سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
کب تک لوگوں سے قتال کیا جائے؟
ترقیم الباني: 407 ترقیم فقہی: -- 129
-" أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه، وحسابه على الله".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ «عربی» نہیں کہہ دیتے۔ جب وہ «عربی» کہہ دیں گے تو مجھ سے اپنے مال و جان کو محفوظ کر لیں گے، ماسوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 129]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 407
ترقیم الباني: 408 ترقیم فقہی: -- 130
-" أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام وحسابهم على الله".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ (اس توحید اور رسالت کے اقرار کے بعد) وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جب وہ ایسا کر لیں گے تو مجھ سے وہ اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے، سوائے حق اسلام کے۔ اور ان (کے باطن) کا حساب اللہ کے سپرد ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 130]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 408
ترقیم الباني: 409 ترقیم فقہی: -- 131
-" أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله، فإذا قالوا: لا إله إلا الله عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله، ثم قرأ * (إنما أنت مذكر لست عليهم بمسيطر) *".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں، جب تک وہ «عربی» نہیں کہہ دیتے۔ جب وہ «عربی» کہیں گے، تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، سوائے حق اسلام کے اور ان (کے باطن) کا حساب اللہ تعالی کے سپرد ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: (آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ ان پر دروغہ نہیں ہیں)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 131]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 409
مختلف آداب اسلامی
ترقیم الباني: 2974 ترقیم فقہی: -- 132
-" أمرنا بأربع، ونهانا عن خمس: 1 - إذا رقدت فأغلق بابك، 2 - وأوك سقاءك، 3 - وخمر إناءك، 4 - وأطف مصباحك، فإن الشيطان لا يفتح بابا، ولا يحل وكاء، ولا يكشف غطاء، وإن الفأرة الفويسقة تحرق على أهل البيت بيتهم. 1 - ولا تأكل بشمالك، 2 - ولا تشرب بشمالك، 3 - ولا تمش في نعل واحدة، 4 - ولا تشتمل الصماء، 5 - ولا تحتب في الإزار مفضيا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چار چیزوں کا حکم دیا اور پانچ چیزوں سے منع کیا: (جن پانچ چیزوں کی اجازت دی وہ یہ ہیں): (۱) سوتے وقت دروازہ بند کرنا، (۲) مشکیزے کا منہ باندھنا، (۳) برتن ڈھانکنا اور (۴) (سوتے وقت) چراغ بجھا دینا، کیونکہ شیطان (بند کیا ہوا) دروازہ نہیں کھولتا، مشکیزے کا منہ نہیں کھولتا، برتن سے اس کا ڈھکن نہیں اتارتا اور یہ فاسق جانور چوہیا (جلتے چراغ کی وجہ سے) گھر کو گھر والوں سمیت جلا دیتی ہے۔ (جن پانچ چیزوں سے منع کیا وہ یہ ہیں): (۱) بائیں ہاتھ سے نہیں کھانا، (۲) بائیں ہاتھ سے نہیں پینا، (۳) ایک جوتے میں نہیں چلنا، (۴) چادر کو پہلے دائیں ہاتھ اور بائیں مونڈے پر اور پھر بائیں ہاتھ اور دائیں مونڈے پر ڈال کر نہیں لپیٹنا (یا چادر کو ہر طرف س اس طرح نہیں لپیٹنا کہ ہاتھ بھی باہر نہ نکل سکیں) اور (۵) اس طرح حبوہ نہیں باندھنا کہ شرمگاہ نظر آ رہی ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 132]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2974
اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اہل اسلام کے لئے مضر
ترقیم الباني: 3201 ترقیم فقہی: -- 133
- (إن أخوف ما أخاف عليكم رجل قرأ القرآن، حتّى إذا رُئيتْ بهجتُه عليه، وكان رِدْءاً للإسلام؛ انسلخ منه ونبذه وراء ظهره، وسعى على جاره بالسيف، ورماه بالشرك. قلت: يا نبيَّ الله! أيُّهما أولى بالشرك، الرامي أو المرمي؟ قال: بل الرامي) .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تمہارے حق میں سب سے زیادہ ڈر اس آدمی سے ہے جو قرآن مجید پڑھے گا، جب اس کی آواز کے حسن کا چرچہ ہو جائے گا، تو اسے اسلام کا پشت پناہ سمجھا جائے گا، (لیکن حقیقت حال یہ ہو گی کہ) وہ اسلام سے عاری ہو گا، اسے پشت کے پیچھے پھینک دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار اٹھائے گا اور اس پر شرک کا الزام دھرے گا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ان دونوں میں شرک کے قریب تر کون ہو گا، الزام لگانے والا یا جس پر الزام لگایا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الزام لگانے والا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 133]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3201
فوت شدہ مومنوں کی ارواح کا مقام
ترقیم الباني: 995 ترقیم فقہی: -- 134
