیتا ہوں۔ نصف اس کا نصف اس کا۔ بڑی کہنے لگی: ہاں ہاں، دو ٹکڑے کر دو۔ چھوٹی نے کہا: نہ نہ اسے دو ٹکڑے نہ کریں۔ یہ بچہ اسی کا ہے۔ پھر انہوں نے بچے کا فیصلہ اس کے حق میں کیا جس نے اس کو کاٹنے کی تجویز نہیں مانی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5404 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سلیمان علیہ السلام نے اپنے باپ داود علیہ السلام کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: الرَّدِّ عَلَى الْحَاكِمِ إِذَا قَضَى بِغَيْرِ الْحَقِّ
باب: جب حاکم ناحق فیصلہ کرے تو اسے رد کر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5407
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ قَتْلًا وَأَسْرًا، قَالَ: فَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ أَسِيرَهُ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمُنَا، أَمَرَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ أَحَدٌ، وَقَالَ بِشْرٌ: مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ , قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ صُنْعُ خَالِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَفَعَ يَدَيْهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ"، قَالَ زَكَرِيَّا فِي حَدِيثِهِ فَذُكِرَ، وَفِي حَدِيثِ بِشْرٍ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ کیا، خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، مگر وہ اچھی طرح «اسلمنا» ہم اسلام لائے نہ کہہ سکے بلکہ کہنے لگی: ہم نے اپنا دین چھوڑا، چنانچہ خالد رضی اللہ عنہ نے بعض کو قتل کر دیا اور بعض کو قیدی بنا لیا اور ہر شخص کو اس کا قیدی حوالے کر دیا، جب صبح ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے ہر شخص کو اپنا قیدی قتل کرنے کا حکم دیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنا قیدی قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی (میرے ساتھیوں میں سے) کوئی دوسرا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور خالد رضی اللہ عنہ کی اس کارروائی کا آپ سے ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھی): اے اللہ میں اس سے برأت کا اعلان کرتا ہوں جو خالد نے کیا ۱؎۔ بشر کی روایت میں ہے کہ آپ نے یوں فرمایا: اے اللہ! میں اس سے بَری ہوں جو خالد نے کیا ہے، ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5407]
حضرت سالم کے والد محترم (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ وہ (مسلمان ہو گئے لیکن) اچھی طرح یہ نہ کہہ سکے کہ ہم مسلمان ہو گئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنا دین چھوڑا ( «أَسْلَمْنَا» کہنے کی بجائے «صَبَأْنَا، صَبَأْنَا» کہنے لگے)۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ ان کو قتل اور قید کرنے لگ گئے۔ انہوں نے (ہم میں سے) ہر شخص کو اس کا قیدی سپرد کر دیا۔ اگلے دن صبح کے وقت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنا قیدی قتل کر دے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنا قیدی قتل نہیں کروں گا اور میرے ساتھیوں میں سے کوئی دوسرا بھی اپنا قیدی قتل نہیں کرے گا۔ پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی یہ کارگزاری ذکر کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ» اے اللہ! میں اس کام سے بری ہوں جو خالد نے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو مرتبہ فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 58 (4339)، الٔمحکام 35 (7189)، (تحفة الأشراف: 6941)، مسند احمد (2/151) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی باب سے مناسبت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کے فیصلہ کو رد کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَجْتَنِبَهُ
باب: حاکم کو کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5408
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ أَبِي , وَكَتَبْتُ لَهُ: إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضِي سِجِسْتَانَ: أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5408]
حضرت عبد الرحمن بن ابو بکرہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھ سے (میرے بھائی) عبید اللہ بن ابو بکرہ کو جو سجستان (سیستان) کے قاضی تھے، یہ لکھوایا کہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں (فریقین) کے درمیان فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کوئی شخص غصے کی حالت میں دو آدمیوں (فریقین) کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔنحکام 13 (7158)، صحیح مسلم/الِٔقضیة 7 (1717)، سنن ابی داود/الٔدقضیة 9 (3589)، سنن الترمذی/الْٔحکام 7 (1334)، سنن ابن ماجہ/الٔرحکام 4 (2316)، (تحفة الأشراف: 11676)، مسند احمد (5/36، 37، 38، 46، 52)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5423 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلْحَاكِمِ الأَمِينِ أَنْ يَحْكُمَ وَهُوَ غَضْبَانُ
باب: امانت دار حاکم غصہ کی حالت میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5409
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ , عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ , كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلَاهُمَا النَّخْلَ , فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ عَلَيْهِ , فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ"، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ:" يَا زُبَيْرُ , اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ" , فَاسْتَوْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيٍ فِيهِ السَّعَةُ لَهُ وَلِلْأَنْصَارِيِّ، فَلَمَّا أَحْفَظَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارِيُّ اسْتَوْفَى لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ، قَالَ الزُّبَيْرُ: لَا أَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65". وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ.
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص سے جو بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا حرہ کی نالیوں کے سلسلہ میں ان کا جھگڑا ہو گیا۔ وہ دونوں ہی اس سے اپنے کھجوروں کے باغ کی سنیچائی کرتے تھے۔ انصاری نے کہا: پانی چھوڑ دو وہ اس سے گزر کر چلا جائے، انہوں نے پانی چھوڑنے سے انکار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! پہلے سنیچائی کرو، پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو، انصاری کو غصہ آ گیا وہ بولا: اللہ کے رسول! وہ (زبیر) آپ کے پھوپھی زاد (بھائی) ہیں نا؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۱؎، پھر فرمایا: زبیر! سینچائی کرو، پھر پانی اس قدر روکو کہ میڈوں تک ہو جائے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر کو ان کا پورا پورا حق دلایا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے جو مشورہ دیا تھا اس میں ان کا بھی فائدہ تھا اور انصاری کا بھی۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصاری نے غصہ دلایا تو آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو صریح حکم دے کر ان کا حق دلا دیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے: «‏فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» نہیں، آپ کے رب کی قسم! وہ مومن نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو حکم تسلیم نہ کر لیں (النساء: ۶۵) (اس حدیث کے دو راوی ہیں) اس واقعہ کو بیان کرنے میں ایک کے یہاں دوسرے کے بالمقابل کچھ کمی بیشی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5409]
حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک انصاری آدمی سے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ بدر میں حاضر ہوئے تھے، حرہ کے برساتی نالوں (کے پانی) کے بارے میں جھگڑا ہو گیا۔ وہ دونوں اس برساتی نالے سے کھجور کے درختوں کو پانی لگاتے تھے۔ اس انصاری نے کہا: پانی گزرنے دو تاکہ میرے کھیت کو لگے۔ میں نے انکار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! ہلکا سا پانی لگا لو پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔ انصاری کو غصہ آگیا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! (آپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ) یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور غصے سے بدل گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: زبیر! پانی لگا اور پھر روکے رکھ حتیٰ کہ پانی منڈیروں تک پہنچ جائے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا جبکہ اس سے پہلے آپ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو ایسا مشورہ دیا تھا جس میں زبیر اور انصاری دونوں کے لیے بہتری تھی، لیکن جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا تو آپ نے واضح فیصلہ کی صورت میں زبیر کو ان کا پورا حق دلایا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ یہ آیت ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] آپ کے رب تعالیٰ کی قسم! یہ لوگ صاحب ایمان نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو اپنے اختلافی مسائل میں حکم نہ مان لیں اسی (یا اس جیسے) واقعہ کے بارے میں اتری۔ (یونس بن عبد الاعلیٰ اور حارث بن مسکین رحمہما اللہ) دونوں میں سے ہر ایک مذکورہ قصہ اپنے دوسرے ساتھی کے مقابلے میں کمی بیشی کے ساتھ روایت کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3630)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشرب والمساقاة6-8 (2360- 2362)، والصلح 12 (2708)، و تفسیر سورة النساء 12 (4585)، صحیح مسلم/الفضائل 36 (2357)، سنن ابی داود/الأقضیة 31 (3637)، سنن الترمذی/الأحکام 26 (1363)، وتفسیر سورة النساء، سنن ابن ماجہ/المقدمة 2 (15)، والرہون20 (2480)، مسند احمد (1/165)، ویأتی عند المؤلف برقم: 5418 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی باب سے مطابقت ہے کہ غصہ کی حالت میں ایک فیصلہ صادر فرمایا، چونکہ آپ امین تھے اس لیے آپ کو غصہ کی حالت میں بھی فیصلہ کرنے کا حق تھا، عام قاضیوں کو یہ حق نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: حُكْمِ الْحَاكِمِ فِي دَارِهِ
باب: حاکم اپنے گھر میں رہ کر بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5410
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ , فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا , فَكَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ , فَنَادَى:" يَا كَعْبُ"، قَالَ: لَبَّيْكَ , يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا" , وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّطْرِ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ:" قُمْ فَاقْضِهِ".
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا، ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دیں، آپ اپنے گھر میں تھے، چنانچہ آپ ان کی طرف نکلے، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا: کعب! وہ بولے: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: اتنا قرض معاف کر دو اور آپ نے آدھے اشارہ کیا۔ کہا: میں نے معاف کیا، پھر آپ نے (ابن ابی حدرد سے) کہا: اٹھو اور قرض ادا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5410]
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن حدرد سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا جو اس کے ذمے تھا۔ ہماری آوازیں اونچی ہو گئیں حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سن لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اپنے حجرۂ مبارک کا پردہ ہٹایا اور بلند آواز سے فرمایا: اے کعب! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا معاف کر دے۔ اور ہاتھ سے نصف کا اشارہ فرمایا۔ میں نے عرض کیا: میں نے مان لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن ابی حدرد سے) فرمایا: اٹھ اور باقی ادا کر۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 71 (457)، 73 (471)، الخصومات 4 (2418)، 9 (2424)، الصلح 10 (2706)، 14 (2710)، صحیح مسلم/البیوع 25 (المساقاة4) (1558)، سنن ابی داود/الأقضیة (3595)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2429)، (تحفة الأشراف: 11130)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 49 (2629) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں