🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
119. باب مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ: التِّينِ وَالزَّيْتُونِ "، وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِسُوَرٍ مِنْ أَوْسَاطِ الْمُفَصَّلِ نَحْوِ سُورَةِ الْمُنَافِقِينَ وَأَشْبَاهِهَا، وَرُوِيَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ أَنَّهُمْ قَرَءُوا بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا وَأَقَلَّ، فَكَأَنَّ الْأَمْرَ عِنْدَهُمْ وَاسِعٌ فِي هَذَا، وَأَحْسَنُ شَيْءٍ فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " قَرَأَ بِ: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ التِّينِ وَالزَّيْتُون ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں براء بن عازب اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔
۴- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورۃ المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے،
۵- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورۃ «والشمس وضحاها» اور سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 71 (1000)، (تحفة الأشراف: 1962)، مسند احمد (5/354، 355) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، صفة الصلاة // 97 //

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عشاء میں سورۃ «والتين والزيتون» پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 100 (766)، و102 (769)، وتفسیر التین 1 (4952)، والتوحید 52 (7546)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (464)، سنن ابی داود/ الصلاة 5 27 (1221)، سنن النسائی/الافتتاح 72 (1001)، و73 (1002)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 10 (834)، (تحفة الأشراف: 1791)، موطا امام مالک/الصلاة 15 (27)، مسند احمد (4/286، 302) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (834)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
120. باب مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: امام کے پیچھے قرأت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنِّي أَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ، قَالَ: " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِي وَاللَّهِ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَائِشَةَ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي قَتَادَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " قَالَ: وَهَذَا أَصَحُّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَابْنِ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق يَرَوْنَ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہو گئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا: مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورۃ فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے،
۳ - اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۴- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 136 (823)، (تحفة الأشراف: 5111)، مسند احمد (5/313، 316، 322) (حسن) (البانی نے اس حدیث کو ”ضعیف“ کہا ہے، لیکن ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے (3/36-37) ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے حسن کہا ہے، ابن حجر نے بھی اس کو نتائج الافکار میں حسن کہا ہے، ملاحظہ ہو: امام الکلام مولفہ مولانا عبدالحیٔ لکھنوی ص77-278، تراجع الالبانی348)»
وضاحت: ۱؎: امام ترمذی کے اس قول میں اجمال ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ان میں سے کچھ لوگ سری اور جہری سبھی نمازوں میں قراءت کے قائل ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگ قرأت کے وجوب کے قائل ہیں اور کچھ لوگ اس کو مستحب کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: (حديث: ".... فلا تفعلوا إلا بأم القرآن.... ") ضعيف، (حديث: " لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب ") صحيح (حديث: " لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب ") ، ابن ماجة (837) ، (حديث: ".... فلا تفعلوا إلا بأم القرآن.... ") ، ضعيف أبي داود (146) // عندنا في " ضعيف أبي داود " برقم (176 / 823) ، ضعيف الجامع الصغير (2082 و 4681) //

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
121. باب مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ إِذَا جَهَرَ الإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ
باب: امام جہر سے قرأت کرے تو اس کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟ " فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ "، قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَوَاتِ بِالْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَابْنُ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ: عُمَارَةُ، وَيُقَالُ عَمْرُو بْنُ أُكَيْمَةَ، وَرَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ وَذَكَرُوا هَذَا الْحَرْفَ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا يَدْخُلُ عَلَى مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " فَقَالَ لَهُ حَامِلُ الْحَدِيثِ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، وَرَوَى أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَاخْتَارَ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَقْرَأَ الرَّجُلُ إِذَا جَهَرَ الْإِمَامُ بِالْقِرَاءَةِ، وَقَالُوا: يَتَتَبَّعُ سَكَتَاتِ الْإِمَامِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَبِهِ يَقُولُ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قَالَ: أَنَا أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالنَّاسُ يَقْرَءُونَ، إِلَّا قَوْمًا مِنَ الْكُوفِيِّينَ، وَأَرَى أَنَّ مَنْ لَمْ يَقْرَأْ، صَلَاتُهُ جَائِزَةٌ، وَشَدَّدَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَرْكِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالُوا: لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَحْدَهُ كَانَ أَوْ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَذَهَبُوا إِلَى مَا رَوَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَتَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ " وَبِهِ يَقُولُ: الشافعي , وَإِسْحَاق وَغَيْرُهُمَا، وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، فَقَالَ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ "، وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَيْثُ قَالَ: مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: فَهَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَأَوَّلَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ أَنَّ هَذَا إِذَا كَانَ وَحْدَهُ " وَاخْتَارَ أَحْمَدُ مَعَ هَذَا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَأَنْ لَا يَتْرُكَ الرَّجُلُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَإِنْ كَانَ خَلْفَ الْإِمَامِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا: کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! (میں نے کی ہے) آپ نے فرمایا: تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا: آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے، وہ (زہری) کہتے ہیں: تو جب لوگوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے، زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم» زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے سنا
۳- اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۴- اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے، اس لیے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناتمام ہے تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں؟) تو انہوں نے کہا: تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی،
۵- اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے، اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے، یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے،
۶- امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کوفیوں میں سے چند لوگوں کے، اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے،
۷- اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورۃ فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی، یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور خود عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے، ان کا عمل نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے،
۸- رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہو گی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو۔ ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورۃ فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 137 (826)، سنن النسائی/الافتتاح 28 (90)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 13 (848، 849)، (تحفة الأشراف: 14264)، موطا امام مالک/الصلاة 10 (44)، مسند احمد (2/240، 284، 285، 487) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ جابر رضی الله عنہ کا اپنا خیال ہے، اعتبار مرفوع روایت کا ہے نہ کہ کسی صحابی کی ایسی رائے کا جس کے مقابلے میں دوسرے صحابہ کی آراء موجود ہیں وہ آراء حدیث کے ظاہر معنی کے مطابق بھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صفة الصلاة // 79 //، صحيح أبي داود (781)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس نے کوئی رکعت ایسی پڑھی جس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس نے نماز ہی نہیں پڑھی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وانظر موطا امام مالک/الصلاة 8 (38)، (لم یذکرہ المزی فی مظانہ ج2/ص285-288 من رقم 3125 إلی 3132) (صحیح) (واضح رہے یہ جابر رضی الله عنہ کا قول ہے، اور اس کو اصطلاح میں موقوف کہتے ہیں)»
وضاحت: ۱؎: اس اثر کا پہلی والی صحیح احادیث کے ساتھ کوئی معارضہ نہیں، امام بیہقی نے کتاب القراءۃ (ص: ۱۱۲) میں جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کا یہ اثر نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: اس اثر میں نماز میں سورۃ الفاتحۃ کی تعیین قرأت کے لیے دلیل بھی ہے اور یہ کہ ان حضرات کے خلاف جو الفاتحۃ کی نہ تعیین کے قائل ہیں اور نہ ہی وہ آخری دو رکعات میں اس سورۃ کی قرأت کے وجوب کے قائل ہیں، نماز کی تمام رکعتوں کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحۃ کی قرأت کے واجب ہونے کی بھی دلیل ہے، اور جہاں تک جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کی: «إلا وَرَائَ الإمَامِ» والی بات کا تعلق ہے تو:
(۱) احتمال ہے کہ یہ آپ رضی الله عنہ کا امام کے پیچھے اس نماز میں سورۃ الفاتحۃ کے ترک کر دینے کے جواز کا مسلک ہو کہ جس میں امام سورۃ الفاتحۃ جہراً پڑھتا ہے۔
(۲) یہ بھی احتمال ہے کہ: اس سے مراد وہ رکعت ہو کہ کہ جس میں مقتدی امام کو رکوع کی حالت میں پائے اور اس کے ساتھ مل جائے تو اس کی یہ رکعت ہو جائے گی، اس تاویل کو اسحاق بن ابراہیم الحنظلی جیسے علماء نے اختیار کیا ہے۔
(۳) ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں یزید الفقیر کی روایت سے ایک اثر درج کیا ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما چار رکعات والی نماز پہلی دو رکعات میں سورۃ الفاتحۃ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت جب کہ آخری دو رکعت میں صرف سورۃ الفاتحۃ پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کہ ہم یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحۃ کے ساتھ قرأت سے کچھ اور پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی، (تو جابر رضی الله عنہ کے عمل سے لوگوں کے لیے وضاحت ہو گئی) اور یہ کہ یہ لفظ عام ہے: اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے بھی مقتدی کے بھی اور امام کے لیے بھی۔
(۴) عبیداللہ بن مقسم کی روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما فرماتے تھے: نماز میں قرأت کا سنت عمل یہ ہے کہ نمازی پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحۃ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت بھی پڑھے جب کہ آخری دو رکعتوں میں صرف سورۃ الفاتحۃ پڑھ لے … اور اصول یہ ہے کہ صحابی جب سنت کا کلمہ استعمال کرے اور کہے: «كنا نتَحدث» تو محدثین کرام اسے مرفوع احادیث میں شمار کرتے ہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئیے: تحفۃ الأحوذی ۱/۲۶۱)
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف، الإرواء (2 / 273)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
122. باب مَا جَاءَ مَا يَقُولُ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ " وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ "
فاطمہ بنت حسین اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود و سلام بھیجتے اور یہ دعا پڑھتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے اور جب نکلتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر صلاۃ (درود) و سلام بھیجتے اور یہ کہتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المساجد 13 (771)، (تحفة الأشراف: 18041) (صحیح) (فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبری کو نہیں پایا ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،، شیخ البانی کہتے ہیں: مغفرت کے جملے کو چھوڑ کر بقیہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی 510)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (771)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
وقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: قَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، قَالَ: كَانَ إِذَا دَخَلَ، قَالَ: " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ " وَإِذَا خَرَجَ، قَالَ: " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ , وَأَبِي أُسَيْدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهُرًا.
اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتك» اے میرے رب! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث (شواہد کی بنا پر) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے،
۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں،
۳- اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر الذي قبله (314) ولفظه أصح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / السند منقطع وانظر الحديث السابق : 314

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
123. باب مَا جَاءَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ
باب: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ , وَأَبِي أُمَامَةَ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي ذَرٍّ , وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَرَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، اسْتَحَبُّوا إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ أَنْ لَا يَجْلِسَ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: وَحَدِيثُ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ خَطَأٌ، أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے،
۳- سہیل بن ابی صالح ۲؎ نے یہ حدیث بطریق: «عامر بن عبد الله بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے،
۴ - یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے، اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں، ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے: انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو،
۵- علی بن مدینی کہتے ہیں: سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 60 (444)، والتہجد 25 (1163)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (714)، سنن ابی داود/ الصلاة 19 (467)، سنن النسائی/المساجد 37 (731)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 57 (1013)، (تحفة الأشراف: 12123)، موطا امام مالک/السفر 18 (57)، مسند احمد (5/295، 296، 303) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسے تحیۃ المسجد کہتے ہیں، جمہور کے نزدیک یہ مستحب ہے اور شوافع کے نزدیک واجب۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس کی بہت تاکید ہے لیکن فرض نہیں ہے۔
۲؎: سہیل بن ابی صالح کی روایت میں «عن أبی قتادۃ» کے بجائے «عن جابر بن عبداللہ» ہے اور یہ غلط ہے کیونکہ عامر بن عبداللہ کے دیگر تلامذہ نے سہیل کی مخالفت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1013)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
124. باب مَا جَاءَ أَنَّ الأَرْضَ كُلَّهَا مَسْجِدٌ إِلاَّ الْمَقْبُرَةَ وَالْحَمَّامَ
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَجَابِرٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَحُذَيْفَةَ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي أُمَامَةَ , وَأَبِي ذَرٍّ، قَالُوا: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ رِوَايَتَيْنِ، مِنْهُمْ مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَذْكُرْهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ فِيهِ اضْطِرَابٌ. رَوَى سفيان الثوري، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَكَانَ عَامَّةُ رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَثْبَتُ وَأَصَحُّ مُرْسَلًا.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے ساری زمین مسجد ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے،
۲- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث عبدالعزیز بن محمد سے دو طریق سے مروی ہے، بعض لوگوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، سفیان ثوری نے بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور حماد بن سلمہ نے یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور محمد بن اسحاق نے بھی یہ حدیث بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه» اور ان کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی اکثر احادیث آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسعید ہی کے واسطہ سے مروی ہیں، لیکن اس میں انہوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، گویا ثوری کی روایت «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 24 (492)، سنن ابن ماجہ/المساجد 4 (745)، (تحفة الأشراف: 4406)، مسند احمد (3/8، 96) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جہاں چاہو نماز پڑھو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنی درست نہیں، حمام میں اس لیے کہ یہاں نجاست ناپاکی کا شک رہتا ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب شرک سے بچنے کے لیے سد باب کے طور پر ہے۔ بعض احادیث میں کچھ دیگر مقامات پر نماز ادا کرنے سے متعلق بھی ممانعت آئی ہے، ان کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (745)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
125. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ بُنْيَانِ الْمَسْجِدِ
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 318
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ , وَعَلِيٍّ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَأَنَسٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ , وَعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ , وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا غُلَامَانِ صَغِيرَانِ مَدَنِيَّانِ.
عثمان بن عفان رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی، تو اللہ اس کے لیے اسی جیسا گھر بنائے گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عثمان رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوبکر، عمر، علی، عبداللہ بن عمرو، انس، ابن عباس، عائشہ، ام حبیبہ، ابوذر، عمرو بن عبسہ، واثلہ بن اسقع، ابوہریرہ اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 4 (533)، والزہد 3 (44/533)، سنن ابن ماجہ/المساجد 1 (736)، (تحفة الأشراف: 9837)، مسند احمد (1/60، 70) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ مثلیت کمیت کے اعتبار سے ہو گی، کیفیت کے اعتبار سے یہ گھر اس سے بہت بڑھا ہوا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (736)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں