سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ: الْقَضَاءِ فِي قَلِيلِ الْمَالِ وَكَثِيرِهِ
باب: مال تھوڑا ہو یا زیادہ ہر حال میں فیصلہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 5421
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی مسلمان آدمی کا حق قسم کھا کر مار لے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا“، ایک شخص نے آپ سے کہا: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”گرچہ وہ پیلو کی ایک ڈال ہو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5421]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا مال ناجائز حاصل کر لے، اللہ تعالیٰ اس پر آگ واجب اور جنت حرام کر دیتا ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ معمولی چیز ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ پیلو کی ٹہنی ہی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 61 (137)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 8 (2324)، موطا امام مالک/الأقضیة 8 (11)، (تحفة الأشراف: 1744)، مسند احمد (5/260) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب جھوٹی قسم کھا کر پیلو کی ایک ڈال ہڑپ کر لینے پر اتنی سخت وعید ہے تو اتنی سی معمولی چیز کے بارے میں عدالتی فیصلہ بھی ہو سکتا ہے، یہی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
31. بَابُ: قَضَاءِ الْحَاكِمِ عَلَى الْغَائِبِ إِذَا عَرَفَهُ
باب: حاکم اگر کسی کو پہچانتا ہو تو اس کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5422
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ , وَلَا يُنْفِقُ عَلَيَّ وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي، أَفَآخُذُ مِنْ مَالِهِ وَلَا يَشْعُرُ، قَالَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدِكِ بِالْمَعْرُوفِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہند رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل شخص ہیں، وہ مجھ پر اور میرے بچوں پر اس قدر نہیں خرچ کرتے ہیں جو کافی ہو، تو کیا میں ان کے مال میں سے کچھ لے لیا کروں اور انہیں پتا بھی نہ چلے؟ آپ نے فرمایا: ”بھلائی کے ساتھ اس قدر لے لو کہ تمہارے لیے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5422]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ہند رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہے، وہ نہ تو مجھے کافی اخراجات دیتا ہے اور نہ میرے بچوں کے لیے، تو کیا میں اس کے مال میں سے اس کے علم کے بغیر لے سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اتنا لے سکتی ہے جو تجھے اور تیرے بچوں کو مناسب انداز میں کفایت کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔاقضیة 4 (1714)، (تحفة الأشراف: 17261)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 95 (2211)، والمظالم 18 (2460)، النفقات 5 (5359)، 9 (5364)، 14 (537)، الأیمان 3 (6641)، الأحکام 14 (7161)، 28 (7180)، سنن ابی داود/البیوع 81 (3532)، سنن ابن ماجہ/التجارات 65 (2293)، مسند احمد (396، 50، 206)، سنن الدارمی/النکاح 54 (2305) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس غائب اور غیر موجود کو پہچانتا ہو، اور مدعی کی صداقت اور مدعی علیہ کے حالات سے گہری واقفیت رکھتا ہو جیسا کہ ہند اور ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے معاملہ کی بابت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے، ہر مدعی علیہ کے بارے میں اس طرح فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عام حالات میں مدعی کی گواہی یا قسم اور مدعا علیہ کے بیان سننے کی ضرورت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
32. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ أَنْ يُقْضَى فِي قَضَاءٍ بِقَضَاءَيْنِ
باب: ایک قضیہ میں دو فیصلہ کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 5423
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، وَكَانَ عَامِلًا عَلَى سِجِسْتَانَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَقْضِيَنَّ أَحَدٌ فِي قَضَاءٍ بِقَضَاءَيْنِ، وَلَا يَقْضِي أَحَدٌ بَيْنَ خَصْمَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ".
عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ (سجستان کے گورنر تھے) کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی ایک قضیہ میں دو فیصلے نہ کرے ۱؎، اور نہ کوئی دو فریقوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5423]
حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرہ، جو کہ سجستان کے حاکم تھے، نے بیان کیا کہ (میرے والد محترم) حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کوئی شخص ایک مقدمے میں دو مختلف فیصلے نہ کرے اور کوئی شخص فریقین کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5408 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ قضاء کا مقدمہ جھگڑے کو ختم کرنا ہے، اور ایک ہی معاملہ میں دو طرح کے فیصلے سے جھگڑا ختم نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
33. بَابُ: مَا يَقْطَعُ الْقَضَاءُ
باب: فیصلہ کی بنیاد پر حاصل ہونے مال کی شرعی حقیقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5424
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، حالانکہ میں ایک انسان ہوں، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو گویا میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5424]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے پاس جھگڑے لاتے ہو۔ میں تو بس ایک انسان ہی ہوں۔ ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی دلیل کو دوسرے شخص سے زیادہ واضح طور پر بیان کرنے والا ہو۔ میں تو تمہارے درمیان دلائل سن کر (ان کے مطابق) فیصلہ کر دوں گا۔ (لیکن یاد رکھو!) میں جس شخص کے لیے اس کے (اسلامی) بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کر دوں تو درحقیقت میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5403 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تو کیا وہ پانے والے کے لیے ہر حال میں حلال ہو گا؟ نہیں، خود جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ملنے سے حلال نہیں ہو سکتا، (اگر حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو دوسرے کسی قاضی کے فیصلے سے کیسے جائز ہو سکتا ہے، اس لیے اس طرح کے معاملے میں سخت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے تو یہ فیصلہ ٹھیک ہے، لیکن اس طرح کے فیصلے حرام کو حلال، اور حلال کو حرام نہیں کر سکتے، اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے فیصلے پر یہ عرض کیا کہ حقیقت میں غلط فیصلہ پر عمل آدمی کو جہنم پہنچا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
34. بَابُ: الأَلَدِّ الْخَصِمِ
باب: لڑاکے اور جھگڑالو کا بیان۔
حدیث نمبر: 5425
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5425]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ اور قابل نفرت شخص وہ ہے جو ضدی اور جھگڑالو ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 15 (2457)، تفسیر البقرة 37 (4523)، الَٔحکام 34 (7188)، صحیح مسلم/العلم 2 (2668)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة (2976)، (تحفة الأشراف: 16248)، مسند احمد (6/55، 63، 205) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد: باطل کے لیے جھگڑا کرنے والا اور چرب زبانی کرنے والا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
35. بَابُ: الْقَضَاءِ فِيمَنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ
باب: جس کا کوئی گواہ نہ ہو اس کے بارے میں کیوں کر فیصلہ ہو۔
حدیث نمبر: 5426
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى:" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَضَى بِهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو لوگ ایک جانور کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، ان میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اس کے آدھا کیے جانے کا فیصلہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5426]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جانور کے بارے میں جھگڑتے ہوئے آئے، دلیل کسی کے پاس بھی نہیں تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ان دونوں کو نصف نصف دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔرقضیة 22 (3613)، سنن ابن ماجہ/الٔوحکام 11 (2330)، (تحفة الأشراف: 9088)، مسند احمد (4/403) (ضعیف) (اس روایت کی سند اور متن دونوں میں سخت اختلاف ہے، اس کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے، دیکھیے الإرواء رقم 2656)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
36. بَابُ: عِظَةِ الْحَاكِمِ عَلَى الْيَمِينِ
باب: قسم کھلاتے وقت حاکم کی نصیحت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5427
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَانَتْ جَارِيَتَانِ تَخْرُزَانِ بِالطَّائِفِ , فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَيَدُهَا تَدْمَى، فَزَعَمَتْ أَنَّ صَاحِبَتَهَا أَصَابَتْهَا وَأَنْكَرَتِ الْأُخْرَى، فَكَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي ذَلِكَ فَكَتَبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى:" أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ , وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ أَمْوَالَ نَاسٍ، وَدِمَاءَهُمْ" , فَادْعُهَا وَاتْلُ عَلَيْهَا هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ سورة آل عمران آية 77 حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ , فَدَعَوْتُهَا فَتَلَوْتُ عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ بِذَلِكَ فَسَرَّهُ.
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ دو لڑکیاں طائف میں موزے (خف) بنایا کرتی تھیں، ان میں سے ایک باہر نکلی، تو اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا، اس نے بتایا کہ اس کی سہیلی نے اسے زخمی کیا ہے، لیکن دوسری نے انکار کیا، تو میں نے اس سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا تو انہوں نے جواب لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قسم تو مدعا علیہ سے لی جائے گی، اگر لوگوں کو ان کے دعوے کے مطابق (فیصلہ) مل جایا کرے تو بعض لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور ان کی جان کا بھی دعویٰ کر بیٹھیں، اس لیے اس عورت کو بلا کر اس کے سامنے یہ آیت پڑھو: «إن الذين يشترون بعهد اللہ وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں کو معمولی قیمت سے بیچ دیتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ (آل عمران: ۷۷) یہاں تک کہ آیت ختم کی، چنانچہ میں نے اسے بلایا اور یہ آیت اس کے سامنے تلاوت کی تو اس نے اس کا اعتراف کیا، جب انہیں (ابن عباس کو) یہ بات معلوم ہوئی تو خوش ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5427]
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ دو لڑکیاں طائف کے علاقے میں کچھ سلائی کر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک نکلی تو اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میرے ساتھ والی لڑکی نے اسے زخم لگایا ہے، جبکہ دوسری نے انکار کر دیا۔ میں نے اس بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف لکھا تو انہوں نے (جواباً) تحریر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے کہ قسم مدعی علیہ کے ذمے ہو گی۔ ”اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوے کی بنا پر ان کی مطلوبہ چیز دے دی جاتی، تو لوگ دوسرے لوگوں کے جان و مال کی بابت دعوے کر دیتے۔“ اس لڑکی کو بلاؤ اور اس کو یہ آیت پڑھ کر سناؤ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کا عہد اور اپنی قسمیں تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا“۔ میں نے اس لڑکی کو بلایا اور یہ آیت پڑھ کر سنائی، اس نے اعتراف کر لیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات پہنچی تو وہ بہت خوش ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرہن 6 (2514)، الشہادات 20 (2668) (بدون ذکر القصة) تفسیر سورة آل عمران 3 (4552)، صحیح مسلم/الأقضیة 1 (1711)، سنن ابی داود/الأقضیة 23 (3619)، سنن الترمذی/الأحکام 12 (1342)، سنن ابن ماجہ/الأحکام (2321)، (تحفة الأشراف: 5792)، مسند احمد (1/342، 351، 356، 363) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: کسی معاملہ میں قسم کی ضرورت پڑے تو پہلے حاکم جس سے قسم لے اس کو نصیحت کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
37. بَابُ: كَيْفَ يَسْتَحْلِفُ الْحَاكِمُ
باب: حاکم قسم (حلف) کیسے لے؟
حدیث نمبر: 5428
أَخْبَرَنَا سَوُّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ يَعْنِي مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" مَا أَجْلَسَكُمْ؟" , قَالُوا: جَلَسْنَا نَدْعُو اللَّهَ , وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِدِينِهِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ، قَالَ:" آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟"، قَالُوا: آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ:" أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهَمَةً لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے حلقے کی طرف نکل کر آئے اور فرمایا: ”کیوں بیٹھے ہو؟“ وہ بولے: ہم بیٹھے ہیں، اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت بخشی اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ۲؎ تم اسی لیے بیٹھے ہو؟“ وہ بولے: اللہ کی قسم! ہم اسی لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا: ”سنو، میں نے تم سے قسم اس لیے نہیں لی کہ تمہیں جھوٹا سمجھا، بلکہ میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں پر تمہاری وجہ سے فخر کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5428]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ایک حلقے پر تشریف لائے اور فرمایا: ”تم یہاں کس لیے بیٹھے ہو؟“ انہوں نے کہا کہ ہم بیٹھے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے ہیں اور اس کی تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی رہنمائی فرمائی اور آپ کو بھیج کر ہم پر عظیم احسان فرمایا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا اللہ کی قسم! تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! ہم صرف اسی لیے بیٹھے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تم سے کسی شک و الزام وغیرہ کی بنا پر قسم نہیں لی، بلکہ بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر فرما رہا ہے (کہ یہ میری مخلوق ہے)۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الدعوات (الذکر والدعاء) 11 (2701)، سنن الترمذی/الدعوات 7 (3379)، (تحفة الأشراف: 11416)، مسند احمد (4/92) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب کسی معاملہ میں قاضی کو قسم لینے کی ضرورت ہو تو کن الفاظ کے ساتھ قسم لے۔ ۲؎: اسی لفظ میں باب سے مناسبت ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لفظ «واللہ» سے قسم کھایا یا لیا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5429
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ لَهُ: أَسَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا , وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا، تو اس سے پوچھا: کیا تم نے چوری کی؟ وہ بولا: نہیں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۱؎، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں نے یقین کیا اللہ پر اور جھوٹا سمجھا اپنی آنکھ کو۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5429]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: اے! کیا تو چوری کرتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں اللہ (کی قسم) پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ (کی دیکھی ہوئی چیز) کو جھٹلاتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔلنبیاء 48 (3444 تعلیقًا)، (تحفة الٔاشراف: 14223)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل40 (2368)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 4 (2102)، مسند احمد (2/314، 383) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں یہی قسم کے الفاظ ہیں، ان الفاظ کے ساتھ بھی کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا یا لیا کرتے تھے، دونوں حدیثوں میں مذکور دونوں الفاظ کے علاوہ بھی کچھ الفاظ کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا یا کرتے تھے جیسے «لا ومصرف القلوب» ، «لا ومقلب القلوب» وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح