سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ایصال ثواب کی صورتیں
ترقیم الباني: 484 ترقیم فقہی: -- 41
-" أما أبوك فلو كان أقر بالتوحيد، فصمت وتصدقت عنه نفعه ذلك".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عاص بن وائل نے دور جاہلیت میں نذر مانی کہ وہ سو اونٹ ذبح کرے گا (لیکن وہ نذر پوری کرنے سے پہلے مر گیا)، اس کے بیٹے ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دئیے تھے اور دوسرے بیٹے سیدنا عمرو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیرے باپ نے توحید کا اقرار کیا ہوتا اور تو اس کی طرف سے روزہ رکھتا یا صدقہ کرتا تو اسے فائدہ ہوتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 41]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 484
تخریج الحدیث: «أخرجه الإمام أحمد: 2/ 182»
کفر کی حالت میں مرنے والے کافروں کے نیک اعمال رائیگاں ہو جاتے ہیں
ترقیم الباني: 2592 ترقیم فقہی: -- 42
-" إن أبي وأباك في النار".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، حصین، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ایک آدمی صلہ رحمی اور مہمانوں کی میزبانی تو کرتا تھا، لیکن وہ آپ سے پہلے فوت ہو گیا، (اب اس کی ان نیکیوں کا کیا بنے گا)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا باپ اور تیرا باپ دونوں جہنمی ہیں۔“ ابھی تک بیس دن نہیں گزرے تھے کہ وہ شرک کی حالت میں مر گیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 42]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2592
تخریج الحدیث: «أخرجه الطبراني فى ”الكبير“: 3552»
قبولیت اسلام کے بعد کافر کی حالت کفر میں کی گئی نیکیوں کی اہمیت
ترقیم الباني: 249 ترقیم فقہی: -- 43
-" لا يا عائشة، إنه لم يقل يوما: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان دور جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلاتا تھا، آیا یہ نیکیاں اس کے لیے نفع مند ثابت ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، عائشہ! اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! روز قیامت میرے گناہوں کو بخش دینا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 43]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 249
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 136/1، وأبو عوانة: 1/ 100، و أحمد فى ”المسند“:، وابنه عبدالله فى ”زوائده“: 93/6، وأبو بكر العدل فى ”اثنا عشر مجلسا“ ق: 1/6، والواحدى فى ”الوسيط“: 1/167/3»
ترقیم الباني: 247 ترقیم فقہی: -- 44
-" إذا أسلم العبد، فحسن إسلامه، كتب الله له كل حسنة كان أزلفها، ومحيت عنه كل سيئة كان أزلفها، ثم كان بعد ذلك القصاص، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف، والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عز وجل عنها".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اسلام قبول کرتا ہے اور اس کے اسلام میں حسن آ جاتا ہے، تو اس نے جو نیکی کی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے لکھ کر (محفوظ کر لیتا) ہے اور اس نے جس برائی کا ارتکاب کیا ہوتا ہے اسے مٹا دیا جاتا ہے۔ پھر (اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مزید بدلہ یوں ہوتا ہے کہ ایک نیکی دس سے سات گنا تک کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور رہا مسئلہ برائی کا، تو وہ ایک ہی رہتی ہے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ وہ بھی معاف کر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 44]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 247
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي: 267/ 2 - 268»
ترقیم الباني: 2927 ترقیم فقہی: -- 45
-" لا، إنه كان يعطي للدنيا وذكرها وحمدها، ولم يقل يوما قط: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: ہشام بن مغیرہ صلہ رحمی کرتا تھا، مہمانوں کی میزبانی کرتا تھا، غلاموں کو آزاد کرتا تھا، کھانا کھلاتا تھا اور اگر اسلام کا دور پاتا تو مسلمان بھی ہو جاتا، آیا یہ اعمال اس کے لیے نفع مند ثابت ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ تو دنیاوی غرض و غایت، اس کی صیت و شہرت اور اس کی خوشامد و چاپلوسی کے لیے دیتا تھا، اس نے ایک دن بھی نہیں کہا: اے میرے رب! روز قیامت میرے گناہوں کو معاف فرما دینا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 45]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2927
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو يعلي فى ”مسنده“: 6965، و الطبراني فى ”المعجم الكبير“: 606/279/23، 932/391»
ترقیم الباني: 248 ترقیم فقہی: -- 46
-" أسلمت على ما أسلفت من خير".
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو نیکیاں کر چکے ہو، ان سمیت اسلام لائے ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 46]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 248
تخریج الحدیث: «أخرجه الشيخان وغيرهما»
اگر کوئی مسلمان ادائیگی حج کے بعد مرتد ہو کر پھر مسلمان ہو جائے تو کیا سابقہ حج اسے کفایت کرے گا؟
ترقیم الباني: 247 ترقیم فقہی: -- 47
-" إذا أسلم العبد، فحسن إسلامه، كتب الله له كل حسنة كان أزلفها، ومحيت عنه كل سيئة كان أزلفها، ثم كان بعد ذلك القصاص، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف، والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عز وجل عنها".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اسلام قبول کرتا ہے اور اس کے اسلام میں حسن آ جاتا ہے، تو اس نے جو نیکی کی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے لکھ کر (محفوظ کر لیتا ہے) ہے اور اس نے جس برائی کا ارتکاب کیا ہوتا ہے اسے مٹا دیا جاتا ہے پھر (اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مزید بدلہ یوں ہوتا ہے کہ ایک نیکی دس سے سات سو گنا تک کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور رہا مسئلہ برائی کا، تو وہ ایک ہی رہتی ہے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ وہ بھی معاف کر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 47]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 247
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي: 267/2 - 267»
ترقیم الباني: 248 ترقیم فقہی: -- 48
-" أسلمت على ما أسلفت من خير".
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو نیکیاں کر چکے ہو، ان سمیت اسلام لائے ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 48]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 248
تخریج الحدیث: «أخرجه الشيخان وغيرهما»
قبولیت اسلام کے بعد پہلے والے جرائم کا مؤاخذہ کب کیا جائے گا؟
ترقیم الباني: 3389 ترقیم فقہی: -- 49
- (مَن أحسن فيما بقِيَ؛ غُفرَ له ما مضَى، ومن أَساءَ فيما بقيَ؛ أُخِذَ بما مضَى وما بقيَ) .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بقیہ زندگی میں (اپنے اسلام میں) حسن پیدا کیے رکھا، اس کے گزشتہ (گناہ) معاف کر دئیے جائیں گے اور جو بقیہ زندگی میں بھی برائیاں کرتا رہا، اس سے گزشتہ اور آئندہ (دونوں زندگیوں میں ہونے والے گناہوں کی) باز پرس ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 49]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3389
تخریج الحدیث: «أخرجه الطبراني فى ”المعجم الأوسط“: 6802/413/7، و ابن عساكر فى ”تاريخ دمشق“: 377/18»
ترقیم الباني: 3390 ترقیم فقہی: -- 50
- (مَن أحسنَ في الإِسلام، لم يُؤاخَذ بما عمِلَ في الجاهليّةِ، ومن أساءَ في الإِسلام؛ أُخِذَ بالأوّل والآخرِ) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے دور جاہلیت میں جن برائیوں کا ارتکاب کیا، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے اس سے دور جاہلیت میں کی گئی برائیوں کی باز پرس نہیں ہو گی اور جو (اسلام قبول کرنے کے بعد بھی برائیاں کرتا رہتا ہے، اس سے پہلے اور پچھلے (سب) گناہوں کی پوچھ کچھ ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 50]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3390
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6921، ومسلم: 1/ 77 - 78، وأبو عوانة: 71/1، والدارمي: 3/1، وابن ماجه: 4242، والطحاوي فى ”مشكل الآثار“: 211/1، والبيهقي فى ”السنن“: 123/9، و ”الشعب“: 23/57/1، وعبد الرزاق فى ”المصنف“: 19686/454/10، وأحمد فى ”مسنده“: 409/1 و431»