سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سر زمین عرب سے شیطان کی مایوسی
ترقیم الباني: 1608 ترقیم فقہی: -- 158
-" إن الشيطان قد أيس أن يعبده المصلون في جزيرة العرب ولكن في التحريش بينهم".
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک شیطان اس بات سے ناامید ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں نمازی (یعنی مسلمان) اس کی عبادت کریں، لیکن وہ انہیں فساد پر آمادہ کرتا رہے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 158]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1608
فتح مکہ والے دن ابلیس کی کیفیت
ترقیم الباني: 3467 ترقیم فقہی: -- 159
ـ (لما افتَتَحَ - صلى الله عليه وسلم - مكةَ؛ رَنَّ إبليسُ رنّةً اجتمعتْ إليه جنودُه، فقالَ: ايْأَسُوا أن نرى أمّةَ محمّدٍ على الشّركِ بعْدَ يومِكم هذا! ولكنِ افتنُوهم في دينِهِم، وأَفْشُوا فيهم النَّوحَ) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابلیس غمگین آواز سے رونے لگ گیا، اس کے لشکر اس کے پاس جمع ہو گئے۔ اس نے کہا: مایوس ہو جاؤ ہم آج کے بعد محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کو شرک میں مبتلا دیکھ سکیں، اب ان کے دین میں فتنے برپا کرو اور نوحہ کو عام کر دو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 159]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3467
شیطان کے ہتھکنڈے شیطان کی نافرمانی پر جنت کی بشارت
ترقیم الباني: 2979 ترقیم فقہی: -- 160
-" إن الشيطان قعد لابن آدم بأطرقه، فقعد له بطريق الإسلام، فقال: تسلم وتذر دينك ودين آبائك وآباء أبيك؟! فعصاه فأسلم، ثم قعد له بطريق الهجرة، فقال: تهاجر وتدع أرضك وسماءك، وإنما مثل المهاجر كمثل الفرس في الطول؟! فعصاه فهاجر، ثم قعد له بطريق الجهاد، فقال: تجاهد فهو جهد النفس والمال، فتقاتل فتقتل، فتنكح المرأة، ويقسم المال؟! فعصاه فجاهد. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فمن فعل ذلك كان حقا على الله عز وجل أن يدخله الجنة. ومن قتل كان حقا على الله أن يدخله الجنة. وإن غرق كان حقا على الله أن يدخله الجنة، أو وقصته دابته كان حقا على الله أن يدخله الجنة".
سیدنا سبرہ بن ابوفاکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدم (علیہ السلام) کے بیٹے (کو گمراہ کرنے کے لئے) شیطان اس کے مختلف راستوں میں گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ اسلام کے راستے میں بیٹھ کر (مسلمان ہونے والے) کو کہتا ہے: کیا تو اسلام قبول کرتا ہے اور اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کرتا ہے؟ لیکن ابن آدم اس کی نافرمانی کرتا ہے اور اسلام قبول کر لیتا ہے۔ پھر وہ ہجرت کے راستے پر بیٹھ جاتا ہے اور اسے کہتا ہے: کیا تو اب ہجرت کرتا ہے اور اپنے زمین و آسمان (یعنی علاقہ و وراثت) کو چھوڑنے لگا ہے، مہاجر کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے جو اس رسی میں ہو؟ لیکن وہ اس کی نافرمانی کرتے ہوئے ہجرت کر جاتا ہے۔ پھر وہ جہاد کے راستے پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: کیا تو جہاد کرنے کے لئے جا رہا ہے (دیکھ لے) یہ تو محنت و مشقت والا کام ہے، اس میں مال و دولت کھپ جاتا ہے، جب تو لڑے گا تجھے قتل کر دیا جائے گا، کوئی دوسرا تیری عورت سے نکاح کر لے گا اور تیرا مال (ورثا میں) تقسیم کر دیا جائے گا؟ لیکن وہ اس کی رائے کو ٹھکرا دیتا ہے اور جہاد کرتا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (شیطان کے ساتھ) ایسے کیا، تو اللہ تعالی پر حق ہے وہ اسے جنت میں داخل کرے اور جو شہید ہو تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے، اگر وہ غرق ہو گیا تو اللہ تعالی پر لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اگر اس کی سواری نے اسے اس طرح گرایا کہ اس ک «ی گر» دن ٹوٹ گئی (اور وہ فوت ہو گیا) تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل میں داخل کرے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 160]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2979
نظر لگنا برحق ہے
ترقیم الباني: 889 ترقیم فقہی: -- 161
-" إن العين لتولع الرجل بإذن الله حتى يصعد حالقا، ثم يتردى منه".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک نظر بد آدمی کو اللہ تعالی کے حکم سے دیوانا کر دیتی ہے، حتی کہ (بسا اوقار ایسے ہوتا ہے کہ) وہ اونچی جگہ پر چڑھتا ہے اور پھر وہاں سے گر پڑتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 161]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 889
ترقیم الباني: 781 ترقیم فقہی: -- 162
-" لا عدوى ولا طيرة والعين حق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ برے شگون کی کوئی حقیقت ہے اور نظر لگنا حق ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 162]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 781
ترقیم الباني: 1252 ترقیم فقہی: -- 163
-" لو كان شيء سابق القدر لسبقته العين".
عبید بن رفاقی سرقی کہتے ہیں: سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! جعفر کی اولاد کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کو دم کر دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کیونکہ کوئی چیز اگر تقدیر سے سبقت لے سکتی ہوتی تو وہ نظر ہوتی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 163]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1252
بنوثقیف کا کذاب اور مہلک
ترقیم الباني: 3538 ترقیم فقہی: -- 164
- (إنّ في ثقيف كذاباً ومُبِيراً) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ثقیف میں ایک کذاب ہو گا اور ایک مہلک (یعنی ہلاک کرنے والے)۔“ یہ حدیث سیدہ اسما بنت ابوبکر صدیق، سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ سلامہ بنت جعفیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ سیدہ اسما رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حجاج سے کہا: آگاہ ہو جا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان کیا تھا کہ ”ثقیف قبیلہ میں ایک کذاب ہو گا اور ایک مہلک۔“ کذاب تو ہم نے دیکھ لیا، رہا مسئلہ مہلک کا، تو میں یہی سمجھ پا رہی ہوں کہ وہ تو ہی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 164]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3538
بنو آدم کے دلوں کا اللہ تعالیٰ کے قابو میں ہونا اور اس کا تقاضا
ترقیم الباني: 1689 ترقیم فقہی: -- 165
-" إن قلوب بني آدم كلها بين إصبعين من أصابع الرحمن كقلب واحد يصرفه كيف يشاء. ثم يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم مصرف القلوب صرف قلوبنا إلى طاعتك".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بنی آدم کے دل رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی مانند ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے ان کو پلٹ دیتا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: ”اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے: ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 165]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1689
فرزندان امت کی دیدار نبی کی شدید خواہش
ترقیم الباني: 3438 ترقیم فقہی: -- 166
- (إنّ قوماً يأتونَ من بعْدِي، يودُّ أحدُهم أنْ يفتدِيَ برؤيتي أهلَه ومالَه) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ وہ اپنے اہل و عیال اور مال و منال کو میرے دیدار کی خاطر قربان کر دینے کو پسند کریں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 166]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3438
اسلام کی علامات
ترقیم الباني: 333 ترقیم فقہی: -- 167
-" إن للإسلام صوى ومنارا كمنار الطريق، منها أن تؤمن بالله ولا تشرك به شيئا وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وحج البيت والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وأن تسلم على أهلك إذا دخلت عليهم وأن تسلم على القوم إذا مررت بهم فمن ترك من ذلك شيئا، فقد ترك سهما من الإسلام ومن تركهن" كلهن"، فقد ولى الإسلام ظهره".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستے کی طرح اسلام کی بھی کچھ نشانیاں اور علامتیں ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: اللہ پر ایمان لانا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، گھر والوں پر داخل ہوتے وقت ان پر سلام کرنا اور لوگوں کے پاس سے گزرتے وقت انہیں سلام کہنا۔ جس نے ان امور میں سے کسی میں کمی کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اسلام کی ایک شق ترک کر دی اور جس نے ان تمام چیزوں کو ترک کر دیا، اس نے تو اسلام کی طرف اپنی پیٹھ پھیر دی (یا اسلام کو پس پشت ڈال دیا)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 167]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 333