-" إن أرواح المؤمنين في أجواف طير خضر تعلق بشجر الجنة".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب کعب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو ام مبشر بنت برا بن معرور ان کے پاس آئیں اور کہا: اے عبدالرحمن! اگر میرے بیٹے سے ملاقات ہو تو اسے میرا سلام کہنا۔ انہوں نے کہا: ام مبشر! اللہ تجھے معاف کرے، ہم مشغول ہوں گے اور ایسا کام نہیں کر سکیں گے۔ اس نے کہا: اے عبدالرحمن! متنبہ رہو! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کے اندر ہوتی ہیں، وہ جنت کے درختوں پر چگتے رہتے ہیں۔“ انھوں نے کہا: کیوں نہیں (میں نے سنا ہے)۔ اس نے کہا یہی بات ہے (جو میں کہہ رہی ہوں)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 134]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 995
اہل اسلام کی ابتدائی اور انتہائی کیفیت
ترقیم الباني: 1273 ترقیم فقہی: -- 135
-" إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا كما بدأ فطوبى للغرباء. قيل: من هم يا رسول الله؟ قال: الذين يصلحون إذا فسد الناس".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اسلام کی ابتدا ہوئی تو وہ اجنبی تھا (نامانوس) تھا اور عنقریب دوبارہ اجنبی بن جائے گا، سو (اس دین کو اپنانے والے) غربا کے لیے خوشخبری ہے۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہیں جو لوگوں کے بگاڑ کے وقت ان کی اصلاح کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 135]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1273
الوداع کہنے کی دعا
ترقیم الباني: 2547 ترقیم فقہی: -- 136
-" إن الله إذا استودع شيئا حفظه".
مجاہد کہتے ہیں: میں عراق کی طرف گیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیں الوداع کرنے کے لئے ہمارے ساتھ چلے، جب وہ ہم سے جدا ہونے لگے تو انہوں نے کہا: تمہیں دینے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب کوئی چیز اللہ تعالی کے سپرد کی جاتی ہے تو وہ اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“ اور میں تمہارے دین، امانت اور خاتمہ اعمال کو اللہ تعالی کے سپرد کرتا ہوں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 136]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2547
قرب الٰہی کے حصول کے اسباب اور نتائج ولی اللہ کی علامتیں اور اس سے دشمنی کرنے والے کا انجام بد، اللہ تعالی کی صفت ”تردد“ کا بیان
ترقیم الباني: 1640 ترقیم فقہی: -- 137
- إن الله تعالى قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضته عليه، وما زال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي عليها، وإن سألني لأعطينه ولئن استعاذني لأعيذنه، وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن قبض نفس المؤمن، يكره الموت وأنا أكره مساءته".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی، میرا اس سے اعلان جنگ ہے، میں نے بندے پر جو چیزیں فرض کی ہیں، ان سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے (یعنی فرائض کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرنا مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے) اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے (بھی) میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے (اس کے ذوق عبادت، فرائض کی ادائیگی اور نوافل کے اہتمام کی وجہ سے) محبت کرتا ہوں تو (اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ) میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا وہ پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ کسی چیز سے پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور اس سے پناہ دیتا ہوں اور کسی چیز کو سر انجام دینے سے مجھے کوئی تردد نہیں ہوتا، سوائے مومن کا نفس قبض کرنے کے، کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اس کا غم اندوہ ناپسند لگتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 137]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1640
اللہ تعالی کے بارے میں حسن ظن یا سوائے ظن کا نتیجہ
ترقیم الباني: 1663 ترقیم فقہی: -- 138
-" إن الله تعالى يقول: أنا عند ظن عبدي بي إن خيرا فخير وإن شرا فشر".
یونس بن میسرہ بن حبلس کہتے ہیں: ہم یزید بن اسود کے پاس گئے اور سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ جب یزید نے ان کو دیکھا تو اپنا ہاتھ لمبا کر کے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے چہرے اور سینے پر اس لیے پھیرا کہ اس ہاتھ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ انہوں نے کہا: یزید! اپنے رب کے بارے میں کیا گمان ہے؟ اس نے کہا: اچھا ظن رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک اللہ تعالی فرماتا ہے: میں اپنے بندے (کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے میں) اس کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، اچھا گمان ہونے کی صورت میں معاملہ بھی اچھا ہو گا اور برا گمان ہونے کی صورت میں معاملہ بھی برا ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 138]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1663