صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ كَلاَمِ الْخُصُومِ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ:
باب: مدعی یا مدعی علیہ ایک دوسرے کی نسبت جو کہیں۔
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى يَا كَعْبُ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيِ الشَّطْرَ، قَالَ: لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: قُمْ فَاقْضِهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے مسجد میں اپنے قرض کا تقاضا کیا۔ اور دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گھر میں سن لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ مبارک کا پردہ اٹھا کر پکارا اے کعب! انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا قرض کم کر دینے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھ اب قرض ادا کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2418]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہما سے مسجد میں اپنے قرض کا تقاضا کیا جو ان کے ذمے تھا۔ اس دوران میں ان دونوں کی آوازیں اس قدر بلند ہو گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنیں جبکہ آپ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا اور باہر تشریف لائے اور آواز دی: ”اے کعب!“ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے قرض میں اتنا کم کر دو۔“ آپ نے نصف کم کرنے کا اشارہ فرمایا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے (آدھا کم) کر دیا۔ آپ نے (دوسرے فریق سے) فرمایا: ”اٹھو اور باقی قرض ادا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2418]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2419
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، وَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لِي: أَرْسِلْهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اقْرَأْ، فَقَرَأَ، قَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے، انہیں عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان ایک دفعہ اس قرآت سے پڑھتے سنا جو اس کے خلاف تھی جو میں پڑھتا تھا۔ حالانکہ میری قرآت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں فوراً ہی ان پر کچھ کر بیٹھوں، لیکن میں نے انہیں مہلت دی کہ وہ (نماز سے) فارغ ہو لیں۔ اس کے بعد میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو گھسیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں نے انہیں اس قرآت کے خلاف پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ پہلے انہیں چھوڑ دے۔ پھر ان سے فرمایا کہ اچھا اب تم قرآت سناؤ۔ انہوں نے وہی اپنی قرآت سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تم بھی پڑھو، میں نے بھی پڑھ کر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی۔ قرآن سات قراتوں میں نازل ہوا ہے۔ تم کو جس میں آسانی ہو اسی طرح سے پڑھ لیا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2419]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما کو سورہ فرقان اس طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا کہ جس طرح میں پڑھتا تھا وہ اس کے خلاف تھا، حالانکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے کے مطابق پڑھایا تھا۔ قریب تھا کہ میں ان پر جھپٹ پڑوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا۔ جب وہ قراءت سے فارغ ہوئے تو میں نے انہی کی چادر ان کے گلے میں ڈالی اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ میں نے عرض کیا: یہ سورہ فرقان اس طریقے کے خلاف پڑھتے ہیں جو آپ نے مجھے سکھایا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ پھر ان سے فرمایا: ”پڑھو۔“ انہوں نے پڑھا۔ آپ نے فرمایا: ”اسی طرح نازل ہوئی ہے۔“ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ”پڑھو۔“ میں نے پڑھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ بے شک قرآن کا نزول سات حروف پر ہوا ہے۔ تمہیں جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2419]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
5. بَابُ إِخْرَاجِ أَهْلِ الْمَعَاصِي وَالْخُصُومِ مِنَ الْبُيُوتِ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ:
باب: جب حال معلوم ہو جائے تو مجرموں اور جھگڑے والوں کو گھر سے نکال دینا۔
حدیث نمبر: Q2420
وَقَدْ أَخْرَجَ عُمَرُ أُخْتَ أَبِي بَكْرٍ حِينَ نَاحَتْ.
اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بہن ام فروہ رضی اللہ عنہا نے جب وفات صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر نوحہ کیا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں (ان کے گھر سے) نکال دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: Q2420]
حدیث نمبر: 2420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى مَنَازِلِ قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ نماز کی جماعت قائم کرنے کا حکم دے کر خود ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھر کو جلا دوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2420]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ نماز کھڑی کر دینے کا حکم دوں، جب کھڑی کر دی جائے تو خود ان لوگوں کی طرف نکلوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے، پھر ان سمیت (ان کے) گھروں کو آگ لگا دوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2420]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
6. بَابُ دَعْوَى الْوَصِيِّ لِلْمَيِّتِ:
باب: میت کا وصی اس کی طرف سے دعویٰ کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2421
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ أَنْ أَنْظُرَ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَأَقْبِضَهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي: وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ زمعہ کی ایک باندی کے لڑے کے بارے میں عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی نے مجھ کو وصیت کی تھی کہ جب میں (مکہ) آؤں اور زمعہ کی باندی کے لڑکے کو دیکھوں تو اسے اپنی پرورش میں لے لوں۔ کیونکہ وہ انہیں کا لڑکا ہے۔ اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ وہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی باندی کا لڑکا ہے۔ میرے والد ہی کے ”فراش“ میں اس کی پیدائش ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے اندر (عتبہ کی) واضح مشابہت دیکھی۔ لیکن فرمایا کہ اے عبد بن زمعہ! لڑکا تو تمہاری ہی پرورش میں رہے گا کیونکہ لڑکا ”فراش“ کے تابع ہوتا ہے اور سودہ تو اس لڑکے سے پردہ کیا کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2421]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عبد بن زمعہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کا مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ آؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو نگاہ میں رکھوں اور اسے قبضے میں لے لوں کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔ حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے کی عتبہ سے) واضح مشابہت دیکھی تو فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تجھے ملے گا کیونکہ بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو۔ اور اے سودہ! تم اس سے پردہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
7. بَابُ التَّوَثُّقِ مِمَّنْ تُخْشَى مَعَرَّتُهُ:
باب: اگر شرارت کا ڈر ہو تو ملزم کا باندھنا درست ہے۔
حدیث نمبر: Q2422
وَقَيَّدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِكْرِمَةَ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ وَالسُّنَنِ وَالْفَرَائِضِ.
اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے (اپنے غلام) عکرمہ کو قرآن و حدیث اور دین کے فرائض سیکھنے کے لیے قید کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: Q2422]
حدیث نمبر: 2422
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سواروں کا ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا۔ یہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور جو اہل یمامہ کا سردار تھا، پکڑ لائے اور اسے مسجد نبوی کے ایک ستون میں باندھ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ثمامہ! تو کس خیال میں ہے؟ انہوں نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں اچھا ہوں۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2422]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ روانہ کیا تو وہ لوگ قبیلہ بنی حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ لائے، وہ اہل یمامہ کا سردار ثمامہ بن اثال تھا، انہوں نے اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور پوچھا: ”اے ثمامہ! اب تمہارے مزاج کا کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس تو اب خیر ہی خیر ہے، اس کے بعد پوری حدیث کا ذکر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو آزاد کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
8. بَابُ الرَّبْطِ وَالْحَبْسِ فِي الْحَرَمِ:
باب: حرم میں کسی کو باندھنا اور قید کرنا۔
حدیث نمبر: Q2423
وَاشْتَرَى نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ دَارًا لِلسِّجْنِ بِمَكَّةَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَلَى أَنَّ عُمَرَ إِنْ رَضِيَ فَالْبَيْعُ بَيْعُهُ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ عُمَرُ فَلِصَفْوَانَ أَرْبَعُ مِائَةِ دِينَارٍ، وَسَجَنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ.
اور نافع بن عبدالحارث نے مکہ میں صفوان بن امیہ سے ایک مکان جیل خانہ بنانے کے لیے اس شرط پر خریدا کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ اس خریداری کو منظور کریں گے تو بیع پوری ہو گی، ورنہ صفوان کو جواب آنے تک چار سو دینار تک کرایہ دیا جائے گا۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں لوگوں کو قید کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: Q2423]
حدیث نمبر: 2423
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کا ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا جو بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو پکڑ لائے۔ اور مسجد کے ایک ستون سے اس کو باندھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2423]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک فوجی دستہ روانہ کیا، وہ لوگ بنوحنیفہ قبیلے کا ایک آدمی پکڑ لائے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
9. بَابُ الْمُلاَزَمَةِ:
باب: قرض داروں کے ساتھ رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2424
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَقَالَ غَيْرُهُ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ دَيْنٌ، فَلَقِيَهُ، فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَمَرَّ بِهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا كَعْبُ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ، وَتَرَكَ نِصْفًا.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، اور یحییٰ بن بکیر کے علاوہ نے بیان کیا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے، اور ان سے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرض تھا، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا۔ پھر دونوں کی گفتگو تیز ہونے لگی۔ اور آواز بلند ہو گئی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے کعب! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے گویا یہ فرمایا کہ آدھے قرض کی کمی کر دے۔ چنانچہ انہوں نے آدھا لے لیا اور آدھا قرض معاف کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2424]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا کچھ قرض حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہما کے ذمے تھا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور انھیں اپنی نگرانی میں لے لیا، بالآخر دونوں میں جھگڑا ہوا حتیٰ کہ ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے کعب!“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے اشارہ فرمایا کہ آدھا قرض چھوڑ دو، چنانچہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے آدھا قرض وصول کیا اور باقی آدھا چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة