صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الإِشْخَاصِ وَالْخُصُومَةِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِ:
باب: قرض دار کو پکڑ کر لے جانا اور مسلمان اور یہودی میں جھگڑا ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2410
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ: أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ:"سَمِعْتُ رَجُلًا قَرَأَ آيَةً سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ". قَالَ شُعْبَةُ: أَظُنُّهُ قَالَ: لَا تَخْتَلِفُوا، فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ عبدالملک بن میسرہ نے مجھے خبر دی کہا کہ میں نے نزال بن سمرہ سے سنا، اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو قرآن کی آیت اس طرح پڑھتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کے خلاف سنا تھا۔ اس لیے میں ان کا ہاتھ تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرا اعتراض سن کر) فرمایا کہ تم دونوں درست ہو۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2410]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو قرآن کی ایک آیت اس طرح پڑھتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے وہ آیت اس کے خلاف سنی تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں کی قراءت ٹھیک ہے۔“ (راویِ حدیث) شعبہ نے کہا: میرے خیال کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اختلاف نہ کیا کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں نے اختلاف کیا تو وہ ہلاک ہو گئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2411
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" اسْتَبَّ رَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ، وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، قَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ، فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ جَانِبَ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ".
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو شخصوں نے جن میں ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ مسلمان نے کہا، اس ذات کی قسم! جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی۔ اور یہودی نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی۔ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے طمانچہ مارا۔ وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور مسلمان کے ساتھ اپنے واقعہ کو بیان کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلایا اور اس سے واقعہ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تفصیل بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا، مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دیئے جائیں گے۔ میں بھی بیہوش ہو جاؤں گا۔ بے ہوشی سے ہوش میں آنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا، لیکن موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ پکڑے ہوئے پاؤں گا۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہونے والوں میں ہوں گے اور مجھ سے پہلے انہیں ہوش آ جائے گا۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2411]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ مسلمان کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہانوں پر برتری دی! یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام اہل جہاں پر برگزیدہ کیا! اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا۔ وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور مسلمان کا ماجرا کہہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے سارا قصہ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے موسیٰ علیہ السلام پر برتری نہ دو کیونکہ قیامت کے دن جب سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے اور میں بھی بے ہوش ہو جاؤں گا اور سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک پایہ پکڑے کھڑے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ بے ہوش ہو کر مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2412
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ جَاءَ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، ضَرَبَ وَجْهِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ: مَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: ادْعُوهُ، فَقَالَ: أَضَرَبْتَهُ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ بِالسُّوقِ يَحْلِفُ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، قُلْتُ: أَيْ خَبِيثُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ضَرَبْتُ وَجْهَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ أَمْ حُوسِبَ بِصَعْقَةِ الْأُولَى".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ یحییٰ بن عمارہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم! آپ کے اصحاب میں سے ایک نے مجھے طمانچہ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کس نے؟ اس نے کہا کہ ایک انصاری نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلاؤ۔ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے بازار میں یہ قسم کھاتے سنا۔ اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر بزرگی دی۔ میں نے کہا، او خبیث! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی! مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو انبیاء میں باہم ایک دوسرے پر اس طرح بزرگی نہ دیا کرو۔ لوگ قیامت میں بیہوش ہو جائیں گے۔ اپنی قبر سے سب سے پہلے نکلنے والا میں ہی ہوں گا۔ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہوں گے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا انہیں پہلی بے ہوشی جو طور پر ہو چکی ہے وہی کافی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2412]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی آیا اور کہنے لگا: ابوالقاسم! آپ کے ایک صحابی نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس نے؟“ اس نے عرض کیا: وہ انصار کا ایک آدمی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بلاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تو نے اسے مارا ہے؟“ وہ کہنے لگا: میں نے بازار میں اس کو قسم اٹھاتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ تو میں نے کہا: اے خبیث! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی؟ مجھے غصہ آگیا اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علیہ السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو کیونکہ قیامت کے دن جب سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے جس کی قبر کھلے گی وہ میں ہوں گا۔ میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ بے ہوش ہونے والوں میں سے تھے یا ان کی پہلی بے ہوشی ہی ان کے حق میں شمار کر لی گئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، قِيلَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ أَفُلَانٌ، أَفُلَانٌ، حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تھا۔ (اس میں کچھ جان باقی تھی) اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے، فلاں نے؟ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں) یہودی پکڑا گیا اور اس نے بھی جرم کا اقرار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2413]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ جب اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ برتاؤ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو لڑکی نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ پھر وہ یہودی گرفتار کر لیا گیا اور اس نے (اپنے جرم کا) اعتراف بھی کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر بھی پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
2. بَابُ مَنْ رَدَّ أَمْرَ السَّفِيهِ وَالضَّعِيفِ الْعَقْلِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَرَ عَلَيْهِ الإِمَامُ:
باب: ایک شخص نادان یا کم عقل ہو گو حاکم اس پر پابندی نہ لگائے مگر اس کا کیا ہوا معاملہ رد کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: Q2414-2
، وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ عَلَى الْمُتَصَدِّقِ قَبْلَ النَّهْيِ، ثُمَّ نَهَاهُ، وَقَالَ مَالِكٌ: إِذَا كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ مَالٌ وَلَهُ عَبْدٌ لَا شَيْءَ لَهُ غَيْرُهُ فَأَعْتَقَهُ لَمْ يَجُزْ عِتْقُهُ، وَمَنْ بَاعَ عَلَى الضَّعِيفِ وَنَحْوِهِ.
اور جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا صدقہ رد کر دیا، پھر اس کو ایسی حالت میں صدقہ کرنے سے منع فرما دیا اور امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر کسی کا کسی دوسرے پر قرض ہو اور مقروض کے پاس صرف ایک ہی غلام ہو۔ اس کے سوا اس کے پاس کچھ بھی جائیداد نہ ہو تو اگر مقروض اپنے اس غلام کو آزاد کر دے تو اس کی آزادی جائز نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: Q2414-2]
3. بَابُ مَنْ بَاعَ عَلَى الضَّعِيفِ وَنَحْوِهِ:
باب: اور اگر کسی نے کسی کم عقل کی کوئی چیز بیچ کر اس کی قیمت اسے دے دی۔
حدیث نمبر: Q2414
فَدَفَعَ ثَمَنَهُ إِلَيْهِ، وَأَمَرَهُ بِالْإِصْلَاحِ وَالْقِيَامِ بِشَأْنِهِ، فَإِنْ أَفْسَدَ بَعْدُ مَنَعَهُ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ إِضَاعَةِ الْمَالِ، وَقَالَ لِلَّذِي يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ، وَلَمْ يَأْخُذْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهُ.
اور اس نے اپنی اصلاح کرنے اور اپنا خیال رکھنے کے لیے کہا، لیکن اس نے اس کے باوجود مال برباد کر دیا تو اسے اس کے خرچ کرنے سے حاکم روک دے گا۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے جو خریدتے وقت دھوکا کھا جایا کرتا تھا فرمایا تھا کہ جب تو کچھ خرید و فروخت کرے تو کہا کر کہ کوئی دھوکے کا کام نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال اپنے قبضے میں نہ لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: Q2414]
حدیث نمبر: 2414
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَايَعْتَ، فَقُلْ لَا خِلَابَةَ"، فَكَانَ يَقُولُهُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک صحابی کوئی چیز خریدتے وقت دھوکا کھا جایا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تو خریدا کرے تو یہ کہہ دے کہ کوئی دھوکا نہ ہو۔ پس وہ اسی طرح کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2414]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کو خرید و فروخت میں دھوکا دیا جاتا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت فرمائی: ”جب خرید و فروخت کرو تو «لَا خِلَابَةَ» کے الفاظ کہہ دیا کرو“، یعنی اس میں دھوکا نہیں ہوگا، چنانچہ وہ (معاملہ کرتے وقت) یہ (الفاظ) کہہ دیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2414]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2415
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ".
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے اپنا ایک غلام آزاد کیا، لیکن اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کا غلام واپس کرا دیا۔ اور اسے نعیم بن نحام نے خرید لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2415]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنا ایک غلام آزاد کیا جبکہ اس کے پاس اور کوئی مال نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اقدامِ آزادی کو مسترد کر دیا۔ پھر (بعد میں) اس غلام کو حضرت نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ نے خرید لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2415]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
4. بَابُ كَلاَمِ الْخُصُومِ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ:
باب: مدعی یا مدعی علیہ ایک دوسرے کی نسبت جو کہیں۔
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"، قَالَ: فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے کوئی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی تاکہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کر لے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ پاک اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ سے ہی متعلق ایک مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ اس نے انکار کیا تو میں نے مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا، کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا کہ پھر تو قسم کھا۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر تو یہ جھوٹی قسم کھا لے گا اور میرا مال اڑا لے جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونچی خریدتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2416]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔“ حضرت اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ حدیث میرے متعلق وارد ہے۔ ہوا یوں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان زمین کا تنازع تھا۔ وہ مجھے زمین دینے سے انکار کرتا تھا تو میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تیرے پاس کوئی دلیل (گواہ) ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے یہودی سے کہا: ”تم قسم اٹھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو قسم اٹھا کر میرا مال لے اڑے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسم کو معمولی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔۔۔﴾ [سورة آل عمران: 77] آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2417
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"، قَالَ: فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے کوئی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی تاکہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کر لے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ پاک اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ سے ہی متعلق ایک مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ اس نے انکار کیا تو میں نے مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا، کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا کہ پھر تو قسم کھا۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر تو یہ جھوٹی قسم کھا لے گا اور میرا مال اڑا لے جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونچی خریدتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2417]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔“ حضرت اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ حدیث میرے متعلق وارد ہے۔ ہوا یوں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان زمین کا تنازع تھا۔ وہ مجھے زمین دینے سے انکار کرتا تھا تو میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تیرے پاس کوئی دلیل (گواہ) ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: ”تم قسم اٹھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو قسم اٹھا کر میرا مال لے اڑے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسم کو معمولی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔۔۔“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة