🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ایمان اور جہاد افضل اعمال ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1490 ترقیم فقہی: -- 119
-" أفضل العمل إيمان بالله وجهاد في سبيل الله".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا افضل عمل ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 119]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1490

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اسلام، جہاد اور ہجرت کی اقسام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1491 ترقیم فقہی: -- 120
-" أفضل المؤمنين إسلاما من سلم المسلمون من لسانه ويده وأفضل الجهاد من جاهد نفسه في ذات الله وأفضل المهاجرين من جاهد لنفسه وهواه في ذات الله".
علا بن زیاد کہتے ہیں: ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: اسلام کے لحاظ سے کون سے مومن افضل ہیں؟ انھوں نے کہا: ”اسلام کے لحاظ سے افضل مومن وہ ہیں جن کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہیں۔ اللہ تعالی کی ذات کے لئے اپنے نفس سے جہاد کرنا افضل جہاد ہے اور اللہ تعالی کی ذات کی خاطر اپنے نفس اور خواہش کا مقابلہ کرنا افضل ہجرت ہے۔“ اس نے کہا: اے عبداللہ بن عمر! یہ باتیں آپ کی ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائیں ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 120]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1491

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
افضل ہجرت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 553 ترقیم فقہی: -- 121
-" أفضل الهجرة أن تهجر ما كره ربك عز وجل".
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دینا افضل ہجرت ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 121]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 553

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کامیابی کا راز
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1506 ترقیم فقہی: -- 122
-" أفلح من هدي إلى الإسلام وكان عيشه كفافا وقنع به".
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ آدمی کامیاب ہو گیا جسے اسلام کی طرف ہدایت نصیب ہو گئی ہو، اس کی گزر بسر سامان برابر برابر ہو اور وہ اس پر قناعت کرنے والا ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 122]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3269 ترقیم فقہی: -- 123
- (أقيمُوا اليهوديَّ عن أخيكُم. يعني: ابن اليهوديِّ الذي أسلمَ) .
ابوصخر عقیلی کہتے ہیں: مجھے ایک بدو نے بیان کرتے ہوئے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مدینہ میں کچھ سامان تجارت لایا، میں نے اپنی تجارت سے فارغ ہو کر کہا: میں ضرور اس آدمی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں گا اور اس کی باتیں سنوں گا۔ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ نے ان کو پیچھے بھیج دیا، ہم ایک یہودی کے پاس گئے، وہ تورات کھول کر پڑھ رہا تھا، اس کے ذریعے اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا، کیونکہ اس کا انتہائی حسین و جمیل نوجوان بچہ موت و حیات کی کشمکش میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”میں تجھے تورات نازل کرنے والے کی قسم دیتا ہوں! کیا تو اپنی کتاب میں میری صفات اور جائے ظہور کا تذکرہ پاتا ہے؟“ اس نے سر سے ”نہیں“ کا اشارہ کیا۔ لیکن اس کے بیٹے نے کہا: جی ہاں، تورات کو نازل کرنے والی ذات کی قسم! ہم اپنی کتاب میں آپ کی صفات اور جائے ظہور کا تذکرہ پاتے ہیں اور میں اب گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس یہودی کو اپنے بھائی سے ہٹا دو۔“ آپ کی مراد یہودی کا بیٹا تھا، جس نے اسلام قبول کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کفن کا انتظام و انصرام کیا، اسے حنوط خوشبو لگائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 123]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3269

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
چار ممنوعہ امور
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1759 ترقیم فقہی: -- 124
-" ألا إنما هن أربع: أن لا تشركوا بالله شيئا ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا تزنوا ولا تسرقوا".
سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”خبردار! چار چیزیں ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، اللہ کے حرام کردہ کسی نفس کو قتل نہ کرنا مگر حق کے ساتھ، زنا نہ کرنا اور چوری نہ کرنا۔“ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کلمات سنے ہیں، تو اب ان کو بیان کرنے میں کسی قسم کی بخیلی نہیں کروں گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 124]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1759

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اسلام میں دور اندیشی ہے کیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2208 ترقیم فقہی: -- 125
-" الذي لا ينام حتى يوتر حازم".
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عشاء کی نماز مسجد نبوی میں پڑھتا تھا، اس کے بعد ایک رکعت وتر پڑھتا تھا۔ مجھے کہا جاتا تھا: ابواسحاق! آپ نماز وتر کی ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں، (کیا وجہ ہے)؟ میں کہتا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ دور اندیشی سے کام لے رہا ہے جو سونے سے پہلے وتر ادا کر لیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 125]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2208

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کسی کی عبادت کرنے کا مفہوم «اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله» کی تفسیر
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3293 ترقیم فقہی: -- 126
- (أما إنّهم لم يكونوا يعبدونهم، ولكنهم كانوا إذا أحلّوا لهم شيئاً استحلّوه، وإذا حرّموا عليهم شيئاً حرّموه، [فتلك عِبادتهم] ) .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میری گردن میں سونے کی صلیب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدی اس بت کو پھینک دے۔“ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ براہ کی یہ آیت پڑھتے سنا: ”ان لوگوں نے اپنے رب کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو رب بنایا ہے“ میں نے کہا: ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ ہو جا! وہ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے، لیکن جب وہ کوئی چیز حلال کرتے تو اس کے ماننے والے اس چیز کو حلال سمجھتے اور جب وہ کوئی چیز حرام کرتے تو وہ اسے حرام سمجھتے، تو یہ ان کی عبادت ہوئی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 126]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3293

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کب تک لوگوں سے قتال کیا جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 410 ترقیم فقہی: -- 127
-" أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، ويؤمنوا بي، وبما جئت به، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور مجھ پر اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اپنے خونوں اور مالوں کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، ماسوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 127]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 410

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 303 ترقیم فقہی: -- 128
-" أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وأن يستقبلوا قبلتنا ويأكلوا ذبيحتنا وأن يصلوا صلاتنا، فإذا فعلوا ذلك" فقد" حرمت علينا دماؤهم وأموالهم إلا بحقها لهم ما للمسلمين وعليهم ما على المسلمين".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالی ہی معبود برحق ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، (نیز) وہ ہمارے قبلہ کی طرف متوجہ ہوں، ہمارا ذبیحہ کھائیں اور ہماری نماز پڑھیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ہم پر ان کے خون اور مال حرام ہو جائیں گے، ماسوائے اسلام کے حق کے، انہیں وہی حقوق ملیں گے جو مسلمانوں کے ہوتے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو عام مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 128]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 303

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں