🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب مَا جَاءَ فِي الرِّهَانِ وَالسَّبَقِ
باب: گھڑ دوڑ میں شرط لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ، أَوْ خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الجہاد 67 (2574)، سنن النسائی/الخیل 14 (3615، 3616، 3619)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 44 (2878)، (تحفة الأشراف: 14638)، و مسند احمد (2/256، 358، 425، 474) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بشرطیکہ یہ انعام کا مال مقابلے میں حصہ لینے والوں کی طرف سے نہ ہو، اگر ان کی طرف سے ہے تو یہ قمار و جوا ہے جو جائز نہیں ہے، معلوم ہوا کہ مقررہ انعام کی صورت میں مقابلے کرانا درست ہے، لیکن یہ مقابلے صرف انہی کھیلوں میں جائز ہیں، جن کے ذریعہ نوجوانوں میں جنگی و دفاعی ٹریننگ ہو، کبوتر بازی، غلیل بازی، پتنگ بازی وغیرہ کے مقابلے تو سراسر ذہنی عیاشی کے سامان ہیں، موجودہ دور کے کھیل بھی بیکار ہی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2878)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ تُنْزَى الْحُمُرُ عَلَى الْخَيْلِ
باب: گھوڑی پر گدھے چھوڑنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1701
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ مُوسَى بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا، مَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثٍ: " أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، فَقَالَ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَوَهِمَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا: ہم کو حکم دیا ۱؎ کہ پوری طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- سفیان ثوری نے ابوجہضم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کی سند یوں بیان کی، «عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس عن ابن عباس»،
۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ثوری کی حدیث غیر محفوظ ہے، اس میں ثوری سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث بن سعید نے ابوجہضم سے، ابوجہضم عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے، اور عبیداللہ نے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کی ہے،
۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 131 (808)، سنن النسائی/الطہارة 106 (141)، والخیل 10 (3611)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 49 (426)، (تحفة الأشراف: 5791)، و مسند احمد (1/225، 235، 249) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم ایجابی تھا، ورنہ اتمام وضوء سب کے لیے مستحب ہے، اور گدھے کو گھوڑی پر چھوڑنا سب کے لیے مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب مَا جَاءَ فِي الاِسْتِفْتَاحِ بِصَعَالِيكِ الْمُسْلِمِينَ
باب: غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1702
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ابْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی (دعاؤں کی برکت کی) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الجہاد 77 (2594)، سنن النسائی/الجہاد 43 (3181)، (تحفة الأشراف: 10923)، و مسند احمد (5/198) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں مالدار لوگوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اپنے سے کمتر درجے کے لوگوں کو حقیر نہ سمجھیں، کیونکہ انہیں دنیاوی اعتبار سے جو آسانیاں حاصل ہیں یہ کمزوروں کے باعث ہی ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کمزور مسلمانوں کی دعائیں بہت کام آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے ان کمزور مسلمانوں کی دعا سے مدد طلب کرنے کو کہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (779) ، صحيح أبي داود (2335) ، التعليق الرغيب (1 / 24)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَجْرَاسِ عَلَى الْخَيْلِ
باب: گھوڑوں کے گلے میں گھنٹیاں لٹکانے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1703
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، وَلَا جَرَسٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمر، عائشہ، ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 27 (2113)، سنن ابی داود/ الجہاد 51 (255)، (تحفة الأشراف: 12703)، و مسند احمد (2/263، 311، 327، 343، 385، 392، 414، 444، 476)، سنن الدارمی/الاستئذان 44 (2718) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسے کتے جو شکار یا نگرانی کے لیے ہوں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، گھوڑے کے گلے میں گھنٹی لٹکانے سے دشمن کو گھوڑے کے مالک کی بابت اطلاع ہو جاتی ہے، اس لیے اسے ناپسند کیا گیا، اور گھنٹی سے مراد ہر وہ چیز ہے جو جانور کی گردن میں لٹکا دی جائے تو حرکت کے ساتھ آواز ہوتی رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (4 / 494) ، صحيح أبي داود (2303)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. باب مَا جَاءَ مَنْ يُسْتَعْمَلُ عَلَى الْحَرْبِ
باب: جنگ کے لیے امیر مقرر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1704
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ الْجَوَّابِ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَعَثَ جَيْشَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ "، فَقَالَ: " إِذَا كَانَ الْقِتَالُ، فَعَلِيٌّ "، قَالَ: فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً، فَكَتَبَ مَعِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِي بِهِ، فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ الْكِتَابَ، فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ ثُمَّ قَالَ: " مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ "، قَالَ: قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ، فَسَكَتَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، قَوْلُهُ يَشِي بِهِ، يَعْنِي: النَّمِيمَةَ.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر روانہ کیا ۱؎، ایک پر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے پر خالد بن ولید رضی الله عنہ کو امیر مقرر کیا اور فرمایا: جب جنگ ہو تو علی امیر ہوں گے ۲؎، علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس میں سے ایک لونڈی لے لی، خالد بن ولید رضی الله عنہ نے مجھ کو خط کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں میں تو صرف قاصد ہوں، لہٰذا آپ خاموش ہو گئے ۳؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف احوص بن جواب کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- اس باب میں ابن عمر سے بھی حدیث مروی ہے، ۳- «يشي به» کا معنی چغل خوری ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف واعادہ في المناقب برقم 3725، (تحفة الأشراف: 1901) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابواسحاق مدلس ومختلط ہیں، لیکن عمران بن حصین (عند المؤلف برقم 3712) کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ دونوں لشکر یمن کی طرف روانہ کئے گئے تھے۔
۲؎: یعنی پہنچتے ہی اگر دشمن سے مقابلہ شروع ہو جائے تو علی رضی الله عنہ اس کے امیر ہوں گے، اور اگر دونوں لشکر علیحدہ علیحدہ رہیں تو ایک کے علی رضی الله عنہ اور دوسرے کے خالد رضی الله عنہ امیر ہوں گے۔
۳؎: یعنی ایک آدمی کی ماتحتی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا، اس کی ماتحتی قبول کرتے ہوئے اس کی اطاعت کی اور اس کے قلم سے یہ خط لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اب اس میں میرا کیا قصور ہے یہ سن کر آپ خاموش رہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد // وسيأتي (776 / 3991) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1704) إسناده ضعيف / يأتي : 3725
أبوإسحاق السبيعي عنعن (تقدم: 107)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. باب مَا جَاءَ فِي الإِمَامِ
باب: امام اور حاکم کی ذمہ داریوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1705
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَحَدِيثُ أَنَسٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: حَكَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مُحَمَّدٌ بِنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشَّارٍ، قَالَ: وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ "، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَإِنَّمَا الصَّحِيحُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چنانچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے،
امام ترمذی کہتے ہیں:
میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 11 (893)، والاستقراض 20 (2409)، والعتق 17 (2554)، والوصایا 9 (2751)، والنکاح 81 (5200)، والأحکام 1 (7138)، صحیح مسلم/الإمارة 5 (1829)، سنن ابی داود/ الخراج 1 (2928)، (تحفة الأشراف: 295)، و مسند احمد (2/5، 45، 111، 121) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جو جس چیز کا ذمہ دار ہے اس سے اس چیز کے متعلق باز پرس بھی ہو گی، اب یہ ذمہ دار کا کام ہے کہ اپنے متعلق یہ احساس و خیال رکھے کہ اسے اس ذمہ داری کا حساب و کتاب بھی دینا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، صحيح أبي داود (2600)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب مَا جَاءَ فِي طَاعَةِ الإِمَامِ
باب: امام کی اطاعت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1706
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ قَدِ الْتَفَعَ بِهِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، قَالَتْ: فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى عَضَلَةِ عَضُدِهِ تَرْتَجُّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوا لَهُ، وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ لَكُمْ كِتَابَ اللَّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أُمِّ حُصَيْنٍ.
ام حصین احمسیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، (گویا میں) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے (یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے) ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- (یہ حدیث) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے،
۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 51 (1298/311)، والإمارة (1838/37)، (تحفة الأشراف: 18313)، و مسند احمد (6/402) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں امیر کی اطاعت اور اس کی ماتحتی میں رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، اور ہر ایسے عمل سے دور رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے جس سے فتنہ کے سر اٹھانے اور مسلمانوں کی اجتماعیت میں انتشار پید ہونے کا اندیشہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2861)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب مَا جَاءَ لاَ طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ
باب: خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1707
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَلَا طَاعَةَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 108 (2955)، والأحکام 4 (7144)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1839)، سنن ابی داود/ الجہاد 96 (2626)، سنن النسائی/البیعة 34 (4211)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 40 (2864)، (تحفة الأشراف: 8088)، و مسند احمد (2/17، 42) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی امام کا حکم پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ اسے بجا لانا ضروری ہے، بشرطیکہ معصیت سے اس کا تعلق نہ ہو، اگر معصیت سے متعلق ہے تو اس سے گریز کیا جائے گا، لیکن ایسی صورت سے بچنا ہے جس سے امام کی مخالفت سے فتنہ و فساد کے رونما ہونے کا خدشہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ وَالضَّرْبِ وَالْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ
باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الجہاد 56 (2562)، (تحفة الأشراف: 6431) (ضعیف) (اس کے راوی ابو یحییٰ قتات ضعیف ہیں)»
وضاحت: ۱؎: منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہو گی، نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف غاية المرام (383) ، ضعيف أبي داود (443)
قال الشيخ زبير على زئي:(1708) إسناده ضعيف / د 2562

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَيُقَالُ: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ قُطْبَةَ، وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَأَبُو يَحْيَى هُوَ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ وَيُقَالُ اسْمُهُ: زَاذَانُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ طَلْحَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ.
مجاہد سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے،
۲- کہا جاتا ہے، قطبہ کی (اگلی) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے،
۳- اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے،
۴- اس باب میں طلحہ، جابر، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19280) (ضعیف) (ابو یحیی قتات ضعیف ہیں، نیز یہ روایت مرسل ہے)»
قال الشيخ زبير على زئي:(1709) إسناده ضعيف
السند مرسل، وانظر الحديث السابق:1708

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں