🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے (انتیس پورے ہو جانے پر) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو اور اگر بادل ہو جائے تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1907]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس رات کا بھی ہوتا ہے، لہذا تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1908
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا، وَخَنَسَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ اتنے دنوں اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ تیسری مرتبہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگھوٹھے کو دبا لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1908]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔“ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا دبا لیا، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1909
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یوں کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر بادل ہو جائے تو تیس دن پورے کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1909]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ یا کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رمضان کا) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (شوال کا) چاند دیکھ کر عید الفطر کرو اور اگر بادل چھایا ہو تو شعبان کی گنتی تیس دن پوری کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1909]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، آلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، غَدَا، أَوْ رَاحَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ شَهْرًا، فَقَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے، ان سے عکرمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے ایک مہینہ تک جدا رہے پھر انتیس دن پورے ہو گئے تو صبح کے وقت یا شام کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اس پر کسی نے کہا آپ نے تو عہد کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ان کے یہاں تشریف نہیں لے جائیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1910]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کے لیے اپنی بیویوں سے ترک تعلق کی قسم اٹھائی، جب انتیس دن گزر گئے تو صبح سویرے یا دوپہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، عرض کیا گیا کہ آپ نے تو ایک ماہ تک ان کے پاس نہ آنے کی قسم اٹھائی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1911
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا؟ فَقَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
ہم سے عبدالعزیزبن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے جدا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالاخانہ میں انتیس دن قیام کیا تھا، پھر وہاں سے اترے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ جواب میں آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1911]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک کے لیے اپنی بیویوں سے ترک تعلق کی قسم اٹھائی جبکہ آپ کے پاؤں کو موچ آگئی تھی۔ آپ اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک اقامت گزیں رہے۔ پھر آپ نیچے اتر آئے تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو مہینہ بھر کی قسم اٹھائی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ:
باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1912
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ إِسْحَاقُ: وَإِنْ كَانَ نَاقِصًا فَهُوَ تَمَامٌ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَا يَجْتَمِعَانِ كِلَاهُمَا نَاقِصٌ.
‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اسحاق بن راہویہ نے (اس کی تشریح میں) کہا کہ اگر یہ کم بھی ہوں پھر بھی (اجر کے اعتبار سے) تیس دن کا ثواب ملتا ہے محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا (مطلب یہ ہے) کہ دونوں ایک سال میں ناقص (انتیس انتیس دن کے) نہیں ہو سکتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: Q1912]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ: شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ، وَذُو الْحَجَّةِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسحاق سے سنا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھے مسدد نے خبر دی، ان سے معتمر نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں مہینے ناقص نہیں رہتے۔ مراد رمضان اور ذی الحجہ کے دونوں مہینے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1912]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید کے دونوں مہینے یعنی رمضان اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہم لوگ حساب کتاب نہیں جانتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1913
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا"، وَهَكَذَا يَعْنِي مَرَّةً تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، وَمَرَّةً ثَلَاثِينَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے بیان کیا، ان سے سعید بن عمرو نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم ایک بے پڑھی لکھی قوم ہیں نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا۔ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے۔ آپ کی مراد ایک مرتبہ انتیس (دنوں سے) تھی اور ایک مرتبہ تیس سے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسوں انگلیوں سے تین بار بتلایا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1913]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم امی لوگ ہیں، حساب کتاب نہیں جانتے۔ مہینہ اس طرح اور کبھی اس طرح ہوتا ہے، یعنی کبھی انتیس دن کا اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1913]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ لاَ يَتَقَدَّمَنَّ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ:
باب: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1914
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے (شعبان کی آخری تاریخوں میں) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1914]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے لیکن اگر کوئی شخص اپنے معمول کے روزے رکھتا ہو تو وہ اس دن روزہ رکھ لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1914]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ}:
باب: اللہ عزوجل کا فرمانا کہ حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے رمضان کا راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو، اللہ نے معلوم کیا کہ تم چوری سے ایسا کرتے تھے، سو معاف کر دیا تم کو اور درگزر کی تم سے پس اب صحبت کرو ان سے اور ڈھونڈو جو لکھ دیا اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں (اولاد سے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1915
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ"، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ لَهَا: أَعِنْدَكِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ، قَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا، وَنَزَلَتْ: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (شروع اسلام میں) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب روزہ سے ہوتے اور افطار کا وقت آتا تو کوئی روزہ دار اگر افطار سے پہلے بھی سو جاتا تو پھر اس رات میں بھی اور آنے والے دن میں بھی انہیں کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی تاآنکہ پھر شام ہو جاتی، پھر ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی روزے سے تھے جب افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا (اس وقت کچھ) نہیں ہے لیکن میں جاتی ہوں کہیں سے لاؤں گی، دن بھر انہوں نے کام کیا تھا اس لیے آنکھ لگ گئی جب بیوی واپس ہوئیں اور انہیں (سوتے ہوئے) دیکھا تو فرمایا افسوس تم محروم ہی رہے، لیکن دوسرے دن وہ دوپہر کو بیہوش ہو گئے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی ”حلال کر دیا گیا تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا“ اس پر صحابہ رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ ممتاز ہو جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری (صبح صادق) سیاہ دھاری (صبح کاذب) سے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1915]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی روزے سے ہوتا اور افطار کے وقت وہ افطار کرنے سے پہلے سو جاتا تو پھر باقی رات میں کچھ نہ کھا سکتا اور نہ دوسرے دن، یہاں تک کہ شام ہو جاتی۔ ایک دن قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، افطار کا وقت آیا تو اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن میں کہیں جاتی ہوں اور تمہارے لیے کھانے کا بندوبست کرتی ہوں۔ وہ سارا دن محنت مزدوری کرتے تھے، ان پر نیند غالب آ گئی اور سو گئے۔ پھر جب ان کی اہلیہ آئیں تو انہیں سویا ہوا دیکھ کر کہنے لگیں: ہائے تمہاری محرومی! وہ دوسرے دن دوپہر کے وقت بھوک کے مارے بے ہوش ہو گئے۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 187] ”تمہارے لیے روزوں کی رات اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔“ اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت خوش ہوئے۔ یہ بھی آیت نازل ہوئی: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا﴾ [سورة البقرة: 187] ”کھاؤ پیو تا آنکہ شب کی سیاہ دھاری سے سپیدہ صبح کی دھاری نمایاں نظر آ جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1915]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں