علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في كراهية التحريش بين البهائم والضرب والوسم في الوجه
باب: جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الجہاد 56 (2562)، (تحفة الأشراف: 6431) (ضعیف) (اس کے راوی ابو یحییٰ قتات ضعیف ہیں)»
وضاحت: ۱؎: منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہو گی، نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف غاية المرام (383) ، ضعيف أبي داود (443)
قال الشيخ زبير على زئي:(1708) إسناده ضعيف / د 2562
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1708
| نهى رسول الله عن التحريش بين البهائم |
سنن أبي داود |
2562
| نهى رسول الله عن التحريش بين البهائم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1708 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1708
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہوگی،
نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں،
بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔
نوٹ:
(اس کے راوی ابویحییٰ قتات ضعیف ہیں)
وضاحت:
1؎:
منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہوگی،
نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں،
بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔
نوٹ:
(اس کے راوی ابویحییٰ قتات ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1708]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2562
جانوروں کو لڑانے کی ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2562]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2562]
فوائد ومسائل:
بہ اعتبار سند کے یہ روایت ضعیف ہے۔
مگر بلحاظ معنی بات ایسے ہی ہے۔
کہ یہ عمل کس طرح بھی شرفاء کے لائق نہیں ہے۔
عوام کو بھی اس سے باز رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اور جب جانوروں کو لڑانے کی ممانعت ہے۔
تو لوگوں کے درمیان لڑائی کروا دینا تو اور بھی بدترین خصلت ہے۔
بہ اعتبار سند کے یہ روایت ضعیف ہے۔
مگر بلحاظ معنی بات ایسے ہی ہے۔
کہ یہ عمل کس طرح بھی شرفاء کے لائق نہیں ہے۔
عوام کو بھی اس سے باز رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اور جب جانوروں کو لڑانے کی ممانعت ہے۔
تو لوگوں کے درمیان لڑائی کروا دینا تو اور بھی بدترین خصلت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2562]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1708 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي