سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب مَا جَاءَ فِي وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 259
قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: " كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ " فَنُهِينَا عَنْهُ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ الْأَكُفَّ عَلَى الرُّكَبِ " قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ بِهَذَا، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ: مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ: عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو يَعْفُورٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، وَأَبُو يَعْفُورٍ الْعَبْدِيُّ اسْمُهُ: وَاقِدٌ وَيُقَالُ وَقْدَانُ، وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایسا کرتے تھے (یعنی تطبیق کرتے تھے) پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 118 (790)، صحیح مسلم/المساجد 5 (535)، سنن ابی داود/ الصلاة 150 (867)، سنن النسائی/التطبیق 1 (1033)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 17 (873)، (تحفة الأشراف: 3929)، مسند احمد (1/181، 82)، سنن ابی داود/ الصلاة 68 (1341) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (873)
81. باب مَا جَاءَ أَنَّهُ يُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ 63، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا، وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُجَافِيَ الرَّجُلُ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ.
عباس بن سہل بن سعد کا بیان ہے کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، اور محمد بن مسلمہ (رضی الله عنہم) چاروں اکٹھا ہوئے تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا، ابوحمید رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں، اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح (ٹائٹ) بنایا اور انہیں اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 260]
۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۳- اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 145 (828)، سنن ابی داود/ الصلاة 117 (730)، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040)، والسہو 2 (1182)، و29 (1061)، (تحفة الأشراف: 11892)، وکذا (11897)، سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346)، (کلہم مختصرا، ولین عند ذکرخ ذکر رفع الیدین إلا عند التحریمة)، ویأتي عند المؤلف بارقام: 270، و293، و304) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (723) ، المشكاة (801) ، صفة الصلاة (110)
82. باب مَا جَاءَ فِي التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع اور سجدے میں تسبیح کا بیان۔
حدیث نمبر: 261
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ، وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ" قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ , وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ لَمْ يَلْقَ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ لَا يَنْقُصَ الرَّجُلُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ مِنْ ثَلَاثِ تَسْبِيحَاتٍ، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قَالَ: أَسْتَحِبُّ لِلْإِمَامِ أَنْ يُسَبِّحَ خَمْسَ تَسْبِيحَاتٍ لِكَيْ يُدْرِكَ مَنْ خَلْفَهُ ثَلَاثَ تَسْبِيحَاتٍ، وَهَكَذَا قَالَ: إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» تین مرتبہ کہے تو اس کا رکوع پورا ہو گیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔ اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدے میں تین مرتبہ «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» کہے تو اس کا سجدہ پورا ہو گیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مسعود کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ عون بن عبداللہ بن عتبہ کی ملاقات ابن مسعود سے نہیں ہے ۱؎،
۲- اس باب میں حذیفہ اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی رکوع اور سجدے میں تین تسبیحات سے کم نہ پڑھے،
۴- عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں امام کے لیے مستحب سمجھتا ہوں کہ وہ پانچ تسبیحات پڑھے تاکہ پیچھے والے لوگوں کو تین تسبیحات مل جائیں اور اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 261]
۱- ابن مسعود کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ عون بن عبداللہ بن عتبہ کی ملاقات ابن مسعود سے نہیں ہے ۱؎،
۲- اس باب میں حذیفہ اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی رکوع اور سجدے میں تین تسبیحات سے کم نہ پڑھے،
۴- عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں امام کے لیے مستحب سمجھتا ہوں کہ وہ پانچ تسبیحات پڑھے تاکہ پیچھے والے لوگوں کو تین تسبیحات مل جائیں اور اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 154 (886)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 20 (888)، (تحفة الأشراف: 9530) (ضعیف) (عون کا سماع ابن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں ہے، جیسا کہ مولف نے خود بیان کر دیا ہے)»
وضاحت: ۱؎: لیکن ابوبکرہ، جبیر بن مطعم، اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہم کی حدیثوں سے اس حدیث کو تقویت مل جاتی ہے، ان سب میں اگرچہ قدرے کلام ہے لیکن مجموعہ طرق سے یہ بات درجہ احتجاج کو پہنچ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (890) // ضعيف سنن ابن ماجة (187) ، المشكاة (880) ، ضعيف الجامع الصغير (525) ، ضعيف أبي داود (187 / 886) //
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 886 ، جه 89
حدیث نمبر: 262
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " وَفِي سُجُودِهِ " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ، وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،
حذیفہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» پڑھ رہے تھے۔ اور جب بھی رحمت کی کسی آیت پر پہنچتے تو ٹھہرتے اور سوال کرتے اور جب عذاب کی کسی آیت پر آتے تو ٹھہرتے اور (عذاب سے) پناہ مانگتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 27 (772)، سنن ابی داود/ الصلاة 151 (871)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1009)، والتطبیق 9 (1047)، و74 (1134)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 20 (897)، و179 (1351)، (تحفة الأشراف: 3351)، مسند احمد (5/382، 384، 394)، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1345) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نفل نمازوں کے ساتھ خاص ہے، شیخ عبدالحق ”لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح“ میں فرماتے ہیں «االظاهر أنه كان في الصلاة محمول عندنا على النوافل» یعنی ظاہر یہی ہے کہ آپ نماز میں تھے اور یہ ہمارے نزدیک نوافل پر محمول ہو گا (اگلی حدیث میں اس کے تہجد میں ہونے کی صراحت آ گئی ہے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (881)
حدیث نمبر: 263
قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَهُ، وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ حُذَيْفَةَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَنَّهُ صَلَّى بِاللَّيْلِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے بھی شعبہ سے اسی طرح مروی ہے۔ حذیفہ رضی الله عنہ سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد پڑھی، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (262)
83. باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْقِرَاءَةِ، فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 264
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ ". وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ كَرِهُوا الْقِرَاءَةَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۳- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 264]
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۳- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 41 (480)، واللباس 4 (2078)، سنن ابی داود/ اللباس 11 (4044)، سنن النسائی/التطبیق 7 (1041)، و 61 (119، 1120)، الزینة 43 (5172، 5176، 5178، 5183)، و77 (5266-5272)، سنن ابن ماجہ/اللباس 21 (3602)، و40 (3642)، (تحفة الأشراف: 1079)، موطا امام مالک/الصلاة 6 (28)، مسند احمد (1/80، 81، 92، 104، 114، 119، 121، 123، 126، 132، 133، 134، 137، 138، 146)، ویأتي عند المؤلف في اللباس 5 (1725)، و13 (1737) والأدب 45 (2808) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
84. باب مَا جَاءَ فِيمَنْ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 265
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ فِيهَا الرَّجُلُ يَعْنِي صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ "قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَرِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق: مَنْ لَمْ يُقِمْ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَصَلَاتُهُ فَاسِدَةٌ: لِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ " وَأَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ الْبَدْرِيُّ اسْمُهُ: عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍوَ.
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی بن شیبان، انس، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے،
۴- شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی نماز فاسد ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 265]
۱- ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی بن شیبان، انس، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے،
۴- شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی نماز فاسد ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 148 (855)، سنن النسائی/الافتتاح 88 (1028)، والتطبیق 54 (1110)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 16 (870)، (تحفة الأشراف: 9995)، مسند احمد (4/199، 122)، سنن الدارمی/الصلاة 78 (1360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں طمانینت اور تعدیل ارکان واجب ہے، اور جو لوگ اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں اس سے نص پر زیادتی لازم آئے گی اس لیے کہ قرآن مجید میں مطلق سجدہ کا حکم ہے اس میں طمانینت داخل نہیں یہ زیادتی جائز نہیں، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ زیادتی نہیں بلکہ سجدہ کے معنی کی وضاحت ہے کہ اس سے مراد سجدہ لغوی نہیں بلکہ سجدہ شرعی ہے جس کے مفہوم میں طمانینت بھی داخل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (870)
85. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت آدمی کیا کہے؟
حدیث نمبر: 266
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَابْنِ أَبِي أَوْفَى , وَأَبِي جُحَيْفَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ: الشَّافِعِيُّ، قَالَ: يَقُولُ هَذَا فِي الْمَكْتُوبَةِ وَالتَّطَوُّعِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ: يَقُولُ هَذَا فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَلَا يَقُولُهَا فِي صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا يُقَالُ الْمَاجِشُونِيُّ لِأَنَّهُ مِنْ وَلَدِ الْمَاجِشُونِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد» ”اللہ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تعریف تیرے ہی لیے ہے آسمان بھر، زمین بھر، زمین و آسمان کی تمام چیزوں بھر، اور اس کے بعد ہر اس چیز بھر جو تو چاہے“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابن ابی اوفی، ابوحجیفہ اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ فرض ہو یا نفل دونوں میں یہ کلمات کہے گا ۱؎ اور بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: یہ صرف نفل نماز میں کہے گا۔ فرض نماز میں اسے نہیں کہے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 266]
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابن ابی اوفی، ابوحجیفہ اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ فرض ہو یا نفل دونوں میں یہ کلمات کہے گا ۱؎ اور بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: یہ صرف نفل نماز میں کہے گا۔ فرض نماز میں اسے نہیں کہے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن ابی داود/ الصلاة 121 (760)، (تحفة الأشراف: 10228)، مسند احمد (1/95، 102)، ویأتی عند المؤلف في الدعوات (3421، 3422) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس روایت کے بعض طرق میں ”فرض نماز“ کے الفاظ بھی آئے ہیں جو اس بارے میں نص صریح ہے کہ نفل یا فرض سب میں اس دعا کے یہ الفاظ پڑھے جا سکتے ہیں، ویسے صرف «ربنا ولك الحمد» پر بھی اکتفا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (738)
86. باب مِنْهُ آخَرُ
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يَقُولَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَيَقُولَ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَبِهِ يَقُولُ: أَحْمَدُ، وقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: وَغَيْرُهُ يَقُولُ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِثْلَ مَا يَقُولُ الْإِمَامُ، وَبِهِ يَقُولُ: الشَّافِعِيُّ , وَإِسْحَاقُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» ”ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ امام «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہے ۱؎ اور مقتدی «ربنا ولك الحمد» کہیں، یہی احمد کہتے ہیں،
۳- اور ابن سیرین وغیرہ کا کہنا ہے جو امام کے پیچھے (یعنی مقتدی) ہو وہ بھی «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» اسی طرح کہے گا ۲؎ جس طرح امام کہے گا اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ امام «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہے ۱؎ اور مقتدی «ربنا ولك الحمد» کہیں، یہی احمد کہتے ہیں،
۳- اور ابن سیرین وغیرہ کا کہنا ہے جو امام کے پیچھے (یعنی مقتدی) ہو وہ بھی «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» اسی طرح کہے گا ۲؎ جس طرح امام کہے گا اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 124 (795)، و125 (796)، وبدء الخلق 7 (3228)، صحیح مسلم/الصلاة 18 (409)، سنن ابی داود/ الصلاة 144 (848)، سنن النسائی/التطبیق 23 (1064)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 18 (876)، (تحفة الأشراف: 12568)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (47)، مسند احمد (2/236، 270، 300، 319، 452، 497، 502، 527، 533) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: متعدد احادیث سے (جن میں بخاری کی بھی ایک روایت ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی سے ہے) یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامت کی حالت میں «سمع اللہ لمن حمدہ» کے بعد «ربنا لک الحمد» کہا کرتے تھے، اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ امام «ربنا لک الحمد» نہ کہے۔ ۲؎: لیکن حافظ ابن حجر کہتے ہیں (اور صاحب تحفہ ان کی موافقت کرتے ہیں) کہ ”مقتدی کے لیے دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں کوئی واضح حدیث وارد نہیں ہے“ اور جو لوگ اس کے قائل ہیں وہ «صلوا كما رأيتموني أصلي» ”جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ویسے تم بھی صلاۃ پڑھو“ سے استدلال کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (794)
87. باب مَا جَاءَ فِي وَضْعِ الرُّكْبَتَيْنِ قَبْلَ الْيَدَيْنِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 268
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ ". زَادَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: وَلَمْ يَرْوَ شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ مِثْلَ هَذَا عَنْ شَرِيكٍ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ: يَرَوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ. وَرَوَى هَمَّامٌ عَنْ عَاصِمٍ هَذَا مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ.
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا: جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھ سے پہلے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو،
۲- اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے،
۳- ہمام نے عاصم ۲؎ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 268]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو،
۲- اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے،
۳- ہمام نے عاصم ۲؎ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 141 (838)، سنن النسائی/التطبیق 38 (1090)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (882)، و93 (1155)، (تحفة الأشراف: 1178) (ضعیف) (شریک جب متفرد ہوں تو ان کی روایت مقبول نہیں ہوتی)»
وضاحت: ۱؎: جو لوگ دونوں ہاتھوں سے پہلے دونوں گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے، شریک عاصم بن کلیب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں جب کہ شریک خود ضعیف ہیں، اگرچہ اس روایت کو ہمام بن یحییٰ نے بھی دو طریق سے ایک محمد بن حجاوہ کے طریق سے اور دوسرے شقیق کے طریق سے روایت کی ہے لیکن محمد بن حجادہ والی سند منقطع ہے کیونکہ عبدالجبار کا سماع اپنے باپ سے نہیں ہے اور شقیق کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ وہ خود مجہول ہیں۔ ۲؎: ہمام نے اسے عاصم سے نہیں بلکہ شقیق سے روایت کیا ہے اور شقیق نے عاصم سے مرسلاً روایت کیا ہے گویا شقیق والی سند میں دو عیب ہیں: ایک شقیق خود مجہول ہیں اور دوسرا عیب یہ ہے کہ یہ مرسل ہے اس میں وائل بن حجر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (882) // ضعيف سنن ابن ماجة (185) ، ضعيف أبي داود (181 / 838) ، الإرواء (357) ، المشكاة (898) ، ابن خزيمة (626 و 629) //
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 838 ، ن 109 ، جه 882