صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ لاَ تُحْتَلَبُ مَاشِيَةُ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنٍ:
باب: کسی جانور کا دودھ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہا جائے۔
حدیث نمبر: 2435
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ، فَلَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی نافع سے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص کسی دوسرے کے دودھ کے جانور کو مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔ کیا کوئی شخص یہ پسند کرے گا کہ ایک غیر شخص اس کے گودام میں پہنچ کر اس کا ذخیرہ کھولے اور وہاں سے اس کا غلہ چرا لائے، لوگوں کے مویشی کے تھن بھی ان کے لیے کھانا یعنی (دودھ کے) گودام ہیں۔ اس لیے انہیں بھی مالک کی اجازت کے بغیر نہ دوھا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2435]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کے جانور کا دودھ نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص اس کے گودام میں گھس جائے، پھر اس کے تھیلوں کو کھول کر ان سے غلہ لے جائے؟ آگاہ رہو کہ مویشیوں کے تھن بھی لوگوں کے لیے ان کی غذا کے گودام ہیں، لہذا یہ جائز نہیں کہ تم میں سے کوئی دوسرے کے مویشی کو اس کی اجازت کے بغیر دوہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
9. بَابُ إِذَا جَاءَ صَاحِبُ اللُّقَطَةِ بَعْدَ سَنَةٍ رَدَّهَا عَلَيْهِ، لأَنَّهَا وَدِيعَةٌ عِنْدَهُ:
باب: پڑی ہوئی چیز کا مالک اگر ایک سال بعد آئے تو اسے اس کا مال واپس کر دے کیونکہ پانے والے کے پاس وہ امانت ہے۔
حدیث نمبر: 2436
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللُّقَطَةِ؟ قَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: خُذْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا حِذَاؤُهَا، وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے، ان سے منبعث کے غلام یزید نے، اور ان سے زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ۔ پھر اس کے بندھن اور برتن کی بناوٹ کو ذہن میں یاد رکھ۔ اور اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر۔ اس کا مالک اگر اس کے بعد آئے تو اسے واپس کر دے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! راستہ بھولی ہوئی بکری کا کیا کیا جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ یا تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑیئے کی ہو گی۔ صحابہ نے پوچھا، یا رسول اللہ! راستہ بھولے ہوئے اونٹ کا کیا کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر غصہ ہو گئے اور چہرہ مبارک سرخ ہو گیا (یا راوی نے «وجنتاه» کے بجائے) «احمر وجهه» کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ خود اس کے کھر اور اس کا مشکیزہ ہے۔ اسی طرح اسے اس کا اصل مالک مل جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2436]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ چیز اٹھانے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ایک سال تک تشہیر کرو، پھر اس کا بندھن اور تھیلی یاد کرلو، اس کے بعد اسے اپنے کسی مصرف میں خرچ کرلو، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے واپس کردو۔“ سائل نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بھٹکی ہوئی بکری کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑ لو کیونکہ وہ تمہاری ہے، یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیے کی نذر ہے۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آوارہ اونٹ کے متعلق کیا کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصے میں آگئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار یا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ سے تمہیں کیا کام؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشکیزہ ہے، اس کا مالک جب آئے گا تو اسے لے لے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2436]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
10. بَابُ هَلْ يَأْخُذُ اللُّقَطَةَ، وَلاَ يَدَعُهَا تَضِيعُ، حَتَّى لاَ يَأْخُذَهَا مَنْ لاَ يَسْتَحِقُّ:
باب: پڑی ہوئی چیز کا اٹھا لینا بہتر ہے ایسا نہ ہو وہ خراب ہو جائے یا کوئی غیر مستحق اس کو لے بھاگے۔
حدیث نمبر: 2437
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ فِي غَزَاةٍ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا، فَقَالَا لِي: أَلْقِهِ، قُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا حَجَجْنَا فَمَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: وَجَدْتُ صُرَّةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، ثُمَّ أَتَيْتُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: اعْرِفْ عِدَّتَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا اسْتَمْتِعْ بِهَا". حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بِهَذَا، قَالَ: فَلَقِيتُهُ بَعْدُ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي أَثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا کہ میں نے سوید بن غفلہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے ساتھ ایک جہاد میں شریک تھا۔ میں نے ایک کوڑا پایا (اور اس کو اٹھا لیا) دونوں میں سے ایک نے مجھ سے کہا کہ اسے پھینک دے۔ میں نے کہا کہ ممکن ہے مجھے اس کا مالک مل جائے۔ (تو اس کو دے دوں گا) ورنہ خود اس سے نفع اٹھاؤں گا۔ جہاد سے واپس ہونے کے بعد ہم نے حج کیا۔ جب میں مدینے گیا تو میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مجھ کو ایک تھیلی مل گئی تھی۔ جس میں سو دینار تھے۔ میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا اور پھر حاضر ہوا۔ (کہ مالک ابھی تک نہیں ملا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اور اعلان کر، میں نے ایک سال تک اس کا پھر اعلان کیا، اور حاضر خدمت ہوا۔ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا پھر اعلان کر، میں نے پھر ایک سال تک اعلان کیا اور جب چوتھی مرتبہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رقم کے عدد، تھیلی کا بندھن، اور اس کی ساخت کو خیال میں رکھ، اگر اس کا مالک مل جائے تو اسے دیدے ورنہ اسے اپنی ضروریات میں خرچ کر۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی شعبہ سے اور انہیں سلمہ نے یہی حدیث، شعبہ نے بیان کیا کہ پھر اس کے بعد مکہ میں سلمہ سے ملا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے خیال نہیں (اس حدیث میں سوید نے) تین سال تک بتلانے کا ذکر کیا تھا یا ایک سال کا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2437]
حضرت سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک لڑائی میں سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ میں نے ایک کوڑا دیکھا (تو اسے اٹھا لیا۔) مجھ سے انہوں نے کہا: اسے پھینک دو۔ میں نے کہا: نہیں پھینکتا، اگر اس کا مالک مل گیا تو اس کے حوالے کر دوں گا بصورت دیگر اسے اپنے کام میں لاؤں گا، چنانچہ جب ہم غزوے سے واپس آئے تو حج کیا، پھر مدینہ طیبہ سے گزر ہوا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک تھیلی ملی تھی جس میں سو دینار تھے۔ میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ایک سال تک تشہیر کرو۔“ میں نے اس کی سال بھر تشہیر کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال مزید تشہیر کرو۔“ میں نے ایک سال مزید ایسا کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اور اس کی تشہیر کرو۔“ میں نے اس کی ایک سال اور تشہیر کی۔ پھر چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی گنتی، بندھن اور تھیلی کی خوب شناخت کرو۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر، بصورت دیگر اس سے فائدہ حاصل کرو۔“ شعبہ کہتے ہیں: میں اس کے بعد سلمہ بن کہیل سے مکہ مکرمہ میں ملا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تین سال یا ایک سال تشہیر کرنے کے لیے کہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2437]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
11. بَابُ مَنْ عَرَّفَ اللُّقَطَةَ، وَلَمْ يَدْفَعْهَا إِلَى السُّلْطَانِ:
باب: لقطہٰ کو بتلانا لیکن حاکم کے سپرد نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 2438
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللُّقَطَةِ؟ قَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعِفَاصِهَا وَوِكَائِهَا، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْ بِهَا، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ، وَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، دَعْهَا حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ربیعہ سے، ان سے منبعث کے غلام یزید نے، اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر کوئی ایسا شخص آ جائے جو اس کی بناوٹ اور بندھن کے بارے میں صحیح صحیح بتائے (تو اسے دیدے) ورنہ اپنی ضروریات میں اسے خرچ کر۔ انہوں نے جب ایسے اونٹ کے متعلق بھی پوچھا جو راستہ بھول گیا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور اس کے کھر موجود ہیں۔ وہ خود پانی تک پہنچ سکتا ہے۔ اور درخت کے پتے کھا سکتا ہے اور اس طرح وہ اپنے مالک تک پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے راستہ بھولی ہوئی بکری کے متعلق بھی پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا وہ تمہاری ہو گی یا تمہارے بھائی (اصل مالک) کو مل جائے گی۔ ورنہ اسے بھیڑیا اٹھا لے جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2438]
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ایک سال کی تشہیر کر، اگر کوئی آئے اور اس کی تھیلی اور بندھن کے بارے میں ٹھیک ٹھیک نشاندہی کر دے تو اس کے حوالے کر دے، بصورتِ دیگر اسے خرچ کر لے۔“ پھر اس نے آوارہ اونٹ کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ سے تجھے کیا تعلق؟ اس کا مشکیزہ اور جوتا اس کے ساتھ ہے، وہ خود چشمے پر جا کر پانی پی لے گا اور درختوں کے پتے کھا لے گا، اسے چھوڑ دے حتیٰ کہ اس کا مالک اسے پا لے۔“ پھر اس نے بھٹکی بکری کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے لیے ہے، یا تیرے بھائی کے لیے یا پھر بھیڑیے کے لیے ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2438]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
12. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2439
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْبَرَاءُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" انْطَلَقْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ، فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَسَمَّاهُ، فَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُهُ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ: هَكَذَا ضَرَبَ إِحْدَى كَفَّيْهِ بِالْأُخْرَى، فَحَلَبَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو نضر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو اسرائیل نے خبر دی ابواسحاق سے کہ مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے خبر دی (دوسری سند) ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ابواسحاق سے، اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ (ہجرت کر کے مدینہ جاتے وقت) میں نے تلاش کیا تو مجھے ایک چرواہا ملا جو اپنی بکریاں چرا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کس کے چرواہے ہو؟ اس نے کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اس نے قریشی کا نام بھی بتایا، جسے میں جانتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تمہارے ریوڑ کی بکریوں میں دودھ بھی ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! میں نے اس سے کہا کیا تم میرے لیے دودھ دوہ لو گے؟ اس نے کہا، ہاں ضرور! چنانچہ میں نے اس سے دوہنے کے لیے کہا۔ وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری پکڑ لایا۔ پھر میں نے اس سے بکری کا تھن گرد و غبار سے صاف کرنے کے لیے کہا۔ پھر میں نے اس سے اپنا ہاتھ صاف کرنے کے لیے کہا۔ اس نے ویسا ہی کیا۔ ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر صاف کر لیا۔ اور ایک پیالہ دودھ دوہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے ایک برتن ساتھ لیا تھا۔ جس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے پانی دودھ پر بہایا۔ جس سے اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا پھر دودھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ دودھ حاضر ہے۔ یا رسول اللہ! پی لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2439]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں چلا تو ایک چرواہے کو دیکھا جو اپنی بکریاں ہانکے جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: تو کس کا چرواہا ہے؟ اس نے کہا: ایک قریشی کا۔ اس نے نام لیا تو میں نے اسے پہچان لیا۔ میں نے کہا: کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، چنانچہ میں نے اس کو دوہنے کے لیے کہا تو اس نے بکریوں میں سے ایک بکری باندھ دی۔ میں نے کہا: اس بکری کے تھن سے غبار صاف کر دے۔ پھر میں نے اس سے کہا: اپنے ہاتھ بھی جھاڑ لے تو اس نے ایسا ہی کیا اور ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مارا، پھر ایک پیالہ دودھ دوہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی کی ایک چھاگل رکھ لی تھی جس کے منہ پر کپڑا باندھا ہوا تھا۔ میں نے پانی دودھ پر ڈالا حتیٰ کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے نوشِ جاں کیجیے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا پیا کہ میرا دل خوش ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2439]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة